Connect with us

Today News

لیونل میسی بڑی قانونی مشکل میں پھنس گئے

Published

on


ارجنٹائن کے فٹبال اسٹار لیونل میسی ایک نئے قانونی تنازع میں پھنس گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق میامی میں قائم ایک ایونٹ پروموٹر کمپنی نے لیونل میسی پر معاہدے کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

پروموٹر کمپنی کا مؤقف ہے کہ میسی نے گزشتہ سال منعقد ہونے والے ایک نمائشی میچ میں شرکت نہیں کی، جس کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ مقدمہ میامی ڈیڈ سرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا ہے اور اس میں میسی کے ساتھ ساتھ ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن اور ایک اسپورٹس ایگزیکٹو جولین مارکوس کپیلان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق معاہدے کے تحت پرموٹر کمپنی کو ارجنٹائن کے دوستانہ میچز کے پروموشن کے خصوصی حقوق دیے گئے تھے اور شرط رکھی گئی تھی کہ میسی ہر میچ میں کم از کم 30 منٹ ضرور کھیلیں گے۔

پروموٹر کا دعویٰ ہے کہ میسی کی شرکت ان میچز کی تجارتی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔

الزامات کے مطابق میسی نے وینزویلا کے خلاف میچ نہیں کھیلا تاہم وہ اس کے اگلے دن اپنے کلب انٹر میامی کی جانب سے کھیلتے نظر آئے اور دو گول بھی کیے۔

بعد ازاں انہوں نے پورٹو ریکو کے خلاف میچ میں حصہ لیا۔

مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریقین نے معاہدے میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لیا، معاملہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

میٹرک امتحانات میں بے قاعدگیوں کے معاملے پر کارروائی، سابق ناظم امتحانات وضاحت طلب

Published

on



میٹرک امتحانات میں بے قاعدگیوں کے معاملے پر امتحانی مراکز کی تبدیلی اور ایڈمٹ کارڈ کے اجراء میں تاخیر پر چیئرمین بورڈز نے کارروائی شروع کر دی۔

سابق ناظم امتحانات سے امتحانی بے ضابطگیوں سے متعلق تفصیلی وضاحت طلب کر لی گئی۔

میٹرک کے جاری امتحان سے قبل ایڈمٹ کارڈ کا اجراء ایک سنگین مسئلہ بن گیا تھا اور ایڈمٹ کارڈ کے تاخیر سے اجراء کے باعث امتحانات تاخیر کا شکار بھی ہوئے تھے۔

سابق ناظم امتحانات ثانوی تعلیمی بورڈ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ غلط امتحانی مراکز کی تشخیص کی وضاحت کی جائے۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ انتظامات مکمل نہ ہونے کے سبب امتحانات ملتوی کرنا پڑے تھے۔

حکومت سندھ نے 13 اپریل کو میٹرک بورڈ کو ایک بار پھر حکم دیا کہ رپورٹ جمع کروائیں، سابق قائم مقام ناظم امتحانات کو 7روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت سندھ نے امتحانات میں تاخیر اور بروقت ایڈمٹ کارڈ جاری نہ کرنے پر رپورٹ طلب کی تھی۔



Source link

Continue Reading

Today News

لاہور سے اغوا 19 سالہ لڑکی کراچی سے بازیاب، ملزم گرفتار

Published

on



لاہور:

ستوکتلہ کے علاقے سے اغوا ہونے والی 19سالہ لڑکی کو کراچی سے بازیاب کروا کر ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم گرفتار کر کے لڑکی کی بازیابی کا ٹاسک دیا تھا، جس پر پولیس ٹیم نے کامیاب کارروائی کی۔

لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کروایا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم لڑکی کو ورغلا پھسلا کر کراچی لے گیا تھا۔ ملزم کو جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کر کے لڑکی کو بازیاب کروایا گیا۔

لڑکی کی بحفاظت بازیابی پر والدین نے انویسٹی گیشن پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم اب گرفت میں ہے، جسے  مضبوط چالان مرتب کروا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائےگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

طلاق کے بعد نکاح نامے میں درج رقم اور زیورات  سے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ

Published

on



لاہور:

ہائی کورٹ نے طلاق کے بعد نکاح نامے میں درج رقم اور زیورات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نکاح نامے کے کالم میں درج رقم یا زیورات شوہر طلاق کے بعد بھی ادا کرنے کا پابند ہے۔

عدالت کے مطابق اگر شوہر نکاح نامے میں درج زیورات فراہم نہ کرے تو بیوی مارکیٹ ویلیو کے تحت رقم کی حق دار ہوگی۔  عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے شوہر کو سابقہ بیوی کو نکاح نامے میں درج زیورات ادا کرنے کا حکم درست قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے عامر علی کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا کہ اگر نکاح نامے میں پیسے اور زیورات درج ہوں تو ہر چیز الگ الگ ادا کرنا ہوتی ہے، جبکہ نکاح نامے میں درج تمام اشیا مل کر مہر بنتا ہے۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی شادی 2011 میں ہوئی تھی  اور حقائق کے مطابق اس نے حق مہر میں 5 ہزار روپے، 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا نکاح نامے میں درج کروایا تھا۔

خاتون کے مطابق شوہر نے طلاق کے بعد زیورات بطور حق مہر ادا نہیں کیے۔

درخواست گزار کے مطابق حق مہر 5 ہزار روپے تھا جو ادا کر دیا گیا تھا جبکہ 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا جعل سازی سے نکاح نامے میں شامل کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ نے نکاح نامے کے مواد کا درست جائزہ نہیں لیا۔

ریکارڈ کے مطابق گواہوں نے نکاح نامے کی تصدیق کی اور درخواست گزار نے بھی اپنے دستخط کی تصدیق کی ہے۔

سابقہ بیوی نے ٹرائل کورٹ میں نکاح نامے کی مصدقہ کاپی عدالت میں پیش کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نکاح نامے میں مبینہ جعلی اندراج کو ثابت نہیں کر سکا، لہٰذا فیملی کورٹ کا فیصلہ مکمل ریکارڈ اور شواہد پر مبنی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ اسی صورت میں فیملی کورٹ کے فیصلوں میں مداخلت کرتی ہے جب وہ قانون کے مطابق نہ ہو۔ عدالت نے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حق مہر کی مکمل ادائیگی کا حکم دے دیا۔





Source link

Continue Reading

Trending