Connect with us

Today News

کراچی پریس کلب کا نئے ممبران کو الاٹ کیے گئے پلاٹس کی جگہ کا دورہ

Published

on



کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان کی سربراہی میں گورننگ باڈی کے ارکان اور سابق صدر سعید سربازی نے پیر کو لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت دیہہ مندرہ میں نئے ممبران کو الاٹ کیے گئے پلاٹس کی جگہ کا دورہ کیا۔

دورے کے بعد وفد نے ایل ڈی اے حکام سے ملاقات کی، جہاں مجلسِ عاملہ کو سپرنٹنڈنٹ انجینئر ولید بشیر اور دیگر افسران نے تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 639 ممبران کے پلاٹس سے متعلق پی سی ون کابینہ کی منظوری کے بعد اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

اس کے تحت جنگل کی صفائی (جنگل کٹنگ)، ٹوپوگرافی، میپنگ اور ڈیمارکیشن کا کام مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ 125 ایکڑ پر مشتمل یہ اراضی بے نظیر ٹاؤن سے متصل ہے اور بلاک 68 سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ مرکزی سڑک سے بھی منسلک ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ تمام مراحل موجودہ مالی سال کے اندر مکمل کر لیے جائیں۔

بلاک 68 کے حوالے سے ایل ڈی اے حکام نے بتایا کہ وہاں ممبران کے لیے مکانات کی تعمیر میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے، جو بھی ممبر اپنے واجبات ادا کر کے تعمیراتی کام شروع کرنا چاہے، ایل ڈی اے اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

مزید برآں، بلاک 68 اور بلاک 3 کے لیے ترتیب دیے گئے ترقیاتی منصوبے بھی اسی مالی سال میں مکمل کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق لیز اور میوٹیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ طے شدہ 20 فیصد رقم کا بڑا حصہ تاحال واجب الادا ہے۔ اس سلسلے میں ممبران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنی ادائیگیاں مکمل کریں تاکہ اسکیم پر کام تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ایل ڈی اے حکام ہر 15 دن بعد ممبران کی رہنمائی اور معاونت کے لیے کراچی پریس کلب میں دستیاب ہوں گے، جبکہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ فالو اپ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔

ممبران کی سہولت کے لیے واجب الادا رقوم کی تفصیلات نوٹس بورڈ پر آویزاں کی جائیں گی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکی وفد ایران کیساتھ مذاکرات کیلیے روانہ؛ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے؛ ٹرمپ

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اب لگتا ہے کہ کوئی فریق کھیل نہیں کھیل رہا یعنی سب سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں جو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔ ؎

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا اور اگر ایسا ہو جائے تو ایران ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ایران ان شرائط کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکا کیا قدم اٹھائے گا لیکن نھوں اشارہ دیا کہ صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

دوسری ایران اعلان کرچکا ہے کہ ان کا وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں جا رہا کیوں صدر سنجیدہ نہیں اور دھمکیوں سے باز آرہے ہیں اور نہ جارحیت روکی ہے۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہمارے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا اس پر قبضے کی کوشش کی گئی اور تاحال ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ 

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے دوسرے دور کا آغاز ممکن ہے۔

مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

’گریٹر اسرائیل‘ منصوبہ کیا ہے؟

Published

on



ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف صیہونی طاقتیں ’گریٹر اسرائیل‘ کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ آخر یہ گریٹر اسرائیل ہے کیا؟

دنیا کی سیاست میں یہ محض کوئی جدید اصطلاح نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں پیوست ہیں۔ عبرانی زبان میں اسے ’ارضِ اسرائیل الکاملہ‘ یعنی ’اسرائیل کی مکمل سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ بائبل کے ان حوالوں پر مبنی ہے جن میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین کو ایک ’الٰہی وعدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں موجودہ فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان، شام کے بڑے حصے، عراق، سعودی عرب کا کچھ علاقہ اور مصر کا جزیرہ نما سینا بھی شامل ہو جاتا ہے۔

صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کے دور سے ہی اس نظریے میں دو واضح سوچیں موجود رہی ہیں۔ جہاں سیکولر صہیونی اسے ایک سیاسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے، وہیں مذہبی گروہ اسے ایک مقدس مشن کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی اپنی مستقل سرحدوں کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ انتہا پسندوں کے نزدیک اسرائیل کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ان کا ’مذہبی حق‘ ختم ہو۔

اس خواب کی تعبیر کے لیے 1967 کی ’چھ روزہ جنگ‘ ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی موجودگی اسی توسیعی نظریے کا تسلسل ہے۔

امریکی سیاست، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے اس سوچ کو عالمی قوانین کے برعکس اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کیا۔ موجودہ اسرائیلی قیادت، بالخصوص وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء، اکثر ایسے نقشے لہراتے نظر آتے ہیں جن میں فلسطین کا وجود ہی غائب ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اردن کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔

آج لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور جنوبی لبنان میں یہودی بستیوں کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندانہ نظریات اب اسرائیل کی ریاستی پالیسی بن چکے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا یہ جنون محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا بارود ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک سکتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

جنگ بندی مذاکرات، ایران کے انکار کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس

Published

on


امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس مشاورتی اجلاس ہوا۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں اعلی سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس مین ایران کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد پیدا صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ وزیر داخلہ نے امریکی اور ایرانی سفیروں سے اپنی ملاقات پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس مین ایران امریکہ مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ جبکہ ایران کی مذاکرات میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Trending