Connect with us

Today News

مذاکرات ناگزیر کیوں؟ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی نظر آرہی ہے۔ ایران کی جنگ کے بعد ان کے مقبولیت کے گراف میں کافی کمی ہوئی ہے۔

اسی لیے ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات ہار سکتی ہے۔ ان کے مخالفین نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے۔ ڈیموکریٹ نے جلدی مہم شروع کر دی ہے تاکہ ٹرمپ کے گرتے ہوئے گراف سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ نو کنگ مارچ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ ویسے بھی ڈیموکریٹ اب ریلیوں میں نظر آرہے ہیں۔ ریپبلکن پریشان ہیں۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ ٹرمپ ایران سے جنگ بند کرنا چاہتے ہیں۔ سیز فائر اور جنگ بندی ان کی سیاسی ضرورت ہے، وہ ایران سے بات چیت پر مجبور ہیں، وہ دباؤ میں ہیں، اسی لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ لیکن ٹرمپ کی ایک مشکل نہیں ہے۔ انھیں جنگ بند کرنی ہے لیکن انھیں امریکا میں یہ تاثر بھی دینا ہے کہ انھیں فتح حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے ایران کو شکست دی ہے۔

اس لیے وہ ایسے مذاکرات چاہتے ہیں جس میں ایران کو جتنی رعائتیں دی جا سکتی ہیں دے دی جائیں لیکن فتح کا تاثر باقی رہ جائے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ کو جو فتح میدان جنگ میں نہیں ملی ہے آپ مذاکرات سے لین دین کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہی اصل صورتحال ہے۔ اس کو سمجھ کر ہی مذاکرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکا میں مڈٹرم انتخابات قریب نہ ہوتے تو سیز فائر اور امن مذاکرات کی اتنی ضرورت نہ محسوس کی جاتی۔ نہ جے ڈی وینس آتے ، نہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جاتے۔ ٹرمپ کی ضرورت کا سب کو احساس ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھیں کہ ایسا امن معاہدہ جس میں ٹرمپ کی ہار کا تاثر جاتا ہو، اس کا ٹرمپ کو فائدہ نہیں۔ پھر تباہی زیادہ قابل قبول ہے، پھر لمبی جنگ زیادہ قبول ہے۔ پھر جنگ کے ساتھ انتخابات میں جانا زیادہ بہتر حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔ایسے مذاکرات جن میں ایران کی جیت کا تاثر بنتا ہو، جس سے امریکا کی ہار کا تاثر بنتا ہو ، وہ ٹرمپ کے لیے زیادہ زہر قاتل ہے۔

اس لیے ٹرمپ کی مشکلات عجیب ہیں۔ امن کی بھی ضرورت ہے، کچھ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایران کی شرائط ماننے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن صحیح فتح کا بگل چاہیے۔ ایسا کچھ چاہیے جس کو فتح کہا جا سکے۔ یہ آسان نہیں، یہ میڈیا کا دور ہے، بات نکل جاتی ہے۔ امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات نومبر میں ہیں لیکن انتخابی مہم شروع ہے۔ اسرائیل میں اکتوبر میں عام انتخابات ہیں۔ جیسے ایران کی جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کا اقتدار خطرہ میں ہے ایسے ہی اسرائیل میں نیتن یاہو بھی خطرہ میں ہیں۔ ان پر کرپشن کیسز ہیں، ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہے، وہاں بھی لوگ جنگوں سے تنگ ہیں۔ وہاں بھی ان کی اپوزیشن اقتدار میں آنے کے لیے بے تاب ہے۔

نیتن یاہو کی گیم بھی یہی تھی کہ ایران پر مکمل فتح ان کو انتخاب جیتنے میں مدد دے گی۔ وہ اسرائیل کے لوگوں کو بتائیں گے کہ میں نے ایران میں رجیم چینج کر دی، ایران کا خطرہ ختم کر دیا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ نیتن یاہو اس وقت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے، وہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اب سیز فائر امن معاہدہ نیتن یاہو کے لیے زہر قاتل ہے۔ لیکن ٹرمپ اپنے اقتدار کو دیکھیں یا نیتن یاہو کو دیکھیں ۔ وہ امریکی انتخابات کو دیکھیں یا نیتن یاہو کے مسائل دیکھیں۔ اسی لیے آپ دیکھیں ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان میں سیز فائر پر مجبور کیا گیا ہے۔

34سال بعد لبنان اسرائیل مذاکرات کروائے گئے ہیں۔ امن مذاکرات سے پہلے لبنان میں امن کی ایران کی شرط کو قبل کیا گیا کیونکہ امن ٹرمپ کی ضرورت ہے۔ انھیں 47سال بعد ایسا موقع مل رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر امریکا کے ساتھ بیٹھ کر کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایران کو مالی مفاد دیکھنا چاہیے انھیں اپنے اوپر سے پابندیاں اٹھانے پر توجہ رکھنی چاہیے۔ انھیں ٹرمپ کے بیانیہ پر توجہ نہیں رکھنی چاہیے۔ ٹرمپ کے ٹوئٹ ان کی سیاسی ضرورت ہیں۔ لیکن ابھی تک ایران کی توجہ ان ٹوئٹس کا جواب دینے پر ہے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہے، ایران کی موجودہ رجیم کی بھی سیاسی مجبوریاں ہیں۔ اتنی شہادتیں ہیں، اس کے بعد مالی مفاد پر صلح کیسے کر لی جائے۔ جنگ میں لوگ فاقے کاٹ لیتے ہیں، امن میں روٹی مانگتے ہیں۔ نوجوان نوکریاں مانگیں گے۔ اس لیے مالی فوائد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن نظریہ سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ 47سال سے امریکا اور اسرائیل سے جنگ کی تیاری کی گئی ہے۔ اب جنگ ہے تو جنگ لڑنی چاہیے، ساری تیاری اسی لیے تھی، ساری قربانیاں اسی لیے تھیں۔ اب جنگ سے فرار کیوں۔ یہ شہادتیں کس لیے تھیں، امن یا سیز فائر کے لیے تو نہیں تھیں۔ اس لیے امن چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ اور ایران دونوںمشکل میں ہیں۔

فتح دونوں کی ضرورت ہے، فتح دونوں کو نہیں مل سکی، دونوں ہارے بھی نہیں ہیں، میچ برابر ہو گیا ہے۔ جس کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں۔ اس لیے دونوں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں میچ برابر ہو گیا۔ یہ ٹرمپ کے لیے سیاسی موت ہے۔ یہ ایران کو پھر بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ لیکن وہاں قدامت پسند کہتے ہیں جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ برابر میچ قابل قبول نہیں۔ انھیں میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ امریکا کو ایران کے لیے فتح تلاش کرنی ہے اور ایران کو امریکا کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ تب ہی مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کی مشکل کا احساس کرنا ہوگا جو نہیں ہو رہا ۔ یہ اصل مشکل ہے۔ مذاکرات کار اپنی فتح کی تلاش میں ہیں۔ انھیں دوسرے کی فتح کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

روہڑی ریلوے اسٹیشن کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنےکیلیے اپ گریڈیشن منصوبے کا آغاز

Published

on



روہڑی ریلوے اسٹیشن کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے اپ گریڈیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

 وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ آج (منگل) اس اہم منصوبے کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے ڈی ایس ریلوے فرمان غنی کے ہمراہ روہڑی ریلوے اسٹیشن کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے سنگِ بنیاد کی تقریب کے حوالے سے کیے گئے انتظامات اور جاری تیاریوں کا جائزہ لیا۔

 اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تقریب کو شایانِ شان طریقے سے منعقد کیا جائے اور انتظامات میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید کمیل حیدر شاہ نے بتایا کہ یہ منصوبہ حکومتِ سندھ اور محکمہ ریلوے کے مثالی اشتراک کا نمونہ ہے۔ منصوبے کی کل لاگت کا 60 فیصد پاکستان ریلوے جبکہ 40 فیصد حکومتِ سندھ برداشت کرے گی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس اپ گریڈیشن سے مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی جدید سہولیات میسر آئیں گی جو کہ علاقے کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

مجھ پر کوئی دباؤ نہیں لیکن ایران سے معاہدہ جلد اور اوباما دور سے اچھا ہوگا؛ ٹرمپ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اختتام بدھ کی شام ہوجائے گا تاہم ایران کے ساتھ امن معاہدہ نسبتاً جلدی طے پا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کیا، انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی دباؤ میں آکر نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ہرگز درست نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنے جا رہا ہے جو سابق امریکی صدور کے دور میں ہونے والے معاہدوں سے کہیں بہتر ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے اس معاہدے کو  2015 میں ایران کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی کے طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے سے بڑی کامیابی قرار دیا۔

تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اختتام (22 اپریل) تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو سیز فائر میں توسیع کا بہت کم امکان ہے۔

بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی اس تک برقرار رہے گی جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہوجاتا۔

امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کے اختتام تک معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ؛ امریکا میں سستی ایئرلائنز کا حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا

Published

on


امریکا میں کم لاگت ایئرلائنز نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے حکومت سے عارضی ٹیکس ریلیف کا مطالبہ کر دیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سستی ایئرلائنز کے سربراہان کل امریکی وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات کریں گے جس میں فضائی صنعت کو درپیش مالی دباؤ پر بات چیت کی جائے گی۔

ایئرلائنز کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے ان کے آپریشنل اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

اس حوالے سے نمائندہ تنظیم ایسوسی ایشن آف ویلیو ایئرلائنز نے گزشتہ ہفتے امریکی کانگریس کو خط لکھا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فضائی ٹکٹوں پر عائد 7.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور فی پرواز سیگمنٹ 5.30 ڈالر فیس کو عارضی طور پر معطل کیا جائے۔

متاثرہ ایئرلائنز کا کہنا تھا کہ اگر یہ ٹیکسز ختم کر دیے جائیں تو بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کا تقریباً ایک تہائی بوجھ کم کیا جا سکتا ہے جس سے مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جاسکے گا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending