Connect with us

Today News

بے حسی کی انتہا – ایکسپریس اردو

Published

on


لاہور کے ایک بڑے اسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک کار میں اس اسپتال کا نوجوان ڈاکٹر مرا پڑا رہا اور چار روز تک کسی کو پتا نہ چلا۔ جب چار روز بعد کار سے بدبو پھیلی تو لوگ متوجہ ہوئے تو کار میں مذکورہ ڈاکٹرکی لاش پائی گئی جسے بمشکل نکالا گیا تو علاقہ میں سنسنی پھیل گئی تو اسپتال کی انتظامیہ کو ہوش آیا۔ کیوں کہ اسپتال انتظامیہ اور کسی ڈاکٹر کو فکر ہی نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر کیوں نہیں آرہے، کسی نے ان سے فون پر رابطہ نہیں کیا اور بے حسی کی انتہا یہ ہوئی کہ مرحوم ڈاکٹر کے اہل خانہ کو بھی فکر نہیں ہوئی کہ چار روز سے ان کا پیارا گھر کیوں نہیں آیا، نا کسی سے یہ ہوا کہ وہ اسپتال فون کرکے ہی ڈاکٹر کے متعلق پتا کرلیتا۔

 یہ افسوسناک موت ہی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی صورت حال ہی ایسی ہوچکی ہے کہ جہاں حکومت اور عوام بے حسی کی انتہاء پر پہنچ چکے ہیں اور کسی کو کسی کی فکر نہیں اور سب ہی بے حسی کا شکار ہیں اور اپنے آپ میں مگن ہیں۔ عوام کو حکومت سے شکایت ہے کہ حکومت کو عوام کی فکر نہیں اور وہ بے حسی سے عوام پر مہنگائی وبیروزگاری بڑھا رہی ہے تو عوام بھی موجودہ صورت حال میں بھی ملک کی فکر کر رہے نا حکومتی اقدامات پر عمل اور دونوں جگہ ہی بے حسی انتہا پر ہے۔

 ملک میں بیروزگاری شدید اور مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے جس کی وجہ ایران ،امریکا جنگ کو قرار دیا جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ امریکا و اسرائیل نے مذاکرات جاری رکھتے ہوئے ایران پر حملہ کیا جس کے جواب میں ایران نے بھی وہی کیا جو وہ کرسکتا تھا اور اس نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کا شدید بحران پیدا کردیا جس کے نتیجے میں پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قلت تو پیدا نہیں ہوئی مگر حکومت نے ضرورت سے زیادہ نرخ بڑھاکر عوام پر مسلط مہنگائی میں اضافہ کرکے انتہائی بے حسی کا ثبوت دیا اور اپنی مزید آمدنی کے لیے 155 روپے لیٹر اضافہ کرکے یہ نہیں سوچا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔

اتنا اضافہ عوام کی پہنچ سے باہر تھا جس پر سارا ملک چیخ پڑا ، کیوں کہ اتنا زیادہ اضافہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوا تھا، بعدازاں 80 روپے لیٹر پٹرول میں کمی کرنا پڑی مگر ملک میں پٹرول سے زیادہ اہم اور طلب ڈیزل کی ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ، ملک میں مال لانے لے جانے ، ٹرالر ، ٹرک اور بڑی گاڑیاں ہی نہیں پاکستان ریلوے کی گاڑیاں بھی ڈیزل استعمال کرتی ہیں مگر حکومت نے ڈیزل کے نرخ پٹرول سے زیادہ رکھے اور ان کے نرخ کم نہیں کیے جس کی وجہ سے مہنگائی نے مزید بڑھنا تھا جو بڑھی اور وفاق سے زیادہ مال دار صوبائی حکومتوں نے بھی عوام کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا جن میں پنجاب حکومت سرفہرست اور سندھ پیچھے رہا۔

صوبائی حکومتوں نے موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو ماہانہ بیس لیٹر پٹرول ایک سو روپے فی لیٹر رعایت کا اعلان کرکے یہ رعایت ناممکن بنادی اور وفاق کی طرح سندھ و پنجاب حکومتوں نے اس رعایت کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا ،جس طرح پٹرولیم مصنوعات کو وفاق نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے موٹرسائیکل والوں کو یہ رعایت مشروط طور پر دی کہ وہ مہینہ بھر سرکاری نرخ پر پٹرول خریدیں جس کے بعد صرف ان کے نام رجسٹرڈ موٹرسائیکل والوں کے بینک اکاؤنٹ میں حکومت دو ہزار روپے ٹرانسفر کرے گی۔ یہ رقم کتنے دن میں ٹرانسفر ہوگی اس کی کوئی بھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

مسافر گاڑیوں کے لیے حکومت نے جو رعایت اور اعانت کے اعلان کیے ہیں وہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈیزل پر چلنے والی تمام گاڑیاں اور بڑے اور بااثر دولت مندوں کی ہیں جنھیں ماہانہ بڑی رقم ملتی ہے اور وہ اسے آسانی سے حاصل بھی کرلیں گے مگر موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد امیروں نہیں غریبوں کی ہے جو روزانہ دو تین سو روپے کا پٹرول اپنی جیب کے مطابق ڈلواتے ہیں جن کی موٹرسائیکلیں بھی پرانی اور زیادہ پٹرول سے چلنے والی ہیں اور یہ لوگ بائیک کی ٹنکی نہیں بھرواتے کم پٹرول خریدنے کی سکت رکھتے ہیں اور ان کی مالی حیثیت کمزور ہوتی ہے اور اکثر کے بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہیں انھیں دو ہزار ماہانہ کیسے ملیں گے۔

 ان کے لیے کوئی حکومتی اعلان نہیں ہوا، جو حکومتی بے حسی ہے کہ وہ مہینہ بھر 20 لیٹر مہنگا پٹرول کیسے خریدیں گے جو تقریباً دس ہزار کا بنے گا۔ اتنی بڑی رقم خرچ کرکے پھر مہینہ بعد دو ہزار حاصل کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔ دو ہزار ماہانہ بھی انھیں بذریعہ بینک ملیں گے جن کے نام ان کی بائیکیں رجسٹرڈ ہوگی ۔ غیر رجسٹرڈ بائیکوں والے پہلے حکومت کے پاس اپنے نام بائیک ٹرانسفر کرانے کا خرچہ برداشت کریں۔ ایکسائز دفاتر کے چکر کاٹ کر دو ہزار روپے حاصل کرسکیں گے۔

ایکسائز دفاتر میں رشوت کے بغیر بائیک رجسٹرڈ ہوگی نا حکومت کو انھیں دو ہزار دینا پڑیں گے اور لاکھوں بائیکس لوگوں کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ اپنا کام چلارہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت ہر ایک کو میسر نہیں جس سے رجسٹریشن فیس حکومت کو ملے گی تو حکومت صرف انھیں ہی دو ہزار روپے ماہانہ دے گی۔

مہنگے پٹرول کے باعث لوگ مجبوری میں ہی اپنی کاریں اور موٹرسائیکلیں سڑکوں پر لارہے ہیں۔ پٹرول بچانے کے لیے کوشاں اور پیدل چلنے پر مجبور کردئیے گئے جنھیں رعایت دینا کم اور پریشان کرنا حکومت کا مقصد اور حکومتی بے حسی ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ از خود اپنی بچت کے لیے پٹرول کم استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور امیروں کی بے حسی برقرار ہے انھیںاپنی مہنگی گاڑیوں کے لیے مہنگا پٹرول خریدنے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑا، صرف بائیکوں والے حکومتی بے حسی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور ان کے لیے سرکاری رعایت کا حصول مشکل بنا دیاگیا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گاڑیاں بنانے والی بڑی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کےلیے تیار 

Published

on


پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی بڑی غیرملکی کمپنی نے آئندہ چار سے پانچ سال کے دوران ملک میں تیس سے چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کردیا۔

غیرملکی کپمنی نے پاکستان نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں حکومت پانچ کے بجائے دس سالہ کلیئر آٹو پالیسی کا اعلان کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی ای اوانڈس موٹرز علی اصغر جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس ومقع پر انہوں نے مزہد کہا کہ انڈسٹری کیلئے پانچ کے بجائے دس سالہ آٹو پالیسی دی جائے، پالیسی میں ابہام نہ ہو بالکل واضح ہو،ٹویوٹا آئندہ 5سال میں 30 سے 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنا چاہتا ہے۔

الیکٹرک وہیکل کی ٹیکنالوجی کو دنیا اختیار کر رہی ہے،ای وی کا مستقبل ہے ہم بھی ای وی گاڑی لانچ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزیدکہاشرح سودکم ہونے سے پچھلے تین سال میں آٹو فائنانسنگ ڈبل ہوگئی،گاڑی کیلئے بینک لون کی حد پر 30 لاکھ کی پابندی ختم کرکے اسے ایک کروڑتک کیاجائے۔

ایکسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ گاڑیاں بنیں علی اصغر جمالی نے کہا ملک میں گاڑیوں کے خام مال کی صنعت ہو تاکہ سستے خام مال سے گاڑی کی قیمت کم رہے، جن ممالک کو ایکسپورٹ کریں وہاں ہماری گاڑی پرٹیکس کم ہو،گاڑیاں درآمد کرنے والے ممالک سے حکومت ترجیحی تجارت کے معاہدے کرے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بچوں میں ایڈز کے تیزی سے بڑھتے کیسز؛ شعبہ صحت کی سنگین غفلت،اہم انکشافات

Published

on



اسلام آباد:

ملک میں بچوں کے حوالے سے ایڈز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز میں شعبہ صحت کی سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

ایڈز کے بڑھتے کیسز کے تناظر میں سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ فلم میں ضلع تونسہ کے واقعات کو دکھایا گیا، جہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر تونسہ میں کم عمر بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی اور 60 سے 70 بچوں میں اس مرض کی موجودگی سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ نوعیت کی طبی غفلت کا نتیجہ ہے جہاں 20، 20 بچوں کو ایک ہی سرنج کے ذریعے ٹیکے لگائے گئے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس معاملے کو کسی ایک حکومت سے جوڑنا درست نہیں بلکہ یہ پاکستان کی اجتماعی ناکامی ہے۔ 2 سے 5 سال کے ایسے بچوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی جن کے والدین اس مرض میں مبتلا نہیں تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعمال کرنے سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 بچوں میں ایڈز مثبت آیا جبکہ اخبارات کے مطابق اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔  انڈس اسپتال کراچی میں 2024 کے دوران 10 بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے جب کہ رواں سال 25 بچوں میں اس مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے کہا کہ ایشیا میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی رفتار پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں خون کی منتقلی کے دوران 70 فیصد اسکریننگ نہیں کی جاتی، حالانکہ اگر مناسب اسکریننگ ہو تو آلودہ خون کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کی بڑی وجوہات بھی استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال اور خون کی اسکریننگ کا فقدان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی ۔ موجودہ اعداد و شمار ایک بڑی وبا کے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

انہوں نے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ طے شدہ اصولوں پر عمل کریں جبکہ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔ انہوں نے تونسہ واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کے والدین کا سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ان کا بچہ زندہ رہے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2008 سے 2009 کے دوران جلال پور جٹاں میں 150 افراد ایڈز سے متاثر پائے گئے تھے ۔ ایسے واقعات دیگر علاقوں میں بھی وبائی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی اسپتال میں ایڈز سے متعلق باقاعدہ شعبہ موجود نہیں ہے۔

نجی ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر اصغر ستی نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ اس بیماری کے پھیلاؤ کو کردار کی خرابی کے بجائے ہیلتھ سیکٹر کی ناکامی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں ایڈز سے متاثرہ خاتون نیئر مجید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برس سے اس داغ کو برداشت کر رہی ہیں اور ایک ماں ہونے کے باوجود انہیں شدید سماجی رویوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مریض جسے پتے کی تکلیف تھی، اس کے ایچ آئی وی متاثرہ ہونے کی وجہ سے کوئی ڈاکٹر آپریشن کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہیں اور مختلف الزامات کا سامنا کرتی رہی ہیں جبکہ گزشتہ 22 سال سے علاج جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے باوجود معاشرے میں نفرت کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت 3 لاکھ 70 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں جن میں سے صرف 21 فیصد کو اپنے مرض کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد میں سے 84 فیصد کو علاج کی سہولت میسر نہیں جبکہ صرف 16 فیصد مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل: دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز آج راولپنڈیز کیخلاف اپنی بقاء کی جنگ لڑے گی

Published

on


پاکستان سپر لیگ کا پچیسواں میچ آج دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز اور راولپنڈیز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

جمعہ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں شکست کھانے والی لاہور قلندرز اپنے ساتویں میچ میں ناکامی کا داغ دھونے کی کوشش کرے گی۔

فائنل فور کی دوڑ سے باہر ہو جانے والی راولپنڈیز اپنے ساتویں میچ میں پہلی فتح کی آرزو کے ساتھ میدان کا رخ کرے گی۔

لاہور قلندرز چھ میچز میں دو فتوحات اور تین ناکامیوں کے بعد محض چار پوائنٹس ہی جوڑ سکی۔

جمعہ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے خلاف مزاحمتی اننگز کھیلنے والے فخر زمان، عبداللہ شفیق، حسیب اللہ خان اور اسامہ میر ایک بار پھر بیٹنگ میں لاہور قلندرز کی امیدوں کا مرکز ہوں گے جبکہ بولنگ میں لاہور قلندرز اپنے کپتان شاہین شاہ آفریدی، مستفیض الرحمان، عبید شاہ، اسامہ میر اور سکندر رضا پر قناعت کرے گی۔

دوسری جانب اپنے تمام 6 میچز میں ناکامیوں سے دوچار ہونے والی راولپنڈیز کی ٹیم ایک بار پھر بیٹنگ میں اپنے کپتان محمد رضوان کے ساتھ ڈیرل مچل، عبداللہ فضل اور سیم بلنگ پر نظریں جمائے گی جبکہ بولنگ میں اس کا انحصار محمد عامر اور مبصر خان پر ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending