Today News
ڈالروں کے پجاریوں میں جھوٹوں کا مقابلہ
سنتے تھے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے مگر موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں ہوتے ہی نہیں بلکہ بے انتہا مضبوط اور تیز رفتار ہوتے ہیں اور جھوٹ اتنی تیزی سے پھیلتا اور تیز دوڑتا ہے کہ جھوٹ کے مقابلے میں سچ بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور کمزوری کے باعث دوڑنا تو دور کی بات سچ چلنے کے قابل بھی نہیں رہتا اور جھوٹ سچ کو بہت پیچھے چھوڑ کر ناصرف بہت آگے پہنچ کر مقابلہ بھی جیت جاتا ہے اور دنیا سے خود کو کامیاب بھی تسلیم کرا لیتا ہے اور دنیا جھوٹ کو سچ مان لیتی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں تقریباً دو عشروں سے یہی ہو رہا ہے یہاں جھوٹ بولنے میں سب سے آگے رہنے والوں کو صادق و امین قرار دے دیا جاتا ہے اور سچ بولنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ 45 سال پرانے کیس میں ایک سابق وزیر اعظم کی پھانسی کو غلط قرار دیا جا چکا ہے۔
ملکی سیاست میں جھوٹوں کی شاخیں اندرون ملک سے نکل کر بیرون ملک بھی پہنچ چکی ہیں اور جھوٹوں کی ان شاخوں میں ایک سے ایک بڑھ کر جھوٹ بولنے اور جھوٹ پھیلانے کا مقابلہ صرف زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانے کے لیے ہو رہا ہے اور ڈالروں کے ان پجاریوں نے جھوٹ بولنے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں کیونکہ ملک سے باہر بیٹھے ان لوگوں کو ملک کے قانون کی فکر ہے نہیں اس لیے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔
سیاست کبھی عبادت سمجھ کر کی جاتی تھی مگر اب اس سیاست کو نصف صدی گزر چکی۔ 1970 کے بعد ملک کی سیاست عوامی ہو گئی تھی اور کہا جاتا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ روشناس کرائے جانے کے بعد سیاست عام آدمی تک پہنچ گئی تھی جو پہلے بہت محدود تھی اور اسے عوامی شعور کا نام دیا گیا تھا ۔
پنجاب و سندھ کے سیاسی شعور نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا تھا جس کے نتیجے میں جن دو بڑوں کو اقتدار تو ملا تھا مگر دونوں جان سے بھی گئے تھے۔ ملک میں طویل مارشل لا لگانے والے پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک میں انتخابات کرانے کا کہہ کر بھی انتخابات نہیں کرائے تھے۔ اس ایک جھوٹ کے بعد ملک کی دو بڑی پرانی پارٹیوں میں جھوٹوں کا مقابلہ شروع ہوا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ شروع ہوا جو عدالتوں میں ثابت تو نہ کیے جا سکے تھے۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے جھوٹے مقدمات میں سزائیں بھگتیں اور جلاوطنی بھی کاٹی اور پھر لندن میں یہ سیکھا کہ انتقام اور جھوٹے مقدمات کی سیاست ختم کریں گے جس کے بعد دونوں پارٹیوں کو اپنی اپنی حکومت میں پہلی بار پانچ سالہ مدت اقتدار پوری کرنے کا موقع ملا اور پھر بالاتروں کی پشت پناہی سے ایک نئے اچھی شہرت اور ایمانداری کے دعویدار نے 1999 تک اقتدار میں رہنے والے دو وزرائے اعظم پر بے انتہا جھوٹے الزامات سے اپنی سیاست کو فروغ دے کر 2018 میں اقتدار حاصل کیا تھا جس کے سوشل میڈیا نے وزیر اعظم کی قیادت میں نئے جھوٹوں کی سیاست کا آغاز کیا تھا اس جھوٹی سیاست نے سیاست میں جھوٹوں کو اس قدر فروغ دیا کہ جو اب مادر پدر آزاد ہوئی مگر اس نے اپنی بہتری ملک میں رہنے کی بجائے بیرون ملک منتقل ہونے میں سمجھی کیونکہ وہاں ہر قسم کی انھیں آزادی میسر ہے ۔
بیرون ملک رہ کر جھوٹوں کا مقابلہ کرنے والے خود کو پاکستانی قرار دے رہے ہیں اور اپنے بانی کی حکومت میں فیض یاب بھی ہوئے مگر ان کی حکومت کے جانے کے بعد پی ڈی ایم حکومت میں اقتدار میں آنے والوں نے محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ جو ان کی حکومت میں ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ ان کے لیے درد سر بن جائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنے ملک سے ہی دشمنی میں اتر آئیں گے۔ ڈالروں کی محبت میں اپنی مخالفین کی حکومت میں وہ اس انتہا پر آگئے کہ گزشتہ سال انھوں نے بھارتی جارحیت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کی اور اب جب قدرت نے پاکستان کو سرفرازی کا موقع دیا تب بھی انھیں اپنے ملک کی قدر افزائی کی توفیق نہیں ہوئی اور حالیہ جنگ میں پاکستان کا ثالثی کا کردار پسند نہیں آیا اور بھارتی وزیر خارجہ کی تقلید میں وہ اپنے ہی ملک کے خلاف شر انگیز جھوٹ اس طرح پھیلا رہے ہیں جیسے انھیں اپنے ملک لوٹ کر نہیں آنا۔
Today News
امریکی صحافیوں کے مقابل امریکی حکومت !
موجودہ امریکی حکومت اور امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کئی نقاد امریکی صحافیوں سے سخت ناراض ہیں۔ اِس کا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 11اپریل 2026کو نائب امریکی صدر ( جے ڈی وانس) ایرانیوں سے امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے تو اُنہی15 چنیدہ امریکی صحافیوں کو اپنے ساتھ لائے جو ٹرمپ حکومت کے ہر طرح سے حمائیتی سمجھے جاتے ہیں۔ٹرمپ صاحب کی نقاد امریکی صحافیوں سے ناراضی روز افزوں ہے ۔
جب اسلام آباد میں جے ڈی وانس ایرانیوں سے مذاکرات کر رہے تھے، اُنہی لمحات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان یوں سامنے آیا:’’ جس بیہودگی سے ایران ، امریکہ( جنگ بندی کے حوالے سے)10نکاتی جعلی منصوبہ رپورٹ کیا گیا اور اِس بارے غلط معلومات پھیلائیں، اِن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ امریکی صدر کی امریکی صحافیوں کو دی جانے والی آئے روز کی دھمکیوں کی بنیاد پر بجا طور پر سمجھا جارہا ہے کہ امریکہ میں بھی صحافتی آزادیاں قدرے سُکڑ اور سمٹ کررہ گئی ہیں ۔
مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ممتاز امریکی اخبار کے خلاف 10ارب ڈالر کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کررکھا تھا ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا :’’ اس اخبار نے بدنامِ زمانہ Epstein Filesمیں میرا نام بِلا وجہ شامل کر دیا ہے۔ میرا تو اس ( جیفری ایپسٹن) سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔‘‘13اپریل2026 کو امریکی ڈسٹرکٹ جج Darrin Gaylesنے مذکورہ ہتک عزت مقدمے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سناتے ہُوئے لکھا:’’ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے وکلا اِس اخبار کے رپورٹر اور مالک کے خلاف ہتک ِ عزت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے ۔‘‘جناب ڈونلڈ ٹرمپ مخالف صحافیوں کے حق میں آنے والے فیصلے سے سخت پریشان ہیں، مگر مذکورہ اخبار اور صحافیوں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دیکھا دیکھی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) بھی آزاد منش امریکی صحافیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے آگے بڑھ آئے ہیں۔ امریکی صحافی مگر ہار ماننے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں ۔ وہ امریکی آئین میں دی گئی صحافتی آزادیوں کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے دروازوں پر مسلسل دستک دے رہے ہیں ۔ اِس سے نظر آتا ہے کہ ابھی امریکی حکمران اور اسٹیبلشمنٹ امریکی میڈیا پر مکمل غلبہ پانے میں کامیاب نہیں ہو رہے ۔
امریکی وزیر دفاع (پیٹ ہیگستھ) نے اپنے اور امریکی صدر ( ڈونلڈ ٹرمپ) کے کئی ناقد اور مخالف صحافیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ نہ تو پینٹاگان (امریکی وزارتِ دفاع کا ہیڈ کوارٹر) کی خبریں رپورٹ کر سکتے ہیں اور نہ ہی پینٹاگان کے دفاتر میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ پیٹ ہیگستھ کے جابرانہ حکم سے ناقد صحافیوں کو Pentagon Press Corpsہی سے نکال باہر کر دیا گیا تھا ۔ جس وقت اِس حکم کا اعلان کیا گیا،اُس وقت ناقد امریکی صحافی پینٹاگان کی ایک بریفنگ میں شریک تھے ۔ زیر عتاب صحافیوں نے مگر یہ حکم خاموشی سے سُننے سے نہ صرف انکار کر دیا ، بلکہ اُسی وقت مذکورہ پریس بریفنگ کا مقاطعہ بھی کر دیا ۔
زیر پابندی صحافیوں نے فوری طور پر عدالت کے دروازے پر دستک بھی دے ڈالی ۔ جن امریکی صحافیوں نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ، اُن کی قیادت امریکہ کے ایک ممتاز ترین اخبارکے صحافی کر رہے تھے۔کسی اور اخبار نویس بھی درخواست گزار صحافیوں میں شامل تھے ۔ عدالت میں درخواست دائر کیے جانے کے باوجود مذکورہ صحافی ، اپنے ذرائع سے ، پینٹاگان بارے رپورٹنگ کرتے رہے ۔ یہ اقدام اِس امر کا بھی ثبوت ہے کہ صحافیوں پر اگرچہ کوئی سرکاری شعبہ پابندی عائد کردے ، مگر وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے دستکش نہیں ہوتے ۔
مارچ2026کے تیسرے ہفتے اِس مقدمے کا فیصلہ کر دیا گیا ۔ فیصلہ اُن صحافیوں کے حق میں آیا جنھوں نے امریکی وزیر دفاع ،پینٹاگان اور امریکی صدر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ 21مارچ 2026 کو واشنگٹن کے فیڈرل جج Paul Friedmanنے اپنے شاندار فیصلے میں لکھا: ’’صحافیوں پر پینٹاگان کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں نہ صرف ناجائز ہیں بلکہ یہ پابندیاں امریکی آئین میں دی گئی آزادیِ اظہار کے حقوق سے متصادم بھی ہیں ۔ پیٹ ہیگستھ و دیگر کی جانب سے (ناقد) صحافیوں پر لگائی پابندیاں امریکی آئین میں مندرج صحافتی آزادیوں کی پہلی اور پانچویں ترمیمی شق کے مخالف ہیں۔اِن صحافتی آزادیوں پر پچھلے250برس سے مسلسل عمل ہو رہا ہے ۔
اِن کی راہ میں ہرگز رکاوٹیں نہیں ڈالی جا سکتیں ۔ جن امریکی دانشمندوں نے امریکی آئین لکھا اور ترتیب دیا تھا، اُنہیں یقینِ کامل تھا کہ امریکہ کی قومی سلامتی آزادیِ اظہار میں پنہاں ہے۔ ‘‘ناقد امریکی صحافیوں نے اپنے حق میں اور امریکی حکومت (اور امریکی وزارتِ دفاع کے خلاف) آنے والے مذکورہ فیصلے پر واشنگٹن میں خوب جشن منایا ہے ؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ فیصلہ آنے کے بعد ایک اخبار کے ترجمان (Charlie Stadtlander)نے کہا: ’’ اِس فیصلے پر ہم ہی نہیں ، ساری امریکی قوم خوش ہے ۔
آزاد منش صحافی اور امریکی آئین سرخرو ہُوئے ہیں ۔امریکی عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اُن کی حکومتیں کیسے کام کررہی ہیں ۔ اگر ہماری وزارتِ دفاع کسی ملک کے خلاف ایکشن کرتی ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اِس حملے کی وجوہ کیا ہیں؟اِس میں امریکہ اور امریکی عوام کے کیا مفادات ہیں؟ امریکی عوام کے دیے گئے ٹیکس ڈالرز کا مصرف کیسے اور کہاں کہاں ہو رہا ہے ؟ہم سب امریکی صحافی ہر امریکی حکومت سے ،عوامی مفاد میں، ہر قسم کا سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں ۔‘‘
انصاف پسند امریکی جج نے انصاف پسند و انصاف کے متلاشی درخواست گزار امریکی صحافیوں کے حق میں جو فیصلہ سنایا ہے، یہ مثالی اور خاصا حوصلہ افزا ہے۔ اِس فیصلے میں ہم پاکستانی صحافیوں اور ہماری عدالتوں کے لیے بھی کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔
صحافت اور میڈیا پر جو پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اُنہیں جملہ حاکم طبقہ ’’قومی سلامتی کے مفاد میں‘‘ قرار دے کر مطمئن ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے جن صحافیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں ، اُن کے بارے میں بھی ( مذکورہ فیصلہ آنے سے قبل) سرکاری امریکی وکیل نے یہی کہا تھا کہ’’ یہ پابندیاں امریکی قومی سلامتی کے پیشِ نظر عائد کی گئی ہیں ‘‘۔
گلف وار میں جب امریکی و اتحادی افواج نے صدام حسین پر مل کر قیامت خیز حملہ کیا تھا، تب بھی آزاد منش امریکی میڈیا اور صحافیوں پر یہ کہہ کر پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ ’’ امریکی قومی سلامتی کے مفاد اورامریکی حکومت کی مرضی کے برعکس کوئی خبر شائع و نشر نہیں ہو سکتی ۔‘‘ لیکن جرأتمند امریکی صحافیوں (مثال کے طور پرBob Kohn ( نےJournalistic Fraudنامی کتابیں لکھ کر امریکی حکمرانوں کے خبثِ باطن اور میڈیا دشمنی کا پردہ چاک کر ڈالا۔کاش ، ہمارے ہاں بھی ایسی جرأتمندانہ مثالیں سامنے آ سکتیں !
Today News
آج نہیں تو کل! – ایکسپریس اردو
پاکستان کی ثالثی میں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے اور معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، ہر دو فریق 21 گھنٹے تک بلاواسطہ اور بالواسطہ مذاکرات میں شریک رہے لیکن کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جب کہ ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر قالیباف کر رہے ہیں، براہ راست مذاکرات سے قبل ایرانی اور امریکی وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں اور تجاویز کا تبادلہ کیا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ نے بھی وزیر اعظم کی معاونت کی۔ امریکی اور ایرانی وفود کی براہ راست ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں فریق کو اپنا تعاون پیش کیا۔
امریکی نائب صدر کے مطابق اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ہم کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔ امریکا کی شدید اور اولین خواہش، کوشش اور مطالبہ یہی تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی تمام چیزیں تلف کر دے اور ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا معاہدے کرے۔ اسلام آباد مذاکرات میں بھی یہی نکتہ اختلاف کا باعث بنا اور بیشتر نکات پر اتفاق ہونے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ ایرانی وفد کے سربراہ اسپیکر باقر قالیباف کا موقف ہے کہ امن مذاکرات میں امریکا ایران کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اچھے رہے لیکن آبنائے ہرمز اور جوہری معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے پر عالمی برادری نے مایوسی و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا کہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
برطانیہ، روس، چین، ترکیہ، فرانس، یورپی یونین، یو اے ای اور دیگر ملکوں نے ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان امن کی کوششوں اور ثالثی کے اس سلسلے کو جاری رکھے گا۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکا ایران مذاکرات فوری کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے لیکن پاکستان کے ٹرائیکا (وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر) نے سفارتی محاذ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروانے اور 47 سال کے طویل وقفے اور کشیدگی و اختلافات کے باوجود دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بٹھا کر جو شان دار خدمت انجام دی ہے اس کی چار دانگ تحسین کی جا رہی اور پاکستان کے ٹرائیکا پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے یہ امید باندھی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی اور امریکا و ایران آیندہ ملاقات و مذاکرات کے بعد یقینا کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچ جائیں گے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکے۔
امریکا اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو حملے سے قبل فریقین کے درمیان بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے تھا۔ اس ضمن میں خلیجی ملک عمان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات ہو رہے تھے۔ واقفان حال اور ثالثی کے مرکزی کردار عمانی وزیر کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ایران نے امریکی شرائط پر کافی حد تک اتفاق کر لیا ہے اور ممکنہ معاہدے سے قبل ہی ایران پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت شہید ہو گئی۔ ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکا نے ایران کی فوجی طاقت کو ختم کر دیا، جوہری ہتھیار کی تیاری کے مراکز بھی تباہ کر دیے اور ایران کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا۔ 39 روزہ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہو گیا۔ جنگ بندی کے نتیجے میں اگرچہ آبنائے ہرمز محدود سطح پر کھل گئی ہے۔
تاہم ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتا ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں سے ٹول وصول کرنا چاہتا ہے جو امریکا کو کسی صورت قبول نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں امریکا ایران کشیدگی میں پھر سے اضافہ ہو گیا ہے امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی ایرانی نیوی کے جہاز نے امریکی بحری جہازوں کے قریب جانے کی کوشش کی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
ایرانی فوج نے امریکی ناکہ بندی کو بحری قذاقی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا انتباہ کیا ہے۔ نیٹو نے امریکی اقدام کی حمایت سے انکار کر دیا ہے جب کہ چین نے بحری ناکہ بندی کو عالمی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے بحران کو مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بدلتی ہوئی صورت حال اور صدر ٹرمپ کے خطرناک عزائم کے پیش نظر پاکستان کو برق رفتاری سے سفارتی محاذ پر کوششیں کرنا ہونگی۔ امید ہے کہ امریکا اور ایران آج نہیں تو کل معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
Today News
وہ زمانے کیا ہوئے؟ – ایکسپریس اردو
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
واقعی ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے زمانہ کس تیزی سے بدلا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ سب سے بڑی تباہی جو معاشرے پر نازل ہوئی ہے وہ بڑوں کا ادب ہے۔ آج کی نسل اپنے بزرگوں کو اہمیت نہیں دیتی، نہ ان کا لحاظ کرتی ہے۔ اگر گنتی کے چند گھروں میں یہ روایت زندہ ہے تو صرف اس حد تک کہ دادا یا دادی کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے اور وہ اس پر کچھ ڈھونڈ رہے ہیں تو دس سالہ پوتا یا پوتی فوراً کہے گی ’’لائیں مجھے دیں فون، بتائیں آپ کیا تلاش کر رہے تھے؟‘‘ بس موبائل فون کیا ہاتھ میں آیا کہ بچے بھی علامہ بن گئے۔
ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا کہ دونوں بڑے بھائیوں کو جو ہم سے دس اور بارہ سال بڑے تھے، انھیں ہمارے والد بارہا کہتے تھے کہ مسجد میں سب کو سلام کیا کرو، محلے کے بزرگوں کی خیر خبر رکھا کرو، غریبوں سے محبت کرو۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ہم نے اپنے گھر میں ہمیشہ یہ دیکھا کہ والد اور بھائی جب گھر آتے پہلے دادی کو سلام کرتے، پھر والدہ کو۔ ہماری دادی بہت سخت گیر تھیں، سبھی دادی کا احترام کرتے خاص کر ہماری والدہ اور والد۔ دادی اکثر امی پر غصہ نکالتی تھیں۔
انھیں سخت سست بھی کہہ لیتی تھیں لیکن وہ جواب نہیں دیتی تھیں، نہ وہ والد صاحب سے کبھی شکایت کرتیں، ایک بار میری شادی شدہ بہن جو مجھ سے اٹھارہ سال بڑی تھیں، انھوں نے امی سے کہا کہ’’ آپ دادی جان کو جواب کیوں نہیں دیتیں؟ بعض وقت تو وہ آپ کو بلاوجہ ڈانٹتی ہیں۔ ‘‘تو والدہ نے جواب دیا کہ ’’ بیٹا! ان کی کوئی دوسری اولاد تو ہے نہیں، انھیں ہمارے اور ہمیں ان کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو جواب دے کر گھر کا ماحول کیوں خراب کروں؟‘‘ پھر بہن سے کہا کہ’’ دیکھو تمہاری ساس بہت نیک اور سادہ خاتون ہیں، انھیں کبھی شکایت کا موقع نہ دینا، تمہارے پانچ دیور اور دو جیٹھ ہیں، ان سے ہمیشہ نرمی اور محبت سے پیش آنا۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ میری بہن سسرال کی آنکھوں کا تارہ بنی رہیں۔ یہ وہ دور تھا جب بہوئیں سعادت مند ہوتی تھیں کیونکہ انھیں میکے سے تربیت ہی ایسی ملتی تھی، زمانے نے ایک اور چال چلی اور سعادت مند بہوئیں ناپید ہو گئیں۔ اب ہر بیٹے کی ماں اور باپ پریشان کہ شادی ہوتے ہی میکے سے تربیت ملی کہ پہلی رات ہی میاں کو قابو کر لینا اور انھوں نے اس پر عمل بھی کیا وہ یوں کہ:
کھول میاں مکھنا، میں گھر سنبھالوں اپنا
بیٹوں کے گھر بستے گئے اور ماں باپ تنہا ہوتے گئے، بچوں کی موجودگی میں شوہر بھی بیوی کے ہاتھوں مجبور اور بیوی شیر کہ اپنی ماں کے پاس گئے تو بچوں کو چھوڑ کر میکے چلی جاؤں گی، ایک بیٹے نے تو بیوہ ماں سے یہاں تک کہہ دیا کہ’’ اب میں آپ سے نہیں مل سکتا کہ بچے میری مجبوری ہیں۔‘‘
ایک اور تبدیلی یہ آئی کہ زندگی کا پورا ڈھنگ بدل گیا، یوں لگتا ہے جیسے نسل انسانی کی توجہ کسی اور طرف چلی گئی، جینے کے طور طریقے بدل رہے ہیں اور اس نئے ڈھب میں کبھی دل بہلانے کو حیلے بہانوں سے جن چیزوں سے انسان کچھ دیر کو خوش ہو لیتا تھا وہ سب ختم ہو گئے۔ اب رہ گیا صرف موبائل۔ کتنی ہی تفریحات ہمارے دیکھتے دیکھتے ختم ہو گئیں، سب سے پہلے لیجیے سینما کو جس کا اب وجود نہ رہا، انڈیا سے فلمیں آنی بند ہو گئیں اور پاکستان میں ان کا جنازہ نکل گیا، پھر وی سی آر آیا اور لوگ گھر بیٹھ کر انڈین فلمیں دیکھنے لگے لیکن گھر میں قید ہو گئے۔ سینما کا اپنا ایک چارم ہوتا ہے باہر جانا، سینما ہال میں فلم دیکھنے کے دوران چلغوزے اور ڈرائی فروٹ کھانا، گرمیوں میں نسروانجی کا ملک شیک پینا آج تک یاد ہے۔
دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ وہ زمانے کہاں گئے، وہ تفریح کہاں گئی، جو کچھ دیر کو انسانی ذہن کو سکون بخشتی تھی۔ پھر وہ میلے ٹھیلے، وہ سرکس کہاں گیا؟ جس میں شیر کی کھال اور عورت کے سر والی ’’حسن بانو‘‘ کو ٹکٹ لے کر دیکھنے میں بڑی فینٹسی تھی۔ کبھی کبھی دھوکے اچھے لگتے ہیں آپ کو ماورائی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ والد صاحب اور بھائی بتاتے تھے کہ حسن بانو ایک لڑکی ہے وہ صرف گردن نکال کر کھڑی ہوئی ہے اور کھال اوپر سے شیر کی لگا دی ہے لیکن ہمارا دل یہ حقیقت قبول کرنے کو تیار نہ تھا، وہ سرکس ناپید ہو گئے جس کے کنویں میں لوگ موٹرسائیکل چلایا کرتے تھے اور موت کے کنویں میں بے خوفی سے گھومتے رہتے، جوکر بھی چلا گیا اور وہ ٹرینر جو ایک طرف سے دوسری طرف زمین سے دس فٹ اوپر لگے بانسوں پر سے ادھر سے ادھر چھلانگیں لگاتے تھے کہ لوگوں کی چیخیں نکل جاتی تھیں۔
ہماری والدہ اور والد اس زمانے کو یاد کرتے تھے، جب تھیٹر تھا، یہ گنگا جمنی تہذیب کا زمانہ تھا، کتنی ہی تھیٹریکل کمپنیاں شہر شہر جا کر تھیٹر دکھاتی تھیں، زیادہ تر تھیٹریکل کمپنیاں پارسیوں کی تھیں، احسن، بیتاب، طالب بنارسی اور آغا حشر کاشمیری تھیٹر کے بڑے نام تھے۔ اور مقامی طور پر چھوٹی چھوٹی منڈلیاں ’’زندہ ناچ گانا‘‘ جگہ جگہ جا کر اپنا فن دکھاتی تھیں۔ اسی طرح والدہ بتاتی تھیں کہ کراچی میں بھی شروع شروع میں یعنی 1950 میں نٹ اور نٹنیاں بھی اپنا کمال دکھاتے تھے۔ دو بانس ایک طرف اور دو بانس دوسری طرف زمین میں گاڑ کر ان میں رسی باندھ کر اس پر چلا کرتے تھے اور کبھی گرتے نہیں تھے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں روایتی میلے ٹھیلے بھی ہوتے تھے کہیں عرس، کہیں محفل سماع، کہیں مشاعرے اور ادبی محفلیں منعقد ہوتیں، شہروں میں امن و امان تھا لوگ دیر رات تک سرکس اور تھیٹر اور سینما دیکھتے تھے راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔
ہماری امی اس زمانے کو بہت یاد کرتی تھیں جب وہ دلی میں رہتی تھیں اور تقسیم کا خونیں انقلاب نہیں آیا تھا۔ ان کے گھر کے قریب ہی ایک ہندو فیملی رہتی تھی، ہولی پر پکوان بھیجتے اور دیوالی پر مٹھائی۔ ہمارے دونوں بھائی اس ہندو فیملی کے بچوں کے ساتھ دیے جلا کر دیوار کی منڈیر پر قریب قریب رکھتے جاتے۔ عید بقر عید پر ہماری والدہ پکوان بھیجتیں، وہ لوگ مٹن بریانی بہت شوق سے کھاتے تھے، برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ اس دور کے بعد ہمسائیگی بالکل ختم ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے سے دروازے ملے ہوئے ہیں لیکن ایک دوسرے کے حال سے بے خبر۔ پھر ہماری زندگیوں میں ریڈیو آ گیا، اب ہر گھر میں ریڈیو آ گیا اور بناکا گیت مالا جیسے شاندار موسیقی کے پروگرام اور ادھر اسٹوڈیو نمبر 9 سے لازوال اور بہترین ڈرامے۔ ساٹھ کی دہائی میں غیر ملکی ادب پاروں پر بہترین ڈرامے نشر ہوئے۔ ایک پتلی تماشہ بھی ہوتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے گھر چارپائیاں کھڑی کرکے اسٹیج بنا لیا اور ہاتھوں میں ڈوریاں پتلیوں کو نچاتے اور آوازیں خود نکالتے۔ لیکن ہم اس نعمت سے محروم رہے۔ عثمان پیرزادہ اور عمران پیرزادہ نے محدود پیمانے پر پتلی تماشہ دکھایا، لیکن اس کی پہنچ عام آدمی تک نہیں تھی۔ ریڈیو کے ساتھ ہی گراموفون کی جگہ ریڈیو گرام آ گئے لیکن گراموفون کا اپنا ہی مزہ تھا۔ ہزوائس وائس کے سیاہ توے پر کتے کی تصویر۔ عجیب دن تھے گراموفون پر موسیقی سنتے تھے۔ اس حد تک تو امن تھا اور بڑی امی جمی رہتی تھیں۔
پھر یکایک ہم سب کی زندگیوں میں ٹیلی وژن آ گیا جس نے بڑا غضب ڈھایا، لوگ اس کی اسکرین سے چپک گئے۔ لوگ اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔ لوگوں کے آنے جانے، لوگوں سے ملنے جلنے کے آداب بدلنے لگے۔ اب کھانا اس وقت کھایا جائے گا جب نو بجے کا خبرنامہ آئے گا کہ بعد میں ڈرامہ آئے گا۔ اسکرین پر نظریں گاڑے رہنا ہر جوان، بوڑھوں اور بچوں کی عادت بن گیا۔ زندگی کیا تھی اور کیا ہو گئی۔ اب لوگوں کا آنا برا لگنے لگا، زندگی کیا تھی اور کیا ہوگئی، ہم خود اس رو میں بہہ گئے۔ ہمارے بزرگ اگر قبروں سے اٹھ کر آکے ہمیں دیکھیں تو اپنا سر پیٹ لیں۔ ایک اور بڑی کمی جو ہم پر وارد ہوئی ہے وہ یہ کہ وہ جو ایک دوسرے کے گھر کوئی پکوان بھیجنے کا چلن اب یہ نہیں رہا۔ بدلتی رت کے پکوان غائب ہوگئے اب کاہے کو کانوں میں یہ گیت رس گھولے گا۔
اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا
بیٹی تیرا باوا تو بڈھا ری کہ ساون آیا
دلہنوں نے گھونگٹ نکالنا ختم کر دیا ہے اور دلہوں نے منہ پر رومال رکھنا۔ نہ آرسی مصحف کلی خوبصورت رسم۔ اب دلہن کا چہرہ پہلے بیوٹی پارلر والے دیکھتے ہیں پھر فوٹوگرافر اور مہمان۔ زمانہ اس قیامت کی چال چل رہا ہے اسے دیکھ کر وحشت ہوتی ہے۔
اور اب ایک اور مصیبت گلے پڑ گئی جس میں ہر چھوٹا بڑا متاثر ہے۔ وہ ہے موبائل فون۔ ساری دنیا موبائل کی اسکرین میں سمٹ آئی ہے۔ ایک ہی گھر میں لوگ اجنبی ہو گئے، ہر شخص بچے، بڑے بوڑھے سب کے ہاتھوں میں موبائل اور ایک دوسرے سے بے نیاز۔ رویوں میں فرق آگیا، مکالمہ نہیں ہوتا۔ یا الٰہی یہ کیسا غضب ہو گیا۔ موبائل ہر ایک کی ضرورت ہے لیکن اس نے اکیلا کر دیا ہے۔ بقول اقبال۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Italy’s football chief resigns after World Cup disaster – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Sports2 weeks ago
‘The World Cup curse’: Italy sheds tears after missing out again – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sameer Minhas, Shadab shine in United’s first win – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
اسلام آباد؛ وفاقی و نجی تعلیمی اداروں میں کلاسز اب 4روز ہوں گی