Today News
اردو املا: روایت، صوتیات اور ایک ناگزیر علمی سوال
اردو زبان کی تاریخ صرف الفاظ کی تاریخ نہیں، بلکہ رسم الخط اور املا کی تاریخ بھی ہے۔ زبان جب بولی جاتی ہے تو اس کی بنیاد آواز ہوتی ہے اور جب لکھی جاتی ہے تو وہ املا کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہ ہی وہ مقام ہے جہاں اردو میں ایک پرانا مگر مسلسل زندہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا اردو املا کو روایت کے مطابق برقرار رکھا جائے یا اسے جدید لسانی صوتیات کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے؟
یہ سوال بہ ظاہر ایک چھوٹے سے لفظ سے شروع ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر انڈا یا انڈہ؟ لیکن درحقیقت اس کے پیچھے زبان کے فلسفے، رسم الخط کی ساخت اور لسانی ارتقا کے بنیادی اصول کارفرما ہیں۔
جدید علم لسانیات اس بات پر تقریباً متفق ہے کہ کسی بھی زندہ زبان کی بنیادی اکائی صوتیہ (فونیم) ہوتی ہے۔
صوتیہ وہ کم سے کم صوتی اکائی ہے جس سے معنی میں فرق پڑتا ہے۔
اگر ہم لفظ انڈا کو بین الاقوامی صوتیاتی رسم الخط (آئی پی اے یا انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ) میں لکھیں تو یہ اس طرح ظاہر ہوگا۔
Anda//
اس صوتیاتی ساخت میں آخری آواز واضح طور پر /a/ ہے، جو ایک کھلا مصوتہ ہے۔ یہاں کسی قسم کی /h/ کی آواز موجود نہیں۔
اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم لفظ کو انڈہ لکھیں تو ہم دراصل ایک ایسا حرف شامل کر رہے ہوتے ہیں جس کی کوئی صوتی موجودگی نہیں۔ جدید لسانیات میں اسے ’’آرتھو گرافک رڈنڈنسی ‘‘کہا جاتا ہے، یعنی ایسا حرف جو آواز میں شامل نہیں مگر املا میں باقی رہ گیا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک لفظ تک محدود نہیں بلکہ کئی الفاظ میں نظر آتا ہے۔ پیسہ، مہینہ، تھانہ، جھروکہ،ٹیکہ۔
اگر ان سب کو صوتیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو ان کا اختتام دراصل /a/ کی آواز پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی /h/ پر۔
اردو رسم الخط بنیادی طور پر فارسی رسم الخط کی توسیع ہے۔ فارسی میں ایک خاص حرفی صورت ہائے مختفی کہلاتی تھی، جو بظاہر’’ہ‘‘ہوتی تھی مگر آواز میں اکثر کمزور مصوتہ /a/ کی نمائندگی کرتی تھی۔ مثلاً:نامہ،جامہ،پیمانہ،آئینہ۔
یہاں آخری ہ دراصل مکمل طور پر /h/ کی آواز نہیں دیتی بلکہ ایک مختص مصوتی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
لیکن اردو میں وقت کے ساتھ دو تبدیلیاں آئیں۔
1.۔مصوتی آواز واضح اور مضبوط ہو گئی۔
2.۔ہائے مختفی کا صوتی کردار کمزور پڑ گیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ بول چال میں یہ الفاظ عملاً یوں ادا ہونے لگے۔
ناما،جاما،آئینا۔
مگر املا میں تاریخی روایت برقرار رہی،اگر ہم ہندی الفاظ کو ان کی اصل کی بنیاد پر الف سے لکھنا شروع کریں تو پھر ہمیں مضمون میں دی گئی مثالوں کے مطابق ’’کرشن‘‘ کو ’’کرشنڑ‘‘ اور ’’پتی‘‘ کو ’’پتِ‘‘ (زیر کے ساتھ) لکھنا پڑے گا، جو کہ اردو کے پورے ڈھانچے کو منہدم کر دے گا۔
یہیں وہ مقام ہے جہاں تاریخی املا اور صوتیاتی حقیقت کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ لسانیات میں املا کے دو بڑے ماڈل تسلیم کیے جاتے ہیں۔
1۔ اشتقاقی املا
اس میں لفظ کو اس کی اصل زبان کے مطابق لکھا جاتا ہے، چاہے آواز بدل چکی ہو۔
انگریزی اس کی نمایاں مثال ہے۔
مثلاً:
debt
island
honest
ان الفاظ میں کئی حروف آواز میں شامل نہیں مگر تاریخی وجہ سے باقی ہیں۔
2۔ صوتیاتی املا
اس میں لفظ کو اس طرح لکھا جاتا ہے کہ املا اور آواز کے درمیان زیادہ سے زیادہ مطابقت ہو۔
ہسپانوی، ترکی اور انڈونیشی زبانیں اس اصول کے قریب ہیں۔
مثلاً ہسپانوی میں اگر casa لکھا ہے تو اسے ہمیشہ /kasa/ ہی پڑھا جائے گا۔
اردو کی تاریخ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ دوسری زبانوں سے آنے والے الفاظ کو اپنی صوتیات کے مطابق ڈھالا۔
انگریزی کے چند الفاظ دیکھیے۔
lantern لالٹین،hospital اسپتال،captain کپتان،general جرنیل،bottle بوتل۔
یہ محض ترجمہ نہیں بلکہ صوتی انضمام ہے۔
اسی طرح پرتگالی زبان سے آنے والے الفاظ بھی اردو نے بدل دیے۔
armário الماری۔chave چابی۔
یہ عمل دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ہوتا ہے۔ جب کوئی لفظ کسی نئی زبان میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس زبان کے صوتی نظام کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ انڈہ لکھا جائے یا انڈا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اردو املا کے اصول کیا ہوں،اگر اصول صوتیات ہے تو املا کو آواز کے تابع ہونا چاہیے،اگر اصول تاریخی روایت ہے تو پھر املا میں غیر ملفوظ حروف بھی باقی رہیں گے۔مگر یہاں ایک عملی حقیقت بھی ہے۔ زبان ہمیشہ ان دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرتی ہے۔جدید لسانی نفسیات کے مطابق انسان پڑھتے وقت حروف کو الگ الگ نہیں بلکہ پورے لفظ کی بصری شکل کو پہچانتا ہے۔
اسی لیے لفظ۔غصہ،لذیذ،اچانک،ایک مکمل بصری تاثر پیدا کرتے ہیں۔
اگر اچانک ان کے املا بدل دیے جائیں تو قاری کو وقتی الجھن محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ املا میں تبدیلیاں ہمیشہ بتدریج ہوتی ہیں۔اردو کو نہ مکمل طور پر تاریخی املا کا قیدی ہونا چاہیے، نہ ہی فوری طور پر مکمل صوتیاتی اصلاح کی طرف جانا چاہیے۔زیادہ معقول راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ۔
1۔واضح صوتی الفاظ میں غیر ضروری حروف ختم کیے جائیں۔
2۔تعلیمی نصاب میں صوتیاتی اصولوں کو شامل کیا جائے۔3۔املا کی اصلاح بتدریج اور علمی بنیادوں پر کی جائے۔ اردو ایک زندہ زبان ہے، اور زندہ زبانیں جامد نہیں ہوتیں۔ ان کا املا بھی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔اردو کا اپنا ایک صوتی نظام ہے جسے’’اردو صوتیات‘‘ کہنا چاہیے۔ اس نظام میں جب کوئی لفظ داخل ہوتا ہے، تو وہ اپنی شہریت تبدیل کر لیتا ہے۔ جس طرح ایک انسان دوسری ریاست کی شہریت لینے کے بعد اس کے قوانین کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح ہندی یا انگریزی کے الفاظ جب اردو کے ’’صوتی جغرافیے‘‘ میں داخل ہوتے ہیں، تو ان پر اردو کے ’’صوتی قوانین‘‘ لاگو ہونے چاہئیں، نہ کہ ان کی جائے پیدائش کے۔ ’’انڈا‘‘ ہو یا ’’کمرہ‘‘، اب ان کا فیصلہ اردو کے لسانی مزاج پر ہوگا، نہ کہ سنسکرت یا فارسی کے قواعد پر۔
’’اردو املا کی درستی کے نام پر جو ’’آپریشن‘‘کیا جا رہا ہے، وہ مریض کو تندرست کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا حلیہ بگاڑنے کے لیے ہے۔ ہمیں زبان کی تخلیقی خود مختاری کا دفاع کرنا چاہیے۔‘‘
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اردو کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ایک ایسی زبان کی طرف جو محض روایت کی محافظ ہو، یا ایسی زبان کی طرف جو اپنی صوتیاتی حقیقت اور علمی اصولوں کے مطابق خود کو مرتب کرے۔زبان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر زبان آخرکار اپنی آوازوں کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ زبان کی اصل زندگی کاغذ پر نہیں، انسانی آواز میں ہوتی ہے۔
Today News
راولپنڈی جی ٹی روڈ پر مسافر بس میں آگ لگ گئی
راولپنڈی میں جی ٹی روڈ پر وزیر آباد بائی پاس کے قریب مسافر بس میں اچانک آگ لگ گئی۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق بس میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، بس لاہور سے راولپنڈی جا رہی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس کے افسران فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔
ترجمان کے مطابق واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافروں کو بحفاظت بس سے نکال لیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ تمام مسافروں کو متبادل ٹرانسپورٹ کے ذریعے ان کی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
Today News
کراچی: ریڑھی گوٹھ میں سمندری آلودگی کی تشویشناک صورتحال
کراچی کے ساحلی علاقے ریڑھی گوٹھ میں سمندری آلودگی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، سمندر میں شامل فضلے اور آلودگی نے ماہی گیری کے شعبے کو شدید متاثر کردیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق آلودگی کے باعث نہ صرف مچھلیوں کی افزائش متاثر ہو رہی ہے بلکہ ماہی گیر خود بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ صنعتی فضلہ اور گٹر کا گندا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے مسلسل سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں روزانہ ہزاروں گیلن آلودہ پانی سمندر میں شامل ہو کر سمندری حیات کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ماہی گیروں کے روزگار کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
بھینس کالونی سے نکلنے والا جانوروں کا گوبر اور ٹیکسٹائل و چمڑا رنگنے والی فیکٹریوں کا کیمیائی فضلہ بھی دھڑلے سے سمندر برد کیا جا رہا ہے جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے اور حکومت سندھ اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
کوسٹل میڈیا سینٹر کے ترجمان کمال شاہ کے مطابق مقامی ماہی گیر برادری نے حکومتِ سندھ اور ماحولیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ صنعتی فضلے کو بغیر ٹریٹمنٹ سمندر میں چھوڑنے پر فوری پابندی عائد کی جائے، ساحلی علاقوں کی باقاعدہ صفائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور ماہی گیروں کی صحت و روزگار کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سمندری حیات سے وابستہ ماہی گیروں کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
Today News
کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ کر قیمتی اشیا چرانے والا ملزم سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار
لاہور:
کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ کر قیمتی اشیا چوری کرنے والے ملزم کو سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم مختلف علاقوں میں شہریوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتا تھا، جو ماڈل ٹاؤن، شادمان، مین بلیوارڈ اور ایم ایم عالم روڈ پر وارداتوں میں ملوث ہونے کے باعث پولیس کو مطلوب تھا۔
ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع موصول ہوتے ہی ورچوئل پٹرولنگ آفیسر نے فوری طور پر ملزم کی ٹریسنگ کا آغاز کیا۔ سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی شناخت اور اس کے روٹ کی مکمل میپنگ کی گئی، جس کے بعد سیف سٹی کی فراہم کردہ معلومات پر پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان سیف سٹی کے مطابق ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم میں نمایاں کمی ممکن ہو رہی ہے، جبکہ جدید کیمروں کی مدد سے مجرموں کی بروقت نشاندہی اور گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف سٹی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper