Connect with us

Today News

پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور

Published

on


پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے صوبائی ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

پنجاب اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے لیبر اینڈ ہیومن ریسورس کا اہم اجلاس چوہدری امجد علی جاوید کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے لیبر اینڈ ہیومن ریسورس خواجہ محمد منشا اللہ بٹ نے بھی شرکت کی۔

بل کے تحت محکمہ لیبر کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروانے کی شق شامل کی گئی ہے جبکہ سوشل سکیورٹی ادارے کی گورننگ باڈی میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نمائندے کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی رپورٹ کے بعد بل ایوان سے منظور کیا جائے گا جبکہ اس کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

اجلاس میں فیکٹری ورکرز میں سلیکوسس کے باعث ہونے والی اموات کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سلیکوسس ایک قابلِ تدارک مگر لاعلاج پیشہ ورانہ پھیپھڑوں کی بیماری ہے جو طویل عرصے تک سلیکا ڈسٹ کے سامنے رہنے سے لاحق ہوتی ہے۔

حکام نے پنجاب بھر میں سلیکوسس کے خطرات پر قابو پانے کے لیے ایکشن پلان بھی پیش کیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ پیشہ ورانہ حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ مزدوروں کو حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ان کا باقاعدہ طبی معائنہ کروایا جائے۔ اس کے علاوہ آگاہی مہمات چلانے اور متاثرہ افراد کے لیے بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ فیکٹریوں کی مؤثر نگرانی کے لیے مخصوص عملہ تعینات کیا جائے اور وہ فیکٹریاں جو حفاظتی معیارات پر عملدرآمد نہیں کرتیں، انہیں سیل کیا جائے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرخارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، مذاکرات پر تبادلہ خیال

Published

on



نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تمام زیر التوا مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے رابطے بڑھانے اور خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق جبکہ دوطرفہ رابطہ کاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی وفد ایران کیساتھ مذاکرات کیلیے روانہ؛ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے؛ ٹرمپ

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اب لگتا ہے کہ کوئی فریق کھیل نہیں کھیل رہا یعنی سب سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں جو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔ ؎

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا اور اگر ایسا ہو جائے تو ایران ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ایران ان شرائط کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکا کیا قدم اٹھائے گا لیکن نھوں اشارہ دیا کہ صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

دوسری ایران اعلان کرچکا ہے کہ ان کا وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں جا رہا کیوں صدر سنجیدہ نہیں اور دھمکیوں سے باز آرہے ہیں اور نہ جارحیت روکی ہے۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہمارے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا اس پر قبضے کی کوشش کی گئی اور تاحال ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ 

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے دوسرے دور کا آغاز ممکن ہے۔

مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

’گریٹر اسرائیل‘ منصوبہ کیا ہے؟

Published

on



ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف صیہونی طاقتیں ’گریٹر اسرائیل‘ کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ آخر یہ گریٹر اسرائیل ہے کیا؟

دنیا کی سیاست میں یہ محض کوئی جدید اصطلاح نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں پیوست ہیں۔ عبرانی زبان میں اسے ’ارضِ اسرائیل الکاملہ‘ یعنی ’اسرائیل کی مکمل سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ بائبل کے ان حوالوں پر مبنی ہے جن میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین کو ایک ’الٰہی وعدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں موجودہ فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان، شام کے بڑے حصے، عراق، سعودی عرب کا کچھ علاقہ اور مصر کا جزیرہ نما سینا بھی شامل ہو جاتا ہے۔

صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کے دور سے ہی اس نظریے میں دو واضح سوچیں موجود رہی ہیں۔ جہاں سیکولر صہیونی اسے ایک سیاسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے، وہیں مذہبی گروہ اسے ایک مقدس مشن کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی اپنی مستقل سرحدوں کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ انتہا پسندوں کے نزدیک اسرائیل کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ان کا ’مذہبی حق‘ ختم ہو۔

اس خواب کی تعبیر کے لیے 1967 کی ’چھ روزہ جنگ‘ ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی موجودگی اسی توسیعی نظریے کا تسلسل ہے۔

امریکی سیاست، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے اس سوچ کو عالمی قوانین کے برعکس اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کیا۔ موجودہ اسرائیلی قیادت، بالخصوص وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء، اکثر ایسے نقشے لہراتے نظر آتے ہیں جن میں فلسطین کا وجود ہی غائب ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اردن کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔

آج لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور جنوبی لبنان میں یہودی بستیوں کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندانہ نظریات اب اسرائیل کی ریاستی پالیسی بن چکے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا یہ جنون محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا بارود ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک سکتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending