Today News
سفارتی سطح پر بھارت میں تبدیلی کی بحث
2025-26میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح کی سفارت کاری کے محاذ پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا اعتراف عالمی اور علاقائی ممالک ،میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا مختلف اہم تھنک ٹینک بھی کررہے ہیں۔ یہ یقینا پاکستان کی اہم کامیابی ہے ، ہمیں ڈپلومیٹک محاذ پر اس وقت بھارت پر برتری بھی حاصل ہے ۔
پاکستان کی سفارت کاری دنیا نے زیادہ لچک دار اور توازن اور اعتدال پر مبنی پالیسی و جارحیت یا جنگ کے مقابلے میں ایک امن پسند اور تنازعات کے خاتمے یا جنگ سے دور رہنے کے طور پردیکھا ہے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے مقابلے میں اپنی اہمیت کو بھی منوایا ہے جو پاکستان کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔خود امریکا کی جانب سے مسلسل پاکستان کی حمایت نے بھی ہماری سفارتکاری کی اہمیت کو بڑھادیا۔
اب حالیہ امریکا،اسرائیل اور ایران تنازعہ میں جو ثالثی کا کردار پاکستان سمیت دیگر ممالک نے ادا کیا ہے اور جو بیٹھک امن کی پاکستان میں سجائی گئی ہے، اس کا بھی بڑا کریڈٹ پاکستان کی سفارت کاری سمیت ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو جاتا ہے ۔یہ بات بھی بھارت کی سطح پر جو موجودہ نریندر مودی کی حکومت ہے اس کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور سفارت کاری میں پاکستانی ریاست کے لیے ابھرتے ہوئے نئے امکانات کو ہضم کرنا آسان نہیں ہے ۔اگرچہ اس علاقائی سیاست میں بھارت ایک بڑی سیاست بھی رکھتا ہے اور معاشی سطح کی ایک بڑی طاقت ہے ۔مگر پاکستان نے اس طاقت میں جو یکطرفہ سوچ تھی اس جمود کو توڑا ہے ۔
بھارت کے ساتھ اپنے لیے ایک توازن پیدا کیا ہے اور اس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جارہا ہے ۔اگر پاکستان امریکا ،ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عملی طور پر مفاہمت یا جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان کی سفارتی اہمیت عالمی اور علاقائی سطح پر اور زیادہ بڑھ جائے گی۔اگرچہ بھارت نے جنگ بندی کی کھل کر حمایت کی ہے مگر پاکستان کی کوششوں کا زکر نہ کرکے اس نے اپنی سیاسی تعصب پر مبنی سوچ کا اظہار بھی کیا ہے ۔لیکن جب عالمح سطح پر ہمیں پزیرائی مل رہی ہے تو ایسے میں بھارت کی پاکستان کے لیے کھل کر تعریف نہ کرنا بھی ان کے ہی مخالف سمجھا جائے گا۔
پاکستان نے تواتر کی بنیاد پربھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں موجود ڈیڈ لاک کو توڑنے اور بامقصدبنیاد پر مذاکرات کی دعوت دی مگر ہر بار مودی کی حکومت نے یہ سمجھا کہ مذاکرات اب پاکستان کی کمزور ی ہے۔پاکستان جو معاشی طور پر بھارت کے مقابلے میں کمزور ملک ہے ایسے میں اس کا عالمی اور علاقائی سیاست یا سفارت کاری یا دنیا میں موجود جو عالمی تنازعات یا جنگ چیلنجز ہیں، ان میں ثالثی کا کردارظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے اپنے کارڈ کمال ہوشیاری سے کھیلے ہیں۔اسی بنیا د پرہم نے عالمی اور علاقائی سیاست میں اپنے لیے جگہ بھی پیدا کی ہے ۔ایک طرف امریکا اور چین اور دوسری طرف ایران سمیت سعودی عرب یا خلیجی ممالک اور پھر روس سمیت دیگر یورپی ممالک نے حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ اب ہم عالمی سطح کی سیاست میں ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف جگہ پر کھڑے ہیں ۔
ہماری یہ نئی سٹرٹیجک پوزیشن خود بھارت کے لیے قابل قبول نہیں اور وہ اب نئی سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سوچ رہا ہے ۔کیونکہ بھارت جو اس خطہ میں ایک بڑے کردار کے طور پر خود کو پیش کرتا تھا اور اسے کسی سطح پر عالمی پزیرائی بھی حاصل تھی مگر 2025-26میں اب جو نئے حالات بنے ہیں یا بن رہے ہیں ، اس میں پاکستان کی اہمیت بھی زیادہ بڑھ گئی ہے اور عالمی دنیا آسانی سے پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔بلکہ اب تو بھارت میں یہ نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ ہمیں پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں کچھ اہم اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ان کے بقول اگر ہم مسلسل پاکستان کو ماضی کی طرح نظر انداز کرتے رہے تو اس سے پاکستان علاقائی اور عالمی سیاست میں آگے کھڑا ہوسکتاہے ۔
اس لیے جو موجودہ حالات ہیں اس میں پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں بھی بڑی پیش رفت ہونی چاہیے۔لیکن ہمیں ابھی ایسی کوئی سوچ بھارت کی موجودہ حکومت اور نریندر مودی میں دیکھنے کو نہیں مل رہی اور وہ مزید دیکھو کی پالیسی پر ہی قائم ہیں۔لیکن نریندر مودی پر داخلی سیاست کا دباو بڑھ رہا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے بھارت کو سفارت کاری کے محاذ پر کمزور اور پاکستان کو مضبوط کیا ہے ۔کیونکہ بھارت میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان نے بھارت کو ’’ جنگ کے بیانیے‘‘ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے اور جو برسوں سے بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں اپنی دفاعی طاقت کو قائم کیا ہوا تھا، وہ کمزور ثابت ہوا۔اس عمل نے پاکستان کو امن اور بھارت کو جارح کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کی وجہ بھی بھارت کی سطح پر مودی سرکار اور ان کی پاکستان یا مسلم دشمنی کی سیاست بھی ہے۔
ایسے لگتا ہے کہ اس وقت بھارت پاکستان کے مقابلے میں پیچھے کھڑا ہے اور پاکستان اس وقت فرنٹ فٹ پر کھڑا ہے یا کھیل رہا ہے ۔یقینا یہ سب کچھ بھارت کے لیے آسانی سے قابل قبول نہیں ہوگا اور وہ اب بھی پس پردہ ایسی حکمت عملیوں پر سوچ وبچار کررہا ہوگا کہ وہ کیسے سفارتی محاذ پر پاکستان کو دوبارہ اپنے مقابلے میں کمزور پوزیشن پر لاسکے مگر اب یہ کام بھارت کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔
کیونکہ بھارت اس وقت ایک دفاعی پوزیشن پرکھڑا ہے اور اسے اپنے موجودہ جنگی طرز عمل یا پاکستان دشمنی کے ایجنڈے میں سیاسی لچک اور توازن پر مبنی پالیسی کو اختیار کرنا ہوگا۔کیونکہ علاقائی سیاست میں اب جو اہمیت پاکستان کو مل گئی ہے، اسے بھارت آسانی سے نہ تو نظر انداز کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرسکتا ہے ۔اس لیے سفارت کاری کو جو نیا میدان علاقائی سطح کی سیاست میںسجا ہے، اس سے بھارت کو ضرور ایک مثبت حکمت عملی کے تحت فائدہ اٹھانا چاہیے۔
لیکن ساتھ ساتھ جہاں پاکستان کے لیے علاقائی یا عالمی سیاست میں مثبت سفارت کاری کے پہلو سامنے آئے ہیں وہیں ان سے ہمیں عملی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے داخلی مسائل سے نمٹنا بھی اہم ہوگا۔کیونکہ یہ ہی موقع ہے کہ ہم اپنی داخلی درستگی پر توجہ دیں اور ان معاملات سے جڑے مسائل پر کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔کیونکہ جو بھی قوتیں ہیں جن میں بھارت پیش پیش ہے وہ پاکستان کی داخلی سطح کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی کارڈ یا حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔
اسرائیل اور بھارت بھی دونوں کا اس وقت یہ ہی ایجنڈا ہوگا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارت کاری کو روکا جائے۔اس لیے ہمیں زیادہ خوش اور پرجوش ہونے کی بجائے زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ہماری سفارت کاری میں زیادہ گہرائی اور سنجیدگی کی ضرورت ہے ۔بالخصوص افغانستان کے معاملے میں بھی جو حالیہ پیش رفت چین کی معاونت سے ہوئی ہے، اس کو ہمیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
Today News
آکسفورڈ سمیت 12 برطانوی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حامی طلبہ کی جاسوسی کا انکشاف
برطانیہ کی معروف جامعات سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق آکسفورڈ سمیت برطانیہ کی 12 یونیورسٹیوں نے فلسطین کے حامی طلبہ اور اساتذہ کی جاسوسی کے لیے ایک نجی سکیورٹی فرم کو لاکھوں پاؤنڈز ادا کیے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق دستیاب شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ان جامعات نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ایک انٹیلیجنس یا سکیورٹی کمپنی کو دیے، جس کا مقصد کیمپس میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں اور خاص طور پر فلسطین کے حامی افراد کی خفیہ نگرانی تھا۔
دستاویزات کے مطابق اس نگرانی میں نہ صرف طلبہ بلکہ ماہرینِ تعلیم بھی شامل تھے۔ ان میں ایک فلسطینی اسکالر بھی شامل ہیں جنہیں مانچسٹر یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، تاہم ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں مبینہ طور پر کیمپس میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نام پر کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور تعلیمی آزادی کے حامی افراد کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار اور تحقیق کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ جامعات کی جانب سے اس حوالے سے شفافیت بھی ایک اہم سوال بن گئی ہے۔
Today News
میرا نے شان شاہد کو شاہ رخ خان سے بڑا اداکار قرار دے دیا
پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا اپنی نئی فلم ’سائیکو‘ کے ساتھ بڑے پردے پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔
ماضی میں کئی کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ میرا کی نئی فلم عیدالاضحیٰ پر ریلیز کی جائے گی۔
حال ہی میں میرا نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی آنے والی فلم کی تشہیر کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
اس دوران ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا شاہ رخ خان کون ہے جس پر انہوں نے بے دھڑک جواب دیتے ہوئے شان شاہد کو شاہ رخ خان سے بھی بڑا اداکار قرار دے دیا۔
میرا کا کہنا تھا کہ شان شاہد نہ صرف ایک بہترین اداکار ہیں بلکہ ایک قابل ہدایتکار اور شاندار لکھاری بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شان اداکاروں کی بہترین رہنمائی کرتے ہیں اور ان کی توجہ اور مہارت بے مثال ہے۔
میرا کا مزید کہنا تھا کہ اگر انہیں شاہ رخ خان اور شان شاہد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ بلا جھجھک شان کو ترجیح دیں گی۔
Today News
فضا علی کی نئی ویڈیو وائرل، شوہر کی قلابازیوں نے سب کو حیران کر دیا
اداکارہ و میزبان فضا علی نے شوہر کے ساتھ نئی ویڈیو شیئر کردی جس میں انکے شوہر کی قلابازیوں نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کردیا۔
رپورٹس کے مطابق فضا علی اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے شوہر کے ساتھ مختلف رومانوی ویڈیوز شیئر کر رہی ہیں۔
ایک ویڈیو میں ان کے شوہر کو ان کے گرد پارک میں الٹ پلٹ اور دلچسپ انداز میں کرتب دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جسے پر بعض صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔ فضا علی نے اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ اسکی ہر کوشش ۔۔۔ بس میری محبت کیلئے۔
اس سے قبل بھی ایک لائیو شو کے دوران شوہر کی جانب سے فضا علی کو اٹھانے کا منظر وائرل ہوا تھا، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نئی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں کچھ لوگ اسے جوڑے کی محبت قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے مسخرہ پن قرار دے رہے ہیں۔
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Sports3 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper