Connect with us

Today News

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

Published

on


آج کل ہم بڑی مشکل میں ہیں نہ کچھ سوجھ رہا ہے نہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے کہ کریں توکیا کریں حالانکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہرطرف خوشیوں کے فوارے چھوٹ رہے ہیں ، پھلجڑیاں اڑ رہی ہیں اورہوائیاں چل رہی ہے ۔ یوںکہیے کہ

اک اندازتبسم میں ہے گم ساراچمن

 یہ خبر کس کوکلی کی جان کس مشکل میں ہے

اورجس کلی کی جان مشکل میں ہے وہ کلی ہمارے دل کی کلی ہے کیوں کہ ہمیں کالم کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں مل رہا ہے ، ڈھونڈتے رہتے ہیں لیکن ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ اہل خانہ ہمہ آفتاب ہوچکا ہے ، آخر کچھ لکھیںتو کس پر لکھیں دیکھتے ہیں اوردیکھتے رہ جاتے ہیں اپنے اردگرد جو ہورہا ہے دیکھ کر اگر ہونٹوں پر کچھ آتا ہے تو صرف یہی کہ ؎

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

اردگرد کا ہمارا ماحول ہمارا معاشرہ ہمارا نظام مطلب یہ سارا ملک ایسا ہوچکا ہے، ہورہا ہے، ہوتا جا رہا ہے کہ صرف دیکھا جاسکتا ہے، وہ بھی اگر لوہے کا جگر ہو، مرمر کا دل ہو اورسمندر سمندر سینہ ہو ، لیکن کہا کچھ نہیں جا سکتا ہے، اس لیے کہ

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

 ایسا کچھ باقی رہا ہی نہیں جو صادر نہ ہوچکا ہو جو نازل نہ ہوچکا ہو جو برپا نہ ہوچکا ہو، جب باقی کچھ رہا ہی نہیں تو کس پر کچھ کہاجائے یاکچھ لکھا جائے کچھ ویسی حالت ہے کہ

آج کل آپ ساتھ چلتے نہیں

آج کل لوگ مجھ سے جلتے نہیں

 جو کچھ ملنے کا تھا سب مل چکا ہے بلکہ جو نہیں ملنے کا تھا وہ بھی مل چکا ہے ،کچھ عجیب سی صورت حال ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے ،کہاں کچھ ایسا ڈھونڈا جائے جس پر کچھ کہا یا لکھا جائے کہ سب کچھ تو ہوچکا ہے ، ایسا باقی رہا کیا ہے جس سے بچنے کے لیے کس ، یا جسے پانے کی تمنا کریں اس لیے یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر ۔ کیا کہوں اورکہنے کو … اورکہناچاہیں بھی تو وہی کیفیت ہوجاتی ہے کہ ؎

لیتے لیتے تیرا نام سا رہ گیا

میرے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

 اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ ہماری جان بڑی مشکل میں ہے۔ اگر ’’کلی‘‘ کی طرح ہونٹ بند رکھتے ہیں تو بھی مشکل اوراگر ہونٹ کھولتے ہیں تو بھی خطرہ ہی خطرہ ۔ کیوں کہ کلی تو پتے تک کھلی ہے جب تک اس کے ہونٹ بند ہیں، ہونٹ کھلے تو پھول، اورپھر فنا۔ کسی سالک نے کیاخوب کہا ہے کہ ۔

کلی کے حال پر روتی ہے شبنم

گلوں کی چاک دامانی سے پہلے

 یہی وجہ ہے کہ آج کل ہماری جان بڑی مشکل میں ہے اورصرف یہی کہہ پا رہے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا ۔ کہ اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے صادر ہورہا ہے نازل ہورہا ہے برپا ہورہا ہے اس پر کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ہے ،کہنے کو کوئی رخنہ اس میں رہا ہے ، صرف دیکھنے کی چیز ہے اوراسے باربار دیکھ رہے ہیں اور اگر کچھ کہنے کے لیے سوچیں بھی تو اس کے سوا اورکیا ؟ کہ

پریشان ہوں پریشانی سے پہلے

بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے

 اس لیے آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیاکہوں اے وطن اوردیکھنے کو کیا رہ گیا میرے عزیز وطن۔

کبھی کبھی تو اس پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ارد گرد اور پاس پڑوس کے دانا دانشور کیسے یہ اتنے لمبے لمبے طورمار لکھ لیتے ہیں اوران پر اپنی دانائی دانشوری کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، نہ جانے کہاں سے کیا کیا کوڑیاں ڈھونڈ کر لے آتے ہیں اور پھر ان کوڑیوں سے طرح طرح کے فلسفے نکالتے ہیں لیکن وہ تو دانا دانشور ہیں۔ ہم جیسے عامی امی لوگ کیا کریں؟ سوائے اس کے کہ …آپ کو دیکھ کر دیکھتا … کیاکہوں اورکہنے کو کیا،ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں دیکھا نہیں ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں سنا نہیں اورایسا بھی کچھ باقی نہیں رہا ہے جو ملا نہیں جو ہم نے سہا نہیں ہے

 دل من بہ دور روتب زحمن فراغ دارد

 کہ چوں سروپائے بنداست وچوں لالہ داغ دارد

ترجمہ: آپ کے دورمیں ہمیں چمن کی ضرورت نہیں کہ سرو کی طرح پابند ہیں اورلالہ کی طرح دل پر داغ بھی رکھتے ہیں مطلب کہ آپ کو دیکھ کر …

 وزیروں باتدبیروں سے ہمیں کیا بلکہ کیاکیا نہیں ملا، مشیروں باتقریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں سنا۔ معاونین باتحریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں پڑھا۔ اس کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں آپ کو دیکھ کر ۔ آپ کو سن کر اورآپ کو پڑھ کر اورکہنے کو کیا۔

 وہ ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ اچھے نہیں جو اپنے بچوں کے عیبوں کو چھپاتے ہیں، تو اپنے بچوں کے عیب کبھی نہ چھپاؤ لیکن میرے بچوں میں کوئی عیب ہو بھی تو ۔

ہم بھی اپنے اس معاشرے، اس نظام، ان حکومتوں، ان وزیروں، ان مشیروں اور ان معاونوں کے عیب چھپانے کے بالکل قائل نہیں ۔ لیکن ان میں کوئی عیب ہو بھی تو۔

جب کوئی عیب کوئی برائی کوئی کرپشن کوئی بے ایمانی بددیانتی ان میں ہے ہی نہیں، صفات ہی صفات ہیں تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ ؎

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

کیاکہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا

 رہی بات اس کی جو ہمارے ہونٹوں پہ کانپتا رہ جاتا ہے اورکسی کا نام سا رہ جاتا ہے تو ہربات کہنے کی تو نہیں ہوتی، اورپھر ہمیں کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ بات بہت پہلے مرشد کہہ چکے ہیں کہ

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مدینہ منورہ میں باران رحمت، مسجد نبویؐ اور گنبدِ خضریٰ کے دلکش مناظر نے روح کو معطر کر دیا

Published

on


سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے فضا خوشگوار ہو گئی اور ملحقہ علاقوں میں بھی بادل خوب جم کر برسے۔

بارانِ رحمت کے دوران مسجد نبوی میں بھی بارش نے سماں باندھ دیا جبکہ گنبد خضریٰ پر برسنے والی بارش کے روح پرور مناظر نے زائرین کے دل موہ لیے۔

زائرین کی بڑی تعداد نے اس بابرکت موقع پر بارش میں بھیگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں مانگیں اور اس نعمت پر شکر ادا کیا۔

بارش کے باعث مسجد نبویؐ کے صحن میں ایک روحانی کیفیت طاری رہی جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو منور کر دیا۔

یہ خوبصورت مناظر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جہاں لوگ اسے بارانِ رحمت قرار دیتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

توانائی بحران کا حل۔۔۔۔ شمسی توانائی

Published

on


پاکستان کو درپیش حالیہ توانائی بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا حد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت شمسی توانائی (Solar)، ہوا (Wind Energy) اور ہائیڈرو پاور جیسے سستے اور مقامی ذرائع کو ترجیح دے رہی ہے۔

پاکستان میں توانائی کا بحران کسی اچانک آنے والے طوفان کی طرح نہیں ہے بلکہ آہستہ آہستہ پھیلنے والی دیمک ہے جو معیشت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، کارخانے بند ہوئے چلے جا رہے ہیں، مزدور بے روزگار ہوتے چلے جا رہے ہیں اور گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو ایک ایسا انمول، لامحدود خزانہ دیا ہے وہ سورج ہے جوکہ بلامعاوضہ اپنے خزانے لٹائے چلا جا رہا ہے لیکن ہم نے اسے نظرانداز کر رکھا ہے، لیکن اب آہستہ آہستہ حالات بدل رہے ہیں، گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز اگ رہے ہیں۔

لوگ اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، اب ’’اپنی چھت اپنی روشنی‘‘ کا ایک نیا محاورہ سر پر ہی نہیں بول رہا بلکہ یہاں بھی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ چھت پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ آج کی دنیا میں جنگ تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ 4 برسوں میں ملک میں شمسی توانائی کا حصہ 5 فی صد سے بڑھ کر 25 فی صد سے زائد ہو چکا ہے جو بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے گھریلو سطح پر سولر سسٹمز کے فروغ اور صنعتی شعبے میں متبادل توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے سولر انرجی اب ترجیح یا انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ مجبوری بن چکا ہے کہ وہ سولر ٹیکنالوجی کو اپنائے۔

اگر تیل پر ہی انحصار برقرار رکھا گیا تو اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً ایک تہائی حصہ پٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے جو بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر سب سے بڑا دباؤ ہے۔حکومت نے اس بحران سے نکلنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دینے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس سلسلے میں گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر پینلز کی تنصیب کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے ذریعے صارفین کو اضافی بجلی بیچنے کی سہولت اور سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کے منصوبے، سندھ کے ساحلی علاقوں خصوصاً گھارو، کیٹی بندر کوریڈور میں ونڈ پاور کے منصوبے، بڑے ڈیمز اور چھوٹے ہائیڈرو منصوبے پر توجہ ہے۔ اس سلسلے میں حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے ٹیکس میں رعایت اور دیگر مراعات زیر غور ہیں، لیکن اب بھی کئی رکاوٹوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران محض بجلی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کی کمزوری اور ترجیحات کی شکست کا آئینہ ہے۔

 دنیا کے کئی ملکوں نے تیل کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے سورج، ہوا اور پانی کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے۔ پاکستان میں کئی عشرے قبل سے ہی ایسے محسنوں نے ان دنوں کا ادراک کر لیا تھا جب وہ چین سے سولر ٹیکنالوجی لے کر آئے اور قوم کو سورج سے نظریں ملانے کا ہنر سکھانے لگے کیونکہ آج دنیا مان گئی ہے کہ جو قومیں سورج سے نظریں ملاتی ہیں تو تیل کی زنجیریں خودبخود ٹوٹ جاتی ہیں۔

یہ 1969 کی ایک رات تھی جب Apollo II Moon Landing کے ذریعے Neil Armstrong نے چاند کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ وہ چھلانگ صرف چاند تک نہیں بلکہ خوابوں، ہمت، سائنس کی فتح کا اعلان تھا۔ اپالو صرف ایک خلائی مشن نہیں تھا بلکہ ایک سوچ تھی، ناممکن کو ممکن بنانے کی۔ آج وہ لمحہ آ چکا ہے جب ’’اپالو‘‘ کا استعارہ دوبارہ زندہ ہو چکا ہے۔

آج ضرورت ہے ایک نئے ’’اپالو‘‘ کی۔ ’’اپالو سولر‘‘ کی۔ یہ اپالو چاند پر نہیں اترے گا بلکہ چاند جیسے گھر کے آنگن کی چھت پر اترے گا۔ ہر چھت ایک ’’لانچ پیڈ‘‘ ہوگی۔ ہر اپالو سوپر اسٹیشن، کیونکہ قدرت نے پاکستان کو سال میں 300 سے بھی زائد دھوپ والے دن دیے ہیں۔ یہ وہ خزانہ ہے جو نہ ختم نہ پرانا ہوتا ہے۔ نہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی مہنگا ہوتا ہے۔ سب کچھ فری ہی فری ہے۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی سورج کی روشنی کو اپنی معیشت کی بنیاد بنا رہے ہیں اور انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ روشنی خریدی نہیں جاتی حاصل کی جاتی ہے۔

اگر حکومت اور سولر پینلز کے پرانے تجربہ کار مخلص تاجر مل کر کام کریں تو ہر گھر پر سولر پینلز کو نصب کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کی قیمت آدھی سے بھی کم ہو کر رہ جائے گی اور معیشت کو ایک نئی زندگی مل سکتی ہے جیسے ’’اپالو‘‘ نے انسان کو چاند تک پہنچایا ویسے ہی وقت آ گیا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لیا جائے بلکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب اپالو سولر انقلاب کے ذریعے سورج کی روشنی کو چھت پر اتارنے کا وقت آ چکا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نوجوانوں کے درد کا مداوا

Published

on


کراچی کے ساڑھے تین لاکھ میٹرک کے طلبہ کا مستقبل مخدوش ہوگیا۔ کراچی میٹرک بورڈ کی بدانتظامی کی بناء پر امتحانات وقت پر شروع نہ ہوسکے۔

بورڈ کے حکام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کو ایڈمٹ کارڈ دینے کی حکمت عملی اختیار کی مگر بورڈ کے عملے کی نااہلی کی بناء پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پورا سسٹم بیٹھ گیا۔ اسکولوں کی انتظامیہ کے افسران، طلبہ اور والدین بورڈ آفس کے دھکے کھاتے رہے۔ جس اسکول نے بورڈ کے افسران سے پہلے سے معاملات طے کرلیے تھے انھیں ایڈمٹ کارڈ مل گئے جب کہ دیگر طلبہ اور ان کے والدین رلتے رہے۔ جب امتحانات شروع ہوئے تو کچھ طلبہ کو آخری وقت میں امتحانی مراکز کی اطلاع ملی۔ کچھ طلبہ خاصی دیر تک اپنا امتحانی مرکز تلاش کرتے رہے اور کچھ امتحانی مراکز ایسے تھے جہاں پنکھے بھی نہیں تھے اور پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی۔ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں اس طرح کی صورتحال معمول کی بات ہے۔ گزشتہ دنوں میرپور خاص کے ایک افسر کو کئی برسوں تک امتحانی نتائج میں ردوبدل کرنے اور سفارش سے بعض نااہل طلبہ کو اعلیٰ گریڈ عطاء کرنے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ میرپور خاص کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس بورڈ میں ایک بااثر مافیا سرگرم ہے۔ حالات قابو سے باہر ہوگئے تو مداخلت شروع ہوئی اور ایک افسر پکڑا گیا۔

اخبارات میں شائع ہونے والے مواد کے تجزیے سے بظاہر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مجاز اتھارٹی کراچی بورڈ نے ایک ایسے موقع پر کنٹرولر امتحانات کو ان کے عہدے سے ہٹاکر کسی دوسرے بورڈ کے ایک جونیئر افسر کو اس عہدے پر تعینات کیا، یوں امتحانات کی تاریخ قریب آنے تک معاملات قابو میں نہ آئے، امتحانات کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کیا گیا۔ طلبہ اور ان کے والدین کس اذیت سے گزرے یہ بات اہم نہیں ہے۔

کراچی کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے بورڈ میں گزشتہ 18 برس سے بدعنوانیاں عام سے بات بن کر رہ گئی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے طالب علموں کی یہ شکایات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہی ہیں کہ طالب علم نے تمام پرچے دیئے مگر کئی پرچوں میں انھیں غیر حاضر قرار دیا گیا۔ یہ ذہین طالب علموں کو کچھ پرچوں میں فیل ظاہر کیا گیا یا انتہائی کم نمبر مارک شیٹ میں ظاہر کیے گئے۔ چند سال قبل سائنس کے طلبہ کی اکثریت نے امتحانی نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ یہ معاملہ سندھ اسمبلی تک پہنچا اور پھر یہ معاملہ سیاسی اور لسانی تضادات میں تبدیل ہوگیا تھا، حکومت کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا پڑا۔ متاثرہ طلبہ کی کاپیاں دوبارہ چیک ہوئیں اور اکثر طلبہ کے خدشات کی اس بناء پر تصدیق ہوگئی تھی کہ امتحانی کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ میں ا ن کے نمبر بڑھ گئے تھے، مگر حکومت کی جانب سے اس بے قاعدگی یا شعوری غلطی یا انسانی غلطی Human Error کے ذمے دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں ہے۔

امتحانات میں بدعنوانیوں کا معاملہ صرف بورڈ کے دفاتر تک محدود نہیں ہے بلکہ پیپر کے وقت سے پہلے آؤٹ ہونے، اسکولوں اور کالجوں میں امتحانی سینٹر بنانے اور امتحانی سینٹروں میں نقل کے مسائل بھی خاص گھمبیر ہیں۔ یہ بات عام ہے کہ کراچی کے دونوں بورڈز میں مختلف مافیاز متحرک رہی ہیں۔ کراچی میٹرک بورڈ پر ایک لسانی تنظیم اور انٹرمیڈیٹ بورڈ پر دیگر دوسری لسانی تنظیم کے طلبہ تنظیموں کے سائے خاصے گہرے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے متعلق طلبہ تنظیم والے بھی اپنا حصہ لینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق ہر مضمون کے امتحانی پرچے تین کے قریب سبجیکٹ اسپیشلسٹ سے پہلے تیار کرواکر رکھ لیے جاتے ہیں۔

اسکولوں اور کالجوں کے بعض سینئر اساتذہ کے مشہور کوچنگ سینٹر ہیں اور بہت سے اساتذہ کوچنگ سینٹروں میں کام کرتے ہیں، یوں مخصوص کوچنگ سینٹروں میں طلبہ کو ان امتحانی پرچوں کا ورد کرایا جاتا ہے۔ سینئر اساتذہ کو امتحان کے دن سے ایک دن قبل رات کو بورڈ آفس بلایا جاتا ہے اور وہ رات کو امتحانی سوالات کو حتمی شکل دیتے ہیں، صبح پرچہ متعلقہ سینٹروں کو بھجوا دیا جاتا ہے، یوں کسی بھی مرحلے پر پرچہ مافیا کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ جو اہلکار اپنے مرکز کے کنٹرول روم سے کلاس روم تک پرچہ تقسیم کرنے کے لیے لے جاتے ہیں وہ بھی راستے میں پرچہ کی تصویر واٹس ایپ یا دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعہ افشا کرسکتے ہیں۔

اب پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی بناء پر یہ بات آسان ہوگئی ہے کہ تعلیمی اداروں کے مالکان مختلف ناموں سے اسکول قائم کرتے ہیںاور اپنے ایک اسکول کے طلبہ کا امتحانی مرکز اپنے دوسرے اسکول میں بنوالیتے ہیں، یوں اپنے طالب علموں کو ٹینشن فری (Tension Free) ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک اسکول کے مالک جو دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعت کے رہنما بھی ہیں بتاتے ہیں کہ انھیں بورڈ کے عملے کی جانب سے یہ پیشکش کی جاتی رہتی ہے کہ ان کے اسکول میں معزز طلبہ کا سینٹر بنایا جائے گا اور اس ’’خدمت‘‘ کے عوض انھیں معقول رقم فراہم کی جائے گی۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے نوجوان اپنے ہمدردوں کے لیے امتحانات کے وقت خصوصی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ امتحانی مراکز میں نگرانی کرنے والے ایک نوجوان انویجی لیٹر نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی مرکز میں صبح انتہائی سختی کی جاتی ہے اور بورڈ کی ٹیمیں امتحانی مرکز کا دورہ کرکے چلی جاتی ہیں تو بعض کلاس رومز میں حالات انتہائی ’’سازگار‘‘ ہوجاتے ہیں۔ عمومی طور پر خصوصی امتحانی مراکز کے کئی کلاس رومز پہلے ہی نیلام ہوجاتے ہیں۔ پریشر گروپ اپنے اپنے علاقوں میں امتحانی مراکز میں منظم انداز میں طلبہ کو نقل کروانے کا ’’فریضہ ‘‘سرانجام دیتے ہیں۔ اب تو نقل کروانے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال ہوتا ہے۔ عموماً متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر امتحانی مراکز کے گرد دفعہ 144 نافذ کرتے ہیں مگر ان مراکز کے عملے کے تحفظ کے لیے پولیس فورس دستیاب نہیں ہوتی۔ ڈپٹی کمشنر کے حکم سے امتحانی مراکز کے نزدیک فوٹو اسٹیٹ کی دکانیں بند کردی جاتی ہیں مگر نقل مافیا کے کارندے اس کا کوئی حل تلاش کرلیتے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں ڈپٹی کمشنر کو نقل کی روک تھام کے لیے ہر امتحانی سینٹر کے دورہ کے احکامات جاری ہوئے تھے مگر ڈپٹی کمشنر خود امتحانی مراکز جانے کے بجائے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو یہ فریضہ سونپ دیتے ہیں۔ جب میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے نقل مافیا کے خاتمے میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔ اعلیٰ حکام کی نگرانی کی بناء پر پولیس افسروں نے نقل مافیا کے خلاف بھرپور آپریشن کیا تھا جس سے پنجاب میں نقل کے رجحان میں بہت حد تک کمی آئی تھی۔ میاں شہباز شریف خود بھی امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کرتے تھے مگر سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ نے کبھی اس موضوع پر اتنی دلچسپی نہیں لی۔ صرف فرق یہ پڑا کہ تعلیم کے وزراء اپنے افسروں کے ساتھ کسی امتحانی مرکز پر فوٹوسیشن ضرور کرا لیتے ہیں۔

 اب جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں نقل کا مکمل خاتمہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ حکومت اسمارٹ امتحانی مراکز قائم کرکے یہ مسئلہ حل کرسکتی ہے۔ ہر طالب علم جب امتحانی کلاس میں پہنچے تو اس کی نشست کے سامنے ایک لیپ ٹاپ موجود ہو اور ہر طالب علم کو دوسرے طالب علم سے مختلف امتحانی پرچہ ملے اور پھر امتحان ختم ہونے کے فوراً بعد نتائج کا اعلان ہوجائے تو نقل کا امکان ہی ختم ہوجائے گا۔ کراچی میں دو پرائیوٹ بورڈ موجود ہیں۔ بہت سے پرائیوٹ اسکولوں نے اپنے طلبہ کو میرٹ کے مطابق سند دلوانے کے لیے ان بورڈ سے الحاق کرلیا ہے مگر سرکاری اسکول سرکاری بورڈ سے ہی منسلک ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تعلیمی بورڈ میں ہونے والی بدعنوانیاں حکومت کے لیے اہمیت کی حامل اس لیے نہیں ہیں کہ وزراء اور اعلیٰ افسروں کے بچے کیمبرج سسٹم سے منسلک تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر کراچی کے مخصوص حالات میں امتحانی بورڈ کے مسلسل بحرانات سے لسانی تضاد گہرے ہورہے ہیں اور کراچی کے نوجوان مایوس ہورہے ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ طالع آزما قوتیں اٹھا رہی ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت کراچی کے نوجوانوں کے درد کا مداوا کرسکتی ہے؟





Source link

Continue Reading

Trending