Connect with us

Today News

راولپنڈی میں پسند کی شادی کا خونی انجام، دلہا، دلہن اور والدہ قتل

Published

on



راولپنڈی:

راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلا میں پسند کی شادی ایک اندوہناک سانحے میں بدل گئی، جہاں لڑکے، اس کی اہلیہ اور والدہ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ شہلا بی بی کے بیٹے محمد عامر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہلا بی بی نے عزیز اللہ سے دوسری شادی کی تھی جبکہ ان کے بیٹے دانش اکرم نے عزیز اللہ کی بیٹی سے پسند کی شادی کی۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس شادی پر لڑکی کے بھائیوں نذیر، نجیب اور عزیز اللہ کو شدید رنج و غصہ تھا۔

ملزمان نے دانش اکرم کو دعوت کے بہانے گھر بلایا جبکہ اس کی اہلیہ سیما گل پہلے ہی وہاں موجود تھی۔

مدعی کے مطابق جب دانش اکرم رات بھر واپس نہ آیا تو اہل خانہ عزیز اللہ کے گھر پہنچے جہاں عقبی دروازے سے نجیب اور نذیر کو ہاتھوں میں چھریاں لیے فرار ہوتے دیکھا گیا۔ انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو ملزمان نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

گھر کے اندر داخل ہونے پر دانش اکرم، اس کی والدہ شہلا بی بی اور اہلیہ سیما گل کی لاشیں پڑی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق تینوں کو تیز دھار آلے سے گلے کاٹ کر قتل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ قتل پسند کی شادی کے تنازع پر کیا گیا جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عوامی اعتماد کیلیے ٹیکس تنازعات کا بروقت حل ناگزیر: چیف جسٹس

Published

on



اسلام آباد:

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس مقدمات کے بروقت فیصلوں، ادارہ جاتی ہم آہنگی کے فروغ اور کارکردگی میں بہتری کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، وزیر اعظم ٹاسک فورس کے چیٔرمین شاد محمد خان، چیئرمین ایف بی آر موجود تھے جبکہ ہائیکورٹس کے نامزد ججز نے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس تنازعات کا مؤثر اور بروقت حل عوامی اعتماد کے فروغ، گورننس کے معیار میں بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فورم کو اپنے حالیہ فیصلے سے آگاہ کیا جس میں ٹیکس مقدمات میں موجود طریقہ کار کی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

ہائی کورٹس ججز نے ٹیکس مقدمات میں مسائل اور طریقہ کار کی خامیوں پر اصلاحی اقدامات تجویز کیے۔ اجلاس میں ٹیکس معاملات کے مؤثر انتظام اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر جامع ڈیٹا بیس کی تیاری پر غور کیا گیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی کہ اجلاس کی سفارشات کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے گا۔

ایف بی آر کے آئی ٹی ونگ کو متعلقہ مقدمات کا ڈیٹا مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ ہر ہائیکورٹ میں ٹیکس مقدمات کے لیے ڈائریکٹر سطح کے افسران نامزد کیے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ڈالروں کے پجاریوں میں جھوٹوں کا مقابلہ

Published

on


سنتے تھے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے مگر موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں ہوتے ہی نہیں بلکہ بے انتہا مضبوط اور تیز رفتار ہوتے ہیں اور جھوٹ اتنی تیزی سے پھیلتا اور تیز دوڑتا ہے کہ جھوٹ کے مقابلے میں سچ بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور کمزوری کے باعث دوڑنا تو دور کی بات سچ چلنے کے قابل بھی نہیں رہتا اور جھوٹ سچ کو بہت پیچھے چھوڑ کر ناصرف بہت آگے پہنچ کر مقابلہ بھی جیت جاتا ہے اور دنیا سے خود کو کامیاب بھی تسلیم کرا لیتا ہے اور دنیا جھوٹ کو سچ مان لیتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں تقریباً دو عشروں سے یہی ہو رہا ہے یہاں جھوٹ بولنے میں سب سے آگے رہنے والوں کو صادق و امین قرار دے دیا جاتا ہے اور سچ بولنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ 45 سال پرانے کیس میں ایک سابق وزیر اعظم کی پھانسی کو غلط قرار دیا جا چکا ہے۔

ملکی سیاست میں جھوٹوں کی شاخیں اندرون ملک سے نکل کر بیرون ملک بھی پہنچ چکی ہیں اور جھوٹوں کی ان شاخوں میں ایک سے ایک بڑھ کر جھوٹ بولنے اور جھوٹ پھیلانے کا مقابلہ صرف زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانے کے لیے ہو رہا ہے اور ڈالروں کے ان پجاریوں نے جھوٹ بولنے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں کیونکہ ملک سے باہر بیٹھے ان لوگوں کو ملک کے قانون کی فکر ہے نہیں اس لیے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔

سیاست کبھی عبادت سمجھ کر کی جاتی تھی مگر اب اس سیاست کو نصف صدی گزر چکی۔ 1970 کے بعد ملک کی سیاست عوامی ہو گئی تھی اور کہا جاتا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ روشناس کرائے جانے کے بعد سیاست عام آدمی تک پہنچ گئی تھی جو پہلے بہت محدود تھی اور اسے عوامی شعور کا نام دیا گیا تھا ۔

پنجاب و سندھ کے سیاسی شعور نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا تھا جس کے نتیجے میں جن دو بڑوں کو اقتدار تو ملا تھا مگر دونوں جان سے بھی گئے تھے۔ ملک میں طویل مارشل لا لگانے والے پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک میں انتخابات کرانے کا کہہ کر بھی انتخابات نہیں کرائے تھے۔ اس ایک جھوٹ کے بعد ملک کی دو بڑی پرانی پارٹیوں میں جھوٹوں کا مقابلہ شروع ہوا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ شروع ہوا جو عدالتوں میں ثابت تو نہ کیے جا سکے تھے۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے جھوٹے مقدمات میں سزائیں بھگتیں اور جلاوطنی بھی کاٹی اور پھر لندن میں یہ سیکھا کہ انتقام اور جھوٹے مقدمات کی سیاست ختم کریں گے جس کے بعد دونوں پارٹیوں کو اپنی اپنی حکومت میں پہلی بار پانچ سالہ مدت اقتدار پوری کرنے کا موقع ملا اور پھر بالاتروں کی پشت پناہی سے ایک نئے اچھی شہرت اور ایمانداری کے دعویدار نے 1999 تک اقتدار میں رہنے والے دو وزرائے اعظم پر بے انتہا جھوٹے الزامات سے اپنی سیاست کو فروغ دے کر 2018 میں اقتدار حاصل کیا تھا جس کے سوشل میڈیا نے وزیر اعظم کی قیادت میں نئے جھوٹوں کی سیاست کا آغاز کیا تھا اس جھوٹی سیاست نے سیاست میں جھوٹوں کو اس قدر فروغ دیا کہ جو اب مادر پدر آزاد ہوئی مگر اس نے اپنی بہتری ملک میں رہنے کی بجائے بیرون ملک منتقل ہونے میں سمجھی کیونکہ وہاں ہر قسم کی انھیں آزادی میسر ہے ۔

بیرون ملک رہ کر جھوٹوں کا مقابلہ کرنے والے خود کو پاکستانی قرار دے رہے ہیں اور اپنے بانی کی حکومت میں فیض یاب بھی ہوئے مگر ان کی حکومت کے جانے کے بعد پی ڈی ایم حکومت میں اقتدار میں آنے والوں نے محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ جو ان کی حکومت میں ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ ان کے لیے درد سر بن جائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنے ملک سے ہی دشمنی میں اتر آئیں گے۔ ڈالروں کی محبت میں اپنی مخالفین کی حکومت میں وہ اس انتہا پر آگئے کہ گزشتہ سال انھوں نے بھارتی جارحیت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کی اور اب جب قدرت نے پاکستان کو سرفرازی کا موقع دیا تب بھی انھیں اپنے ملک کی قدر افزائی کی توفیق نہیں ہوئی اور حالیہ جنگ میں پاکستان کا ثالثی کا کردار پسند نہیں آیا اور بھارتی وزیر خارجہ کی تقلید میں وہ اپنے ہی ملک کے خلاف شر انگیز جھوٹ اس طرح پھیلا رہے ہیں جیسے انھیں اپنے ملک لوٹ کر نہیں آنا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی صحافیوں کے مقابل امریکی حکومت !

Published

on


موجودہ امریکی حکومت اور امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کئی نقاد امریکی صحافیوں سے سخت ناراض ہیں۔ اِس کا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 11اپریل 2026کو نائب امریکی صدر ( جے ڈی وانس) ایرانیوں سے امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے تو اُنہی15 چنیدہ امریکی صحافیوں کو اپنے ساتھ لائے جو ٹرمپ حکومت کے ہر طرح سے حمائیتی سمجھے جاتے ہیں۔ٹرمپ صاحب کی نقاد امریکی صحافیوں سے ناراضی روز افزوں ہے ۔

جب اسلام آباد میں جے ڈی وانس ایرانیوں سے مذاکرات کر رہے تھے، اُنہی لمحات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان یوں سامنے آیا:’’ جس بیہودگی سے ایران ، امریکہ( جنگ بندی کے حوالے سے)10نکاتی جعلی منصوبہ رپورٹ کیا گیا اور اِس بارے غلط معلومات پھیلائیں، اِن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ امریکی صدر کی امریکی صحافیوں کو دی جانے والی آئے روز کی دھمکیوں کی بنیاد پر بجا طور پر سمجھا جارہا ہے کہ امریکہ میں بھی صحافتی آزادیاں قدرے سُکڑ اور سمٹ کررہ گئی ہیں ۔

مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ممتاز امریکی اخبار کے خلاف 10ارب ڈالر کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کررکھا تھا ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا :’’ اس اخبار نے بدنامِ زمانہ Epstein Filesمیں میرا نام بِلا وجہ شامل کر دیا ہے۔ میرا تو اس ( جیفری ایپسٹن) سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔‘‘13اپریل2026 کو امریکی ڈسٹرکٹ جج Darrin Gaylesنے مذکورہ ہتک عزت مقدمے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سناتے ہُوئے لکھا:’’ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے وکلا اِس اخبار کے رپورٹر اور مالک کے خلاف ہتک ِ عزت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے ۔‘‘جناب ڈونلڈ ٹرمپ مخالف صحافیوں کے حق میں آنے والے فیصلے سے سخت پریشان ہیں، مگر مذکورہ اخبار اور صحافیوں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی دیکھا دیکھی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) بھی آزاد منش امریکی صحافیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے آگے بڑھ آئے ہیں۔ امریکی صحافی مگر ہار ماننے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں ۔ وہ امریکی آئین میں دی گئی صحافتی آزادیوں کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے دروازوں پر مسلسل دستک دے رہے ہیں ۔ اِس سے نظر آتا ہے کہ ابھی امریکی حکمران اور اسٹیبلشمنٹ امریکی میڈیا پر مکمل غلبہ پانے میں کامیاب نہیں ہو رہے ۔

امریکی وزیر دفاع (پیٹ ہیگستھ) نے اپنے اور امریکی صدر ( ڈونلڈ ٹرمپ) کے کئی ناقد اور مخالف صحافیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ نہ تو پینٹاگان (امریکی وزارتِ دفاع کا ہیڈ کوارٹر) کی خبریں رپورٹ کر سکتے ہیں اور نہ ہی پینٹاگان کے دفاتر میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ پیٹ ہیگستھ کے جابرانہ حکم سے ناقد صحافیوں کو Pentagon Press Corpsہی سے نکال باہر کر دیا گیا تھا ۔ جس وقت اِس حکم کا اعلان کیا گیا،اُس وقت ناقد امریکی صحافی پینٹاگان کی ایک بریفنگ میں شریک تھے ۔ زیر عتاب صحافیوں نے مگر یہ حکم خاموشی سے سُننے سے نہ صرف انکار کر دیا ، بلکہ اُسی وقت مذکورہ پریس بریفنگ کا مقاطعہ بھی کر دیا ۔

زیر پابندی صحافیوں نے فوری طور پر عدالت کے دروازے پر دستک بھی دے ڈالی ۔ جن امریکی صحافیوں نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ، اُن کی قیادت امریکہ کے ایک ممتاز ترین اخبارکے صحافی کر رہے تھے۔کسی اور اخبار نویس بھی درخواست گزار صحافیوں میں شامل تھے ۔ عدالت میں درخواست دائر کیے جانے کے باوجود مذکورہ صحافی ، اپنے ذرائع سے ، پینٹاگان بارے رپورٹنگ کرتے رہے ۔ یہ اقدام اِس امر کا بھی ثبوت ہے کہ صحافیوں پر اگرچہ کوئی سرکاری شعبہ پابندی عائد کردے ، مگر وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے دستکش نہیں ہوتے ۔

مارچ2026کے تیسرے ہفتے اِس مقدمے کا فیصلہ کر دیا گیا ۔ فیصلہ اُن صحافیوں کے حق میں آیا جنھوں نے امریکی وزیر دفاع ،پینٹاگان اور امریکی صدر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ 21مارچ 2026 کو واشنگٹن کے فیڈرل جج Paul Friedmanنے اپنے شاندار فیصلے میں لکھا: ’’صحافیوں پر پینٹاگان کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں نہ صرف ناجائز ہیں بلکہ یہ پابندیاں امریکی آئین میں دی گئی آزادیِ اظہار کے حقوق سے متصادم بھی ہیں ۔ پیٹ ہیگستھ و دیگر کی جانب سے (ناقد) صحافیوں پر لگائی پابندیاں امریکی آئین میں مندرج صحافتی آزادیوں کی پہلی اور پانچویں ترمیمی شق کے مخالف ہیں۔اِن صحافتی آزادیوں پر پچھلے250برس سے مسلسل عمل ہو رہا ہے ۔

اِن کی راہ میں ہرگز رکاوٹیں نہیں ڈالی جا سکتیں ۔ جن امریکی دانشمندوں نے امریکی آئین لکھا اور ترتیب دیا تھا، اُنہیں یقینِ کامل تھا کہ امریکہ کی قومی سلامتی آزادیِ اظہار میں پنہاں ہے۔ ‘‘ناقد امریکی صحافیوں نے اپنے حق میں اور امریکی حکومت (اور امریکی وزارتِ دفاع کے خلاف) آنے والے مذکورہ فیصلے پر واشنگٹن میں خوب جشن منایا ہے ؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ فیصلہ آنے کے بعد ایک اخبار کے ترجمان (Charlie Stadtlander)نے کہا: ’’ اِس فیصلے پر ہم ہی نہیں ، ساری امریکی قوم خوش ہے ۔

آزاد منش صحافی اور امریکی آئین سرخرو ہُوئے ہیں ۔امریکی عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اُن کی حکومتیں کیسے کام کررہی ہیں ۔ اگر ہماری وزارتِ دفاع کسی ملک کے خلاف ایکشن کرتی ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اِس حملے کی وجوہ کیا ہیں؟اِس میں امریکہ اور امریکی عوام کے کیا مفادات ہیں؟ امریکی عوام کے دیے گئے ٹیکس ڈالرز کا مصرف کیسے اور کہاں کہاں ہو رہا ہے ؟ہم سب امریکی صحافی ہر امریکی حکومت سے ،عوامی مفاد میں، ہر قسم کا سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں ۔‘‘

انصاف پسند امریکی جج نے انصاف پسند و انصاف کے متلاشی درخواست گزار امریکی صحافیوں کے حق میں جو فیصلہ سنایا ہے، یہ مثالی اور خاصا حوصلہ افزا ہے۔ اِس فیصلے میں ہم پاکستانی صحافیوں اور ہماری عدالتوں کے لیے بھی کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔

 صحافت اور میڈیا پر جو پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اُنہیں جملہ حاکم طبقہ ’’قومی سلامتی کے مفاد میں‘‘ قرار دے کر مطمئن ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے جن صحافیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں ، اُن کے بارے میں بھی ( مذکورہ فیصلہ آنے سے قبل) سرکاری امریکی وکیل نے یہی کہا تھا کہ’’ یہ پابندیاں امریکی قومی سلامتی کے پیشِ نظر عائد کی گئی ہیں ‘‘۔

گلف وار میں جب امریکی و اتحادی افواج نے صدام حسین پر مل کر قیامت خیز حملہ کیا تھا، تب بھی آزاد منش امریکی میڈیا اور صحافیوں پر یہ کہہ کر پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ ’’ امریکی قومی سلامتی کے مفاد اورامریکی حکومت کی مرضی کے برعکس کوئی خبر شائع و نشر نہیں ہو سکتی ۔‘‘ لیکن جرأتمند امریکی صحافیوں (مثال کے طور پرBob Kohn ( نےJournalistic Fraudنامی کتابیں لکھ کر امریکی حکمرانوں کے خبثِ باطن اور میڈیا دشمنی کا پردہ چاک کر ڈالا۔کاش ، ہمارے ہاں بھی ایسی جرأتمندانہ مثالیں سامنے آ سکتیں !





Source link

Continue Reading

Trending