Today News
کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
آج کل ہم بڑی مشکل میں ہیں نہ کچھ سوجھ رہا ہے نہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے کہ کریں توکیا کریں حالانکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہرطرف خوشیوں کے فوارے چھوٹ رہے ہیں ، پھلجڑیاں اڑ رہی ہیں اورہوائیاں چل رہی ہے ۔ یوںکہیے کہ
اک اندازتبسم میں ہے گم ساراچمن
یہ خبر کس کوکلی کی جان کس مشکل میں ہے
اورجس کلی کی جان مشکل میں ہے وہ کلی ہمارے دل کی کلی ہے کیوں کہ ہمیں کالم کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں مل رہا ہے ، ڈھونڈتے رہتے ہیں لیکن ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ اہل خانہ ہمہ آفتاب ہوچکا ہے ، آخر کچھ لکھیںتو کس پر لکھیں دیکھتے ہیں اوردیکھتے رہ جاتے ہیں اپنے اردگرد جو ہورہا ہے دیکھ کر اگر ہونٹوں پر کچھ آتا ہے تو صرف یہی کہ ؎
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
اردگرد کا ہمارا ماحول ہمارا معاشرہ ہمارا نظام مطلب یہ سارا ملک ایسا ہوچکا ہے، ہورہا ہے، ہوتا جا رہا ہے کہ صرف دیکھا جاسکتا ہے، وہ بھی اگر لوہے کا جگر ہو، مرمر کا دل ہو اورسمندر سمندر سینہ ہو ، لیکن کہا کچھ نہیں جا سکتا ہے، اس لیے کہ
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
ایسا کچھ باقی رہا ہی نہیں جو صادر نہ ہوچکا ہو جو نازل نہ ہوچکا ہو جو برپا نہ ہوچکا ہو، جب باقی کچھ رہا ہی نہیں تو کس پر کچھ کہاجائے یاکچھ لکھا جائے کچھ ویسی حالت ہے کہ
آج کل آپ ساتھ چلتے نہیں
آج کل لوگ مجھ سے جلتے نہیں
جو کچھ ملنے کا تھا سب مل چکا ہے بلکہ جو نہیں ملنے کا تھا وہ بھی مل چکا ہے ،کچھ عجیب سی صورت حال ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے ،کہاں کچھ ایسا ڈھونڈا جائے جس پر کچھ کہا یا لکھا جائے کہ سب کچھ تو ہوچکا ہے ، ایسا باقی رہا کیا ہے جس سے بچنے کے لیے کس ، یا جسے پانے کی تمنا کریں اس لیے یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر ۔ کیا کہوں اورکہنے کو … اورکہناچاہیں بھی تو وہی کیفیت ہوجاتی ہے کہ ؎
لیتے لیتے تیرا نام سا رہ گیا
میرے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ ہماری جان بڑی مشکل میں ہے۔ اگر ’’کلی‘‘ کی طرح ہونٹ بند رکھتے ہیں تو بھی مشکل اوراگر ہونٹ کھولتے ہیں تو بھی خطرہ ہی خطرہ ۔ کیوں کہ کلی تو پتے تک کھلی ہے جب تک اس کے ہونٹ بند ہیں، ہونٹ کھلے تو پھول، اورپھر فنا۔ کسی سالک نے کیاخوب کہا ہے کہ ۔
کلی کے حال پر روتی ہے شبنم
گلوں کی چاک دامانی سے پہلے
یہی وجہ ہے کہ آج کل ہماری جان بڑی مشکل میں ہے اورصرف یہی کہہ پا رہے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا ۔ کہ اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے صادر ہورہا ہے نازل ہورہا ہے برپا ہورہا ہے اس پر کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا ہے ،کہنے کو کوئی رخنہ اس میں رہا ہے ، صرف دیکھنے کی چیز ہے اوراسے باربار دیکھ رہے ہیں اور اگر کچھ کہنے کے لیے سوچیں بھی تو اس کے سوا اورکیا ؟ کہ
پریشان ہوں پریشانی سے پہلے
بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے
اس لیے آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ کیاکہوں اے وطن اوردیکھنے کو کیا رہ گیا میرے عزیز وطن۔
کبھی کبھی تو اس پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ارد گرد اور پاس پڑوس کے دانا دانشور کیسے یہ اتنے لمبے لمبے طورمار لکھ لیتے ہیں اوران پر اپنی دانائی دانشوری کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، نہ جانے کہاں سے کیا کیا کوڑیاں ڈھونڈ کر لے آتے ہیں اور پھر ان کوڑیوں سے طرح طرح کے فلسفے نکالتے ہیں لیکن وہ تو دانا دانشور ہیں۔ ہم جیسے عامی امی لوگ کیا کریں؟ سوائے اس کے کہ …آپ کو دیکھ کر دیکھتا … کیاکہوں اورکہنے کو کیا،ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں دیکھا نہیں ایسا کیا ہے جو ہم نے اس ملک میں سنا نہیں اورایسا بھی کچھ باقی نہیں رہا ہے جو ملا نہیں جو ہم نے سہا نہیں ہے
دل من بہ دور روتب زحمن فراغ دارد
کہ چوں سروپائے بنداست وچوں لالہ داغ دارد
ترجمہ: آپ کے دورمیں ہمیں چمن کی ضرورت نہیں کہ سرو کی طرح پابند ہیں اورلالہ کی طرح دل پر داغ بھی رکھتے ہیں مطلب کہ آپ کو دیکھ کر …
وزیروں باتدبیروں سے ہمیں کیا بلکہ کیاکیا نہیں ملا، مشیروں باتقریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں سنا۔ معاونین باتحریروں سے ہم نے کیا کیا نہیں پڑھا۔ اس کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں آپ کو دیکھ کر ۔ آپ کو سن کر اورآپ کو پڑھ کر اورکہنے کو کیا۔
وہ ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ اچھے نہیں جو اپنے بچوں کے عیبوں کو چھپاتے ہیں، تو اپنے بچوں کے عیب کبھی نہ چھپاؤ لیکن میرے بچوں میں کوئی عیب ہو بھی تو ۔
ہم بھی اپنے اس معاشرے، اس نظام، ان حکومتوں، ان وزیروں، ان مشیروں اور ان معاونوں کے عیب چھپانے کے بالکل قائل نہیں ۔ لیکن ان میں کوئی عیب ہو بھی تو۔
جب کوئی عیب کوئی برائی کوئی کرپشن کوئی بے ایمانی بددیانتی ان میں ہے ہی نہیں، صفات ہی صفات ہیں تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ ؎
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیاکہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا
رہی بات اس کی جو ہمارے ہونٹوں پہ کانپتا رہ جاتا ہے اورکسی کا نام سا رہ جاتا ہے تو ہربات کہنے کی تو نہیں ہوتی، اورپھر ہمیں کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ بات بہت پہلے مرشد کہہ چکے ہیں کہ
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
Today News
ایران امریکا جنگ اور بدلتا ہوا توازن
ایران پر مسلط کردہ امریکی و اسرائیلی جنگ اورجارحیت نے خطے کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ تاریخ امریکی اور اسرائیلی حساب کتاب سے نہیں بلکہ ایران کی بے مثال چالیس روزہ مزاحمت، قربانیوں، عوام کی پائیدار استقامت اور صبر کے ساتھ خطے میں توازن کو بدلتے ہوئے لکھی جا رہی ہے۔
تاریخ میں ہمیشہ چالیس روزہ جنگ کو ایک تزویراتی عنوان سے یاد رکھا جائے گا کہ جہاں پوری دنیا کی طاقت اور ٹیکنالوجی سمیت دباؤ، پابندیاں، دھونس دھمکی اور نہ جانے اور کیا کچھ شامل تھا لیکن اس کے مقابلے میں ایک قوم، ایک ملت اپنے شہداء کی یاد کے عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی تھی اور اس تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ اس مقابلہ کی بدولت دنیا کی سپر پاور کو جھکنے پر مجبور کیا گیا۔
وہ سپر پاور جو ایران میں پہلے رجیم چینج، پھر ایران کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے یعنی ایران کی تقسیم کا منصوبہ لائی تھی اور ساتھ ساتھ ایران کے تیل اور گیس کے وسائل پر تسلط حاصل کرنا چاہتی تھی تمام تر حربوں اور جنگی مشقوں کے بعد ایک نقطہ پر اپنی پوری توانائی خرچ کرنے پر مجبورہو گئی یعنی ایک سمندری راستے کی بندش کو کھلوانے کے لیے۔ حالیہ ایران اور امریکا جنگ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے محض ردِعمل کی پالیسی سے نکل کر ایک منظم اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس حکمت عملی کو اکثر’’اسٹرٹیجک صبر‘‘(Strategic Patience) کہا جاتا ہے، مگر ناقدین اور مبصرین کے مطابق یہ صبر محض انتظار نہیں بلکہ ایک منظم تیاری تھی، جس کا مقصد طاقت کے توازن کو اپنے حق میں موڑنا تھا۔
ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو روایتی جنگی قوت سے ہٹ کر غیر روایتی میدانوں میں مضبوط کیا۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور خطے میں اتحادی گروہوں کے ساتھ روابط یہ سب عناصر ایک وسیع دفاعی حکمت ِ عملی کا حصہ بنے۔ مثال کے طور پر ایران کے شہاب اورقدر میزائل پروگرام نہ صرف خطے میں اس کی مار کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرتے ہیں۔اسی طرح، ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی، خصوصاً شاہد سیریز نے جنگی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ یوکرین جنگ میں روس کے ذریعے ان ڈرونز کے استعمال نے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ ایران کم لاگت میں موثر جنگی صلاحیت پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اسٹرٹیجک صبرکی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ایران نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں مختلف گروہوں کے ساتھ تعلقات نے ایران کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر مستحکم کیا۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں انصار اللہ اور عراق میں الحشد الشعبی جیسے گروہوں نے ایران کی Forward Defense حکمتِ عملی کا کردار ادا کیا اور آج بھی اسی کاحصہ ہیں، جس کے تحت وہ اپنی سرحدوں سے دور خطرات کو روکنے کی کوشش کرتا ہے،یعنی اگر بین الاقوامی سیاست اور جنگ کے قوانین کی زبان میں بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایران نے جنگ کو صرف ایران میں نہیں لڑا ہے بلکہ خطے میں لڑ کر یہ بتا دیا ہے کہ اگر ایران محفوظ نہیں رہے گا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس بات کا اظہار گاہے بہ گاہے ایران کے فوجی اور سول قائدین بھی اپنے بیانات میں کرتے چلے آئے ہیں۔ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے بھی جنگ سے قبل امریکی حکام کو اپنی گفتگو کے ذریعہ خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا تو پھر ایک بڑی جنگ خطے کو گھیر لے گی۔
حالیہ جنگ میں ایران کی طرف سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران نے دفاعی جنگ سے نکل کر فارورڈ جنگ لڑی ہے، یعنی حالیہ عرصے میں یہ دیکھا گیا کہ ایران نے صرف دفاعی پوزیشن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بعض مواقع پر فیصلہ کن اقدام بھی کیا۔ چاہے وہ اسرائیلی اہداف پر براہ راست یا بالواسطہ حملے ہوں یا امریکی مفادات کے خلاف ردعمل ہو ایران نے یہ پیغام دیا کہ اب وہ صرف برداشت کرنے والا فریق نہیں رہا،بلکہ وہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دے رہاہے جو دشمن کو سمجھ آتی ہے، یعنی طاقت کی زبان۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ایران نے خوف کے توازن کو بھی تبدیل کر دیا ہے؟ اس کا جواب مکمل طور پر سادہ نہیں۔ ایک طرف ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں اور علاقائی اثر و رسوخ اسے ایک مضبوط پوزیشن دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف اسے سخت اقتصادی پابندیوں، داخلی معاشی مسائل، اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔
امریکی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل میں اضافہ ہوا،لیکن ان سب مسائل اور مشکلات کے باوجود ایران نے ایک ایسی بے مثال جنگ لڑی ہے کہ جس میں دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔حالانکہ امریکا اور اسرائیل دونوں ہی خطے میں فضائی برتری رکھتے ہیں، خاص طور پر فضائی طاقت، سائبر وارفیئر، اور انٹیلی جنس کے میدان میں۔اس تمام تر صورتحال میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اپنے وسائل اور حالات کے مطابق ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس نے اسے نظر انداز کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ایران نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور جدید فضائیہ رکھنے والی افواج کا تنہا مقابلہ کیا اور ان طاقتوں کو گھٹنوں پر لانے کے لیے مجبور کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی حکمت ِ عملی نے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی سطح پر بھی اثر ڈالا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اب ایران کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس جنگ کے بعد اب ایک نیا ایران ابھر کر سامنے آرہاہے۔ دنیا ایران کو چوتھی بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ یورپی ممالک کی سیاست میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی پالیسی اسٹرٹیجک صبر سے فیصلہ کن اقدام تک ایک تدریجی ارتقاء ہے، جس نے ایران کوایک منفرد پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ نہ مکمل فتح ہے اور نہ مکمل ناکامی، بلکہ ایک جاری عمل ہے جس میں ہر قدم نئے چیلنجز اور مواقع کو جنم دیتا ہے۔لہٰذا ایران کے لیے ابھی مزید چیلنجز ہیں اور جو ایران کی سیاست سے اب واقف ہو چکے ہیں وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ سینتالیس سال کی طرح ایران اب بھی ان تمام چیلنجز اور مسائل سے خودکو نکال لے جائے گا کیونکہ جب ایران امریکا اور اسرائیل کے مقابلہ میں اکیلے ہی چالیس دن کی جنگ لڑ سکتا ہے تو پھر باقی چیلنجز کو بھی نمٹانے کی صلاحیت ایران میں موجود ہے۔
یہاں ایران کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جہاں ایران کی مسلح افواج، سول قیادت اور دیگر اداروں کا ذکر کیا جا رہاہے، وہاں ساتھ ساتھ ایران کے عوام کا بے مثال اتحاد، صبر اور استقامت ہے جس نے اس جنگ میں ایران کو قدم قدم پر کامیابیاں دی ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں جو توازن اس وقت خطے میں پیدا ہواہے اسے باقی رہنا چاہیے۔ یہ توازن کب تک برقرار رہتا ہے اور کس حد تک تبدیل ہوتا ہے، اس کا انحصار نہ صرف ایران بلکہ اس کے حریفوں کی حکمتِ عملیوں پر بھی ہوگا، تاہم ایک بات طے ہے غرب ایشیاء کی سیاست اب ایران کے کردار کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں رہا ہے۔
Today News
اردو املا: روایت، صوتیات اور ایک ناگزیر علمی سوال
اردو زبان کی تاریخ صرف الفاظ کی تاریخ نہیں، بلکہ رسم الخط اور املا کی تاریخ بھی ہے۔ زبان جب بولی جاتی ہے تو اس کی بنیاد آواز ہوتی ہے اور جب لکھی جاتی ہے تو وہ املا کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہ ہی وہ مقام ہے جہاں اردو میں ایک پرانا مگر مسلسل زندہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا اردو املا کو روایت کے مطابق برقرار رکھا جائے یا اسے جدید لسانی صوتیات کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے؟
یہ سوال بہ ظاہر ایک چھوٹے سے لفظ سے شروع ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر انڈا یا انڈہ؟ لیکن درحقیقت اس کے پیچھے زبان کے فلسفے، رسم الخط کی ساخت اور لسانی ارتقا کے بنیادی اصول کارفرما ہیں۔
جدید علم لسانیات اس بات پر تقریباً متفق ہے کہ کسی بھی زندہ زبان کی بنیادی اکائی صوتیہ (فونیم) ہوتی ہے۔
صوتیہ وہ کم سے کم صوتی اکائی ہے جس سے معنی میں فرق پڑتا ہے۔
اگر ہم لفظ انڈا کو بین الاقوامی صوتیاتی رسم الخط (آئی پی اے یا انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ) میں لکھیں تو یہ اس طرح ظاہر ہوگا۔
Anda//
اس صوتیاتی ساخت میں آخری آواز واضح طور پر /a/ ہے، جو ایک کھلا مصوتہ ہے۔ یہاں کسی قسم کی /h/ کی آواز موجود نہیں۔
اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم لفظ کو انڈہ لکھیں تو ہم دراصل ایک ایسا حرف شامل کر رہے ہوتے ہیں جس کی کوئی صوتی موجودگی نہیں۔ جدید لسانیات میں اسے ’’آرتھو گرافک رڈنڈنسی ‘‘کہا جاتا ہے، یعنی ایسا حرف جو آواز میں شامل نہیں مگر املا میں باقی رہ گیا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک لفظ تک محدود نہیں بلکہ کئی الفاظ میں نظر آتا ہے۔ پیسہ، مہینہ، تھانہ، جھروکہ،ٹیکہ۔
اگر ان سب کو صوتیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو ان کا اختتام دراصل /a/ کی آواز پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی /h/ پر۔
اردو رسم الخط بنیادی طور پر فارسی رسم الخط کی توسیع ہے۔ فارسی میں ایک خاص حرفی صورت ہائے مختفی کہلاتی تھی، جو بظاہر’’ہ‘‘ہوتی تھی مگر آواز میں اکثر کمزور مصوتہ /a/ کی نمائندگی کرتی تھی۔ مثلاً:نامہ،جامہ،پیمانہ،آئینہ۔
یہاں آخری ہ دراصل مکمل طور پر /h/ کی آواز نہیں دیتی بلکہ ایک مختص مصوتی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
لیکن اردو میں وقت کے ساتھ دو تبدیلیاں آئیں۔
1.۔مصوتی آواز واضح اور مضبوط ہو گئی۔
2.۔ہائے مختفی کا صوتی کردار کمزور پڑ گیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ بول چال میں یہ الفاظ عملاً یوں ادا ہونے لگے۔
ناما،جاما،آئینا۔
مگر املا میں تاریخی روایت برقرار رہی،اگر ہم ہندی الفاظ کو ان کی اصل کی بنیاد پر الف سے لکھنا شروع کریں تو پھر ہمیں مضمون میں دی گئی مثالوں کے مطابق ’’کرشن‘‘ کو ’’کرشنڑ‘‘ اور ’’پتی‘‘ کو ’’پتِ‘‘ (زیر کے ساتھ) لکھنا پڑے گا، جو کہ اردو کے پورے ڈھانچے کو منہدم کر دے گا۔
یہیں وہ مقام ہے جہاں تاریخی املا اور صوتیاتی حقیقت کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ لسانیات میں املا کے دو بڑے ماڈل تسلیم کیے جاتے ہیں۔
1۔ اشتقاقی املا
اس میں لفظ کو اس کی اصل زبان کے مطابق لکھا جاتا ہے، چاہے آواز بدل چکی ہو۔
انگریزی اس کی نمایاں مثال ہے۔
مثلاً:
debt
island
honest
ان الفاظ میں کئی حروف آواز میں شامل نہیں مگر تاریخی وجہ سے باقی ہیں۔
2۔ صوتیاتی املا
اس میں لفظ کو اس طرح لکھا جاتا ہے کہ املا اور آواز کے درمیان زیادہ سے زیادہ مطابقت ہو۔
ہسپانوی، ترکی اور انڈونیشی زبانیں اس اصول کے قریب ہیں۔
مثلاً ہسپانوی میں اگر casa لکھا ہے تو اسے ہمیشہ /kasa/ ہی پڑھا جائے گا۔
اردو کی تاریخ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ دوسری زبانوں سے آنے والے الفاظ کو اپنی صوتیات کے مطابق ڈھالا۔
انگریزی کے چند الفاظ دیکھیے۔
lantern لالٹین،hospital اسپتال،captain کپتان،general جرنیل،bottle بوتل۔
یہ محض ترجمہ نہیں بلکہ صوتی انضمام ہے۔
اسی طرح پرتگالی زبان سے آنے والے الفاظ بھی اردو نے بدل دیے۔
armário الماری۔chave چابی۔
یہ عمل دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ہوتا ہے۔ جب کوئی لفظ کسی نئی زبان میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس زبان کے صوتی نظام کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ انڈہ لکھا جائے یا انڈا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اردو املا کے اصول کیا ہوں،اگر اصول صوتیات ہے تو املا کو آواز کے تابع ہونا چاہیے،اگر اصول تاریخی روایت ہے تو پھر املا میں غیر ملفوظ حروف بھی باقی رہیں گے۔مگر یہاں ایک عملی حقیقت بھی ہے۔ زبان ہمیشہ ان دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرتی ہے۔جدید لسانی نفسیات کے مطابق انسان پڑھتے وقت حروف کو الگ الگ نہیں بلکہ پورے لفظ کی بصری شکل کو پہچانتا ہے۔
اسی لیے لفظ۔غصہ،لذیذ،اچانک،ایک مکمل بصری تاثر پیدا کرتے ہیں۔
اگر اچانک ان کے املا بدل دیے جائیں تو قاری کو وقتی الجھن محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ املا میں تبدیلیاں ہمیشہ بتدریج ہوتی ہیں۔اردو کو نہ مکمل طور پر تاریخی املا کا قیدی ہونا چاہیے، نہ ہی فوری طور پر مکمل صوتیاتی اصلاح کی طرف جانا چاہیے۔زیادہ معقول راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ۔
1۔واضح صوتی الفاظ میں غیر ضروری حروف ختم کیے جائیں۔
2۔تعلیمی نصاب میں صوتیاتی اصولوں کو شامل کیا جائے۔3۔املا کی اصلاح بتدریج اور علمی بنیادوں پر کی جائے۔ اردو ایک زندہ زبان ہے، اور زندہ زبانیں جامد نہیں ہوتیں۔ ان کا املا بھی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔اردو کا اپنا ایک صوتی نظام ہے جسے’’اردو صوتیات‘‘ کہنا چاہیے۔ اس نظام میں جب کوئی لفظ داخل ہوتا ہے، تو وہ اپنی شہریت تبدیل کر لیتا ہے۔ جس طرح ایک انسان دوسری ریاست کی شہریت لینے کے بعد اس کے قوانین کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح ہندی یا انگریزی کے الفاظ جب اردو کے ’’صوتی جغرافیے‘‘ میں داخل ہوتے ہیں، تو ان پر اردو کے ’’صوتی قوانین‘‘ لاگو ہونے چاہئیں، نہ کہ ان کی جائے پیدائش کے۔ ’’انڈا‘‘ ہو یا ’’کمرہ‘‘، اب ان کا فیصلہ اردو کے لسانی مزاج پر ہوگا، نہ کہ سنسکرت یا فارسی کے قواعد پر۔
’’اردو املا کی درستی کے نام پر جو ’’آپریشن‘‘کیا جا رہا ہے، وہ مریض کو تندرست کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا حلیہ بگاڑنے کے لیے ہے۔ ہمیں زبان کی تخلیقی خود مختاری کا دفاع کرنا چاہیے۔‘‘
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اردو کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ایک ایسی زبان کی طرف جو محض روایت کی محافظ ہو، یا ایسی زبان کی طرف جو اپنی صوتیاتی حقیقت اور علمی اصولوں کے مطابق خود کو مرتب کرے۔زبان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر زبان آخرکار اپنی آوازوں کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ زبان کی اصل زندگی کاغذ پر نہیں، انسانی آواز میں ہوتی ہے۔
Today News
کراچی میں پولیس مقابلہ، ایک زخمی سمیت دو ڈاکو گرفتار
کراچی:
شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے میں اقبال مارکیٹ پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد ایک زخمی سمیت دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ملزم محمد ارشد عرف کے ٹو کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ دوسرے گرفتار ملزم انس کو مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقدی اور ایک موٹرسائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان کے جرائم کا ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s Asian Cup qualifying campaign ends with defeat – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
اہم کھلاڑی معاہدے سے محروم
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف کی ایک اور شرط، شوگر سیکٹر کو بھی ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
-
Sports2 weeks ago
Italy’s football chief resigns after World Cup disaster – Sport
-
Sports2 weeks ago
‘The World Cup curse’: Italy sheds tears after missing out again – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport