Connect with us

Today News

بری کوئی خبر نہیں آتی

Published

on


کیا آپ کو ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ آج کل ہمارے ہاں ’’خوش خبریوں‘‘ کی پیداوار کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے ، اخبارات اٹھائیے تو ایسے لگتا ہے جیسے اخبار نہ ہو ’’خوش خبری نامے ‘‘ ہوں ، ہرچہار اطراف بلکہ شش جہات سے خوش خبری اتر رہی ہو، نازل ہو رہی ہو بلکہ برس رہی ہوں۔

ویسے تو اس ملک میں خوش خبریوں کی کاشت وبرداشت ابتدا ہی سے چلی آرہی ہے اورہرقسم کی حکومت نے اس ملک کو اورکچھ بھی نہیں دیا ہو بلکہ لیا ہی لیا ہوا ہے لیکن خوش خبریاں بے پناہ دی ہوئی ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے جب سے حضرت بانی نے اس ملک کو اپنے قدوم لزوم سے شرف یاب کیا ہے اوراسے اپنے ’’وژن‘‘ کے نشانے بلکہ نشانوں پر لیا ہے اوراپنے انصاف کے سایہ عاطفت کے تلے لایا ہے، تب سے خوشخبریوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے سننے میں آنے لگا ہے بلکہ خوش خبریاں سنانے والے نئی قسم کے ڈھنڈورچی بھی پیدا ہوئے ہیں۔

 اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے صرف وزیر لوگ ہی خوش خبریاں ڈسٹری بیوٹ کرتے تھے اب اس کام کے لیے خصوصی قسم کے ماہرین ،مشیر اورمعاون بھی رکھے جانے لگے ہیں بلکہ سرکاری محکموں کے سربراہوں ، چیف سیکریٹری، سیکریٹری اورڈائریکٹر لوگوں سے بھی شاید کہا گیا ہے کہ اورتوتم کچھ بھی نہیں کرتے ہو، سوائے دفتر میں آرام کرنے ، تنخواہیں مع مراعات اوراوپر کا من وسلویٰ بٹورنے کے سوا ۔اس لیے خوش خبریاں دینے کے کام میں… لگے رہو منابھائی ۔ہوجاؤ، اور وہ ہوگئے ہیں صبح خوش خبری، شام خوش خبری اپنا تو کام ہے خوش خبری ، قیام خوشخبری ، طعام خوش خبری۔

بلکہ ایک اوروجہ ہماری سمجھ دانی میں یہ بھی آرہی ہے کہ چونکہ اس ملک کے کالانعاموں کی پوری زندگی ہی ’’بدخبری‘‘ بن گئی ہے یا بنا دی گئی اس لیے اس کے اوپر خوش خبریوں کا چھڑکاؤ ہوتے رہنا چاہیے کہ ہروقت تازہ بتازہ رہناچاہیے تاکہ یہ مستقل اوردائم آباد بدخبری ’’مہنگائی ‘‘ خوب خوب پھلے اورپھولے بھی۔ کہ یہی بدخبری ہی تو اس ملک کے اشراف کی دودھیل گائے اورثمربار درخت ہے اوراس ہمہ جہت ’’بدخبری‘‘ کے ہوتے ہوئے اورکسی بھی خبر یا بدخبری کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی برکات سے خود عوام کالانعام خود ایک بڑی ’’بدخبری‘‘ بن چکے ہیں

بوجھ ہوتا جو غموں کاتو اٹھا بھی لیتے

زندگی بوجھ بنی ہوتو اٹھائیں کیسے ؟

 اصل میں ہوا یوں کہ اس ملک میں آنے جانے والی، جانے آنے والی اورپھر جانے آنے والی اور آنے جانے والی حکومتوں کو احساس ہوگیا ہے کہ گزشتہ پون صدی میں ہم نے اس ملک کو اپنی ایمانداریوں ،دیانت داریوں ، فن کاریوں اورحسن انتظام سے اتنا ’’بہت کچھ‘‘ دے چکے ۔ اسے مرگ ناگہانی سے بچانے کے لیے خوش خبریوں کے ’’ڈرپ‘‘ چڑھانا ضروری ہے ،ورنہ ان کی وفات حسرت آیات اورانتقال پرملال طے ہے اوراگر یہ مرگئے توہمیں کھلائے گا کون؟ پلائے گا کون اور  چرائے گا کون؟ اورہم نچوڑیں گے پھرکس کو، ککھ کریںگے کس کو ؟ اورچومیں گے چبائیں گے کس کو۔۔ کس کے گھر جائے گا ہمارا سیلاب بلا ان کے بعد۔۔ سوخوش خبریوں کے ڈرپ ہیں جو چڑھائے جارہے ہیںجب کہ

مریض عشق پر رحمت خدا کی

مرض بڑھتا گیا جوںجوں دواکی

 ہم نے آپ کو اپنے گاؤں کے اس بابو کا قصہ تو سنایا تھا جو ایک فنڈریز ، فنڈچیز اورفنڈ گریز ادارے میں اکاونٹنٹ تھا اوراس نے اپنے گاؤں میں اتنی شنگل بجری ڈالی تھی جو شکرہے کہ صرف کاغذات میں ڈالی تھی ورنہ اگر حقیقت میں ڈالتا تو گاؤں کے سارے مکان اس کے نیچے دب چکے ہوتے ۔

ہمارے یہ خوش خبریوں والے بھی اچھا ہے کہ خوش خبریاں صرف سناتے ہیں اگر انھیں ’’عملی‘‘ کرتے تو ہم اب تک جنت نشین ہوچکے ہوتے اور ہمارا یہ ملک کویت، دبئی یا امارات بن چکا ہوتا، صرف ہمارے صوبے خیر پخیر میں اگر زیادہ نہیں صرف گزشتہ ایک بلکہ سال بھی، صرف اس وقت سے بھی حساب لگایا جائے جب سے بانی کے وژن کے مطابق اس مرتبہ جو خوشخبری ٹیم بنائی گئی بلکہ وہ خوش خبری ٹیمیں کہیے،ایک وہ جو چلی گئی ہے اورایک جو لائی گئی اس کی بھی ساری خوشخبریاں ایک طرف کردیجئے اورصرف معاونین اطلاعات کی دی ہوئی خوشخبریاں بھی شمار کی جائیں تو اس وقت صوبے میں ہرشخص کو کم ازکم لکھ پتی ہوناچاہیے تھا ،صوبے میں ایک بھی بیروزگار بیمار یا بیکار نہیں ہوناچاہیے۔

 میرٹ کو مینڈیٹ کے کندھوں پر سوار ہوکر گلی گلی صدائیں دینی چاہیے کہ نوکریاں لے لو۔ یوٹیلٹی لے لو، سولرپینل لے لو،انصاف لے لو امن لے لو۔یا پھر سارے اخبارات پڑھ لیجیے اگر ایک تو کیاآدھی پونی بدخبری بھی کوئی ڈھونڈ لائے تو ہمارا نام بدل کر مینڈیٹ چور رکھ لیجیے ۔ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر بدخبری سے اپنے کان آشنا کرنا بلکہ کانوں کا ذائقہ بدلناچاہتے ہیں کہ خوش خبریاں سن سن کاذائقہ خراب ہونے لگا ہے لیکن بدخبری سننے کو نہیں مل رہی ہے ، بہت خوش خبریاں چلی آرہی ہیں ۔

 ایک فلمی بلکہ ڈرامے کا منظر یادآرہاہے، ایک خاتون کی اپنی بیٹی سسرال میں پکی پکی مسلط ہے اس کی بیٹی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے حالانکہ سارا خاندان بیٹے کا تمنائی اورمنتظر تھا ، مطلب یہ اس کی بیٹی سے خاندان مایوس ہوگیا تھا اورایک دوسری بہو جواس کی بیٹی کی دیورانی تھی اس کی ڈلیوری ہونے والی تھی ، ڈاکٹروں نے ڈلیوری میںپیچیدگی کاخدشہ ظاہرکیاتھا اس کے سارے گھروالے اس کے ساتھ ہستپال گئے ہوئے تھے اوریہ سمدھن گھر میں اکیلی تھی اس کی خواہش تھی کہ اس کی بیٹی کی اس دیورانی کو کچھ ہوجائے خود زچگی میں مرجائے یا اس کی اولاد یا دونوں ہی مرجائیں یاکم ازکم اس کی اولاد نرینہ نہ ہو۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھٹنی بجتی ہے وہ دوڑکر ٹیلی فون کے پاس جاتی ہے لیکن ٹیلی فون اٹھانے سے پہلے اوپر کی طرف دیکھتے ہوئی کہتی ہے۔

بری سے بری خبر سنانا بھگوان۔ لیکن بھگوان اس کی نہیں سنتا، اوربری سے بری خبر اس کو سنا دیتا ہے کہ بیٹا پیدا ہوا ہیے زچہ وبچہ دونوں خیریت سے ہیں ۔

ہمارے بھی کان ’’کچے‘‘ ہوگئے ہیں جس طرح کوئی روزروز مٹھائیاں کھاکر کسی تیکھی چیز کاخواہش مند ہوتا ہے لیکن

کوئی امید بر نہیں آتی

’’بری‘‘ کوئی خبر نہیں آتی





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پی ایس ایل: شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے، بیٹ توڑ ڈالا

Published

on


پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے اور بیٹ توڑ دیا۔

گزشتہ روز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو باآسانی 6 وکٹوں سے شکست دی۔

کپتان شاہین آفریدی آل راؤنڈر سکندر رضا سے پہلے بیٹنگ کرنے آئے لیکن دوسری ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔

پویلین واپس لوٹتے ہوئے وہ شدید غصے میں اپنے بلے کو پٹختے رہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پہلے بلے کو سائیڈ اسکرین کے ٹائر پر مارا پھر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بلے کو زور سے زمین پر مارا اور اندر چلے گئے۔

واضح رہے کہ دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کی ٹیم رواں سیزن میں 6 میں سے صرف 2 میچز میں فتح حاصل کرپائی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

دیرلوئر اور چترال میں شدید بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی، معمولات زندگی متاثر

Published

on



پشاور:

دیرلوئر اور چترال میں شدید بارشوں کے نتیجے میں  ندی نالوں میں طغیانی آ گئی جب کہ معمولات زندگی بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق دیر لوئر میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے۔ دریائے پنجکوڑہ میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔

بارشوں کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں اور علاقے میں جاتی سردی کا سلسلہ بھی رک گیا ہے۔ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب چترال کی تحصیل دروش کے علاقے کلدام گول نالہ میں گزشتہ رات پہاڑوں پر شدید بارشوں اور طغیانی کے باعث دیر چترال روڈ پر مسافر گاڑیاں پھنس گئیں۔ ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مسافر کوسٹر اور دیگر گاڑیوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

ریسکیو حکام کی جانب سے عوام  خصوصاً ڈرائیورز سے اپیل کی گئی ہے کہ بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر اور خطرات مول لینے سے گریز کریں، ندی نالوں، لینڈ سلائیڈنگ والے مقامات اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر معاون خصوصی حکومت خیبرپختونخوا کا سخت ردعمل

Published

on


بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر حکومت خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے نے پنجاب حکومت کی بدنیتی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی صحت پر غفلت اور علاج میں دانستہ تاخیر بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، آپریشن کے بعد مناسب طبی سہولیات اور مؤثر نگہداشت فراہم نہ کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیملی کو اعتماد میں لیے بغیر آپریشن کرنا غیر قانونی اور مجرمانہ فعل ہے جبکہ بروقت علاج نہ ملنے سے آنکھ کی بیماری سنگین ہو گئی۔

شفیع جان نے کہا کہ جیل میں قید افراد کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور آپریشن کے بعد مریض کو ایسی جیل منتقل کرنا جہاں بنیادی سہولیات نہ ہوں قابل سوال ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر بہتر طبی نگہداشت کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔

شفیع جان نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت ایک غیر سیاسی خاتون کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے اور بغیر عوامی مینڈیٹ کی حکومت انسانی صحت جیسے حساس معاملے پر بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی حکومت کی بے حسی کا ثبوت ہے، تاہم تمام تر دباؤ کے باوجود عمران خان کے حوصلے بلند ہیں اور ان کی عوامی مقبولیت ہی حکومتوں کی بوکھلاہٹ کا سبب بن رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending