Today News
جب بحیرہ روم ایک بند جھیل بننے سے بال بال بچا
کرہِ ارض پر متعدد آبنائے اور بحری گذرگاہیں ہیں۔ان میں سے کم ازکم چھ گذرگاہیں اقتصادی ، سیاسی و عسکری اعتبار سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ان میں کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں ہماری روزمرہ زندگی پر براہِ راست یا بلاواسطہ فوری یا دوررس اثر پڑ سکتا ہے۔گذشتہ دو مضامین میں آبنائے ہرمز ، باب المندب اور نہر سویز کی عالمی اہمیت کا تذکرہ ہو چکا ہے۔اس بار بحیرہ روم کو باقی دنیا سے ملانے والے بحری راستوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
اگر آپ نہر سویز سے نکل کر مشرقی بحیرہ روم میں داخل ہوں تو بحیرہ اسود کے اردگرد واقع ممالک ( روس ، یوکرین ، جارجیا ، رومانیہ ، بلغاریہ ) تک رسائی کے لیے آپ کو لامحالہ ترکی کے بحیرہ مرمرا میں آبنائے باسفورس اور آبنائے چناکلے ( دردائلین ) سے گذرنا پڑے گا۔
ان دونوں آبناؤں کی دیکھ بھال کی ذمے داری انیس سو چھتیس کے مونٹریکس بحری کنونشن کے تحت ترکی پر عائد ہوتی ہے۔اس خدمت کے عوض ترکی یہاں سے گذرنے والے تجارتی جہازوں کے مال پر ہیلتھ انسپکشن اور ہنگامی مدد و رہنمائی کی مد میں ایک طے شدہ محصول عائد کر سکتا ہے تاکہ ان راستوں کو درست حالت میں رکھنے پر اٹھنے والے اخراجات میں مدد مل سکے ۔البتہ کوئی مسلح جنگی جہاز یا آبدوز ان آبناؤں سے گذرنا چاہے تو اس کے کوائف کے بارے میں ترک حکام کو پیشگی آگاہ کرنا پڑتا ہے۔یہ آبنائیں براعظم یورپ اور ایشیا کو جدا کرتی ہیں۔استنبول شہر ان ہی آبناؤں کے دونوں طرف بسا ہوا ہے۔
بحیرہ اسود سے متصل دو اہم ممالک یوکرین اور روس نے ساڑھے تین برس سے جاری جنگ کے دوران ایک دوسرے کی بندرگاہوں پر متعدد حملے کیے مگر دونوں نے بحیرہ اسود کی ناکہ بندی سے گریز کیا کیونکہ ایسی کسی بھی ممکنہ حرکت سے جنگ علاقائی رخ اختیار کر سکتی ہے۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران روس ، برطانیہ ، فرانس ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی متحدہ افواج نے ان آبناؤں کے ذریعے ترکی کو گھٹنوں کے بل بٹھانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر آبنائے چنکالے ( دردالین ) میں گیلی پولی کے مقام پر مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں ترک دستوں نے اتحادی افواج کے ساحل پر اترنے کی لگاتار کوششیں مثالی سرفروشی کے ذریعے ناکام بنا کے حملہ آور بحری بیڑے کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے جوڑنے والی انتہائی گنجان آبنائے باسفورس کی چوڑائی تئیس سو فٹ ( سات سو میٹر ) ہے۔یہاں سے روزانہ تین سے چار ملین بیرل تیل بھی گذرتا ہے۔کل ملا کے سالانہ پینتالیس سے پچاس ہزار چھوٹے بڑے آئیل ٹینکرز ، کنٹینر جہاز اور مسافر بردار بجرے گذرتے ہیں۔یعنی ان آبناؤں کی بحری ٹریفک نہر سویز کی ٹریفک کے مقابلے میں تین گنا زائد ہے۔
بحری نقل و حمل کا بوجھ ان آبناؤں سے کم کرنے کے لیے ترک حکومت نے دس برس پہلے پینتالیس کلومیٹر طویل ایک اور بحری بائی پاس بنانے کے لیے استنبول کینال پروجیکٹ شروع کیا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد نہ صرف دونوں آبناؤں کا بحری رش کم ہو گا بلکہ ترکی کو استنبول کینال کی ٹرانزٹ فیس کی مد میں آٹھ تا دس ارب ڈالر کی اضافی آمدنی بھی حاصل ہو گی۔
مگر بحیرہ روم کی چابی دراصل افریقہ اور یورپ کو جدا کرنے والی آبنائے جبرالٹر ( جبل الطارق ) ہے۔اسپین اور مراکش کے درمیان واقع اٹھاون کیلومیٹر طویل اور ساڑھے چودہ کیلومیٹر چوڑی یہ آبنائے بند ہو جائے تو بحیرہ روم سے بحیرہ اسود تک کا علاقہ ایک بند جھیل میں بدل سکتا ہے۔اس جھیل سے نکلنے کا واحد راستہ براستہ نہر سویز باب المندب ہی بچے گا۔آبنائے جبرالٹر بحیرہ روم کو بحر اوقیانوس سے جوڑنے والا واحد راستہ ہے۔اگرچہ اونچی چٹان پر قائم جبرالٹر جغرافیائی اعتبار سے اسپین کا حصہ ہے مگر اس پر برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ ہے۔جب کہ آبنائے کے دوسری جانب واقع پہاڑی جبلِ موسی کہلاتی ہے ( یعنی جبل الطارق فاتح اسپین طارق بن زیاد کے نام پر اور جبلِ موسی شمالی افریقہ کے اموی گورنر موسی بن نصیر کے نام پر ہے۔اس نے طارق کو اسپین فتح کرنے کا حکم دیا )۔
تیرہ سو برس قبل یورپ میں مسلمانوں کے داخلے کی پہلی کوشش سے بھی لاکھوں سال پہلے سے آبنائے جبرالٹر انسانی تاریخ میں اہم ارتقائی کردا ادا کرتی چلی آ رہی ہے۔۔جبرالٹر اور گرد و نواح میں ہم ہومو سیپینز انسانوں کے نینڈرتھل جدِ امجد دو لاکھ برس قبل یہاں رہتے تھے۔دریافت شدہ آثار سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ انسان نے براعظم افریقہ سے باہر نکلنے کے لیے دو ممکنہ راستے اختیار کیے ہوں گے۔ایشیا تک رسائی کے لیے جزیرہ نما سینائی اور یورپ پہنچنے کے لیے جبرالٹر کا راستہ۔
آبنائے جبرالٹر پر دسترس کی کش مکش نے یونانی ، رومن، فونیقی اور قرطاجنہ کی سلطنتوں اور معیشتوں کے عروج و زوال میں اہم کردار ادا کیا۔آبنائے کے ذریعے یورپ اور افریقہ کے آر پار صرف پینتیس منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے۔یہ آبنائے دو براعظموں کے درمیان سالانہ نقلِ مکانی کرنے والے کروڑوں پرندوں کی بھی صدیوں پرانی قدرتی فضائی راہداری ہے۔
آبنائے جبرالٹر کے طفیل ہی براعظم شمالی و جنوبی امریکا سے شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کے ممالک کی بحری تجارت ممکن ہے۔اس گذرگاہ سے روزانہ پانچ سے چھ ملین بیرل تیل بھی گذرتا ہے۔
اگر ہم آبنائے جبرالٹر سے گذر کے تقریباً ناک کی سیدھ میں طوفان خیز بحر اوقیانوس پار کریں تو آٹھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہم بحیرہ کیربین سے گذرتے ہوئے نہر پانامہ کے راستے بحرالکاہل میں داخل ہو کر مزید ہمت دکھائیں تو مزید بیس ہزار کلومیٹر کی مسافت ناپ کے سب سے مصروف اور گنجان عالمی آبنائے ملاکا تک پہنچ سکتے ہیں۔پانامہ اور ملاکا کی اہمیت کا تفصیلی تذکرہ اگلے مضمون میں ۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
کراچی: ریڑھی گوٹھ میں سمندری آلودگی کی تشویشناک صورتحال
کراچی کے ساحلی علاقے ریڑھی گوٹھ میں سمندری آلودگی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، سمندر میں شامل فضلے اور آلودگی نے ماہی گیری کے شعبے کو شدید متاثر کردیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق آلودگی کے باعث نہ صرف مچھلیوں کی افزائش متاثر ہو رہی ہے بلکہ ماہی گیر خود بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ صنعتی فضلہ اور گٹر کا گندا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے مسلسل سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں روزانہ ہزاروں گیلن آلودہ پانی سمندر میں شامل ہو کر سمندری حیات کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ماہی گیروں کے روزگار کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
بھینس کالونی سے نکلنے والا جانوروں کا گوبر اور ٹیکسٹائل و چمڑا رنگنے والی فیکٹریوں کا کیمیائی فضلہ بھی دھڑلے سے سمندر برد کیا جا رہا ہے جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے اور حکومت سندھ اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
کوسٹل میڈیا سینٹر کے ترجمان کمال شاہ کے مطابق مقامی ماہی گیر برادری نے حکومتِ سندھ اور ماحولیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ صنعتی فضلے کو بغیر ٹریٹمنٹ سمندر میں چھوڑنے پر فوری پابندی عائد کی جائے، ساحلی علاقوں کی باقاعدہ صفائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور ماہی گیروں کی صحت و روزگار کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سمندری حیات سے وابستہ ماہی گیروں کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
Today News
کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ کر قیمتی اشیا چرانے والا ملزم سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار
لاہور:
کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ کر قیمتی اشیا چوری کرنے والے ملزم کو سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم مختلف علاقوں میں شہریوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتا تھا، جو ماڈل ٹاؤن، شادمان، مین بلیوارڈ اور ایم ایم عالم روڈ پر وارداتوں میں ملوث ہونے کے باعث پولیس کو مطلوب تھا۔
ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع موصول ہوتے ہی ورچوئل پٹرولنگ آفیسر نے فوری طور پر ملزم کی ٹریسنگ کا آغاز کیا۔ سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی شناخت اور اس کے روٹ کی مکمل میپنگ کی گئی، جس کے بعد سیف سٹی کی فراہم کردہ معلومات پر پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان سیف سٹی کے مطابق ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم میں نمایاں کمی ممکن ہو رہی ہے، جبکہ جدید کیمروں کی مدد سے مجرموں کی بروقت نشاندہی اور گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف سٹی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔
Today News
آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ٹیم جون میں محدود اوورز کی سیریز کے لیے بنگلادیش کا کا دورہ کرے گی۔
دونوں ٹیموں کے مابین تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلی جائے گی۔
ون ڈے میچز 9، 11 اور 14 جون کو ڈھاکا میں جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچز 17، 19 اور 21 جون کو چٹاگرام میں کھیلے جائیں گے۔
ابھی تک میچز کے آغاز کے اوقات طے نہیں ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ بنگلادیش میں ایندھن کی قلت کے سبب یہ میچز دن میں کھیلنے پڑیں جیسا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں ہوا ہے۔
آسٹریلیا کی یہ بنگلادیش میں دوسری بائی لیٹرل ٹی ٹوئنٹی سیریز ہوگی۔ 2021 میں پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز بنگلادیش نے 1-4 سے جیتی تھی۔
آسٹریلوی ٹیم 2011 کے بعد پہلی مرتبہ ون ڈے سیریز کے لیے بنگلادیش کا دورہ کرے گی۔
آسٹریلیا اس سے قبل پاکستان میں تین ون ڈے میچز کھیلے گا، جو آئی پی ایل کے اختتام کے ساتھ شروع ہوں گے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper