Connect with us

Today News

آشا بھوسلے – ایکسپریس اردو

Published

on


آشا بھوسلے برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب تھیں جسے جتنا پڑھا جائے اتنا ہی دلکش محسوس ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سی لچک، شوخی اور جذباتی گہرائی تھی جو ہر دور کے سامعین کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک عہد تھیں، ایک ایسا عہد جس نے فلمی موسیقی کو کئی رنگ دیے، کئی نئے رجحانات متعارف کروائے اور گائیکی کے دائرے کو وسعت دی۔ان کا چلے جانا نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں بھی ہندی اور اردو گانے سنے جاتے ہیں وہاں لوگوں کو غمگین کر گیا۔

آشا بھوسلے کا سفر آسان نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں موسیقی سانسوں میں بسی ہوئی تھی، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انھیں سخت مقابلے اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں انھیں زیادہ تر ثانوی نوعیت کے گانے ملتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ یہی ثابت قدمی بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ ان کی آواز میں وہ خاص بات تھی جو کسی بھی عام دھن کو یادگار بنا سکتی تھی۔

اگر ہم ان کے گانوں کی بات کریں تو ان کی ہمہ جہتی حیران کن ہے۔ رومانوی گیت ہوں کلاسیکل انداز کے نغمے قوالی پاپ یا آئٹم سانگ ہر صنف میں انھوں نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا مشہور گانا پیا تو اب تو آجا آج بھی سننے والوں کو سر دھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس گانے میں جو ادائیں جو اداکاری آواز کے ذریعے پیش کی گئی وہ بہت کم گلوکاروں کے حصے میں آتی ہے،اسی طرح دم مارو دم ایک ایسا گانا ہے جس نے نوجوان نسل میں ایک نئی لہر پیدا کی۔ یہ صرف ایک گانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی اظہار تھا جس نے اس دور کے مزاج کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ اس گانے میں آشا کی آواز کی بے فکری اور روانی سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔رومانوی گیتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ چرا لیا ہے تم نے جو دل کو ایک ایسا نغمہ ہے جو محبت کے جذبات کو نہایت نرم اور دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں ان کی آواز کی مٹھاس اور نزاکت سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے، یہی وہ خاصیت ہے جس نے انھیں دہائیوں تک مقبول رکھا۔

آشا بھوسلے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے وقت کے ساتھ خود کو بدلا۔ جہاں بہت سے فنکار ایک خاص انداز میں محدود ہو جاتے ہیں ،وہاں آشا نے ہر نئے رجحان کو اپنایا۔ 70 کی دہائی کا کیبری اسٹائل ہو یا 90 کی دہائی کا پاپ انھوں نے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ میرا دل جیسا گانا ان کی جرات مندی اور جدیدیت کی بہترین مثال ہے۔

کلاسیکل موسیقی میں بھی ان کی مہارت کم نہیں تھی، اگرچہ انھیں زیادہ تر ہلکے پھلکے یا فلمی گانوں کے لیے جانا جاتا ہے لیکن جب بھی انھوں نے کلاسیکل گیت گائے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی آواز میں سُر کی پختگی اور تال کی سمجھ واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

ان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے مختلف موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے انداز کو ان کے مطابق ڈھالا لیکن اپنی پہچان کبھی کھونے نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گانے سن کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آواز آشا بھوسلے کی ہے۔ ان کا انداز منفرد ہے چاہے وہ شوخ ہو سنجیدہ ہو یا درد بھرا۔

ذاتی زندگی میں بھی انھیں کئی نشیب و فراز دیکھنے پڑے ان کو اس وقت گہرے صدمے کا سامنہ ہوا جب ان کی بیٹی ورشا بھوسلے نے خودکشی کرلی تھی ،وہ وقت ان کے لیے بہت کٹھن تھا۔ ان کے گانوں میں جو جذباتی گہرائی محسوس ہوتی تھی وہ شاید انھی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جب وہ درد بھرا گیت گاتی تھیں تو لگتا تھا جیسے وہ خود اس کیفیت سے گزر رہی ہوں۔آشا بھوسلے کی لمبی عمر اور طویل کیریئر بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

کئی دہائیوں تک مسلسل کامیاب رہنا آسان نہیں ہوتا ،خاص طور پر ایک ایسے میدان میں جہاں مقابلہ بہت سخت ہو۔ ان کو تو گھر ہی میں اپنی بہن لتا منگیشکر اور اوشا منگیشکر کے ساتھ اپنی جگہ بنانی تھی۔ انھوں نے ہر دور میں خود کو ثابت کیا اور نئی نسل کے گلوکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی۔آج بھی ان کے گانے نہ صرف پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک لازوال کشش ہے ،جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موسیقی کی دنیا میں ایک لیجنڈ کا درجہ رکھتی ہیں۔

اگر ان کے چند مزید یادگار گانوں کا ذکر کیا جائے تو ان آنکھوں کی مستی کے، رات باقی بات باقی اور آؤ حضور تم کو بھی ان کے فن کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ ہر گانا ایک الگ کہانی سناتا ہے اور ہر کہانی میں آشا جی کی آواز ایک نئی جان ڈال دیتی تھی۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے فن سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ موسیقی کو ایک نئی سمت بھی دی۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے ایک خزانہ ہے ایک ایسا خزانہ جو کبھی پرانا نہیں ہوگا۔

آشا بھوسلے کی گائیکی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فن میں اصل طاقت تنوع محنت اور خود پر یقین میں ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنھوں نے انھیں ایک عام گلوکارہ سے ایک عہد ساز شخصیت بنا دیا۔

وہ بارہ اپریل 2026 کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔ برصغیر ایک بہت بڑی گائیکہ سے محروم ہوگیا۔ پاکستان میں بھی ان کی گائیکی کے چاہنے والے بیحد افسردہ ہوئے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جنگ بندی توسیع : عالمی استحکام کی کلید

Published

on


امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ مذاکرات کامیاب ہوئے تو میں بھی ایرانی قیادت سے ملوں گا ‘‘ دوسری جانب امریکی وفد کے پاکستان روانگی کی تصدیق کے فوری بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، ا یران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔

دوسری جانب چین کے صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی گفتگو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ماہرین ِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر مزید دباؤ پڑے گا۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں مہنگائی جلد کم نہیں ہوگی، جنگ کے اثرات اگر کل جنگ ختم بھی ہو جائے تو راتوں رات ختم نہیں ہوں گے۔

 اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کو محض ایک سفارتی سرگرمی قرار دینا دراصل اس گہرے اور کثیرالجہتی بحران کی نوعیت کو کم کر کے دیکھنے کے مترادف ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاسی و معاشی نظام کو ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب عسکری تناؤ، باہمی عدم اعتماد اور متضاد بیانات نے سفارتکاری کی گنجائش کو محدود کر دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ ممکنہ مذاکرات ایک نازک مگر فیصلہ کن موقع کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اس موقع کو اگر دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کے ساتھ استعمال نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ نظریاتی، تزویراتی اور جغرافیائی مفادات کے تصادم کی ایک طویل داستان ہے۔ اس تاریخ میں کشیدگی کے ادوار بھی آئے اور مذاکرات کے مرحلے بھی، لیکن باہمی بداعتمادی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ حالیہ بحران نے اس بداعتمادی کو ایک نئی شدت دی ہے، جہاں ہر اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہر بیان کے پیچھے ایک پوشیدہ مفاد تلاش کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس پیش رفت کو نتیجہ خیز بنانا ایک کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔

 جنگ بندی کی اہمیت اس تمام صورتحال میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ میدان جنگ میں خاموشی ہو اور فریقین کو یہ یقین ہو کہ بات چیت کے دوران ان کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جنگ بندی نہ صرف نازک ہے بلکہ اس کی خلاف ورزی کے الزامات نے اسے مزید کمزور بنا دیا ہے۔ بحری تنازعات، جہازوں کی روک تھام اور عسکری نقل و حرکت نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ فریقین مکمل طور پر مذاکراتی راستے پر آمادہ نہیں، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اسلام آباد میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کا کردار یہاں ایک اہم موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔

ایک ایسے ملک کے طور پر جو ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی سفارتی صلاحیتوں کو ایک بار پھر منوانے کا ہے۔ اسلام آباد کی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد نہ صرف فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے بلکہ انھیں اس عمل کو جاری رکھنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ کردار تسلیم کیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب عملی پیش رفت درکار ہوگی۔

 آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس بحران کے مرکز میں ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے گزرنے والے تیل کی مقدار دنیا کی معیشت کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ راستہ کس قدر حساس ہے اور کس طرح ایک محدود بحری تنازع بھی عالمی سطح پر قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور زرعی شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جو عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مہنگائی کا دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔امریکا کی اپنی معیشت بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہی۔ مہنگائی میں اضافے کے خدشات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی لاگت میں بڑھوتری نے معاشی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی حساس ہے، کیونکہ معاشی مشکلات کا براہ راست اثر عوامی رائے پر پڑتا ہے۔ اسی طرح یورپ اور ایشیا کی معیشتیں بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مالیاتی منڈیاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔

 چین، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کی جانب سے امن کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ بحران ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دینا دراصل عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے ایک اہم مطالبہ ہے، جب کہ سعودی عرب جیسے ممالک بھی اس کشیدگی کے براہ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اب دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر عالمی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔سفارتکاری اس تمام صورتحال میں واحد قابل عمل راستہ نظر آتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کریں۔ یکطرفہ اقدامات، سخت بیانات اور عسکری سرگرمیاں اس عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، جن میں جنگ بندی کی پاسداری، اشتعال انگیزی سے گریز اور مثبت بیانیے کو فروغ دینا شامل ہے۔

 پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ نہ صرف ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرے بلکہ ایک ذمے دار عالمی ریاست کے طور پر بھی اپنی ساکھ کو مضبوط کرے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھے اور کسی بھی ممکنہ دباؤ کے باوجود غیر جانبداری اور توازن کو برقرار رکھے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک نئی جنگ نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک نئے بحران میں دھکیل دے گی۔ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام ایک ایسا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں جسے روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت مثال قائم کرے گا کہ پیچیدہ تنازعات بھی سفارتکاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ امن کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ایک معاہدہ اس کی شروعات ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی اعتماد سازی، نگرانی اور عمل درآمد کے مراحل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات گہرے اور پیچیدہ ہیں، جنھیں حل کرنے کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوگی۔ تاہم موجودہ موقع ایک ایسا دروازہ کھول سکتا ہے جو مستقبل میں بہتر تعلقات کی بنیاد رکھ سکے۔

اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک امید کی کرن ہیں، لیکن یہ امید اسی صورت میں حقیقت میں بدل سکتی ہے جب تمام فریقین اس موقع کی نزاکت کو سمجھیں اور اسے ضایع نہ ہونے دیں۔ پاکستان کی کوششیں اس سمت میں ایک مثبت قدم ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار فریقین کی سنجیدگی اور عالمی برادری کی حمایت پر ہے، اگر اس موقع کو درست طریقے سے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک بڑے تنازع کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اعلیٰ تعلیم… چیلنجزاور ممکنہ حل

Published

on


پاکستان میں اعلی تعلیم سے جڑے معاملات، مسائل یا مشکلات کو دیکھیں تو اس میں ہمیں ایک بڑا تضاد تعلیمی پالیسیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اول پالیسیوں میں جدیدیت کی بنیاد پر تبدیلیوں کے عمل کا نہ ہونا،دوئم مالی وسائل کی کمی یا بجٹ کو کم مختص کرنا،سوئم تعلیم ،تحقیق اور تعلیمی معیارات کی کمی ، چہارم سیاسی مداخلت ،پنجم تعلیمی معاملات پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا بیوروکریسی کا کنٹرول،ششم سماجی علوم کو اپنی ترجیحات میں نظرانداز کرنا،ہفتم جامعات کی سطح پر گورننس کے نظام کے مسائل،ہشتم جامعات کی داخلی سطح پر خود مختاری کو چیلنج کرنا،نہم جامعات کو آزادانہ بنیادوں پر فیصلوں کا اختیار نہ دینا،نگرانی ،شفافیت اور جوابدہی کا نظام کا غیر موثر ہونا،دہم وائس چانسلرز کی تقرری میں سیاسی مداخلت یا سرچ کمیٹیوں میں تعلیم کے ماہرین کے مقابلے میں بیوروکریسی کے کنٹرول کی موجودگی جیسے مسائل میں اعلی تعلیم میں بہت کچھ کرنے کی خواہش یا توقعات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔

 وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن،وفاقی اور صوبائی وزراتوں کا ہونا، بیوروکریسی جیسے ادارے موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اعلیم تعلیم سے جڑے مسائل کم نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جہاں بڑھ رہے ہیں وہیں ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اعلی تعلیم کی ترجیحات میں کمزوری کے کئی پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اعلی تعلیم سے جڑے ماہرین اور اعلی دماغ نہیں ہیں یا ان میں کام کرنے کا تجربہ اور صلاحیت کی کمی ہے یا ان کو عالمی سطح میں اعلی تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان اعلی تعلیمی ماہرین اور اعلی دماغوں کی ریاست اور حکومت کے نظام میں رسائی اور قبولیت کی ہے۔کیونکہ ہم مجموعی طور پرپاکستان میں اعلی تعلیم کے تناظرمیں ایک ایسا سازگار ماحول قائم نہیں کرسکے جہاں لوگ آزادانہ بنیادوں پر یا کسی ڈر اور خوف کے اعلی تعلیم کے بارے میں کوئی بڑے فیصلے کرسکیں یا کوئی متبادل سوچ،فکر اور نظام کو سامنے لایا جاسکے یا اس کی قبولیت کو تسلیم کیا جاسکے۔سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ جب اعلی تعلیم کے بڑے بڑے ماہرین اور اعلی دماغ کو ہم ملکی سطح پر بیوروکریسی کے سامنے بے بس دیکھتے ہیں تو اس سے انداز ہوجاتا ہے کہ اعلی تعلیم آزادانہ بنیادوں پر کہاں کھڑی ہے۔

پچھلے دنوں ’’لاہور فورم فار گورننس‘‘ جس کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین ہیں، ان کی سربراہی میں ایک علمی اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس نشست کے مہمان خاص پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے تفصیلی گفتگو اور سوال جواب کی نشست تھی۔ اس کا مقصد اعلی تعلیم سے جڑے معاملات پر ان کا موقف سننا اور مستقبل کے امکانات کودیکھنا تھا۔ ہمارے ہاں اعلی تعلیم کے معاملات میں آج کل کئی فکری مغالطے بھی موجود ہیں۔ان کے بقول آج سب ہی جامعات کی سطح پر سوشل سائنسز کے مقابلے میں کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت سے جڑی تعلیم کی بات کررہا ہے اور ہم پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ سوشل سائنسز کی تعلیم کو بند کریا جائے ۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بقول جامعات کا حقیقی حسن ہی سماجی علوم ، ادب،آرٹ،کلچر،شاعری، ادب ، فلسفہ،تاریخ،ڈرامہ ہوتا ہے۔

ان کا سوال یہ تھا کہ کیا دنیا کی اعلی بڑی جامعات میں ان موضوعات پر تعلیم بند ہے تو ایسا ممکن نہیں۔اصولی طور پر جامعات کا کردار نئی نسل میں مکالمہ، سیاسی، سماجی،علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی ان میں صلاحیت پیدا کرنا،تجزیہ اور جائزہ کی صلاحیت پیدا کرنا،تحقیق کی مختلف صلاحیتوں کو مضبوط بنانا،آزادانہ بحث و مباحثہ کا طلبہ و طالبات میں ماحول پیدا کرنا،ایک دوسرے میں رواداری اور اہم اہنگی کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس لیے یہ جو تصور دیا جارہا ہے کہ ہمیں کسی بھی سطح پر سماجی علوم کی ضرورت نہیں غلط ہے بلکہ اس سوچ اور فکر میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔انھوں نے چین کی مثال دی او رکہا کہ اس برس چین سے 25کے قریب طالب علموں نے ڈاکٹر محبوب حسین کے شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جو ظاہر کرتا ہے کے چین کی اپنی ترقی میں بھی سماجی علوم کی اہمیت ہے۔سماجی علوم کی ترقی اور تعلیم کو نظر انداز کرکے ہم سماج کو ایک مہذہب اور اعلی روایات پر مبنی سماج کی شکل نہیں دے سکیں گے۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ آج کل شدت سے یہ کہا جارہا ہے کہ جامعات بے روزگار پیدا کرنے کے ادارے بن گئے ہیںیا ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ان کے بقول روزگار کے مواقع پیدا کرنا ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہوتا ہے ۔ جب تک ملک کے نظام کو موثر اور شفاف نہیں بنایا جاتا، نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ جامعات کو صلاحیت پر مبنی نوجوان پیدا کرنے ہیں۔ اس میں ہم سے کوتاہی ہوسکتی ہے مگر سارا بوجھ جامعات پر نہیں ڈالا جاسکتا۔کیونکہ یہ ہی نوجوان جب پاکستان سے اعلی تعلیم حاصل کرکے باہر کے ممالک میں روزگار کے لیے جاتے ہیں تو ان کو اچھا روزگار بھی ملتا ہے اور وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بہتر کارکردگی بھی دکھاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کا کام نئی نسل کے معاشی معاملات کے حل میں جہاں چھوٹی اور بڑی صنعتوںکا فروغ ہوتا ہے وہیں ایسے معاشی حالات بھی پیدا کرنے ہوتے ہیں جو لوگوں کو معاشی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر سکے۔اسی طرح ان کے بقول آج کل مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر سب کچھ اسی کے تناظر میں بات ہورہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ایک ڈیجیٹل ٹول ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اور ہم دیکھیں گے جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھے گا نئی نسل اسے سیکھ لیں گے۔اس پر بہت زیادہ توجہ یا علیحدہ سے ڈگریاں بنانے کی بجائے ہمیں اس علم کو مجموعی علم کے ساتھ جوڑ کر ہی آگے بڑھانا ہوگا۔ہمیں اپنی توجہ علمی ،فکری،نفسیاتی انٹیلی جنس پر دینی چاہیے تاکہ ہم ان سے بہت کچھ عملی طور پر سیکھ کر اپنے لیے نئے امکانات اور نئی دنیا پیدا کرسکیں۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ یہاں موجود ماہرین ہماری اعلی تعلیم کا مقابلہ باہر کی اعلی تعلیم اور معیارات سے کرنا چاہتے ہیں اور کیا بھی جانا چاہیے۔لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے اور اعلی تعلیم سے جڑے اداروں اور ممالک کا اعلی تعلیم کا بجٹ کیا ہے اور وہ کیا سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ہم کتنی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ان کے بقول ہم تو تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کا شکار ہیں ۔

ایسے میں جامعات اور بالخصوص پبلک سیکٹر جامعات کا چلنا ایک معجزہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نجی یونیورسٹیوں سے کیا جاتا ہے لیکن جو فیس ہم طلبہ سے لے رہے ہیں اور جو نجی یونیورسٹی لے رہی ہیں اس میں بہت بڑا فرق ہے ۔اس لیے جب اعلی تعلیم کا تجزیہ کریں تو ان حقایق کو بھی سامنے رکھ کر گفتگو کو آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم عملا مستقبل کی طرف بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔ہمیں اعلی تعلیم کے معاملات میں جو غیر معمولی حالات ہیں اس میں غیر معمولی سطح کے اقدامات کی بنیادپر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران نے جنگ بندی میں توسیع کو فوجی کارروائی کیلیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا

Published

on



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مہدی محمدی کا کہنا تھا کہ جنگ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا اور محاصرے کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں، جس کا جواب فوجی انداز میں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے اور اپنی حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending