Today News
سندھ حکومت اور احتساب – ایکسپریس اردو
کراچی کے معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں 17 جنوری 2026کو لگنے والی بدترین آتشزدگی کی رپورٹ شائع نہیں کی جارہی ہے۔اس سانحے میں 80 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے۔ بلدیہ کراچی اور دیگر اداروں کے فائر بریگیڈ 48 گھنٹوں تک اس آگ پر قابو نہیں پاسکے تھے۔ پہلے تو اس سانحے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے گئے تو نزلہ صرف میونسپل کمشنر پر گرا اور وہ اس عہدے سے ہٹادیے گئے، بعدازاں کمشنر کراچی کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے ایک ماتحت افسر کی تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس پر صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس سے درخواست کی کہ جیوڈیشل ٹریبونل بنایا جائے جو اس سانحہ کی تحقیقات کرے۔ یوں سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل کو اس ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ٹریبونل نے عرق ریزی سے تحقیقات کیں۔
سرکاری افسران، گل پلازہ کے دکاندار اور گل پلازہ کی انتظامیہ کے علاوہ اس سانحہ میں مرنے والے افراد کے لواحقین ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔ اس ٹریبونل نے گزشتہ ہفتے سندھ حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ حکومت سندھ اس بات کی پابند ہے کہ رپورٹ عوام کے لیے افشاء کی جائے مگر بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر تاحال رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے معاونین پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی ہے۔ اس کمیٹی کا کنوینر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء النجار کو مقرر کیا گیا۔ بلدیات کے وزیر ناصر شاہ اور صنعتوں کے وزیر اکرم دھاریجو کو اس کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا۔ محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اقبال میمن کو کمیٹی کا سیکریٹری مقر کر دیا گیا۔
سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق ٹریبونل کی رپورٹ میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، یہ کمیٹی ان خامیوں کے تدارک کے لیے اقدامات کا جائزہ لے گی اور کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گی۔ اس کمیٹی کے کنوینر وزیر داخلہ ضیاء النجار کا مؤقف ہے کہ اس کمیٹی کے قیام سے اس سانحے کے بارے میں حکومت سندھ کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ ٹربیونل کے سامنے انتظامی و پولیس افسران اور امدادی اداروں کے افسران کے علاوہ گل پلازہ کی انتظامیہ کے اہلکار ، دکاندار ،مرنے والے افراد کے لواحقین اور سول سوسائٹی کے ایکٹیوسٹ بھی پیش ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اپنے وکیل کے ساتھ ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے تاہم ٹریبونل نے انھیں ہدایت کی کہ وہ بذریعہ ای میل اپنی معروضات پیش کریں۔
فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ جس کا بنیادی کام آگ بجھانا ہے، اس کے چیف فائر افسر نے ٹریبونل کو بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس خطرناک آگ پر قابو پانے کی جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے۔ ایک اور افسر کا کہنا تھا کہ دن میں کئی دفعہ لوڈ شیڈنگ کی بناء پر فائر بریگیڈ اسٹیشن کی بجلی چلی جاتی ہے، یوں سارا کام رک جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ اسٹیشن کی پانی کی لائن میں پہلے گندا پانی آتا ہے اور پھر جب صاف پانی آتا ہے تو یہ پانی فائر ٹینڈرز کو ملتا ہے۔ پانی کے ہائیڈرنٹ سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 20 میل دور صفورا اور نارتھ ناظم آباد کے ہائیڈرنٹ سے پانی لایا جاتا تھا۔ یوں اس آپریشن کے دوران کئی کئی گھنٹے پانی میسر نہیں تھا۔ تحقیقات کے دوران ٹریبونل کے سامنے یہ شہادت بھی پیش کی گئی کہ گل پلازہ کی انتظامیہ نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 900 کے قریب دکانیں بنائی تھیں جس سے عمارت میں چلنے پھرنے کی جگہ بہت محدود ہوگئی اور اس عمارت میں آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے۔
مرنے والے افراد کے لواحقین نے ٹریبونل کے سامنے یہ بھی بتایا کہ آگ لگنے کے کئی گھنٹوں بعد تک موبائل فون پر ان کا اپنے عزیزوں سے رابطہ تھا مگر پلازہ کے تمام دروازے بند تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے 24گھنٹوں تک پلازہ میں داخل ہونے کے لیے کوئی دیوار نہیں توڑی تھی، اگر آگ لگنے کے پہلے چند گھنٹوں کے دوران ایک مربوط آپریشن کے ذریعے عمارت میں جانے کے راستے بنادیے جاتے تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں مگر ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس دیوار توڑنے کے آلات نہیں ہیں۔ مرنے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ٹریبونل کے سامنے پیش کی گئی تو پتہ چلا کہ بیشتر افراد کی اموات دھواں پھیلنے اور دم گھٹنے سے ہوئی۔
اس ٹریبونل میں دو تین افراد وہ پیش ہوئے جنھوں نے مسجد کا دروازہ توڑ کر اپنی جان بچائی۔ فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے ،ٹریفک جام اور غیر منظم ہجوم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹوں کے بارے میں بھی شہادتیں پیش کی گئیں۔ ٹریبونل کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سندھ حکومت کا الیکٹڈ اسپیکٹر فعال نہیں ہے جس کا بنیادی کام ہر عمارت میں بجلی کے نظام کے معیار کا جائزہ لینا ہے۔ ٹریبونل کی کارروائی کا جائزہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے داری محکمہ بلدیہ اور اس کے ذیلی اداروں بلدیہ کراچی کے فائر بریگیڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ پولیس اور سول و ڈیفنس کے محکموں پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ نتائج اخذ کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ متعلقہ اداروں کے افسروں کی نااہلی، سرکاری عملے کا تربیت یافتہ نہ ہونا، ان اداروں میں کرپشن اور صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس اس سانحہ کی براہِ راست ذمے دار ہے۔
جدید ممالک اس طرح کے سانحہ کے بعد سب سے پہلے احتساب کا عمل شروع کرتے ہیں۔ اس سانحہ کے ذمے دار اداروں میں سے بیشتر کا تعلق محکمہ بلدیات اور اس کے ذیلی اداروں سے ہے۔ اگرچہ کسی حادثے پر متعلقہ وزیر کے مستعفی ہونے کی روایت تو اس ملک میں ہے ہی نہیں مگر یہ کیسی منطق ہے کہ جس محکمہ کے افسروںکا سب سے زیادہ احتساب ہونا چاہیے، اس محکمہ کے وزیر کو ہی ٹریبونل کی رپورٹ پر عملدرآمد کی نگرانی پر مامور کردیا گیا۔ اس وقت مسئلہ صرف گل پلازہ کا نہیں ،وہاں جو جانی اور مالی نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا، اب کراچی سمیت اندرون سندھ شہریوں کے تحفظ کا معاملہ سب سے اہم ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب 10 سال قبل بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی تو اس سانحے میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
سندھ حکومت نے ریٹائرڈ جج جسٹس علوی کی قیادت میں ٹریبونل بنایا تھا مگر اس ٹریبونل کی رپورٹ کو بھی عام نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس رپورٹ پر عملدرآمد کیا گیا۔ ایک تجربہ کار صحافی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت احتساب پر یقین نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین حکمراں جماعت یعنی پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو ہیں۔ ایک اور صحافی کا کہنا ہے کہ ’’سسٹم‘‘ سے منسلک افسروں کے خلاف سندھ میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ گل پلازہ کے بعد کئی مقامات پر آگ لگی مگر معاملات کنٹرول میں رہے۔ جب متعلقہ افراد کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر خدانخواستہ اگلے چند مہینوں میں کوئی نیا حادثہ متوقع ہے۔
Today News
آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق تیار کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیارکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینے کی تجویز ہے اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے سپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی۔ بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ مالی سال2026-27ء کے بجٹ میں مختلف شعبوں کوحاصل انکم ٹیکس اورسیلزٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا۔
سپیشل اکنامک زونزکو پہلے سے حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔ ایکسپورٹ زونزمیں تیارمصنوعات مقامی مارکیٹ میں بیچنے پرپابندی ہوگی،بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدہ بروقت اضافہ لازمی قراردیاجائے گا۔
آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پربھی زوردیا ہے،بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم ساڑھے چودہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزارروپے کی جائے گی، ایف بی آر کے آڈٹ نظام کومضبوط اورمرکزی بنایا جائے گا،وفاقی بجٹ میں نئے اکنامک زونز بنانے پرفی الحال پابندی عائد رہے گی۔
بجٹ میں زرمبادلہ سے متعلق پابندیوں میں مرحلہ وارنرمی کی جائے گی جبکہ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری2027 تک قائم کی جائے گی۔
Source link
Today News
آشا بھوسلے – ایکسپریس اردو
آشا بھوسلے برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب تھیں جسے جتنا پڑھا جائے اتنا ہی دلکش محسوس ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سی لچک، شوخی اور جذباتی گہرائی تھی جو ہر دور کے سامعین کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک عہد تھیں، ایک ایسا عہد جس نے فلمی موسیقی کو کئی رنگ دیے، کئی نئے رجحانات متعارف کروائے اور گائیکی کے دائرے کو وسعت دی۔ان کا چلے جانا نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں بھی ہندی اور اردو گانے سنے جاتے ہیں وہاں لوگوں کو غمگین کر گیا۔
آشا بھوسلے کا سفر آسان نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں موسیقی سانسوں میں بسی ہوئی تھی، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انھیں سخت مقابلے اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں انھیں زیادہ تر ثانوی نوعیت کے گانے ملتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ یہی ثابت قدمی بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ ان کی آواز میں وہ خاص بات تھی جو کسی بھی عام دھن کو یادگار بنا سکتی تھی۔
اگر ہم ان کے گانوں کی بات کریں تو ان کی ہمہ جہتی حیران کن ہے۔ رومانوی گیت ہوں کلاسیکل انداز کے نغمے قوالی پاپ یا آئٹم سانگ ہر صنف میں انھوں نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا مشہور گانا پیا تو اب تو آجا آج بھی سننے والوں کو سر دھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس گانے میں جو ادائیں جو اداکاری آواز کے ذریعے پیش کی گئی وہ بہت کم گلوکاروں کے حصے میں آتی ہے،اسی طرح دم مارو دم ایک ایسا گانا ہے جس نے نوجوان نسل میں ایک نئی لہر پیدا کی۔ یہ صرف ایک گانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی اظہار تھا جس نے اس دور کے مزاج کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ اس گانے میں آشا کی آواز کی بے فکری اور روانی سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔رومانوی گیتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ چرا لیا ہے تم نے جو دل کو ایک ایسا نغمہ ہے جو محبت کے جذبات کو نہایت نرم اور دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں ان کی آواز کی مٹھاس اور نزاکت سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے، یہی وہ خاصیت ہے جس نے انھیں دہائیوں تک مقبول رکھا۔
آشا بھوسلے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے وقت کے ساتھ خود کو بدلا۔ جہاں بہت سے فنکار ایک خاص انداز میں محدود ہو جاتے ہیں ،وہاں آشا نے ہر نئے رجحان کو اپنایا۔ 70 کی دہائی کا کیبری اسٹائل ہو یا 90 کی دہائی کا پاپ انھوں نے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ میرا دل جیسا گانا ان کی جرات مندی اور جدیدیت کی بہترین مثال ہے۔
کلاسیکل موسیقی میں بھی ان کی مہارت کم نہیں تھی، اگرچہ انھیں زیادہ تر ہلکے پھلکے یا فلمی گانوں کے لیے جانا جاتا ہے لیکن جب بھی انھوں نے کلاسیکل گیت گائے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی آواز میں سُر کی پختگی اور تال کی سمجھ واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
ان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے مختلف موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے انداز کو ان کے مطابق ڈھالا لیکن اپنی پہچان کبھی کھونے نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گانے سن کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آواز آشا بھوسلے کی ہے۔ ان کا انداز منفرد ہے چاہے وہ شوخ ہو سنجیدہ ہو یا درد بھرا۔
ذاتی زندگی میں بھی انھیں کئی نشیب و فراز دیکھنے پڑے ان کو اس وقت گہرے صدمے کا سامنہ ہوا جب ان کی بیٹی ورشا بھوسلے نے خودکشی کرلی تھی ،وہ وقت ان کے لیے بہت کٹھن تھا۔ ان کے گانوں میں جو جذباتی گہرائی محسوس ہوتی تھی وہ شاید انھی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جب وہ درد بھرا گیت گاتی تھیں تو لگتا تھا جیسے وہ خود اس کیفیت سے گزر رہی ہوں۔آشا بھوسلے کی لمبی عمر اور طویل کیریئر بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
کئی دہائیوں تک مسلسل کامیاب رہنا آسان نہیں ہوتا ،خاص طور پر ایک ایسے میدان میں جہاں مقابلہ بہت سخت ہو۔ ان کو تو گھر ہی میں اپنی بہن لتا منگیشکر اور اوشا منگیشکر کے ساتھ اپنی جگہ بنانی تھی۔ انھوں نے ہر دور میں خود کو ثابت کیا اور نئی نسل کے گلوکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی۔آج بھی ان کے گانے نہ صرف پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک لازوال کشش ہے ،جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موسیقی کی دنیا میں ایک لیجنڈ کا درجہ رکھتی ہیں۔
اگر ان کے چند مزید یادگار گانوں کا ذکر کیا جائے تو ان آنکھوں کی مستی کے، رات باقی بات باقی اور آؤ حضور تم کو بھی ان کے فن کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ ہر گانا ایک الگ کہانی سناتا ہے اور ہر کہانی میں آشا جی کی آواز ایک نئی جان ڈال دیتی تھی۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے فن سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ موسیقی کو ایک نئی سمت بھی دی۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے ایک خزانہ ہے ایک ایسا خزانہ جو کبھی پرانا نہیں ہوگا۔
آشا بھوسلے کی گائیکی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فن میں اصل طاقت تنوع محنت اور خود پر یقین میں ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنھوں نے انھیں ایک عام گلوکارہ سے ایک عہد ساز شخصیت بنا دیا۔
وہ بارہ اپریل 2026 کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔ برصغیر ایک بہت بڑی گائیکہ سے محروم ہوگیا۔ پاکستان میں بھی ان کی گائیکی کے چاہنے والے بیحد افسردہ ہوئے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
Today News
حکمران اور ظلم – ایکسپریس اردو
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے۔ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جنگ کے علم بردار دکھاوا کرتے ہیں انھیں معلوم نہیں کہ تباہی میں صرف ایک لمحہ لگتا ہے، تعمیر نو میں پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ پوپ لیو کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے ۔
ہمارے ہاں تو ماضی کے ایسے فاتحین جھنوں نے خون کی ندیاں بہائیں، انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ کہ ایسا پوری دنیا میں ہے۔ جو جتنا ظالم حکمران ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا ہیرو سمجھا جاتا ہے، آج بھی یہی کھیل کھیلا جارہاہے ۔ امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کی جنگی پالیسیوں کے خلاف خود ان کے عوام کو سڑکوں پر احتجاج اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنا پڑا۔ دونوں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے مگر دونوں اپنی جنگی پالیسی سے باز نہیں آئے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی صدر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے دس جنگیں رکوائی ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ امریکی صدر نے خود امریکا اور اسرائیل سے ایران پر حملے کرائے اور مزید تباہی کی دھمکیاں ابھی جاری ہیں۔
دنیا میں امریکا واحد سپر پاور ہے جس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر نے جنگوںکا نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ انھوں نے رات کی تاریکی میں امریکی کمانڈوز وینزویلا بھیج کر وہاں کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرایا اور کئی ماہ سے امریکا میں قید کر رکھا ہے اور اب کیوبا کو دھمکایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد حکمران ہیں جو خود کو رحم دل بھی کہتے ہیں اور جنگ تھوپ کر خود ہی جنگ بندی بھی کر لیتے ہیں مگر اسرائیل میں صرف بربریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کے مظالم رکنے میں نہیں آ رہے جس نے لاکھوں فلسطینی شہید کیے جن میں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہیں اور اب لبنان اس کی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنی جدید ٹیکنالوجی سے ایران کے سپریم لیڈر و دیگر اہم رہنماؤں کو شہید کیا ہے۔
امریکا کے حکمرانوں نے جھوٹے الزامات لگا کر پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے لیبیا اور عراق پر حملے کرکے وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جب کہ اس سے قبل ویت نام میں شکست کھائی تھی اور اب ایران سے جنگ میں امریکی صدر اپنی فتح پر شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ امریکی حکمران ایک طرف مذاکرات کرنے پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرکے اپنی ساکھ برباد کر چکے ہیں وہ صبح کچھ رات کو کچھ اعلان کرکے ناقابل اعتماد بھی ہو چکے ہیں۔ یوں تو دنیا میں بے شمار حکمران آئے اور چلے گئے لیکن جو خود تو مر گئے مگر تباہی و بربادی کی مثالیں چھوڑ گئے۔ امریکی صدر و اسرائیلی وزیر اعظم کی کابینہ تو مجبور ہے مگر دونوں ملکوں کی منتخب پارلیمنٹ کی اکثریت بھی خاموش ہے جس کا تازہ ثبوت امریکی سینیٹ کا اکثریتی فیصلہ ہے جس نے اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہونے دی۔
روحانی پیشواپوپ لیو نے درست کہا ہے کہ تباہی و بربادی لمحوں میں پھیلا دی جاتی ہے مگر جنگوں میں ہونے والی تباہیاں سالوں میں بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں جب کہ دوبارہ تعمیر کے لیے بہت زیادہمالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا و اسرائیل نے اربوں ڈالروں کے ہتھیاروں سے ایران میں تباہی پھیلائی اور اس رقم سے زیادہ رقم اب ایران کو تعمیر و ترقی اور تباہی کی بحالی کے لیے درکار ہے۔
اپنی ذاتی انا کی تسکین اور من مانی کے لیے امریکا و اسرائیل کے حکمرانوں نے ایران پر جنگ مسلط کرکے جو بھاری رقم خرچ کی، وہ رقم وہ اپنے عوام کی خوشحالی و ترقی اور دنیا میں پھیلی بے انتہا غربت کے خاتمے پر خرچ کرتے تو لبنان، فلسطین اور ایران کا ناقابل تلافی جانی اور بہت بڑا مالی نقصان ہوتا نہ دنیا میں ان حکمرانوں کے خلاف بڑے احتجاج نہ ہوتے نہ انھیں ظالم گردانا جاتا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper
-
Sports4 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport