Today News
کراچی پولیس چیف کا بڑا اقدام: 6 ایس ایچ اوز سمیت 22 افسران کو معطل کرنے کا حکمنامہ جاری
کراچی پولیس چیف آزاد خان کا بڑا اقدام 6 ایس ایچ اوز اور 3 ہیڈ محرر سمیت 22 پولیس افسران و اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا۔
کراچی پولیس چیف نے عہدے سے ہٹائے جانے والے پولیس افسران و اہلکاروں کو ان کے متعلقہ پولیس ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ معطل پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کا عمل جاری ہے۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے شہر کے 6 تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کر دیا جس میں ایس ایچ او نیو کراچی انسپکٹر قمر جاوید کیانی ، ایس ایچ او موچکو انسپکٹر ملک فیصل لطیف ، ایس ایچ او مدینہ کالونی انسپکٹر خالد رفیق ، ایس ایچ او بلدیہ انسپکٹر سید فراست حسین شاہ ، ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن انسپکٹر نفیس الرحمٰن اور ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا انسپکٹر رضوان قریشی شامل ہیں جبکہ 3 ہیڈ محرر جس میں ہیڈ محرر بلدیہ ٹاؤن اے ایس آئی فردوس ملک ، ہیڈ محرر موچکو اے ایس آئی عبدالماجد اور ہیڈ محرر نیو کراچی ہیڈ کانسٹیبل حسن عزیز شامل ہیں۔
کراچی پولیس چیف نے ایس ایس پی ریزور ڈسٹرکٹ کیماڑی انسپکٹر احسان احمد چنہ ، انچارج ڈی آئی بی برانچ ڈسٹرکٹ کیماڑی اے ایس آئی عابد حسین ، ہیڈ کانسٹیبلز ہارون رشید اور محمد افنان تھانہ بلدیہ ٹاؤن ، کانسٹیبلز حارث اقبال اور اعجاز احمد تھانہ بلدیہ ٹاؤن ، محمد سفیان رشید ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس ، محمد دانش اسلم پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن ، ارسلان تھانہ مدینہ کالونی ، ہارون بختیار ، دانیال خان اور محمد عثمان تھانہ اتحاد ٹاؤن ، اسامہ ملک سیکیورٹی ون شامل ہیں ۔
Source link
Today News
کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
آج کل ہم بڑی مشکل میں ہیں نہ کچھ سوجھ رہا ہے نہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے کہ کریں توکیا کریں حالانکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہرطرف خوشیوں کے فوارے چھوٹ رہے ہیں ، پھلجڑیاں اڑ رہی ہیں اورہوائیاں چل رہی ہے ۔ یوںکہیے کہ
اک اندازتبسم میں ہے گم ساراچمن
یہ خبر کس کوکلی کی جان کس مشکل میں ہے
اورجس کلی کی جان مشکل میں ہے وہ کلی ہمارے دل کی کلی ہے کیوں کہ ہمیں کالم کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں مل رہا ہے ، ڈھونڈتے رہتے ہیں لیکن ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ اہل خانہ ہمہ آفتاب ہوچکا ہے ، آخر کچھ لکھیںتو کس پر لکھیں دیکھتے ہیں اوردیکھتے رہ جاتے ہیں اپنے اردگرد جو ہورہا ہے دیکھ کر اگر ہونٹوں پر کچھ آتا ہے تو صرف یہی کہ ؎
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
اردگرد کا ہمارا ماحول ہمارا معاشرہ ہمارا نظام مطلب یہ سارا ملک ایسا ہوچکا ہے، ہورہا ہے، ہوتا جا رہا ہے کہ صرف دیکھا جاسکتا ہے، وہ بھی اگر لوہے کا جگر ہو، مرمر کا دل ہو اورسمندر سمندر سینہ ہو ، لیکن کہا کچھ نہیں جا سکتا ہے، اس لیے کہ
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
ایسا کچھ باقی رہا ہی نہیں جو صادر نہ ہوچکا ہو جو نازل نہ ہوچکا ہو جو برپا نہ ہوچکا ہو، جب باقی کچھ رہا ہی نہیں تو کس پر کچھ کہاجائے یاکچھ لکھا جائے کچھ ویسی حالت ہے کہ
آج کل آپ ساتھ چلتے نہیں
آج کل لوگ مجھ سے جلتے نہیں
جو کچھ ملنے کا تھا سب مل چکا ہے بلکہ جو نہیں ملنے کا تھا وہ بھی مل چکا ہے ،کچھ عجیب سی صورت حال ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے ،کہاں کچھ ایسا ڈھونڈا جائے جس پر کچھ کہا یا لکھا جائے کہ سب کچھ تو ہوچکا ہے ، ایسا باقی رہا کیا ہے جس سے بچنے کے لیے کس ، یا جسے پانے کی تمنا کریں اس لیے یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر ۔ کیا کہوں اورکہنے کو … اورکہناچاہیں بھی تو وہی کیفیت ہوجاتی ہے کہ ؎
لیتے لیتے تیرا نام سا رہ گیا
میرے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ ہماری جان بڑی مشکل میں ہے۔ اگر ’’کلی‘‘ کی طرح ہونٹ بند رکھتے ہیں تو بھی مشکل اوراگر ہونٹ کھولتے ہیں تو بھی خطرہ ہی خطرہ ۔ کیوں کہ کلی تو پتے تک کھلی ہے جب تک اس کے ہونٹ بند ہیں، ہونٹ کھلے تو پھول، اورپھر فنا۔ کسی سالک نے کیاخوب کہا ہے کہ ۔
کلی کے حال پر روتی ہے شبنم
گلوں کی چاک دامانی سے پہلے
یہی وجہ ہے کہ آج کل ہماری جان بڑی مشکل میں ہے اورصرف یہی کہہ پا رہے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا ۔ کہ اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے صادر ہورہا ہے نازل ہورہا ہے برپا ہورہا ہے اس پر کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ہے ،کہنے کو کوئی رخنہ اس میں رہا ہے ، صرف دیکھنے کی چیز ہے اوراسے باربار دیکھ رہے ہیں اور اگر کچھ کہنے کے لیے سوچیں بھی تو اس کے سوا اورکیا ؟ کہ
پریشان ہوں پریشانی سے پہلے
بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے
اس لیے آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیاکہوں اے وطن اوردیکھنے کو کیا رہ گیا میرے عزیز وطن۔
کبھی کبھی تو اس پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ارد گرد اور پاس پڑوس کے دانا دانشور کیسے یہ اتنے لمبے لمبے طورمار لکھ لیتے ہیں اوران پر اپنی دانائی دانشوری کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، نہ جانے کہاں سے کیا کیا کوڑیاں ڈھونڈ کر لے آتے ہیں اور پھر ان کوڑیوں سے طرح طرح کے فلسفے نکالتے ہیں لیکن وہ تو دانا دانشور ہیں۔ ہم جیسے عامی امی لوگ کیا کریں؟ سوائے اس کے کہ …آپ کو دیکھ کر دیکھتا … کیاکہوں اورکہنے کو کیا،ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں دیکھا نہیں ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں سنا نہیں اورایسا بھی کچھ باقی نہیں رہا ہے جو ملا نہیں جو ہم نے سہا نہیں ہے
دل من بہ دور روتب زحمن فراغ دارد
کہ چوں سروپائے بنداست وچوں لالہ داغ دارد
ترجمہ: آپ کے دورمیں ہمیں چمن کی ضرورت نہیں کہ سرو کی طرح پابند ہیں اورلالہ کی طرح دل پر داغ بھی رکھتے ہیں مطلب کہ آپ کو دیکھ کر …
وزیروں باتدبیروں سے ہمیں کیا بلکہ کیاکیا نہیں ملا، مشیروں باتقریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں سنا۔ معاونین باتحریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں پڑھا۔ اس کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں آپ کو دیکھ کر ۔ آپ کو سن کر اورآپ کو پڑھ کر اورکہنے کو کیا۔
وہ ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ اچھے نہیں جو اپنے بچوں کے عیبوں کو چھپاتے ہیں، تو اپنے بچوں کے عیب کبھی نہ چھپاؤ لیکن میرے بچوں میں کوئی عیب ہو بھی تو ۔
ہم بھی اپنے اس معاشرے، اس نظام، ان حکومتوں، ان وزیروں، ان مشیروں اور ان معاونوں کے عیب چھپانے کے بالکل قائل نہیں ۔ لیکن ان میں کوئی عیب ہو بھی تو۔
جب کوئی عیب کوئی برائی کوئی کرپشن کوئی بے ایمانی بددیانتی ان میں ہے ہی نہیں، صفات ہی صفات ہیں تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ ؎
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیاکہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
رہی بات اس کی جو ہمارے ہونٹوں پہ کانپتا رہ جاتا ہے اورکسی کا نام سا رہ جاتا ہے تو ہربات کہنے کی تو نہیں ہوتی، اورپھر ہمیں کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ بات بہت پہلے مرشد کہہ چکے ہیں کہ
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
Today News
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوشی ہوئی؛ ایرانی وزیر خارجہ
پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کے اعلیٰ سطح کے دورے پر تہران پہنچے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ایران اور امریکا جنگ بندی کے لیے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہمسائیہ برادر مسلم ملک کے یہ اقدامات پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
Delighted to welcome Field Marshal Munir to Iran.
Expressed gratitude for Pakistan’s gracious hosting of dialogue, emphasizing that it reflects our deep and great bilateral relationship. Our commitment to promoting peace and stability in the region remains strong—and shared. pic.twitter.com/e74lm6hL8r
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 15, 2026
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمارا عزم مضبوط ہے اور یہ عزم مشترکہ ہے۔
قبل ازیں ایرانی وزیر خزانہ عباس عراقچی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ ایئرپورٹ پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرتپاک استقبال کرتے اور ان سے گلے ملتے نظر آئے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوشی ہوئی ہے۔
عباس عراقچی کے بقول میں نے مذاکرات کی بہترین میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے گہرے اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
Today News
psl sufyan muqim 3 or more wickets in consecutive 5 matches record
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں پشاور زلمی کے اسپنر صفیان مقیم نے رواں سیزن کے گزشتہ 5 میچوں میں مسلسل 3 یا 3 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بنا دیا۔
پشاور زلمی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل 11 کے 23 ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو صفیان مقیم کی شان دار بولنگ اور کپتان بابراعظم کی بیٹنگ کی بدولت 8 وکٹوں سے شکست دے دی اور رواں سیزن کے سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔
صفیان مقیم کی بہترین بولنگ کے نتیجے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 154 رنز آؤٹ ہوگئی، کوئٹہ کے حسن نواز نے سب سے زیادہ 37 رنز بنائے جبکہ صفیان نے اپنے 4 اوورز کے کوٹے میں 25 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
پشاور زلمی لیگ کے رواں سیزن میں اب تک ناقابل شکست ہے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میچ میں صفیان مقیم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
صفیان مقیم نے اس سے قبل ملتان سلطانز کے خلاف 30 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں، اسی طرح لاہور قلندرز کی 3 وکٹیں 21 رنز کے عوض حاصل کی تھیں۔
پشاور زلمی کے اسپنر نے کراچی کنگز کے خلاف صرف 18 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کی تھیں، اس سے قبل حیدرآباد کنگزمین کے خلاف بھی شان دار بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا جہاں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی تھی اور کنگزمین کی 4 وکٹیں اڑائی تھیں۔
صفیان مقیم پی ایس ایل کی تاریخ میں مسلسل 5 میچوں میں 3 یا 3 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بولر بن گئے ہیں اور اب پشاور زلمی کا گروپ میچ 19 اپریل کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہی کھیلا جائے گا۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s Asian Cup qualifying campaign ends with defeat – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
اہم کھلاڑی معاہدے سے محروم
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف کی ایک اور شرط، شوگر سیکٹر کو بھی ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
-
Sports2 weeks ago
Italy’s football chief resigns after World Cup disaster – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Sports2 weeks ago
‘The World Cup curse’: Italy sheds tears after missing out again – Sport