Connect with us

Today News

برطانیہ میں گراؤنڈ کے قریب بم کی اطلاع ملنے پر میچ تاخیر کا شکار

Published

on


برطانیہ میں گراؤنڈ کے قریب بم کی اطلاع ملنے پر رگبی میچ 80 منٹ تاخیر کا شکار ہوگیا۔

یہ واقعہ گول وائکنگز اور وائٹ ہیون کے درمیان بیٹفریڈ چیمپئن شپ میچ سے قبل پیش آیا جو وکٹوریہ گراؤنڈ میں کھیلا جانا تھا۔

کلب کے مطابق پری میچ سیکیورٹی چیک کے دوران گراؤنڈ کے قریب ایک مشکوک اور ممکنہ طور پر خطرناک چیز ملی، جس کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی پروٹوکول نافذ کیا گیا۔

اردگرد کی جگہ کو خالی کراتے ہوئے ہمبرسائیڈ پولیس سمیت متعلقہ اداروں کو اطلاع دی گئی۔

اسٹیڈیم پر عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا، بم ڈسپوزل یونٹ کے ماہرین موقع پر پہنچے اور تفصیلی جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ یہ چیز دراصل غیر دھماکہ خیز نقلی گرینیڈ تھا جسے محفوظ طریقے سے ہٹا دیا گیا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گاڑیاں بنانے والی بڑی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کےلیے تیار 

Published

on


پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی بڑی غیرملکی کمپنی نے آئندہ چار سے پانچ سال کے دوران ملک میں تیس سے چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کردیا۔

غیرملکی کپمنی نے پاکستان نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں حکومت پانچ کے بجائے دس سالہ کلیئر آٹو پالیسی کا اعلان کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی ای اوانڈس موٹرز علی اصغر جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس ومقع پر انہوں نے مزہد کہا کہ انڈسٹری کیلئے پانچ کے بجائے دس سالہ آٹو پالیسی دی جائے، پالیسی میں ابہام نہ ہو بالکل واضح ہو،ٹویوٹا آئندہ 5سال میں 30 سے 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنا چاہتا ہے۔

الیکٹرک وہیکل کی ٹیکنالوجی کو دنیا اختیار کر رہی ہے،ای وی کا مستقبل ہے ہم بھی ای وی گاڑی لانچ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزیدکہاشرح سودکم ہونے سے پچھلے تین سال میں آٹو فائنانسنگ ڈبل ہوگئی،گاڑی کیلئے بینک لون کی حد پر 30 لاکھ کی پابندی ختم کرکے اسے ایک کروڑتک کیاجائے۔

ایکسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ گاڑیاں بنیں علی اصغر جمالی نے کہا ملک میں گاڑیوں کے خام مال کی صنعت ہو تاکہ سستے خام مال سے گاڑی کی قیمت کم رہے، جن ممالک کو ایکسپورٹ کریں وہاں ہماری گاڑی پرٹیکس کم ہو،گاڑیاں درآمد کرنے والے ممالک سے حکومت ترجیحی تجارت کے معاہدے کرے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بچوں میں ایڈز کے تیزی سے بڑھتے کیسز؛ شعبہ صحت کی سنگین غفلت،اہم انکشافات

Published

on



اسلام آباد:

ملک میں بچوں کے حوالے سے ایڈز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز میں شعبہ صحت کی سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

ایڈز کے بڑھتے کیسز کے تناظر میں سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ فلم میں ضلع تونسہ کے واقعات کو دکھایا گیا، جہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر تونسہ میں کم عمر بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی اور 60 سے 70 بچوں میں اس مرض کی موجودگی سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ نوعیت کی طبی غفلت کا نتیجہ ہے جہاں 20، 20 بچوں کو ایک ہی سرنج کے ذریعے ٹیکے لگائے گئے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس معاملے کو کسی ایک حکومت سے جوڑنا درست نہیں بلکہ یہ پاکستان کی اجتماعی ناکامی ہے۔ 2 سے 5 سال کے ایسے بچوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی جن کے والدین اس مرض میں مبتلا نہیں تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعمال کرنے سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 بچوں میں ایڈز مثبت آیا جبکہ اخبارات کے مطابق اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔  انڈس اسپتال کراچی میں 2024 کے دوران 10 بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے جب کہ رواں سال 25 بچوں میں اس مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے کہا کہ ایشیا میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی رفتار پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں خون کی منتقلی کے دوران 70 فیصد اسکریننگ نہیں کی جاتی، حالانکہ اگر مناسب اسکریننگ ہو تو آلودہ خون کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کی بڑی وجوہات بھی استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال اور خون کی اسکریننگ کا فقدان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی ۔ موجودہ اعداد و شمار ایک بڑی وبا کے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

انہوں نے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ طے شدہ اصولوں پر عمل کریں جبکہ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔ انہوں نے تونسہ واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کے والدین کا سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ان کا بچہ زندہ رہے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2008 سے 2009 کے دوران جلال پور جٹاں میں 150 افراد ایڈز سے متاثر پائے گئے تھے ۔ ایسے واقعات دیگر علاقوں میں بھی وبائی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی اسپتال میں ایڈز سے متعلق باقاعدہ شعبہ موجود نہیں ہے۔

نجی ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر اصغر ستی نے کہا کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ اس بیماری کے پھیلاؤ کو کردار کی خرابی کے بجائے ہیلتھ سیکٹر کی ناکامی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں ایڈز سے متاثرہ خاتون نیئر مجید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برس سے اس داغ کو برداشت کر رہی ہیں اور ایک ماں ہونے کے باوجود انہیں شدید سماجی رویوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مریض جسے پتے کی تکلیف تھی، اس کے ایچ آئی وی متاثرہ ہونے کی وجہ سے کوئی ڈاکٹر آپریشن کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہیں اور مختلف الزامات کا سامنا کرتی رہی ہیں جبکہ گزشتہ 22 سال سے علاج جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے باوجود معاشرے میں نفرت کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت 3 لاکھ 70 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں جن میں سے صرف 21 فیصد کو اپنے مرض کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد میں سے 84 فیصد کو علاج کی سہولت میسر نہیں جبکہ صرف 16 فیصد مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل: دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز آج راولپنڈیز کیخلاف اپنی بقاء کی جنگ لڑے گی

Published

on


پاکستان سپر لیگ کا پچیسواں میچ آج دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز اور راولپنڈیز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

جمعہ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں شکست کھانے والی لاہور قلندرز اپنے ساتویں میچ میں ناکامی کا داغ دھونے کی کوشش کرے گی۔

فائنل فور کی دوڑ سے باہر ہو جانے والی راولپنڈیز اپنے ساتویں میچ میں پہلی فتح کی آرزو کے ساتھ میدان کا رخ کرے گی۔

لاہور قلندرز چھ میچز میں دو فتوحات اور تین ناکامیوں کے بعد محض چار پوائنٹس ہی جوڑ سکی۔

جمعہ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے خلاف مزاحمتی اننگز کھیلنے والے فخر زمان، عبداللہ شفیق، حسیب اللہ خان اور اسامہ میر ایک بار پھر بیٹنگ میں لاہور قلندرز کی امیدوں کا مرکز ہوں گے جبکہ بولنگ میں لاہور قلندرز اپنے کپتان شاہین شاہ آفریدی، مستفیض الرحمان، عبید شاہ، اسامہ میر اور سکندر رضا پر قناعت کرے گی۔

دوسری جانب اپنے تمام 6 میچز میں ناکامیوں سے دوچار ہونے والی راولپنڈیز کی ٹیم ایک بار پھر بیٹنگ میں اپنے کپتان محمد رضوان کے ساتھ ڈیرل مچل، عبداللہ فضل اور سیم بلنگ پر نظریں جمائے گی جبکہ بولنگ میں اس کا انحصار محمد عامر اور مبصر خان پر ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending