Connect with us

Today News

ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب

Published

on



بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کا مشہور ڈائیلاگ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا، مگر اس بار فلمی دنیا نہیں بلکہ عالمی سیاست کے میدان میں اس کا استعمال دیکھنے میں آیا۔

ممبئی میں قائم ایرانی قونصل خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سمندر میں تیز رفتار کشتیوں اور میزائل سرگرمیوں کو دکھایا گیا۔ اس پوسٹ کے ساتھ کیپشن میں خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کی تیاریوں کا ذکر کیا گیا اور ایک سخت پیغام بھی دیا گیا۔

ایرانی قونصل خانے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ ایران کی بحری طاقت کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے، مگر اب انہیں اندازہ ہوگا کہ ایک مضبوط قوت کس طرح فوری دباؤ ڈال سکتی ہے۔

دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب ایرانی قونصل خانے نے اپنی پوسٹ میں بالی ووڈ فلم ’اوم شانتی اوم‘ کا مشہور جملہ بھی شامل کیا: ’’ابھی تو صرف ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے‘‘، جو عام طور پر ڈرامائی واپسی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

“Red bees of the #PersianGulf” yeah, the fast missile boats are warming up.

Funny how #Trump kept claiming #Iran’s navy was “finished”… now they’re about to find out how a swarm can pin you down real quick.

Abhi toh sirf trailer hai, picture abhi baaki hai 😏.#HORMUZ pic.twitter.com/Wu0FV5iMIc
— Consulate General of the I.R. Iran in Mumbai (@IRANinMumbai) April 13, 2026

یہ ڈائیلاگ استعمال ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا اور صارفین نے عالمی سیاست اور بالی ووڈ کے اس غیر معمولی امتزاج پر دلچسپ تبصرے کیے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کی بحری طاقت کو کمزور قرار دیتے ہوئے سخت بیانات دیے تھے، جس کے جواب میں ایرانی قونصل خانے کی یہ پوسٹ سامنے آئی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

Published

on


آج کل ہم بڑی مشکل میں ہیں نہ کچھ سوجھ رہا ہے نہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے کہ کریں توکیا کریں حالانکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہرطرف خوشیوں کے فوارے چھوٹ رہے ہیں ، پھلجڑیاں اڑ رہی ہیں اورہوائیاں چل رہی ہے ۔ یوںکہیے کہ

اک اندازتبسم میں ہے گم ساراچمن

 یہ خبر کس کوکلی کی جان کس مشکل میں ہے

اورجس کلی کی جان مشکل میں ہے وہ کلی ہمارے دل کی کلی ہے کیوں کہ ہمیں کالم کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں مل رہا ہے ، ڈھونڈتے رہتے ہیں لیکن ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ اہل خانہ ہمہ آفتاب ہوچکا ہے ، آخر کچھ لکھیںتو کس پر لکھیں دیکھتے ہیں اوردیکھتے رہ جاتے ہیں اپنے اردگرد جو ہورہا ہے دیکھ کر اگر ہونٹوں پر کچھ آتا ہے تو صرف یہی کہ ؎

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

اردگرد کا ہمارا ماحول ہمارا معاشرہ ہمارا نظام مطلب یہ سارا ملک ایسا ہوچکا ہے، ہورہا ہے، ہوتا جا رہا ہے کہ صرف دیکھا جاسکتا ہے، وہ بھی اگر لوہے کا جگر ہو، مرمر کا دل ہو اورسمندر سمندر سینہ ہو ، لیکن کہا کچھ نہیں جا سکتا ہے، اس لیے کہ

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

 ایسا کچھ باقی رہا ہی نہیں جو صادر نہ ہوچکا ہو جو نازل نہ ہوچکا ہو جو برپا نہ ہوچکا ہو، جب باقی کچھ رہا ہی نہیں تو کس پر کچھ کہاجائے یاکچھ لکھا جائے کچھ ویسی حالت ہے کہ

آج کل آپ ساتھ چلتے نہیں

آج کل لوگ مجھ سے جلتے نہیں

 جو کچھ ملنے کا تھا سب مل چکا ہے بلکہ جو نہیں ملنے کا تھا وہ بھی مل چکا ہے ،کچھ عجیب سی صورت حال ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے ،کہاں کچھ ایسا ڈھونڈا جائے جس پر کچھ کہا یا لکھا جائے کہ سب کچھ تو ہوچکا ہے ، ایسا باقی رہا کیا ہے جس سے بچنے کے لیے کس ، یا جسے پانے کی تمنا کریں اس لیے یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر ۔ کیا کہوں اورکہنے کو … اورکہناچاہیں بھی تو وہی کیفیت ہوجاتی ہے کہ ؎

لیتے لیتے تیرا نام سا رہ گیا

میرے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

 اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ ہماری جان بڑی مشکل میں ہے۔ اگر ’’کلی‘‘ کی طرح ہونٹ بند رکھتے ہیں تو بھی مشکل اوراگر ہونٹ کھولتے ہیں تو بھی خطرہ ہی خطرہ ۔ کیوں کہ کلی تو پتے تک کھلی ہے جب تک اس کے ہونٹ بند ہیں، ہونٹ کھلے تو پھول، اورپھر فنا۔ کسی سالک نے کیاخوب کہا ہے کہ ۔

کلی کے حال پر روتی ہے شبنم

گلوں کی چاک دامانی سے پہلے

 یہی وجہ ہے کہ آج کل ہماری جان بڑی مشکل میں ہے اورصرف یہی کہہ پا رہے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا ۔ کہ اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے صادر ہورہا ہے نازل ہورہا ہے برپا ہورہا ہے اس پر کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ہے ،کہنے کو کوئی رخنہ اس میں رہا ہے ، صرف دیکھنے کی چیز ہے اوراسے باربار دیکھ رہے ہیں اور اگر کچھ کہنے کے لیے سوچیں بھی تو اس کے سوا اورکیا ؟ کہ

پریشان ہوں پریشانی سے پہلے

بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے

 اس لیے آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیاکہوں اے وطن اوردیکھنے کو کیا رہ گیا میرے عزیز وطن۔

کبھی کبھی تو اس پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ارد گرد اور پاس پڑوس کے دانا دانشور کیسے یہ اتنے لمبے لمبے طورمار لکھ لیتے ہیں اوران پر اپنی دانائی دانشوری کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، نہ جانے کہاں سے کیا کیا کوڑیاں ڈھونڈ کر لے آتے ہیں اور پھر ان کوڑیوں سے طرح طرح کے فلسفے نکالتے ہیں لیکن وہ تو دانا دانشور ہیں۔ ہم جیسے عامی امی لوگ کیا کریں؟ سوائے اس کے کہ …آپ کو دیکھ کر دیکھتا … کیاکہوں اورکہنے کو کیا،ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں دیکھا نہیں ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں سنا نہیں اورایسا بھی کچھ باقی نہیں رہا ہے جو ملا نہیں جو ہم نے سہا نہیں ہے

 دل من بہ دور روتب زحمن فراغ دارد

 کہ چوں سروپائے بنداست وچوں لالہ داغ دارد

ترجمہ: آپ کے دورمیں ہمیں چمن کی ضرورت نہیں کہ سرو کی طرح پابند ہیں اورلالہ کی طرح دل پر داغ بھی رکھتے ہیں مطلب کہ آپ کو دیکھ کر …

 وزیروں باتدبیروں سے ہمیں کیا بلکہ کیاکیا نہیں ملا، مشیروں باتقریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں سنا۔ معاونین باتحریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں پڑھا۔ اس کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں آپ کو دیکھ کر ۔ آپ کو سن کر اورآپ کو پڑھ کر اورکہنے کو کیا۔

 وہ ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ اچھے نہیں جو اپنے بچوں کے عیبوں کو چھپاتے ہیں، تو اپنے بچوں کے عیب کبھی نہ چھپاؤ لیکن میرے بچوں میں کوئی عیب ہو بھی تو ۔

ہم بھی اپنے اس معاشرے، اس نظام، ان حکومتوں، ان وزیروں، ان مشیروں اور ان معاونوں کے عیب چھپانے کے بالکل قائل نہیں ۔ لیکن ان میں کوئی عیب ہو بھی تو۔

جب کوئی عیب کوئی برائی کوئی کرپشن کوئی بے ایمانی بددیانتی ان میں ہے ہی نہیں، صفات ہی صفات ہیں تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ ؎

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیاکہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

 رہی بات اس کی جو ہمارے ہونٹوں پہ کانپتا رہ جاتا ہے اورکسی کا نام سا رہ جاتا ہے تو ہربات کہنے کی تو نہیں ہوتی، اورپھر ہمیں کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ بات بہت پہلے مرشد کہہ چکے ہیں کہ

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے





Source link

Continue Reading

Today News

فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوشی ہوئی؛ ایرانی وزیر خارجہ

Published

on


پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کے اعلیٰ سطح کے دورے پر تہران پہنچے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ایران اور امریکا جنگ بندی کے لیے اقدامات قابل تحسین ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ہمسائیہ برادر مسلم ملک کے یہ اقدامات پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمارا عزم مضبوط ہے اور یہ عزم مشترکہ ہے۔

قبل ازیں ایرانی وزیر خزانہ عباس عراقچی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ ایئرپورٹ پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرتپاک استقبال کرتے اور ان سے گلے ملتے نظر آئے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوشی ہوئی ہے۔

عباس عراقچی کے بقول میں نے مذاکرات کی بہترین میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے گہرے اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

psl sufyan muqim 3 or more wickets in consecutive 5 matches record

Published

on


پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں پشاور زلمی کے اسپنر صفیان مقیم نے رواں سیزن کے گزشتہ 5 میچوں میں مسلسل 3 یا 3 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بنا دیا۔

پشاور زلمی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل 11 کے 23 ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو صفیان مقیم کی شان دار بولنگ اور کپتان بابراعظم کی بیٹنگ کی بدولت 8 وکٹوں سے شکست دے دی اور رواں سیزن کے سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔

صفیان مقیم کی بہترین بولنگ کے نتیجے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 154 رنز آؤٹ ہوگئی، کوئٹہ کے حسن نواز نے سب سے زیادہ 37 رنز بنائے جبکہ صفیان نے اپنے 4 اوورز کے کوٹے میں 25 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔

پشاور زلمی لیگ کے رواں سیزن میں اب تک ناقابل شکست ہے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میچ میں صفیان مقیم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

صفیان مقیم نے اس سے قبل ملتان سلطانز کے خلاف 30 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں، اسی طرح لاہور قلندرز کی 3 وکٹیں 21 رنز کے عوض حاصل کی تھیں۔

پشاور زلمی کے اسپنر نے کراچی کنگز کے خلاف صرف 18 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کی تھیں، اس سے قبل حیدرآباد کنگزمین کے خلاف بھی شان دار بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا جہاں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی تھی اور کنگزمین کی 4 وکٹیں اڑائی تھیں۔

May be an image of ‎football and ‎text that says '‎الدیوز かHロL PSL HBL PSL 11 SUFY ΦΩΕΥΑΝΟΙ YAN MOOM THREE OR MORE WICKETS IN FIVE CONSECUTIVE MATCHES Taier Vs QUETTA -3/25 vs SULTANS 小吉可円 3/30 30 ZALMI CULA Vs QALANDARS 3/21 Vs KINGS -3/18 Vs KINGSMEN 4/32 PESHAWARI ZALMI KEPALTEAM TAM KEPAL HBL Jazz 5G KFC VGO TEL dma ichangeOn OSAKA PARKVEW TAFAL XINVEREX TRANS walcs‎'‎‎

صفیان مقیم پی ایس ایل کی تاریخ میں مسلسل 5 میچوں میں 3 یا 3 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بولر بن گئے ہیں اور اب پشاور زلمی کا گروپ میچ 19 اپریل کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہی کھیلا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending