Connect with us

Today News

سلمان خان کا ورون دھون پر مزاحیہ وار، ویڈیو وائرل

Published

on



بالی ووڈ کے دبنگ اسٹار سلمان خان اور ورن دھون کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں سلمان خان، ورون کے ڈانس پر مزاحیہ کمنٹس کررہے ہیں۔

ورون دھون ان دنوں اپنی نئی فلم ’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کا گانا ’’ویاہ کروا دو جی‘‘ حال ہی میں ریلیز ہوا ہے۔ اسی گانے کی شوٹنگ کے دوران ایک دلچسپ لمحہ کیمرے میں قید ہوگیا، جو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ورون دھون اپنی پرفارمنس مکمل کرنے کے بعد سلمان خان کے پاس آتے ہیں تاکہ ان سے رائے لے سکیں۔ اس موقع پر سلمان خان نے روایتی انداز میں چٹکی لیتے ہوئے پوچھا، ’’یہ ریہرسل تھی یا اصلی شاٹ؟‘‘ بس پھر کیا تھا، یہ جملہ سنتے ہی سیٹ پر قہقہے گونج اٹھے، اور خود ہدایتکار ڈیوڈ دھون بھی ہنسی نہ روک سکے۔

ورون دھون نے اس ویڈیو کو اپنے انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں بھی مزاح کا رنگ بھرا اور لکھا کہ بھارت کے سب سے بڑے کنوارے کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے ہمیشہ گھبراہٹ ہوتی ہے۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

گانے میں ورون کے ساتھ اداکارہ مرونال ٹھاکر بھی جلوہ گر ہیں، جبکہ اسے گلوکار مکا سنگھ اور آشیش کور نے اپنی آواز دی ہے۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب پسند کی جا رہی ہے اور مداح سلمان خان کے ہلکے پھلکے طنز اور دوستانہ انداز کو بھرپور انداز میں سراہ رہے ہیں، جو ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ بالی ووڈ کے سیٹ پر بھی ہنسی مذاق کا رنگ کبھی پھیکا نہیں پڑتا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ہرمز ہرحال میں کھلی رہنی چاہیے، چینی صدر کی سعودی ولی عہد سے ٹیلی فون پر گفتگو

Published

on


چین کے صدر شی جنپنگ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صدر شی جنپنگ نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔

چینی صدر شی جنپنگ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں بھی ہے۔ جس سے دنیا کی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی سمیت تمام عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جس سے کشیدگی میں کمی کا امکان ہے۔ 

چینی صدر شی جنپنگ نے کہا کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

دنیا میں امن کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، ملک میں بھی سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا جائے، پی ٹی آئی

Published

on



پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی حمایت کا بھی اعلان کردیا۔

خیبرپختونخوا کے سابق وزیر خزانہ اور پی ٹی آئی کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ امن مذاکرات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو بنیاد بناکر وفاقی حکومت نے جنگ کے نام پر راتوں رات پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر صرف ایک ہفتے میں پٹرولیم کمپنیوں کو 20 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا۔

دوسری جانب ترقیاتی بجٹ میں دفاع سمیت ہر محکمے پر 173 ارب روپے کا کٹ لگایا لیکن وزیراعظم نے اپنی  70 ارب مالیت کی پارلیمانی اسکیم  پر کوئی کٹ نہیں لگایا۔

پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تیمور سلیم جھگا نے کہا کہ ہم ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہیں، جب دنیا میں پاکستان امن کی بات کرتی ہے تو پھر ملک میں بھی سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کی آنکھوں کے علاج کے حوالے سے بداعتمادی کی فضا بڑھی ہے، ہماری جماعت کی اولین ترجیح بانی چیئرمین اور اسیر افراد کی رہائی ہے۔

انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلے عوام پر پٹرول اور ڈیزل کا وار اور پھر بجلی کا وار کیا، پٹرولیم گیس سمیت ہر چیز مہنگی ہوتی جارہی ہے جبکہ حکومت سے معشیت نہیں چل رہی ہے۔عوام کو فارم 47 کے باعث شدید معاشی تکلیف کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر منتخب حکومت توانائی اور عوامی مسائل اور مشکلات حل نہیں کرسکتی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول پر ٹیکس ایک دن میں 80 روپے سے بڑھا کر 160روپے کردیا گیا ہے، پٹرولیم مصنوعات بڑھانے کے ساتھ پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عجیب منطق پیش کی اگر بجلی لوڈ شیڈنگ نہ کرتے تو عوام پر بجلی بلوں کا اضافی بوجھ پڑتا۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ نے کہا وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے ایل این جی معاہدوں کو آڑ بنا کر اپنی ہی سابقہ حکومت کو نشانہ بنایا ہے جبکہ مفتاح اسماعیل بھی اپنی سابقہ حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کول پاور پلانٹ ساحل سمندر کی بجائے پنجاب کی زرخیز زمینوں ساہیوال میں لگایا گیا، حیرت کی بات ہے کہ ایل این جی نہ ملنے کے باوجود قطری حکومت کو 2۔4 ارب روپے ماہانہ دیے جارہے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت بجلی کے بحران کے پر جو ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے یہ تو ابھی گرمی آنا باقی ہے، اسلام آباد میں یہ ڈھائی گھنٹے تو دیگر صوبوں میں 8 گھنٹوں تک محیط ہے۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ بدقسمتی سے پٹرولیم لیوی کی مدد میں رقم خیبر پختونخوا کو ابھی تک نہیں ملی اور نہ حکومت اسکو دینے کو تیار ہے، انہوں نے کہا جب عوام پر مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرولیم بم گرایا گیا اور وزراء نے ٹی وی پر ا کر مختلف فارمولے فارمولے پیش کئے تو عوامی پریشر کے سامنے وزیراعظم نے ٹی وی پر ا کر پیٹرول کی قیمت کم کی لیکن ڈیزل پر ٹیکس ختم کر کے پٹرول پر ٹیکس لگایا۔عوام کے سامنے روزانہ ڈرامے پیش کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دھکیلنے کے باوجود اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم اور ان کی بھتیجی اسپیشل چارٹر تیاروں میں گلف کے چکر کاٹ رہے ہیں، کے پی پر اعتراض کرنے والوں کا یہ حال ہے کہ تونسہ ڈیرہ غازی خان میں ایک ایک سرنج سے کئی لوگوں کو انجکشن لگائے گئے اور بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا وفاقی حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا کہ اسلام آباد  اور لاہور کے صرف فرسٹ کلاس سیٹزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ سولر پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اپ بجلی کم استعمال کریں اور بجلی کا بل کم ائے گا۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ جن لوگوں کو بل ہی نہیں مل رہی وہ سولر لگا رہے ہیں لیکن حکومت سے یہ بھی ہضم نہیں ہو رہا اور الٹا ان پر نیٹ مانیٹرنگ کے لیے میٹر لگائے گئے اور اب اس پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اس سے بجلی کا استعمال کم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو پتہ تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ ہے تو اسے فیول ریزرو کرنا چاہیے تھا لیکن حکومت کے پاس تو 30 دن کا فیول ریزروڈ بھی نہیں ہے الٹا عوام پر کفایت شعاری کے نام پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دروازے کھولے گئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے عوام پر 50 فیصد ٹیکس لگایا ہوا ہے لیکن ریلیف تو دور کی بات عوام کا کبھی مداوا نہیں کیا پروٹوکول انجوائے کیے جا رہے ہیں اور عوام کو کفایت شعاری کے درس دیے جا رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

’’یہ کمائی حلال نہیں!‘‘ بہروز سبزواری کا متنازع پوڈکاسٹرز پر کھل کر وار

Published

on



پاکستان شوبز کے سینئر اداکار بہروز سبزواری ایک بار پھر اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے خبروں میں آ گئے ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط کیریئر رکھنے والے اداکار نے حالیہ دنوں میں پوڈکاسٹس کے بڑھتے رجحان اور اس سے جڑی کمائی پر کھل کر تنقید کی ہے۔

بہروز سبزواری نے ماضی میں چند پوڈکاسٹس میں شرکت کی تھی، جن میں عدنان فیصل اور نادر علی کے ساتھ گفتگو شامل ہے۔ یہ انٹرویوز بعض متنازع بیانات، خصوصاً شراب سے متعلق گفتگو کے باعث سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے، جس کے بعد اداکار کو وضاحتیں بھی دینا پڑیں اور انہوں نے کچھ عرصے کے لیے انٹرویوز سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

اب ایک تازہ انٹرویو میں، جو شہزاد نواز کے ساتھ ہوا، بہروز سبزواری نے کہا کہ آج کل ہر کوئی پوڈکاسٹ کر رہا ہے اور بعض میزبان جان بوجھ کر ایسی باتیں نکالتے ہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ دعا کرتے ہیں کہ ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو کسی کے لیے تکلیف دہ ہو۔

اداکار نے مزید انکشاف کیا کہ جو متنازع باتیں وائرل ہوئیں، وہ دراصل آف دی ریکارڈ تھیں، لیکن انہیں بعد میں پبلک کر دیا گیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح مواد بنا کر کمائی کرنا درست نہیں، بلکہ ایسی آمدن حلال نہیں ہو سکتی۔

بہروز سبزواری نے سوال اٹھایا کہ کیا آج کے دور میں لوگ حلال اور حرام کا فرق بھی بھول چکے ہیں؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کروڑوں کی گاڑی خرید بھی لے، تو اس کی کوئی اہمیت نہیں اگر وہ پیسہ جائز طریقے سے حاصل نہ کیا گیا ہو۔

ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں تو کچھ اسے موجودہ ڈیجیٹل کلچر پر سخت تنقید قرار دے رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending