Connect with us

Today News

بچوں میں ایڈز کے تیزی سے بڑھتے کیسز؛ شعبہ صحت کی سنگین غفلت،اہم انکشافات

Published

on



اسلام آباد:

ملک میں بچوں کے حوالے سے ایڈز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز میں شعبہ صحت کی سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

ایڈز کے بڑھتے کیسز کے تناظر میں سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ فلم میں ضلع تونسہ کے واقعات کو دکھایا گیا، جہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر تونسہ میں کم عمر بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی اور 60 سے 70 بچوں میں اس مرض کی موجودگی سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ نوعیت کی طبی غفلت کا نتیجہ ہے جہاں 20، 20 بچوں کو ایک ہی سرنج کے ذریعے ٹیکے لگائے گئے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس معاملے کو کسی ایک حکومت سے جوڑنا درست نہیں بلکہ یہ پاکستان کی اجتماعی ناکامی ہے۔ 2 سے 5 سال کے ایسے بچوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی جن کے والدین اس مرض میں مبتلا نہیں تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعمال کرنے سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 بچوں میں ایڈز مثبت آیا جبکہ اخبارات کے مطابق اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔  انڈس اسپتال کراچی میں 2024 کے دوران 10 بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے جب کہ رواں سال 25 بچوں میں اس مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے کہا کہ ایشیا میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی رفتار پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں خون کی منتقلی کے دوران 70 فیصد اسکریننگ نہیں کی جاتی، حالانکہ اگر مناسب اسکریننگ ہو تو آلودہ خون کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کی بڑی وجوہات بھی استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال اور خون کی اسکریننگ کا فقدان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی ۔ موجودہ اعداد و شمار ایک بڑی وبا کے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

انہوں نے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ طے شدہ اصولوں پر عمل کریں جبکہ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔ انہوں نے تونسہ واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کے والدین کا سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ان کا بچہ زندہ رہے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2008 سے 2009 کے دوران جلال پور جٹاں میں 150 افراد ایڈز سے متاثر پائے گئے تھے ۔ ایسے واقعات دیگر علاقوں میں بھی وبائی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی اسپتال میں ایڈز سے متعلق باقاعدہ شعبہ موجود نہیں ہے۔

نجی ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر اصغر ستی نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ اس بیماری کے پھیلاؤ کو کردار کی خرابی کے بجائے ہیلتھ سیکٹر کی ناکامی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں ایڈز سے متاثرہ خاتون نیئر مجید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برس سے اس داغ کو برداشت کر رہی ہیں اور ایک ماں ہونے کے باوجود انہیں شدید سماجی رویوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مریض جسے پتے کی تکلیف تھی، اس کے ایچ آئی وی متاثرہ ہونے کی وجہ سے کوئی ڈاکٹر آپریشن کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہیں اور مختلف الزامات کا سامنا کرتی رہی ہیں جبکہ گزشتہ 22 سال سے علاج جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے باوجود معاشرے میں نفرت کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت 3 لاکھ 70 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں جن میں سے صرف 21 فیصد کو اپنے مرض کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد میں سے 84 فیصد کو علاج کی سہولت میسر نہیں جبکہ صرف 16 فیصد مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اکشے کمار کا بیٹا کتنے روپے ماہانہ کی نوکری کررہا ہے؟ جان کر حیران رہ جائیں گے

Published

on



بالی ووڈ کے سپر اسٹار اکشے کمار نے حال ہی میں اپنے بیٹے آرو بھاٹیا کے بارے میں ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو چونکا دیا۔ جہاں عام طور پر اسٹار کڈز فلمی دنیا کا رخ کرتے ہیں، وہیں آرو بھاٹیا نے اس روایت سے ہٹ کر اپنا الگ راستہ چن لیا ہے۔

اکشے کمار کے مطابق ان کا 23 سالہ بیٹا فلم انڈسٹری میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ فیشن کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانے میں مصروف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آرو اس مقصد کے لیے نہایت سادہ زندگی گزار رہا ہے اور محض 4500 روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔

اکشے کمار نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا بیٹا محنتی اور اپنے مقصد پر مکمل توجہ دینے والا ہے۔ وہ مختلف دیہاتوں کا دورہ کر رہا ہے تاکہ فیشن کے حوالے سے نئے انداز، کپڑوں کے ڈیزائن اور روایتی پرنٹس سیکھ سکے۔ اداکار نے فخر سے کہا کہ کم تنخواہ کے باوجود آرو کا جذبہ قابلِ تعریف ہے اور وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھنے دے رہے ہیں۔

اکشے نے مزید کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو زیادہ لیکچر نہیں دیتے، بس یہی نصیحت کی ہے کہ زندگی میں کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ ان کا ماننا ہے کہ خود سے سیکھنے اور محنت کرنے کا یہ سفر آرو کو ایک مضبوط انسان بنائے گا۔

اکشے کمار ان دنوں اپنی فلم بھوت بنگلہ کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ بچپن میں آرو کو اداکارہ ودیا بالن سے خوف آتا تھا کیونکہ وہ انہیں فلم بھول بھلیاں کی کردار ’’منجولیکا‘‘ سمجھ بیٹھا تھا۔

اکشے کمار کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی بار بیٹے کو سمجھایا کہ ودیا بالن ایک بہترین انسان ہیں، لیکن آرو کافی عرصے تک اس خوف سے باہر نہ آ سکا۔ یہ دلچسپ قصہ بھی مداحوں کے لیے مسکراہٹ کا باعث بن گیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

بشریٰ بی بی کی آنکھ کے آپریشن کے بعد 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت

Published

on



پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کے آپریشن کے بعد 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں ان کے وکلا کی جانب سے اہم پیش رفت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری کے بعد سزا معطلی درخواست پر جلد فیصلہ کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

بشری بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر نئی درخواست میں میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے سزا معطلی درخواست پر جلد فیصلہ کرنے اور بشری بی بی تک ان کے وکلا اور فیملی کی رسائی کی استدعا کی گئی ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری پنڈی کے الشفا آئی اسپتال میں کی گئی، سرجری سے پہلے کسی فیملی ممبر کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر وکیل اور فیملی ممبر کو آگاہ کرنا ضروری ہے، بغیر کسی کو آگاہ کیے بشریٰ بی بی کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اچانک فیملی کو بتایا گیا جس کے بعد فیملی نے جیل میں ملاقات کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی کی فیملی نے ملاقات کے بعد دیکھا کہ ان کو کالی عینک لگا کر بیٹھا دیا گیا ہے اور ان کی میڈیکل کنڈیشن سیریس نوعیت کی ہے۔

عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ ڈاکٹروں یا جیل حکام کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، بشریٰ بی بی خاتون ہیں اور ان کی سزا بھی سات سال ہے جو کم کے زمرے میں آتی ہے۔

وکیل نے مؤقف اپنایا ہے کہ جیل حکام نے عدالتی حکم کے باوجود مجھے جیل میں بشریٰ بی بی تک رسائی نہیں دی، 15 مئی 2025 سے زیر التوا بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کریں اور بشریٰ بی بی تک فیملی اور وکیل کو رسائی دی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے ذرائع نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن نجی اسپتال میں کیا گیا اور انہیں واپس جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

جیل ذرائع نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی جس پر جیل انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہرین چشم سے ان کا معائنہ کرایا۔

اس حوالے سے مزید بتایا تھا کہ سرجری سے قبل ضروری ٹیسٹ اور طبی معائنہ مکمل کیا گیا، جس کے بعد مریضہ کی رضامندی سے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پینل نے آنکھ کا آپریشن کیا، سرجری اور ایک رات اسپتال میں قیام کے بعد مطمئن حالت میں مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بالترتیب 14 اور 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید ہوگی، اسی طرح بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ کردیا گیا تھا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 3 ماہ قید ہوگی۔



Source link

Continue Reading

Today News

سوات: سیدوشریف اسپتال کے سامنے فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، ایک زخمی ہوگیا،

Published

on


سوات میں سیدوشریف اسپتال کے سامنے فائرنگ کے واقعے میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمی کو فوری طور پر سیدوشریف اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گھریلو تنازعے کا شاخسانہ ہے جہاں سسر نے فائرنگ کی، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending