Connect with us

Today News

زنجیریں اب لوہے کی نہیں، ہندسوں کی ہوتی ہیں

Published

on


سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے کمروں میں جب اکیاسی ہزار ارب روپے قرضوں کے ہندسے گونجے تو ایسا معلوم دے رہا تھا کہ یہ قرضے کوئی ریاضیاتی اکائی نہیں یہ اس باری زنجیر کی لمبائی ہے جو ہندسوں کی ہے اور گلگت کی چوٹیوں سے لے کر کراچی کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ اکیاسی ہزار ارب روپے ایک ایسا پہاڑ ہے جس کے سائے میں ہر پاکستانی بچہ اپنی پہلی سانس لیتے ہوئے تین لاکھ 25 ہزار روپے کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

اگر دنیا میں آنے سے پہلے اختیار دیا جاتا تو شاید اپنے جنم سے ہی انکاری ہو جاتا کہ یہ کیسی آزادی ہوگی کہ دنیا میں جاتے ہی قرضوں کی غلامی میں بدل جائے گی۔ دوسری طرف واشنگٹن کے شیشے کے محلوں میں بیٹھے آئی ایم ایف کے منصف ہیں جو اپنی قلم کی ایک جنبش سے ہماری تقدیر کا نصاب لکھتے ہیں۔ اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات کا قبلہ درست نہ کیا تو تاریخ ہمیں ایک ایسے ملک کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے آپ کو قرضوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہو۔ کیونکہ اس کائنات میں کچھ اعداد ایسے ہوتے ہیں جو محض حساب کتاب کی کتابوں میں قید نہیں رہتے بلکہ وہ زندہ حقیقتیں بن کر ہمارے خوابوں کا تعاقب کرتے ہیں۔

یہ بات بھی عجیب ہے کہ ہر شہری سوا تین لاکھ کا مقروض ہے اور آنے والا بچہ بھی اس ملک کے قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پیدا ہوگا۔ اس بچے کو کیا خبر کہ اس کا مستقبل اس کے پیدا ہوتے ہی ابھی وہ دنیا کو آنکھیں کھول کر دیکھ ہی رہا ہوتا ہے کہ اس کی معصوم پیشانی پر سوا تین لاکھ روپے قرض کی لہریں جیسے ہی ثبت کر دی جاتی ہیں تو وہ رونے لگ جاتا ہے۔ بہرحال پیدا ہونے کے بعد بچے روتے تو ہیں اگر ابھی مقروض ہونے کے باعث نہ روئے تو بعد میں تو روئیں گے سب کے ساتھ مل کر۔

ایک اور عجیب بات پڑھنے میں آ رہی تھی کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے 3 سو ارب روپے کا قرض لے کر اسے استعمال کیے بغیر اس کا سود بھر رہی ہے، اگر آج ہم نے قرضوں سے نجات حاصل کرنے کی تدبیر نہ کی، قرض کے اس کشکول کو توڑ کر اپنے وسائل پر بھروسہ نہ کیا تو تاریخ کے صفحات پر ہمارا ذکر ایک ایسی قوم کے طور پر ہوگا جس نے اپنی بقا کا سودا چند ڈالروں کے عوض کر دیا تھا۔ یہاں پر وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے اور ہر سیکنڈ کے ساتھ اس قرض کے سود کا ہندسہ بڑھ رہا ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کے حکام کے مطابق قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ مسلسل بڑھتا ہوا مالی خسارہ ہے جسے پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ کمیٹی نے معاشی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ابھی ہم آئی ایم ایف کے ساتھ 37 ماہ کے طویل مدتی پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ مارچ 2026 میں ہی آئی ایم ایف مشن کے تیسرے جائزے کے بعد 1.3 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی گئی۔

 دراصل ہم ایک ایسے مہاجن کے ساتھ ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں جس کے ہاتھ میں حساب کا وہ ترازو ہے جو ہماری سانسوں کا بھی وزن کرتا ہے اور ہمیں جب قلیل قرضہ تھماتا ہے جس سے نہ تو غریب کی بھوک مٹتی ہے نہ ہی اجڑے ہوئے کھیتوں میں ہریالی آ سکتی ہے اور شرطیں ایسے معلوم دیتی ہیں جیسے گھروں کے چراغوں کا تیل مانگ لیا ہو، فصلوں کی خوشبو کا سودا کر لیا ہو۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھاتے چلے جاؤ، بجلی کے نرخ بڑھتے چلے جائیں۔ شنید ہے کہ بجلی کے نرخ پھر بڑھنے والے ہیں، یہ 1.3 ارب ڈالر کی امداد بظاہر ایک بھاری پتھر ہے جوکہ خسارے کی کشتی میں رکھ دیا گیا ہو۔ آج یا کل کشتی نہ ڈوبے، اس لیے اسے بچانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 اگر ہم پاکستان کی معیشت کے شکستہ ڈھانچوں پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ قینچی اب ہمارے بدن کی رگیں کاٹ رہی ہے۔ آج پاکستان کا ہر بچہ اس ضرب المثل کی عملی تفسیر بن چکا ہے کہ ’’باپ کرے تو بیٹا بھرے‘‘ وہ بچہ جس نے ابھی چلنا بھی نہ سیکھا ہو، وہ سوا تین لاکھ روپے قرض کا بوجھ اٹھائے پیدا ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرطوں میں اسی بات کی بھرمار ہوتی ہے کہ بجلی مہنگی، گیس مہنگی۔ اب حکومت کی طرف سے کفایت شعاری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری اداروں کی گاڑیاں ایک طرف کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو رہا ہو لیکن دیکھنے والی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ کتنے اداروں کے افسران اب بھی اسی طرح کروفر کے ساتھ بازاروں میں مارکیٹوں میں زیادہ گاڑیوں کے ساتھ گشت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

حکومت کی خرچ کم کرو، کفایت شعاری کی پالیسی کو نظرانداز کرنے کے نظارے اکثر شہریوں کے سامنے ہیں لیکن کسی بھی سوال، جواب کا نہایت ہی سخت طریقے سے جواب دیا جاتا ہے۔ کتنی خبریں ایسی بھی سننے کو مل رہی ہیں جو بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ہزاروں من گندم غائب ہو گئی۔ اس کی تحقیق کرائی جائے اگر خبر صحیح ہے تو ہر طرح کی معلومات حاصل کی جائیں اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، اگر اسی طرح کفایت شعاری کا مذاق اڑایا جاتا رہا اور بدانتظامی کے مظاہرے ہوتے رہے تو یہ قرض اب لوہے کی زنجیریں نہیں رہیں گی بلکہ ہندسوں کی زنجیریں بن جائیں گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بھارت کی ڈالر کے بجائے ایران سے تیل چینی کرنسی یوآن میں خریداری؛ رائٹرز کا دعویٰ

Published

on


بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے امریکی ڈالر کے بجائے ادائیگیاں اب چینی کرنسی یوآن میں کی جا رہی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی آئل ریفائنریز نے امریکی پابندیوں کے تحت دی گئی عارضی رعایت کے دوران ایرانی تیل خریدا۔

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے لیے بھارتی آئل ریفائنریز نے ادائیگیاں ممبئی میں قائم ICICI Bank کے ذریعے چینی یوآن میں شروع کر دی ہے۔

رائٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے گزشتہ ماہ روسی اور ایرانی تیل کی خریداری کے لیے 30 روزہ عارضی رعایت دی تھی جس کا مقصد جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر طویل عرصے سے عائد امریکی پابندیوں کے باعث ادائیگی کے نظام میں مشکلات کے باعث کئی خریدار ممالک ایرانی تیل سے گریز کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس نئی ادائیگی اسکیم کے ذریعے ان رکاوٹوں کو جزوی طور پر کم کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر مالیت کے قریب 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل خریدا جو گزشتہ 7 سال بعد بھارت کی جانب سے ایرانی تیل کی پہلی باضابطہ خریداری قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی نجی ریفائنری ریلائنس ریفائنری کے لیے ایرانی تیل لے جانے والے چار جہازوں کو بھی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی۔

رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریفائنریز کی جانب سے ادائیگیوں کے لیے ICICI بینک استعمال کیا جا رہا ہے جو اپنی شنگھائی برانچ کے ذریعے چینی یوآن میں رقوم ایرانی فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر رہا ہے۔

تاہم ان فروخت کنندگان کی حتمی شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

عثمان طارق کا بھارتی کرکٹ ٹیم سے متعلق بڑا بیان!

Published

on



کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر عثمان طارق نے کہا ہے کہ ان کی بولنگ عیاں نہیں ہوئی بلکہ اب بیٹرز ہوشیار ہوگئے ہیں۔ عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی بھارتی کرکٹ ٹیم نے ان کی بولنگ سے نمٹنے کے لیے خاص منصوبہ بندی کی تھی۔

پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز کے خلاف کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے عثمان طارق نے کہا کہ اگر اچھی گیندیں کرائی جائیں تو وکٹ ضرور ملتی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ بیٹرز ان کی بولنگ کو سمجھ چکے ہیں،دراصل اب بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی عقل استعمال کرتے ہیں اس لیے وکٹ ملنے میں دقت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جانب سے بہترین بالنگ کرتے ہیں، صورتحال کے مطابق گیندیں کراتے ہیں لیکن نتائج ان کے ہاتھ میں نہیں۔

اسپنر کا کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ پر لاہور کے مقابلے میں زیادہ مشکلات ہیں، یہاں پر اسپنرز کامیاب ہیں۔

کسی بھی میچ میں تاخیر سے بولنگ دیے جانے کے سوال پر عثمان طارق نے کہا کہ جب  کپتان صورتحال کے مطابق ضرورت محسوس کرتا ہے وہ انہیں بولنگ دیتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی ثالثی اور بدلتا ہوا مشرق وسطیٰ

Published

on


امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کررہے ہیں۔ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے، اگر ایران سے ڈیل ہوگئی تو معاہدے پر دستخط کرنے پاکستان جا سکتا ہوں۔ ایران نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایک بڑے غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک میں شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحا میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔قطر کے دورے کے بعد شہباز شریف شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کی شام اپنے دورہ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے جہاں ان کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے سرکاری دورہ ایران کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ہمیشہ ایک پیچیدہ معمہ رہی ہے جہاں طاقت، مفاد، نظریہ اور جغرافیہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ کسی ایک عنصر کو الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی محض علاقائی نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

موجودہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، تاہم اس میں ایک غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ ایک طرف ایران اور امریکا جیسے دیرینہ حریف ایک بار پھر مذاکرات کی دہلیز پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ دوسری طرف پاکستان نے ایک فعال، مربوط اور بامقصد سفارتی کردار کے ذریعے خود کو اس ممکنہ مفاہمتی عمل کا ایک اہم فریق بنا لیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف غیر متوقع ہے بلکہ اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے تسلسل، حکمت اور توازن کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ قطر کو اگر محض ایک رسمی یا روایتی سفارتی سرگرمی سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا، کیونکہ اس ملاقات کے پس منظر میں جو علاقائی اور عالمی حرکیات کارفرما ہیں، وہ اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ قطر گزشتہ برسوں میں خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر منوانے میں کامیاب رہا ہے جو نہ صرف متحارب فریقین کے درمیان مکالمے کا پل بن سکتا ہے بلکہ پیچیدہ تنازعات میں قابلِ عمل راستے بھی تجویز کر سکتا ہے۔ پاکستان کا قطر کے ساتھ سیکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دراصل ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد خطے میں ایک ایسے اتحاد کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے جو کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔دوحا کے بعد انطالیہ کا سفر اس سفارتی تسلسل کو مزید واضح کرتا ہے۔

ترکیہ کی خارجہ پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بیک وقت مغرب اور مشرق دونوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے اور کئی مواقع پر ایک توازن ساز کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی تعلقات اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ سفارتی لائحہ عمل ترتیب دے سکیں جو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کرے بلکہ وسیع تر خطے میں ایک نئے توازن کی بنیاد بھی رکھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دورے محض دوطرفہ تعلقات کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی نقشے کا حصہ ہیں جس میں مختلف ریاستیں ایک مشترکہ مقصد کے تحت قریب آ رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ اس پورے عمل کو ایک اور جہت فراہم کرتا ہے، جو خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ سیکیورٹی اور تزویراتی نوعیت کے بھی ہیں۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں جس انداز سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران،امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر بات کی گئی، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور ہمہ جہتی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عسکری مرکز کا دورہ ایک علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایران کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور اعتماد سازی کی کوششوں کا مظہر ہے۔

یہ تمام سفارتی سرگرمیاں اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جب امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جاتا ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان محض ایک رسمی تعریف نہیں بلکہ اس میں ایک عملی امکان پوشیدہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ابھر سکتا ہے جہاں ایک تاریخی نوعیت کا معاہدہ طے پا سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس ذمے داری کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا کہ وہ اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے۔تاہم اس امید افزا منظرنامے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات نہایت گہرے اور پیچیدہ ہیں۔

ان اختلافات کی جڑیں محض حالیہ برسوں تک محدود نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں سیاسی عدم اعتماد، نظریاتی تصادم اور تزویراتی رقابت شامل ہیں۔ جوہری پروگرام اس تنازع کا مرکزی نکتہ ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کا کردار، اور مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایسے مسائل ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی ناکامی اور ان کی خلاف ورزیاں اس عدم اعتماد کو مزید گہرا کر چکی ہیں، جس کے باعث کسی بھی نئی پیش رفت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے حالیہ بیانات، جن میں مذاکرات کی خواہش اور لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم شامل ہے، ایک محتاط لچک کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس لچک کو کمزوری یا مکمل آمادگی سمجھنا غلط ہوگا۔ ایران اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس کی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مسلسل کشیدگی اس کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتا ہے مگر ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔دوسری جانب عالمی سطح پر پیدا ہونے والا توانائی اور خوراک کا بحران اس صورتحال کو مزید نازک بنا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تیل، گیس اور کھاد کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر بھی اثر پڑتا ہے، جو بالآخر خوراک کے عالمی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری کیے گئے انتباہ اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یہ مسئلہ محض علاقائی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

یہاں پاکستان کی سفارت کاری ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک کڑا امتحان بھی ہے۔ پاکستان کو نہ صرف ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہے بلکہ اسے اپنے قومی مفادات کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو وسعت دے اور ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھائے۔اگر اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے اتحاد اور روایتی طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

اب وہ وقت نہیں رہا جب چند بڑی طاقتیں دنیا کے فیصلے طے کرتی تھیں، اب درمیانے درجے کی طاقتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کریں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی تجربے اور علاقائی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ ہمیشہ ان اقوام کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں درست فیصلے کرتی ہیں اور امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی موقع سے دوچار ہے جہاں وہ نہ صرف ایک علاقائی بلکہ ایک عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو منوا سکتا ہے۔

شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی بصیرت کو عملی حکمت عملی میں ڈھالے، توازن کو برقرار رکھے اور ایک ایسے راستے کا انتخاب کرے جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہو بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا باعث بنے۔





Source link

Continue Reading

Trending