Connect with us

Today News

دنیا کا متوقع جغرافیہ

Published

on



 دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔

پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔

قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔

آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔

پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔

ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔

مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔

بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔

برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔

نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔

اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔

ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لاہور: سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان

Published

on



لاہور میں سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مہنگائی اور دکانداروں کی منافع خوری پر قابو نہ پایا جا سکا جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

 سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ پیاز کی سرکاری قیمت 50 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ 80 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر 75 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

دیگر سبزیوں میں آلو 20 روپے کے بجائے 35 روپے، بھنڈی 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ دیسی ٹینڈے 160 روپے کی بجائے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں دیسی لہسن 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ چائنیز لہسن 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کیلا 215 روپے کے بجائے 350 سے 400 روپے، سیب کالا کولوں پہاڑی 215 کے بجائے 350 روپے جبکہ انگور ٹافی 380 کے بجائے 700 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ سفید انگور بھی 500 روپے سے زائد میں دستیاب ہیں۔

گوشت کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چھوٹے بکرے کا گوشت 1800 روپے کے بجائے 2700 سے 3000 روپے فی کلو، گائے کا گوشت 800 کے بجائے 1200 روپے جبکہ برائلر مرغی کا گوشت 540 کے بجائے 570 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

شہریوں محمد جاوید اور رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان تھے، اب گراں فروشی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گراں فروشی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں مقدمات کا اندراج اور جرمانے بھی شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز پر سیکیورٹی ٹیکس دینے والوں کو ترجیحاً پہلے گزرنے دیں گے؛ ایران

Published

on


آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک دن بعد ہی ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہ کرنے کے ردعمل میں دوبارہ بند کردی اور اب ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کے بقول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اب نئی شرائط کے تحت ترجیح دی جائے گی جس کے تحت سیکیورٹی اور سیفٹی اخراجات ادا کرنے والے جہازوں کو پہلے گزرنے کی اجازت ملے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو جہاز نئے پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور سیکیورٹی اخراجات (ٹیکس) ادا کریں گے انھیں ترجیح دی جائے گی اور جو ادائیگی نہیں کریں گے ان کے گزرنے کو مؤخر کر دیا جائے گا۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ آج سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام امریکا کے ناکہ بندی کو ختم نہ کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ردعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آج پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور سخت چیکنگ بھی کی جب کہ بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے گئے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ سے بند کردی گئی ہے۔

اسی دوران پاسداران انقلاب کی گشت پر مامور گن بوٹس کا آمنا سامنا کچھ ایسے جہازوں سے ہوا جنھوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ کم از کم 4 جہازوں کو ہوائی فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

ان میں سے دو تیل بردار جہازوں پر بھارتی پرچم لہرا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز پر روکنے پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات

Published

on



 نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کیساتھ جاری حساس مذاکرات میں اس کے تمام جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دے دی ہے، جب کہ امریکی صدر اب تک ایسی ٹھوس یقین دہانی کے خواہاں ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد روانگی سے قبل کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلاف اسی نکتے پر برقرار ہے کہ ایران کو کیسے روکا جائے کہ وہ نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ طویل مدت تک جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر جوہری افزودگی کی مستقل پابندی کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایران اپنی تمام جوہری سرگرمیاں 20 برس کے لیے روک دے تاکہ ایران کے لیے یہ موقف اختیار کرنا ممکن ہو جائے کہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقِ افزودگی سے ہمیشہ کے لیے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ذرائع کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر یہ تجویز سامنے رکھی ہے کہ بیس سال کے بجائے پانچ سال تک اپنی جوہری سرگرمی معطل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق تہران نے اسی نوعیت کی تجویز اس سے قبل فروری میں جنیوا میں ہونے والے ناکام مذاکرات میں بھی دی تھی اور انھی مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکرات میں کئی دیگر اہم امور بھی زیر بحث رہے کہ جن میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کی بحالی اور حماس و حزب اللہ جیسے گروہوں کی ایرانی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سب سے بڑا تنازع بدستور یہی ہے کہ ایران نہ تو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، نہ ہی اپنی وسیع ایٹمی تنصیبات ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرنے پر کسی بھی طور آمادہ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت اصل اختلاف جوہری پروگرام کے اصولی خاتمے پر نہیں بلکہ اس کی معطلی کی مدت پر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دونوں فریق آیندہ چند روز میں ایک اور بالمشافہ ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ مختلف بیانات میں ماضی میں اوباما دور کے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس معاہدے میں شامل بعض شقیں وقتی تھیں، جو بتدریج ختم ہو جاتیں اور جن کے مان لینے سے ایران کو مزید افزودگی کی اجازت مل جاتی اور 2030 تک بیشتر پابندیاں ختم ہو جاتیں، اگرچہ عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کے تحت ایران پر بم بنانے کی پابندی برقرار رہتی، لیکن ٹرمپ کے نزدیک یہ انتظام ناکافی تھا۔

امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ ایسے اقدامات سے بھری پڑی ہے جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو سست کرنا یا اس کی رفتار کم کرنا رہا ہے۔ کبھی یہ کام سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا، کبھی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے، اور کبھی سفارتی کوششوں سے۔ اس تمام دباؤ کے باوجود ایران کو ایٹم بم تک پہنچنے میں ان ممالک سے بھی زیادہ وقت لگا ہے جنھوں نے سنجیدگی سے جوہری ہتھیار حاصل کیے، جن میں شمالی کوریا، بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کی شام کہا کہ پاکستان میں ایران کیساتھ’’اچھی بات چیت‘‘ہوئی، تاہم اب فیصلہ تہران کو کرنا ہے۔ ان کے بقول ایران نے کچھ لچک ضرور دکھائی، مگر’’ابھی مطلوبہ حد تک پیش رفت نہیں کی۔‘‘ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم نے ایران کے سامنے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جاری بحری ناکہ بندی نے ایران پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے تہران کی معاہدے کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔

مذاکرات میں ایک اور اہم مسئلہ ایران کے پاس مبینہ طور پر موجود 970 پاؤنڈ ایسے یورینیم کی موجودگی ہے جو نیوکلئیر ہتھیار سازی بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ امریکی مطالبہ ہے کہ یہ مواد ایران سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ اسے کسی ممکنہ جوہری ہتھیار پروگرام میں استعمال نہ کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی زیر غور ہے کہ صدر ٹرمپ اصفہان میں زیر زمین محفوظ اس ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے زمینی کارروائی کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

جب کہ ایران نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم ملک کے اندر ہی رہے گا، البتہ وہ اسے اتنا کم افزودہ کرنے پر تیار ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار سازی کے قابل نہ رہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ قدم اگرچہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے وقت میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران بعد میں اسی مواد کو دوبارہ افزودہ کر کے موجودہ سطح یعنی تقریباً 60 فیصد تک لا سکتا ہے، جب کہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار سطح 90 فیصد سمجھی جاتی ہے۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایک اور اہم پہلو ایران کے منجمد مالی وسائل کی بحالی کا بھی ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ مغربی ممالک اس کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے فنڈز بحال کریں، جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے اور ٹرمپ کے پہلے دور کی پابندیوں کے باعث قطر کے بینکوں میں منجمد پڑے ہیں۔صدر ٹرمپ برسوں سے یہ الزام دہراتے رہے ہیں کہ سابق امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایران کو’’جہازوں سے بھری ہوئی‘‘نقد رقم فراہم کی تھی۔

ان کا اشارہ ان 1.4 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی کی طرف تھا جو طویل عرصے سے منجمد تھے، جب کہ اس کیساتھ تقریباً 300 ملین ڈالر سود بھی شامل تھا۔سفارتی مبصرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے، تاہم موجودہ پیش رفت سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان مکمل تعطل کے بجائے محدود مگر قابل ذکر سفارتی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
 



Source link

Continue Reading

Trending