Connect with us

Today News

لاہور: بچی پر تشدد کرنے والا بس کنڈکٹر گرفتار

Published

on


لاہور کے علاقے چوہنگ میں بچی پر تشدد کرنے والے بس کنڈکٹر کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ چوہنگ پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی۔

ایس پی صدر رانا حسین طاہر کے احکامات پر اسپیڈو بس کے کنڈکٹر سجاد علی کو حراست میں لیا گیا۔ ملزم نے دورانِ سفر ایک لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کی ویڈیو سامنے آنے پر واقعہ نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں مزید تفتیش جاری ہے۔

ایس پی صدر رانا حسین طاہر کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد اور ہراساں کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جان سینا کے بعد ایک اور معروف ریسلر ڈبلیو ڈبلیو ای سے ریٹائر ہوگئے

Published

on


ریسل مینیا 42 کے دوسرے دن کے آغاز ایک حیران کن لمحے سے ہوا جب مشہور زمانہ ریسلر بروک لیسنر کی مبینہ ریٹائرمنٹ نے مداحوں کو چونکا دیا۔

لاس ویگاس کے الیجیئنٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس مقابلے میں لیسنر کا سامنا نائجیرین جائنٹ اوبا فیمی سے تھا، جس میں فیمی نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں لیسنر کو شکست دے دی۔

تاہم اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز لمحہ مقابلے کے بعد دیکھنے میں آیا، جب لیسنر رنگ کے درمیان بیٹھ گئے اور جذباتی انداز میں اپنے دستانے اور جوتے اتار کر رکھ دیے۔

یہ عمل عام طور پر ریسلنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے دیرینہ منیجر پال ہیمین کو گلے لگایا اور دونوں آبدیدہ ہو گئے۔

اگرچہ کئی مداحوں کا خیال تھا کہ لیسنر جلد ریٹائر ہو جائیں گے لیکن توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ریٹائرمنٹ کا اعلان سمر سلیم میں کریں گے۔

بعض حلقے اسے ایک کہانی کا حصہ بھی قرار دے رہے ہیں یعنی اسے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بجائے اس کے عندیہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ لیسنر نے 2002 میں ڈیبیو کیا اور کم عمری میں عالمی چیمپئن بنے۔ وہ ڈبلیو ڈبلیو ای اور یو ایف سی میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

بھارتی ایوارڈ شو میں بولڈ ڈریس پہننے سے انکار کردیا تھا، ریما خان

Published

on


پاکستان کی معروف اداکارہ ریما خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے بھارت میں ہونے والے ایوارڈ شو میں بولڈ ڈریس پہننے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ وہاں پاکستان کی نمائندگی کررہی تھیں۔

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ریما خان نے کہا کہ میں اپنے لباس اور گفتگو پر خاص توجہ دیتی ہوں، فنکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان، کردار اور رویے پر خاص توجہ دیں کیونکہ لوگ انہیں فالو کرتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ میڈیا اور سوشل میڈیا کلچر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل منفی خبروں اور تنازعات کو زیادہ فروغ دیا جاتا ہے جبکہ مثبت کام کم دکھائے جاتے ہیں۔

ریما خان نے کہا کہ اللہ کی جنت سب چاہتے ہیں لیکن مرنا کوئی نہیں چاہتا، اگر واقعی جنت میں جانا چاہتے ہیں تو مخلوق کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔

ریما خان نے کہا کہ وہ اللہ کی بے شمار نعمتوں پر شکر گزار ہیں اور ان کے نزدیک اصل کامیابی انسان کا عاجز اور شکر گزار رہنا ہے۔ مختصر سی زندگی ہے جس میں ہم سب کے پاس بہت کم بہت وقت ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

آکسفورڈ سمیت 12 برطانوی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حامی طلبہ کی جاسوسی کا انکشاف

Published

on


برطانیہ کی معروف جامعات سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق آکسفورڈ سمیت برطانیہ کی 12 یونیورسٹیوں نے فلسطین کے حامی طلبہ اور اساتذہ کی جاسوسی کے لیے ایک نجی سکیورٹی فرم کو لاکھوں پاؤنڈز ادا کیے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق دستیاب شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ان جامعات نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ایک انٹیلیجنس یا سکیورٹی کمپنی کو دیے، جس کا مقصد کیمپس میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں اور خاص طور پر فلسطین کے حامی افراد کی خفیہ نگرانی تھا۔

دستاویزات کے مطابق اس نگرانی میں نہ صرف طلبہ بلکہ ماہرینِ تعلیم بھی شامل تھے۔ ان میں ایک فلسطینی اسکالر بھی شامل ہیں جنہیں مانچسٹر یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، تاہم ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں مبینہ طور پر کیمپس میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نام پر کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور تعلیمی آزادی کے حامی افراد کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار اور تحقیق کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ جامعات کی جانب سے اس حوالے سے شفافیت بھی ایک اہم سوال بن گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending