Today News
جنگ بندی یا ناکہ بندی… کیا چلے گا؟
اب ناکہ بندی چلے گی یا جنگ بندی قائم رہے گی؟ کیا امریکی نائب صدر کے مذاکرات چھوڑ کر چلے جانے کا مطلب ہے دوبارہ جنگ چھڑ جائے گی؟ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ مذاکرات معطل ہوئے ہیں ناکام نہیں ہوئے۔ پل قائم ہے اور ثالث پھر سے متحرک ہوچکے ہیں۔اب کچھ اور ملک بھی ثالثوں کا ہاتھ بٹائیں گے۔ قرائن اور فریقین کے بیان اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ اب جنگ نہیں ہوگی اور ایران اور عرب ممالک نشانہ نہیں بنیں گے۔
اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قرضوں میں جکڑے ہوئے، سنگین قسم کے مسائل میں پھنسے ہوئے اور اندر کے غدّاروں اور بدخواہوں میں گھرے ہوئے پاکستان نے نہ صرف اس خطّے کو بلکہ پوری دنیا کو ایک ہولناک جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی دنیا کے کونے کونے میں تعریف و تحسین کی جارہی ہے اور جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔
ذرا وہ لمحے یاد کریں جب دنیا کا طاقتور ترین شخص ایک ایسے ملک کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے اور انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا جس کی ساری سیاسی اور عسکری قیادت کو وہ شہید کرچکا تھا، جس کے پاس اپنی فضائیہ نہیں تھی اور بحری فوج کا بڑا حصّہ تباہ ہوچکا تھا اور اب طاقتور حملہ آور نے جس ملک کے پل، اسپتال، یونیورسٹیاں اور پاورسٹیشن تباہ کرنے شروع کردیے تھے۔ جواباً کمزور ملک نے بھی اپنے وسائل جنگ میں جھونک دیے تھے جس کے نتیجے میں جنگ کے شعلے پورے مڈل ایسٹ کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے ۔ آبنائے ھرمز بند کردی گئی تھی جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کا شدید بحران پیدا ہوچکا تھا۔
امریکی صدر کے بیانات اور حملوں نے اور اسرائیل کے خطرناک عزائم نے اس کرۂ ارض کو تیسری عالمی جنگ کے کنارے پر پہنچا دیا تھا، یہی نظر آتا تھا کہ چند دنوں میں بڑے ممالک بھی اس جنگ میں براہِ راست ملوّث ہوجائیں گے۔ ان خطرناک ترین لمحات میں ایک ملک نے خاموش تماشائی بننا گوارہ نہ کیا، اس کی سیاسی اور عسکری قیادت نے فوری طورپر دونوں متحارب فریقوں سے رابطہ قائم کیا، اپنے ذاتی اور ادارہ جاتی رابطے اور اثرو رسوخ استعمال کیا اور دونوں کو ہتھیار رکھنے اور بات چیت کرنے پر راضی کرلیا۔ دنیا کے ہر خطے کے مورخ لکھیں گے کہ اس مرحلے پر دنیا کو آگ کا تنور بننے سے جس ملک نے بچالیا اور جس کی بے پناہ کوششوں سے جنگ بندہوگئی، وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی اس غیر معمولی کاوش اور کامیابی پر دنیا بھر کے لیڈر اس کے راہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ کنونشن سینٹر میں بھی دنیا بھر کے صحافیوں کی زبان سے یہ دو الفاظ بار بار نکل رہے تھے Weldon Pakistan!
ثالثی کرانا عموماً ’’بڑے چوہدریوں‘‘ کا حق سمجھا جاتا ہے یا وہ خود ثالث بنتے ہیں یا اپنے کسی تابعدار ملک میں مذاکرات کا اہتمام کرواتے ہیں۔ مگر پاکستان نے خود اپنے initiative پر ثالثی کی پیشکش کی جو دونوں فریقوں نے قبول کرلی اور پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا جس کی توقّع نہ ہونے کے برابر تھی کہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ایک ایسے ملک کے سامنے برابری کی سطح پر بیٹھا جس کی مالی اور عسکری طاقت امریکا سے ہزار گنا کم ہے۔ کیا دنیا کا چوہدری امریکا کسی اور کمزور ملک کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ سکتا تھا؟ کبھی نہیں۔ ٹرمپ کی انا کبھی گوارہ نہ کرتی۔ پھر ایران کے پاس ایسی کونسی طاقت تھی جس نے اسے سپر پاور کے برابر بٹھا دیا۔
اس کا ایک ہی جواب ہے ’’ایرانیوں کی جرأت، حوصلہ اور استقامت‘‘ کچھ ایرانی اہلِ دانش سے پوچھا کہ بظاہر یہ ایک خونخوار بھیڑیئے اور کمزور سی بھیڑ کا مقابلہ نظر آتا تھا۔ کوئی اور ملک دورِ حاضر کی سپر پاور اور عسکری دیو کے سامنے کھڑا نہ ہوسکتا تھا۔آپ کے تمام بڑے لیڈر قتل کردیے گئے، کارپٹ بمباری نے آپ کے شہروں کو ملبے کا ڈھیر بنادیا۔ کوئی اور ملک ہوتا تو وہاں انارکی پیدا ہوجاتی۔
وہاں کے حکمران بھاگ جاتے یا سپر پاور کے آگے ہاتھ جوڑ لیتے۔ مگر ایران کے حکمران نہ جھکے ، نہ لڑکھڑائے، نہ خوفزدہ ہوئے۔آخر آپ کے پاس کون سے طاقت کے خزانے ہیں، آپ کس کے سہارے ڈٹے رہے ؟ ایک ایرانی دانشور کا کہنا تھا ’’ایران کی جرأت اور استقامت کے دو بڑے پاور ہاؤس ہیں۔ کلامِ الٰہی اور اقبالؒ ۔ ایک سینئرصحافی نے تفصیل سے جواب دیا کہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کی جرأت، ہمّت اور استقامت کے تین سورس ہیں رب ذوالجلال کا نام،کربلا کا پیغام اور اقبالؒ کا کلام ۔
جب اس کائنات کے خالق اور سب سے بڑی طاقت نے کہہ دیا کہ اگر تم سچے مومن ہو تو بالآخر تمہی کامیاب ہوگے ، تو ہمارا اس پر پختہ یقین ہے کہ آخری فتح ہماری ہوگی۔ کربلا ہمارے اندر جان کی قربانی اور شہادت کا جذبہ ترو تازہ رکھتا ہے اور اقبالؒ نے ہمیں خودی اور عشق کی غیر معمولی قوّت سے روشناس کرادیا ہے۔ دونوں کی بات درست ہے۔ ایران کے شہید راہبر سید علی خامینائی خود کو مریدِ اقبالؒ کہتے ہیں۔ مرشد نے کہا تھا:
؎نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیریؓ
ایرانیوں کے راہنما نے کہیں پناہ لینے سے اور محفوظ جگہ پرجانے سے انکار کردیا اور اس طرح رسمِ شبیّری نبھائی کہ دنیا کو حیران کردیا۔ ٹیکنالوجی کے غلام کہتے تھے آج کے دور میں جذبے نہیں صرف ٹیکنالوجی فیصلے کرتی ہے۔ مگر ان کا مرشد کہتا تھا کہ ٹیکنالوجی پر صرف اہلِ کفر بھروسہ کرتے ہیں، اگر کوئی سچا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑ سکتا ہے۔ ایران کے جذبوں نے مومن کے بے تیغ لڑجانے والے شعرکا مطلب سمجھا دیا ہے۔ زیادہ تر مسلمان ملک سونا اور تیل بیچ کر مال و زر اکٹھا کرتے رہے اور اسی کو اپنی طاقت سمجھتے رہے مگر دانائے راز نے کہا تھا:
؎ سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں
یعنی مسلمانوں کے زوال کا سبب وسائل کی کمیابی نہیں۔ اسلاف کے جذبوں کا فقدان ہے، اسی لیے شاعرِ مشرق کہتا تھا۔
؎ لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کے قلب و جگر
ملک و ملّت ہے فقط حفظِ حرم کا اک ثمر
ایرانیوں کے پاس دولت نہیں مگر اسلاف کے قلب و جگر تھے جس کے زور پر انھوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ عالمی مبصرین کی اکثریت بیک زبان کہہ رہی ہے کہ امریکا شکست کھاچکا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور ایران جیت گیا ہے کیونکہ ان کے پاؤں نہیں اکھڑے، وہ جھکے نہیں، ملک کا نظم و نسق قائم رہا۔ انارکی پیدا نہیں ہوئی۔ قوم متحد ہوکر ریاست کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ کوئی ایرانی جان بچانے کے لیے باہر نہیں بھاگا۔ بلکہ جو لوگ رجیم کی مخالفت کے باعث باہر گئے ہوئے تھے، وہ یہ کہہ کر واپس آئے کہ ’’ہم اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے جان دینا چاہتے ہیں۔‘‘
دنیا بھر کے مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان خالقِ کائنات کا خاص لاڈلا ہے کہ پاکستانیوں کی غلطیوں اور لغزشوں کے باوجود خالق و مالک نے پاکستان کو ہر اہم موقع پر عزّت اور فتح سے ہمکنار کیاہے، اس لیے ہم دعائیں کرتے رہے کہ یا الٰہی اپنے اس لاڈلے کی عزّت اور لاج رکھنا اور مذاکرات کامیاب بناکر دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا لینا۔ کیا خالقِ کائنات اپنے لاڈلے پاکستان کی عزّت اور ساکھ کو ضایع کردے گا؟ نہیں انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا۔
مذاکرات ناکام نہیں ہوئے۔ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے جو فریق اسلام آباد پہنچے۔وہ امن کے خواہشمند ہیں، جنگ کے نہیں۔ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی مسلسل کہہ رہے ہیں کہ کافی باتوں پر اتفاق ہوگیا تھا۔ ایک دوسرے سے شدید نفرت کرنے والے ایک ملاقات میں دوست نہیں بن سکتے۔مذاکرات کے کئی دور چلتے ہیں۔پھر کچھ باتیں مانی جاتی ہیں۔ویسے بھی زیادہ طاقتور فریق پہلی ملاقات میں اپنا موقف سخت رکھتا ہے۔مگر برف پگھلی ہے اور پیشرفت ہوئی ہے۔ پاکستان سے لوٹ کر وہ میدان جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، اسلام آباد سے واپسی کا راستہ میدان جنگ کی طرف نہیں، گلستان ِامن کی طرف جاتا ہے۔
انشاء اللہ یہ خطہ اور پوری دنیا اب جنگ کی تباہ کاریوں سے بچی رہے گی ۔ امریکا کے صدر کی ہر دھمکی کے بعد ایک ٹویٹ آتا ہے جس میں جنگ کے خاتمے کی چھپی ہوئی شدید خواہش صاف نظر آتی ہے، امریکا کی کانگریس، سینٹ، عوام سے لیکر اس کے تمام سابق اتحادی اور تمام اہم ممالک جنگ کی مخالفت اور صدر ٹرمپ پر شدیدتنقید کررہے ہیں، اس ماحول میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ اب جنگ نہیں ہوگی، آبنائے ھرمز کا معاملہ جلد طے پاجائے گا، مذاکرات کا دوسرا دور جلد ہوگا، ناکہ بندی بھی ختم ہوگی اور جنگ بندی بھی قائم رہے گی۔
Today News
کراچی، سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الہندوستان کے 3 دہشت گرد گرفتار
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور وفاقی حساس ادارے نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم دہشت گرد تنظیم فتنۃ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کالعدم دہشت گرد تنظیم فتنۃ الہندوستان کے گرفتار دہشت گردوں کی شناخت میانداد بلوچ، محمد عمران اور رحمان عرف کنگ کے نام سے کی گئی ہے، گرفتار دہشت گرد بلوچستان سے آئے، دہشت گردوں کو گھروں میں پناہ دیتے تھے اور ان کے مطلوبہ ٹارگٹ کی تلاش و معلومات کے لیے اپنی موٹر سائیکلیں بھی مہیا کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشت گرد رحمان عرف کنگ جعفر ایکسپریس حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد ظفر کا قریبی ساتھی اور دوست ہے، گرفتار دہشت گرد سوشل میڈیا، انسٹا گرام اور فیس بک پر پاکستان مخالف انڈین چینلز اور فتنۃ الہندوستان کے اکاؤنٹس اور پوسٹوں کی تشہیر میں بھی پیش پیش تھے۔
ترجمان کے مطابق چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار دہشت گردوں سے کراچی میں اپنے ماسٹر مائنڈ کے حکم پر کارروائیاں کرنے کی غرض سے تنظیم کی طرف سے دیا گیا اسلحہ 3 پستول 30 بور اور 18 گولیاں جو کہ بلوچستان سے کراچی لایا گیا تھا وہ بھی برآمد کرلیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں جبکہ دہشت گردوں کے تنظیمی ساتھیوں اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو ان کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی پولیس نے گرفتار دہشت گردوں کے خلاف غیر قانونی اسلحہ برآمدکرنے کے 3 مقدمات درج کرلیے ہیں۔
Source link
Today News
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا سیکڑوں اسامیوں پر نئی بھرتیوں کا اعلان
فیڈرل پبلک کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) 2025 کے لیے نئی اسامیوں کا اعلان کردیا ہے، جس میں اوپن میرٹ، صوبائی، خواتین اور اقلیتی کوٹہ شامل ہے اور مذکورہ تعیناتیاں پولیس، فارن سروس، آفس مینیجمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں ہوں گی۔
ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ سی ایس ایس 2025 کے لیے اشتہار جاری کردیا ہے اور مجموعی طور پر 327 اسامیوں پر بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا، ان میں 191 نئی اور 136 پچھلے برسوں کی منتقل شدہ اسامیاں بھی شامل ہیں۔
ایف پی ایس سی نے بتایا کہ اوپن میرٹ کے لیے 169 نشستیں، خواتین کے لیے 35، اقلیتوں کے لیے 123 اسامیاں مختص ہیں۔
صوبائی کوٹے سے متعلق بتایا گیا کہ پنجاب کے لیے سب سے زیادہ 157، خیبرپختونخوا کے لیے43، سندھ رورل کے لیے 30، سندھ اربن کے لیے 28، بلوچستان کے لیے 28، سابق فاٹا کے لیے 16، آزاد کشمیر کے لیے 7 اور گلگت بلتستان کے لیے 3 اسامیوں کا کوٹہ مختص ہے۔
ایف پی ایس سی نے بتایا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، فارن سروس آف پاکستان، ان لینڈ ریونیو سروس، آفس مینجمنٹ گروپ سمیت دیگر سروسز اور گروپس کی اسامیاں بھی شامل ہیں۔
ایف پی ایس سی کے مطابق اسامیوں کی تقسیم میں صوبائی، علاقائی، خواتین اور اقلیتی تناسب کو مدنظر رکھا گیا، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی پالیسی کے مطابق کوٹہ سسٹم پر عمل درآمد ہو گا اور امیدواروں کی حتمی تعیناتی میرٹ پوزیشن کی بنیاد پر ہو گی۔
ایف پی ایس سی کے ذرائع نے بتایا کہ کل سی ایس ایس کے نتیجے کے اعلان کا قوی امکان ہے اور حتمی تعیناتی امیدوار کی ترجیحات، کمیشن کی جانب سے موزونیت اور ڈومیسائل کی بنیاد پر ہوگی۔
Source link
Today News
پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے صرف ڈیڑھ ماہ میں 180 ارب روپے سے زائد وصولیوں کا انکشاف
وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں عوام سے 180 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی وصولی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور کشیدگی کے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران حکومت پاکستان نے عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 180 ارب روپے سے زائد وصول کیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اعداد و شمار کے تحت رواں مالی سال جولائی سے لے کر رواں ماہ (اپریل)کے وسط تک مجموعی طور پر ایک ہزار 234 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں اکٹھے کیے گئے ہیں یہ وصولی گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 400 ارب روپے زیادہ ہے جو کہ ملکی تاریخ میں ایک بڑی مالیاتی جست قرار دی جا رہی ہے۔
اس ضمن میں بتایا گیا کہ جولائی میں 157 ارب روپے جمع ہوئے، اگست میں یہ رقم 103 ارب 46 کروڑ روپے رہی، ستمبر کے دوران 112 ارب 85 کروڑ روپے اور اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ روپے اور دسمبر میں اس سال کی سب سے زیادہ ماہانہ وصولی 162 ارب 46 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے اور مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے، اپریل کے ابتدائی 15 دنوں میں 38 ارب روپے جمع کیے جاچکے ہیں اور حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ درآمدی مصنوعات سے حاصل ہوا ہے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی مہینے جولائی سے اپریل کے وسط تک درآمدی پیٹرول اور ڈیزل پر 598 ارب روپے سے زائد لیوی وصول کی گئی، خام تیل سے تیار کردہ مصنوعات پر جولائی سے مارچ کے دوران 635 ارب 19 کروڑ روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی جمع کی گئی ہے۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Italy’s football chief resigns after World Cup disaster – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sameer Minhas, Shadab shine in United’s first win – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport