Connect with us

Today News

عالمی مارکیٹ میں زبردست پزیرائی کے بعد پاکستان نے یورو بانڈ کے حجم کو 75 کروڑ ڈالر تک بڑھا دیا

Published

on


پاکستان نے یورو بانڈ کا حجم بڑھا کر 75 کروڑ ڈالر کر دیا ہےجبکہ پاکستان کو مزید 25 کروڑ ڈالر حاصل ہو گئے ہیں۔

مشیروزیر خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث اضافی فنڈنگ مل گئی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی چار سال بعدعالمی مارکیٹ میں واپسی ہوئی ہے، پاکستان نے ایک روز پہلے 50 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا تھا۔

خرم شہزاد کے مطابق حکومت کو عالمی سرمایہ کاروں سے توقع سے زیادہ رسپانس ملا، جس سے پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں واپسی سے مستقل میں مزید فنڈنگ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

داخلی سیاسی استحکام کو مستحکم کرنا ہوگا

Published

on


پاکستان کے جمہوری سیاسی استحکام کے تناظر میں ہماری داخلی سیاست میں کافی مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کی عملی نوعیت گہری بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہر جمہوری دور میں سیاسی محاذآرائی یا سیاسی ٹکراؤ نے ملک کی سیاست کو غیر مستحکم بھی کیا اور سیاسی عمل کے مقابلے میں غیر سیاسی نظام کو مضبوط بھی بنایا۔ یہ ہی وجہ ہے اس ملک کی سیاست ہمیشہ سے غیر یقینی اورکمزور بنیادوں پر موجود رہی ہے۔

آج بھی پاکستان کی سیاست نہ صرف کمزور بنیادوں پر موجود ہے بلکہ اب تو اس جمہوری نظام کو ہائبرڈ جمہوری نظام کا نیا نام دیا جارہا ہے۔بہت سے سکہ بند دانشور اور سیاسی حضرات اس ہائبرڈ نظام کا سیاسی جواز بھی پیش کرکے جمہوری نظام کو مزید کمزور بنیادوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں ہمارے جمہوری نظام کی ساکھ بھی کمزور ہے اور اس نظام پر کئی طرح کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور ہماری جمہوری درجہ بندی کو مختلف تناظر میں چیلنج کیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عالمی،علاقائی اور داخلی سیاست کے تناظر میں اپنی سفارت کاری کی بنیاد پر خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے ۔ہمارے دشمن بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنے سفارتی کارڈ کی بنیاد پر بہت اچھا کھیلی اور اس کھیل سے پاکستان کا تشخص کافی مثبت ابھرا ہے۔

ہمارے مقابلے میں بھارت ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکا جو ہم نے حاصل کی ہے ۔ اس پر یقیناً ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں اور ان کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ یا ایران اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے درمیان ہم نے اب تک جنگ بندی ،تنازعات کے خاتمے اور پرامن ماحول کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف مثالی ہے بلکہ اس پر قومی سطح پر کوئی بڑی گہری تقسیم بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔  حکومت ،حزب اختلاف،میڈیا اور سول سوسائٹی سب نے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہوکر ایک ذمے دار ریاست اور معاشرے کی عکاسی کی ہے اور اس پر سب کی تعریف ہونا چاہیے،کیونکہ ہمارے یہاں جو سیاسی تقسیم ہے اس میں اس طرز کے اتفاق رائے کا پیدا ہونا معمولی بات نہیں۔حزب اختلاف کا اس ماحول میں اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کو بھلا کر احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرنا بھی حکومت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اسے بھی ایک ذمے دارانہ کردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اب یہ سیاسی مثبت ماحول آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاست اور جمہوریت میں حکومت ،حزب اختلاف اور دیگر فریقوں کی سطح پر جو داخلی اختلافات ہیں یا جو ایک دوسرے کے خلاف ٹکراو یا سیاسی دشمنی کا ماحول ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔حزب اختلاف کی سیاست عملی طور پرجمہوریت کے نظام کا حسن ہوتی ہے اور اس کے سیاسی وجود کو قبول کرکے ہی جمہوری راستے کو آگے کی طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔اسی طرح حزب اختلاف کو طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بھی موثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے اختلافات کی سیاسی نوعیت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔اس وقت ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات نے سیاسی دشمنی کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستوں کو عملی طور پر بند کردیا گیا ہے ۔حزب اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا شور مچایا جا رہا ہے ۔

یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی اور جمہوری داخلی استحکام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔سیاست ہی نہیں عدلیہ،میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی بہت سے چیلنجز ہیں مگر ان کو درست حکمت عملی کے تحت حل نہیں کیا جا رہا۔اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی استحکام ہے درست بات نہیں۔مسئلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اور سیاست کے تناظر میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات بھی عملی طورپر مثبت نہیں اور وہاں کے سیاسی حالات وہاں سیکیورٹی جیسے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کے نظام سے بہت سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر نالاں ہیں جس میں گورننس کا بحران سب سے زیادہ نمایاں ہے۔

ایک بات جو پاکستان کی سیاست میںغلط ہو رہی ہے وہ ایک طرف سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا رجحان ہے جو سیاسی ماحول میں اور زیادہ تلخیاں پیدا کر رہا ہے۔اس سے پہلے سے موجود سیاسی تقسیم جہاں اور زیادہ گہری ہو رہی ہے وہیں ایک دوسرے کے خلاف تلخیاں بھی بڑھ رہی ہیں جو سیاسی استحکام کو پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔سیاسی عدم استحکام معاشی اور سیکیورٹی کے عدم استحکام کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔

ہماری معیشت اور سیکیورٹی کے مسائل کا براہ راست تعلق بھی ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام سے ہی جڑا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں سیاسی عدم استحکام یا سیاسی تلخیوں کی سیاست کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے حل کے لیے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میںاتفاق رائے سے اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم سیاسی محاذ پر سب مل کرایک دوسرے کی سیاسی قبولیت کوممکن بنائیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی دشمن کی بنیاد پر دیکھنے کی پالیسی کو ترک کر دیں۔ سیاسی رواداری کے کلچرکو مستحکم کرنا ہوگا۔ گورننس سے جڑے مسائل کا حل بھی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ ہی عمل ہماری حکومت کی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔

یقیناً اس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جہاں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں اب ایک دوسرے کے لیے دل کشادہ کرکے ایک دوسرے کی قبولیت کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔سیاسی دشمنیوں کی بنیاد پر سیاسی استحکام ممکن نہیں اور حزب اختلاف کو بھی سوچنا ہوگا کہ سیاست میں عملی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا اہم ہوتا ہے اور جو سیاسی ڈیڈ لاک ہے اسے توڑے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا ۔لیکن کیونکہ حکومت کے پاس حزب اختلاف کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ہوتے ہیں تو ان کی ذمے داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سیاسی لچک کا مظاہرہ کرکے درمیانی راستہ نکالے جو سب کو بحران کی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکے ۔

لیکن اگر حکومت داخلی مسائل کو غیر اہم سمجھتی ہے یا اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ممکن ہے کہ حکومت کو وقتی طور پر کامیابی مل سکے اور وہ سیاسی مسائل کو کچھ عرصہ کے لیے پس پشت ڈال سکے ۔لیکن یہ حکومت کا مستقل حل نہیں ہوگا اور جب ہماری پالیسی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ٹال مٹول تک محدود رہے گی تو مستقبل کی بہتری کے امکانات بھی محدود ہوجائیں گے۔اس وقت جو بھی عالمی صورتحال ہمارے حق میں ہے اس کا ہمیں اپنی داخلی سیاست سے جڑے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک بڑے فریم ورک میں حل تلاش کرنا چاہیے،مسئلہ کسی کی جیت اور ہار کا نہیں بلکہ ریاست اور پاکستان کے مفاد کا ہے کیونکہ ہم جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہیں ان میں ہم مزید محاذ آرائی کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

ہمیں سیاسی ضد اور انا کا راستہ چھوڑنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ سیاسی استحکام کا پیدا ہونا اس وقت ریاست کے بڑے مفاد میں ہے ۔لیکن اگر ہم اس کے مقابلے میں خوش فہمی کی سیاست میں زندہ رہنا اور سب اچھے کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو عملا ہم اپنے پہلے سے موجود مسائل کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بنیں گے۔اس لیے جو سفارت کاری کی بنیاد حکومت نے عالمی معاملات پر ڈالی ہے اسی طرز کی سفارت کاری کی ہمیں داخلی سیاست سے جڑے مسائل کے حل پر بھی دینی ہوگی ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو پاکستان میں سیاسی تقسیم ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہم ان مسائل پر توجہ دیں جو اس وقت ہمارے اصل مسائل اور چیلنجز ہیں جن کا براہ راست تعلق ریاست کے مفاد سے ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

مذاکرات،عالمی امن کی جانب اہم قدم

Published

on


واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی ختم ہونے میں ایک دن باقی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسٹیووٹکوف اور جیرڈکشنر اسلام آباد پہنچ جائیں گے، تہران نے ہماری ڈیل قبول نہ کی تو ہم ان کے ہر پاور پلانٹ اورپل کو تباہ کردیں گے ، دوسری جانب ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو امریکی فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔

دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دورمیں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔

 موجودہ عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر دشوار عمل ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جو وقتی طور پر جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے محدود کی گئی تھی، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر لمحہ صورتِ حال کے یکسر بدل جانے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔اسلام آباد کو اس تمام بحران میں ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لا کر نہ صرف کشیدگی میں کمی لائے بلکہ ایک پائیدار حل کی بنیاد بھی رکھ سکے۔ تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار یا کم از کم ہچکچاہٹ نے اس پورے عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ یہ انکار محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں حالیہ واقعات، بیانات اور اقدامات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے موزوں نہیں۔

 ایران کا موقف بنیادی طور پر اعتماد کے بحران کے گرد گھومتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور اگر اس الزام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ معاملہ محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو باقی تمام کوششیں رسمی اور غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی اقدامات کو جارحانہ قرار دیا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں اور ان میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔

دوسری جانب امریکا کا رویہ بظاہر دہرا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اعلیٰ سطح وفد کی اسلام آباد آمد کی تیاری اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف سخت بیانات، دھمکیاں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی عام طور پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مذاکراتی فضا متاثر ہوتی ہے اور فریق مخالف کو یہ تاثر ملتا ہے کہ بات چیت دراصل ایک رسمی عمل ہے، اصل مقصد اپنی شرائط منوانا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ جوہری معاملہ خاص طور پر اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی میں ہونے والے معاہدے بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے، جس کی ایک بڑی وجہ باہمی بداعتمادی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو فریقین کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے۔

 موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں گولیوں کا تبادلہ اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت شامل ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کس قدر حساس ہو چکی ہے، اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

چین کا ردعمل اس تمام تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ذمے دارانہ رویے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ چین کی دلچسپی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ اس کی توانائی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو چین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا، اگرچہ اس کردار کی نوعیت اور حدود کا تعین حالات کے مطابق ہوگا۔

 خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی معاونت کے امکانات پر غور اور متبادل کرنسیوں کی بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع محض عسکری یا سفارتی نہیں بلکہ معاشی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی تجارت میں تبدیلیاں آتی ہیں یا ڈالر کے متبادل نظام متعارف کروائے جاتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔پاکستان کے لیے یہ تمام صورتحال ایک پیچیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایک طرف وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داری ادا کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف اسے اپنے قومی مفادات، علاقائی تعلقات اور داخلی استحکام کا بھی خیال رکھنا ہے۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس کردار کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم ثالثی کا عمل ہمیشہ نازک ہوتا ہے، خاص طور پر جب فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں، مگر یہی خصوصیت اس کے لیے خطرات بھی پیدا کرتی ہے، اگر وہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں، جو اس کے سفارتی کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہایت احتیاط اور توازن کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔

موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکے گی یا نہیں؟ اگر یہ توسیع نہ ہو سکی تو پھر کشیدگی میں اضافہ یقینی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس صورت میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔سفارت کاری اس وقت واحد راستہ ہے جو اس بحران کو کسی حد تک قابو میں لا سکتا ہے، مگر سفارت کاری اسی وقت موثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سنجیدگی، لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی ہوں۔ یکطرفہ مطالبات اور دھمکیاں وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتیں۔

ایران کا یہ کہنا کہ وہ ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتا، دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔امریکا کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ اپنی عالمی قیادت کے دعوے کو کس حد تک عملی شکل دیتا ہے، اگر وہ واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مکمل انکار یا سخت موقف کسی حل کی جانب نہیں لے جاتا۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے کام لیں۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں، اگر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف یہ تنازع شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف موجودہ حالات کو نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کو بھی متعین کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں مصروف شاہراہ پر رکشے سے اتار کر ڈاکٹر کو بیوی کے سامنے قتل کردیا گیا

Published

on



شہر قائد کی مصروف ترین سڑک شاہراہ فیصل مہران ہوٹل کے قریب کار سوار ملزمان نے بیوی کے سامنے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق شاہراہ فیصل مہران ہوٹل کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص جاں بحق ہوا، جس کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 37 سالہ سارنگ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ کار سوار ملزمان کی رکشے پر فائرنگ سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے۔

ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر نے بتایا کہ مقتول اپنی اہلیہ کے ہمراہ کینٹ اسٹیشن کی جانب سے رکشا میں سوار ہو کر جا رہا تھا کہ مہران ہوٹل کے قریب کار سوار ملزمان نے رکشا روک کر سارنگ کو اتار کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ سینے پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

مقتول پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور اس کا آبائی تعلق بدین سے بتایا جا رہا ہے، مقتول پریس کلب کے قریب سیدکو سینٹر کا رہائشی تھا واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقتول کی اہلیہ کے رشتے دار جناح اسپتال پہنچ گئے جبکہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ زاتی رنجش کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

اس حوالے سے پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرتے ہوئے مزید تحقیقات کر رہی ہے  مقتول سارنگ گلستان جوہر میں قائم نجی اسپتال کے میڈیکل کالج میں بطور رجسٹرار اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔

دوسری جانب نیو کراچی کے علاقے سیکٹر الیون آئی سلیم سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کے لیے نارتھ ناظم آباد میں قائم نجی اسپتال لے جایا گیا۔

نیو کراچی تھانے کے قائم قام ایس ایچ او غلام عباس نے بتایا کہ مضروب کی شناخت 42 سالہ فرزند کے نام سے کی گئی جسے دائیں جانب سامنے سے کندھے کے قریب گولی لگی تھی جو کہ گاڑی میں سوار بتایا جاتا ہے جبکہ پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا خول ، سکہ اور ایک ٹوٹا ہوا میگزین ملا ہے۔

انھوں ںے بتایا کہ مضروب کی نیو کراچی صنعتی ایریا میں گارمنٹس فیکٹری ہے ، واقعے کی اطلاع ملنے پر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن (نکاٹی) کے عہدیدار اور تاجر و صنعتکار بھی نجی اسپتال پہنچ گئے اور واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے  تاجر پر فائرنگ کا واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ بتایا اور حکومت فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔



Source link

Continue Reading

Trending