Connect with us

Today News

خلیجی ممالک کو سوچنا ہوگا امریکی اڈے نقصان کا باعث ہیں، فضل الرحمان

Published

on



جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور میں سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی سینئر صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک اور خطے سمیت ملک کی سیاسی صورت حال پر بات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کے ائیر بیسز ان کے لئے دفاعی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ثالثی کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا ہے مگر حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی ہے، ہمٰں مستقل پالیسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں بھی جنگ کا حصہ بن جائیں گی۔ 

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دینا چاہیے، ہم تحریک انصاف کے ساتھ رابطے رہے لیکن کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کو ہم نے سراہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عجلت ہے اور افغانستان کو مہلت چاہیے اسی کے مابین ہمارا معاملہ پھنسا ہوا ہے اور حالات خراب ہورہے ہیں۔

مولانا کا کہنا تھا کہ سی پیک عمران خان کے دور میں بند ہوا اور اب تک بند ہے، سوال یہ ہے کہ اب تک کیوں بند ہے اور پالیسی میں تسلسل کون لا رہا ہے، سی پیک اور چائنا تعلقات کے حوالے سے ہم وہیں کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات اٹھارہ اور چوبیس والے ایک جیسے ہوئے ہیں، دینی مدارس کے لئے مشرف، عمران اور موجودہ دور کی پالیسی یکساں ہے، جب پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے تو کوئی تو ہے جو اس تسلسل کا ذمہ دار ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کمیونزم اور جمہوریت ختم ہورہی ہے، چائنا میں بھی کمیونزم نہیں رہا، دنیا میں سرمایہ داریت، آمریت اور عسکریت کے اشتراک سے نظام چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوہزار اٹھارہ اور چوبیس کے الیکشن کا تسلسل ضمنی الیکشن میں بھی جاری ہے جس کی مثال کوئٹہ، زیارت، قلات سے واضح ہے، الیکشن کرانے والوں نے اب تک حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا، دنیا میں دھاندلی کے الزامات حکومتوں اور سیاستدانوں پر لگتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اداروں پر لگتے ہیں اور وہ اس پر فخر کرتے اور اپنی طاقت کی علامت سمجھتے ہیں۔ 

مولانا کا کہنا تھا کہ ادارے کسی کے خلاف نہیں ہوتے وہ صرف سیاست کو مینیج کرتے اور اپنی مرضی کا بیلنس قائم کرتے ہیں، مدارس کی رجسٹریشن کا قانون پاس کرکے بھی انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا نہ رجسٹریشن کی جارہی ہے اور نہ ہی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولے جارہے ہیں اور انہیں جبری طور پر حکومتی بورڈز کا حصہ بننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ 

ملاقات میں مجیب الرحمان شامی، حفیظ اللہ نیازی، سہیل وڑائچ، افتخار احمد، حبیب اکرم، نوشاد علی اور محمد الیاس شامل تھے۔ 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیٹ میں جلن، بھوک کی کمی؟ السر کی خاموش علامات سے ہوشیار رہیں

Published

on



معدے کا السر ایک ایسا مرض ہے جو بظاہر عام تکلیف محسوس ہوتا ہے، مگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

اس بیماری میں معدے یا چھوٹی آنت کی اندرونی جھلی پر زخم بن جاتا ہے، جسے طبی زبان میں پیپٹک یا گیسٹرک السر کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ اکثر ایک مخصوص بیکٹیریا ہیلیکوبیکٹر پائلوری یا درد کش ادویات کے مسلسل استعمال کے باعث پیدا ہوتا ہے، جو معدے کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر دیتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری روزمرہ عادات بھی اس بیماری کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ زیادہ مرچ مصالحے والی غذا، فاسٹ فوڈ، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال معدے میں تیزابیت بڑھا کر السر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ 

اسی طرح اسپرین یا آئبوپروفین جیسی ادویات کا طویل استعمال بھی معدے کی دیوار کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے زخم بننے لگتے ہیں۔

السر کی علامات ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہیں، اسی لیے اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پیٹ میں جلن یا درد، خاص طور پر خالی پیٹ یا کھانے کے فوراً بعد، تیزابیت، بار بار ڈکاریں، متلی اور بھوک میں کمی اس کی عام نشانیاں ہیں۔ بعض افراد میں وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، جو ایک خطرناک اشارہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پاخانہ سیاہ یا خون آلود ہوجائے یا خون کی الٹی آئے تو یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہوسکتی ہے اور فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین صحت اس مرض سے بچاؤ کےلیے سادہ مگر مؤثر احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ متوازن اور کم مصالحے والی غذا، ذہنی دباؤ میں کمی، تمباکو اور الکحل سے پرہیز، اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات کے استعمال سے گریز معدے کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر علامات مسلسل برقرار رہیں تو خود علاج کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ بروقت تشخیص ہی اس بیماری سے بچاؤ کا بہترین راستہ ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

Action scene turned out to be expensive: Agha Ali injured during shooting

Published

on


معروف پاکستانی اداکار آغا علی ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے پیشہ ورانہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف کام جاری رکھا بلکہ اس تجربے کو اپنی محنت کا حصہ قرار دیا۔

اداکار نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے پیغام میں بتایا کہ ایک ایکشن سین کی شوٹنگ کے دوران ریہرسل مکمل ہونے کے باوجود ایک ساتھی اداکار کا جوتا ان کے ہاتھ پر لگ گیا، جس کے نتیجے میں انہیں چوٹیں آئیں اور ہاتھ زخمی ہو گیا۔ اس غیر متوقع حادثے کے باوجود انہوں نے شوٹنگ روکنے کے بجائے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

آغا علی کے مطابق انہوں نے زخموں کو میک اپ کے ذریعے چھپایا اور رات گئے تقریباً 4 بجے تک کام مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور فنکار اپنی ذمے داری نبھانا ضروری ہوتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

انہوں نے اس واقعے کو مداحوں کے لیے ایک مثبت پیغام میں بدلتے ہوئے کہا کہ کامیابی کا سفر آسان نہیں ہوتا، راستے میں مشکلات ضرور آتی ہیں، لیکن مستقل مزاجی اور ہمت ہی انسان کو منزل تک پہنچاتی ہے۔ اداکار نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ پراجیکٹ شائقین کو ضرور پسند آئے گا۔

واضح رہے کہ آغا علی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک معروف نام ہیں، جنہوں نے 2005 میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ’دلِ گمشدہ‘، ’میں ہاری پیا‘ اور ’میرے مہربان‘ جیسے ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری اور نغمہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے ہیں اور مختلف ساؤنڈ ٹریکس میں اپنی آواز کا جادو بکھیر چکے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

برطانوی گلوکار زین ملک اسپتال میں زیرِ علاج، اب حالت کیسی ہے؟

Published

on



برطانوی گلوکار زین ملک کی صحت سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق وہ اس وقت اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے پر اپنی تمام مصروفیات محدود کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکار نے اپنی نئی البم کوناکول کی تشہیری سرگرمیاں وقتی طور پر روک دی ہیں۔ اس فیصلے کے باعث ان کی متوقع شرکت مشہور پروگرام ’’دی ٹونائٹ شو اسٹارنگ جمی فالن‘‘ میں بھی مؤخر ہوگئی ہے، جبکہ مداحوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 33 سالہ گلوکار اس وقت ایک ماہر امراضِ قلب کی نگرانی میں ہیں اور صحت یابی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، تاہم ان کی بیماری کی نوعیت کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

یاد رہے کہ زین ملک نے 17 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اسپتال کے بستر سے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو اپنی حالت سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے بعد غیر متوقع طور پر بہتر محسوس کر رہے ہیں اور اس موقع پر انہوں نے اپنے چاہنے والوں اور طبی عملے کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

گلوکار رواں برس اپنے پہلے سولو ایرینا ٹور کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، جس کا شمالی امریکا میں شیڈول جون سے نومبر تک متوقع ہے۔ تاہم موجودہ طبی صورتحال کے باعث اس ٹور میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ان کی نئی البم ’’کوناکول‘‘ بھی حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے، جسے انہوں نے اپنی ذاتی زندگی اور شناخت کا عکاس قرار دیا ہے۔ مداح اب نہ صرف ان کی جلد صحت یابی کے منتظر ہیں بلکہ ان کی واپسی کا بھی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending