Connect with us

Today News

کراچی کا نوحہ

Published

on



وطن عزیز پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا، لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن مستحکم نہ ہوسکا،جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ اس کو اولین قیادت جیسی بے لوث ایماندار قیادت آج تک نصیب نہ ہوسکی ۔

خدا کی حکمت کہ ان عظیم الشان اکابرین کو بے مروت موت نے زیادہ مہلت نہ دی اور پھرلوٹ کھسوٹ کرنیوالے ٹولے، اس پر قابض ہوتے رہے اور یوں بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے یہ بتدریج تنزلی کی شاہراہ پر رواں دواں ہے۔قدرت نے اس سے انگنت وسائل سے مالامال کیا ہے پر وہ سارے وسائل قبل اس کے عوام الناس کی فلاح کے لیے استعمال ہوں ،وہ اس سے اپنی ہوس کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے رہے اور کر رہے ہیںجب کہ عوام ان کی تنخواہوں و دیگر مراعات کے لیے چندہ جمع کرکے خصوصا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں تاکہ ان کی نہ ختم ہونے والی ضروریات زندگی کو پورا کیا جاسکے۔

وطن عزیز کے دیگر شہروں کی ترقی خوبصورتی دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے، وہاں روشنیوں کے شہرکراچی کی تباہی وبربادی، لاچاری محتاجی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بدنصیب شہر کراچی وہ ’’مظلوم ماں‘‘ ہے جو دیگر تمام شہروں ودیہاتوں سے آنیوالے افراد کو نہ صرف گلے لگاتی ہے بلکہ وہ جب تلاش معاش کے لیے یہاں آتے ہیں تو ایک ماں کی بے لوث مامتا ان کے لیے امڈ امڈ کر آرہی ہوتی ہے اور وہ انھیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

یہ دیگر تمام شہروں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے آمدنی پیدا کرتی جس سے ملکی نظام کی چکی چلتی ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کے حقوق کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ دور حاضر میں کراچی انگنت مسائل سے دوچار ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس کی بیشتر سڑکیں تباہ کردی گئیں، ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کر کے جس سے عوام کا بھلا تو دور برا ہی برا ہوتا چلا جا رہا ہے، منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں بدل گیا ہے اور اب بھی اس نہ ختم ہونے والے منصوبوں کے اختتام کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ رہتی دنیا میں ہی مکمل ہونگے یا قیامت کے صور کے ساتھ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

پانی ،بجلی،گیس کا شدید بحران اوپر سے ستم یہ کہ بل عدم دستیابی کے باوجود اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوش رباء اضافے کیساتھ عوام کے منہ پر دے مارے جاتے ہیں۔سڑکوںکی مرمت کے دوران پانی کی لائنوں پر ضرب لگنے سے کئی کئی دن تک پانی کا رسائو سڑکوں پر اور گھروں میں عدم دستیابی۔گیس کی بندش وہ بھی اس عظیم ملک میں جہاں گیس دستیاب ہوئی ۔حیرت انگیز بات نہیں، عوام قیمت سے گیس اونچے اونچے نرخ پر خریدتے ہیں اور بل بھی ادا کرتے ہیں یہ کیسا انصاف ہے؟ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام الناس نے مہنگے مہنگے سولر پینل لگوالیے ہیںاپنی سہولت کے پیش نظر۔

اگر برسراقتدار حکومت عوام کو وہ بنیادی سہولتیں مہیا نہ کرسکے جس کی وہ ذمے دار ہے تو کیا وہ اقتدار میں رہنے کی اہل ہے؟لیکن اس بات کا احساس ان اشرافیہ کو کہاںہوسکتا ہے ان کی فکر میں تو یہ بات ہی نہیں کہ ایک دن اس فانی زندگی نے ختم ہوجانا ہے۔ عوام بے حس ہوچکے ، بلکہ مردہ ہوچکے ہیں، ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرکے اس جبر کی چکی میں پس پس کر کہ اب وہ اپنے حق کی آواز اٹھانا تک بھول گئے توکیا رب نہیں دیکھ رہا، فرشتے نامہ اعمال لکھ نہیں رہے، سب کچھ ہورہا ہے جیسا اللہ رب العزت کی منشاء ہے صرف رسی دراز چھوڑی ہوئی ہے جس دن اس سے وہ تنگ کرے گا سب کو سب کی گئی حق تلفیاں یاد آجائیں گی۔

آئے دن نت نئے ٹیکسز ان پرلاگو کیے جاتے ہیں جب کہ آمدنی چار آنے اور خرچہ روپیہ والا حساب ہے۔یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی انسانی پہنچ سے بہت دور ہوگئی ہیں۔دور حاضر میںدی جانیوالی تعلیم و تربیت تو بہت دورکی بات اس لائق نہیں کہ گزرے معاشرے جیسے اسلاف تیار ہوسکیںجس میں والدین اور اساتذہ برابر کے قصور وار ہیںچونکہ دونوں ہی نے اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ نبھانا چھوڑ دیا جو کہ ماضی کے بے لوث والدین اور اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں،ہر کوئی نفسا نفسی کی دوڑمیں لگا ہوا ہے جس کے زیر اثر وہ اپنی عطا پر خوش نہیں بلکہ دوسرے کی عطا پر شاکی نظر آتا ہے اور یوں وہ اپنی خوشیاں بیچ کر اپنے لیے دکھ درد جمع کررہا ہے ۔

عوام بے حسی کی مورت بن گئے ہیں تو اللہ ماشاء اللہ ان پر حکمران بھی ویسے ہی مسلط کردیے گئے ہیں جو اتنے احساس سے عاری ہیں کہ گزر گاہوں کی ایک ساتھ بندش کردیتے ہیں جو کہ کسی ناگہانی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور یوں یہ کراچی شہر کی ’’گڈ گورننس‘‘کی بھرپور عکاسی کرتی جا بجا نظر آتی ہیں جب کہ ان ترقیاتی کاموں کی نسبت مہنگائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک سفید پوش بھی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نہ کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے یا خودکشی کر کے اس جہاں فانی سے کوچ کر جائے، پر ان باتوں پر نظرتو صرف وہ حکمران پالیسی ساز ڈال سکتے ہیں جنھیں خوف خدا ہو اور وہ عوامی مشکلات تکلیفوںکو آسانی میں بدلنے کا جذبہ رکھتے ہوں،اپنی عاقبت کے لیے پر افسوس صد افسوس موجودہ حالات کو دیکھ کریہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ ان کو وطن عزیز کے شہریوں سے ان کے دکھ درد مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

حالیہ پیڑولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ جس کا اثر صرف ذرائع آمدورفت کی سہولتوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔شہر کراچی کی کئی معروف شاہراہیںٹریفک جام کا ایسا کرب ناک منظرنامہ پیش کرتی نظر آتی ہیں جب کہ انڈر پاس ،بائی پاس و دیگر جدیدیت کے نام پر نت نئے ڈیزائین سڑکوں پر بنائے گئے جن کی قلعی بارش کے چند قطروں سے کھل جاتی ہے پھر دوبارہ ان کی مرمت کے نام پر لاکھوں کروڑوں کی خرد برد کر کے اپنی خندق بھرے جاتے ہیں پھر بھی لالچ اور ہوس کی نہ ختم ہونے والی بھوک مٹتی ہی نہیں چونکہ حرام ان کے منہ کوجو لگ گیا ہے اور اس ٹریفک جام میں پھنسے مظلوم عوام کا وقت تکان اور سب سے بڑھ کر اس ایندھن کا کیا جس کی قیمت مڈل کلاس کو اپنی جیب سے دینی پڑتی ہے۔

ظاہر ہے والدین بڑی مشکلات اٹھا کر اپنی اولادکو پروان چڑھاتے ہیں، وہ کہاں اس بات کو تصور میں لاسکتے ہیں کہ ہم اپنے آرام اور خوشی کے لیے اپنے بچوں کے خوبصورت مستقبل میں رکاوٹ بنیںاوروہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر انھیںاپنے سے دور کردیتے ہیں۔ سعادت مند اولاد بھی چکی کے دوپاٹوں میں پس کر نہ یہاں کے ہو پاتے ہیں نہ وہاں کے۔ لیکن مشرقی ممالک خصوصا پاکستان میں رہنے والے والدین کی اکثریت آخری عمر میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت و عقیدت کے باعث اس کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یوں محبت کرنے والی اولاد اور والدین مختلف نفسیاتی دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات

Published

on



 نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کیساتھ جاری حساس مذاکرات میں اس کے تمام جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دے دی ہے، جب کہ امریکی صدر اب تک ایسی ٹھوس یقین دہانی کے خواہاں ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد روانگی سے قبل کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلاف اسی نکتے پر برقرار ہے کہ ایران کو کیسے روکا جائے کہ وہ نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ طویل مدت تک جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر جوہری افزودگی کی مستقل پابندی کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایران اپنی تمام جوہری سرگرمیاں 20 برس کے لیے روک دے تاکہ ایران کے لیے یہ موقف اختیار کرنا ممکن ہو جائے کہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقِ افزودگی سے ہمیشہ کے لیے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ذرائع کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر یہ تجویز سامنے رکھی ہے کہ بیس سال کے بجائے پانچ سال تک اپنی جوہری سرگرمی معطل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق تہران نے اسی نوعیت کی تجویز اس سے قبل فروری میں جنیوا میں ہونے والے ناکام مذاکرات میں بھی دی تھی اور انھی مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکرات میں کئی دیگر اہم امور بھی زیر بحث رہے کہ جن میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کی بحالی اور حماس و حزب اللہ جیسے گروہوں کی ایرانی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سب سے بڑا تنازع بدستور یہی ہے کہ ایران نہ تو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، نہ ہی اپنی وسیع ایٹمی تنصیبات ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرنے پر کسی بھی طور آمادہ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت اصل اختلاف جوہری پروگرام کے اصولی خاتمے پر نہیں بلکہ اس کی معطلی کی مدت پر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دونوں فریق آیندہ چند روز میں ایک اور بالمشافہ ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ مختلف بیانات میں ماضی میں اوباما دور کے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس معاہدے میں شامل بعض شقیں وقتی تھیں، جو بتدریج ختم ہو جاتیں اور جن کے مان لینے سے ایران کو مزید افزودگی کی اجازت مل جاتی اور 2030 تک بیشتر پابندیاں ختم ہو جاتیں، اگرچہ عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کے تحت ایران پر بم بنانے کی پابندی برقرار رہتی، لیکن ٹرمپ کے نزدیک یہ انتظام ناکافی تھا۔

امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ ایسے اقدامات سے بھری پڑی ہے جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو سست کرنا یا اس کی رفتار کم کرنا رہا ہے۔ کبھی یہ کام سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا، کبھی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے، اور کبھی سفارتی کوششوں سے۔ اس تمام دباؤ کے باوجود ایران کو ایٹم بم تک پہنچنے میں ان ممالک سے بھی زیادہ وقت لگا ہے جنھوں نے سنجیدگی سے جوہری ہتھیار حاصل کیے، جن میں شمالی کوریا، بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کی شام کہا کہ پاکستان میں ایران کیساتھ’’اچھی بات چیت‘‘ہوئی، تاہم اب فیصلہ تہران کو کرنا ہے۔ ان کے بقول ایران نے کچھ لچک ضرور دکھائی، مگر’’ابھی مطلوبہ حد تک پیش رفت نہیں کی۔‘‘ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم نے ایران کے سامنے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جاری بحری ناکہ بندی نے ایران پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے تہران کی معاہدے کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔

مذاکرات میں ایک اور اہم مسئلہ ایران کے پاس مبینہ طور پر موجود 970 پاؤنڈ ایسے یورینیم کی موجودگی ہے جو نیوکلئیر ہتھیار سازی بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ امریکی مطالبہ ہے کہ یہ مواد ایران سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ اسے کسی ممکنہ جوہری ہتھیار پروگرام میں استعمال نہ کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی زیر غور ہے کہ صدر ٹرمپ اصفہان میں زیر زمین محفوظ اس ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے زمینی کارروائی کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

جب کہ ایران نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم ملک کے اندر ہی رہے گا، البتہ وہ اسے اتنا کم افزودہ کرنے پر تیار ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار سازی کے قابل نہ رہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ قدم اگرچہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے وقت میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران بعد میں اسی مواد کو دوبارہ افزودہ کر کے موجودہ سطح یعنی تقریباً 60 فیصد تک لا سکتا ہے، جب کہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار سطح 90 فیصد سمجھی جاتی ہے۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایک اور اہم پہلو ایران کے منجمد مالی وسائل کی بحالی کا بھی ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ مغربی ممالک اس کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے فنڈز بحال کریں، جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے اور ٹرمپ کے پہلے دور کی پابندیوں کے باعث قطر کے بینکوں میں منجمد پڑے ہیں۔صدر ٹرمپ برسوں سے یہ الزام دہراتے رہے ہیں کہ سابق امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایران کو’’جہازوں سے بھری ہوئی‘‘نقد رقم فراہم کی تھی۔

ان کا اشارہ ان 1.4 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی کی طرف تھا جو طویل عرصے سے منجمد تھے، جب کہ اس کیساتھ تقریباً 300 ملین ڈالر سود بھی شامل تھا۔سفارتی مبصرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے، تاہم موجودہ پیش رفت سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان مکمل تعطل کے بجائے محدود مگر قابل ذکر سفارتی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے، صوبائی وزیر کھیل

Published

on



صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکرنے کہا ہے آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے ۔

صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکر نے وزیر اعلیٰ پنجاب میراتھن ریس کے حوالے سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ لوگ صبح سے یہاں پہنچ چکے ہیں، پنجابیوں کو صبح سویرے اٹھانا مشکل ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے سب لاہوریوں کو اٹھا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا وثزن تھا کی نوجوانوں کو کھیلوں میں زیادہ حصہ لینا ہو گا اور وہ پورا ہو رہا ہے  اور ہمارا گول ہے کہ اگلے نومبر تک ہم ایک لاکھ لوگوں کی رجسٹریشن کریں اور ان کو اکٹھا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب بڑے انعامات آج ملے گے انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ ریس میں شامل ہونگا ، پوزیشن تو نہیں لے سکتا لیکن ریس میں حصہ لینے کے لیے پرجوش ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جیسی دبئی میں میراتھن ہوتی ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اس کا مقابلہ کروں، ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے شہریوں نے حصہ لیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

 کپتان محمد رضوان نے مسلسل 7 میچز میں راولپنڈیز کی ناکامی کی اصل وجہ بتا دی

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے مسلسل سات میچز میں ناکامی اور ٹیم کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی۔

لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی، جس کا اثر براہ راست ٹیم کے نتائج پر پڑا۔

انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میری طرف سے کوئی کمی رہی ہوگی، اسی لیے ایسا نتیجہ سامنے آیا۔ میں نوجوان کھلاڑی کے ساتھ اوپن کر رہا تھا، پوزیشن کے حوالے سے میری اپنی خواہش ضرور ہو تی ہے لیکن ٹیم کا فیصلہ ہمیشہ متفقہ ہوتا ہے۔

محمد رضوان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم مسلسل ہار رہی ہو تو مثبت پہلو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم کچھ چیزیں حوصلہ افزا بھی رہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ٹیم کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔

راولپنڈیز کے کپتان نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کو صرف نتائج سے نہیں جانچنا چاہیے، بطور کپتان آپ صرف کوشش کر سکتے ہیں لیکن اگر غلطیاں ہو جائیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

محمد رضوان نے اپنی ذاتی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میری پرفارمنس نہ ہو تو پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہمت ہار جاؤں۔ کرکٹ میرے لیے جنون ہے، مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا، میں محنت کرکے واپس آؤں گا۔

رضوان نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ہے، انہوں نے کہاکہ میں مانتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے، اب میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور یہ راولپنڈیز کی مسلسل ساتویں شکست ہے، ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

 



Source link

Continue Reading

Trending