Today News
شعری مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘
جی ہاں ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ اس کتاب کے تخلیق کار انور ظہیر رہبر ہیں وہ اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثرنگار بھی ہیں۔ ان کے افسانے اور کالم پابندی سے اخبارات و جرائد میں شائع ہوکر قارئین و ناقدین سے داد وصول کرتے ہیں گزشتہ ہفتے انور ظہیر رہبر کا ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’انسانی اعضا کی تبدیلی اور مصنوعی نعم البدل‘‘ دوسرے کالموں کی طرح مذکورہ کالم بھی بے حد معلوماتی تھا ،ان کی تحریروں کے قاری کو تشنگی ذرہ برابر نہیں ہوتی ہے اس کی خاص وجہ اپنے موضوع سے پورا انصاف کرتے ہیں اور بھرپور معلومات فراہم کرنے میں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، یوں لگتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔
سفرنامہ نگاری میں بھی آپ کو مہارت حاصل ہے ’’سفر وسیلہ ظفر‘‘ والی بات تو ہے نہیں، بس اپنے شوق اور معلومات حاصل کرنے، دنیا کے نوادرات دیکھنے کا شوق ملکوں ملکوں کے سفر کے لیے آمادہ کرتا ہے اور پھر اس کی روداد کو تحریر کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور یہ تحریریں اور تصاویر پرنٹ میڈیا اور فیس بک کی زینت بن جاتی ہیں۔ اخبارات و فیس بک کے دوست احباب استفادہ کرتے ہیں، تحریر سے لطف اٹھاتے اور حیرت انگیز عجائبات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے وہ بھی جادو کی نگری میں شامل ہو گئے ہوں۔
ایسی ایسی عمارتیں، تاریخی مقامات اور خوب صورت مناظر پل بھر میں سامنے آجاتے ہیں جیسے کسی نے طلسماتی چھڑی گھما دی ہو۔ یہ مبالغہ آرائی ہرگز نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے سفرناموں کے پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ انھوں نے تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ ناول لکھنا ابھی باقی ہے وہ بھی بہت جلد لکھ لیں گے باصلاحیت اور باکمال قلم کار ہیں مسلسل لکھ رہے ہیں اور بہت خوب لکھ رہے ہیں۔ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت 2000 میں ہوئی، عنوان تھا ’’تجھے دیکھتا رہوں‘‘، ’’عکس آواز‘‘ یہ افسانوں کا مجموعہ ہے سن اشاعت 2018۔ ان کی دو اہم کتابیں جوکہ نثرنگاری پر مشتمل ہیں دونوں کتابیں 2023 میں اشاعت کے مرحلے سے گزریں۔ ایک کالموں کا مجموعہ بعنوان ’’پردیسی کے قلم سے‘‘ ان کی زنبیل میں شامل ہے۔
’’رنگ ِ برگ‘‘ اس کتاب میں جرمنی کے افسانہ نگاروں کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی ہیں، افسانہ اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں سجا دی ہے۔ انور ظہیر رہبر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’’سپنوں کے ساحل پر‘‘ حیدرآباد، بھارت کے ادبی افق پر جلوہ گر ہوا۔ دہلی بھارت سے ’’جھرمٹ‘‘ کے نام سے افسانہ نگاروں کے افسانوی مجموعے کا اشاریہ 2025 میں اور نظموں کا مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ تازہ کتاب ہے یہ دونوں کتابیں ایک ہی سال میں شائع ہوئیں جو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور مزید یہ کہ مجھے اس پر لکھنے میں کچھ تاخیر ہوئی۔
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
شعری مجموعے کے خالق اپنے مضمون پیش لفظ میں نظمیہ شاعری کو اظہار کا سب سے خوبصورت ذریعہ کہتے ہیں۔ انھوں نے بہت سلیس انداز میں نظم کی تعریف و تشریح کی ہے۔ جو قارئین شاعری اور اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں صرف پڑھنے کی حد تک محظوظ ہوتے ہیں تو ان کی معلومات میں یہ تحریر اضافے کا باعث ہوگی۔ماں جیسے رشتے کو اولاد کبھی نہیں بھول سکتی ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ یہ رشتہ بڑا انمول اور محبت کی چاشنی سے آراستہ اور گھلا ملا ہے۔
قربانی و ایثار کا نام ’’ماں‘‘ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے گزار دیتی ہے اپنی ہر خوشی دان کر دیتی ہے کہ اولاد اس کا دل و جگر ہے۔ شاعر نے اپنی ماں کی جدائی میں ایک خوبصورت نظم ’’ماں‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی ہے۔ فہرست کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، رشتوں میں بھی ماں کا ہی پہلا نمبر ہے۔
میری پیاری امی!
بظاہر آپ ہماری زندگی سے دور چلی گئیں مگر ہمارے دلوں سے آپ کو کوئی دور نہیں کر سکتا، کبھی بھی نہیں۔ آپ وہاں نہیں ہیں جہاں آپ رہتی تھیں، لیکن آپ ہر اس جگہ ہیں جہاں ہم ہیں۔ انور ظہیر رہبر ہیں تو پاکستانی ہی لیکن عرصہ دراز سے اپنی فیملی کے ساتھ برلن، جرمنی میں مقیم ہیں۔ کتاب میں 106 نظمیں شاعر کے جذبات و احساسات کی عکاس ہیں جو دیکھا محسوس کیا وہی شاعری کا حصہ بنا، وہ انھوں نے من و عن بیان کر دیا ہے اسی وجہ سے ہر شعر دل پر اثر کرتا ہے۔ انور ظہیر رہبر کی شاعری محض لفاظی نہیں بلکہ انھوں نے زمانے کے دکھوں، مسائل اور تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ خوبصورت اور بامعنی نظمیں تخلیق کی ہیں۔
ان کی شاعری میں جہاں موسم بہار کے رنگ مہکتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں زندگی کی بے ثباتی، آس و نراس کی کہانیاں بھی سانس لیتی ہیں اور سچے جذبے لفظوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شاعر کے کلام میں پوری اور بھرپور زندگی اپنی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ پیر پسار کر بیٹھی نظر آتی ہے کبھی ماتم کرتی، اپنی ناکام تمناؤں کا نوحہ سناتی ہے۔ ان کی ایک نظم ’’لوٹ آؤ‘‘ اگر ہم اس نظم کا مطالعہ کریں تو خوف کی دبیز چادر نے تخلیق کار کے جسم و جاں اور دل ناتواں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ’’لوٹ آؤ‘‘ مایوسی کا استعارہ ہے، امید کے ٹوٹتے ہوئے تارے شاعر کو ناکامی اور اداسی کی اتھاہ وادیوں میں دھکیل رہے ہیں اس نظم سے چند اشعار۔
لوٹ آؤ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔۔۔۔ وقت کی کالی گھٹائیں
ان راستوں کو۔۔۔۔۔ جن پر ہم اکثر ملا کرتے تھے
اندھیروں میں گم کر دیں۔۔۔۔۔ دنیا تو ظالم ہے لوگو۔۔۔۔ درد
کے اس موسم میں۔۔۔۔ جگنو کی مدھم روشنی بھی۔۔۔۔۔
ہمیں ایک دوسرے سے چھین لے جائیں گے
اور ہم اجنبی ہو جائیں گے لوٹ آؤ
اسی قبیل کی ایک اور نظم ’’چوکھٹ‘‘ اس نظم میں بھی بے اعتباری اور ناکامی کی مرجھائی ہوئی کلیاں اپنی بے ثباتی کا نوحہ بیان کر رہی ہیں۔ شاعر نے ٹوٹے دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار بے حد اچھوتے انداز میں کیا ہے۔
نظم ’’فاصلے‘‘ میں شاعر نے اپنی روٹھی ہوئی محبت کو منانے کے لیے الفاظ کے پیچ و خم سے محبت کا پیغام اس طرح دیا ہے۔
سنو اے جاناں! دل کی محبت میں فاصلے زیادہ ہیں
پاس اتنے رہ کر بھی دور بہت رہتی ہو
قربتوں کے معنی کو بھول بھول جاتی ہو
اتنا کیوں ستاتی ہو، مجھ کو کیوں رلاتی ہو
سنو اے جاناں!192 صفحات پر بکھری ہوئی شاعری مختلف موضوعات اور حقائق کی روشنی سے مزین ہے۔ انور ظہیر رہبر کی تخلیق کردہ ہر نظم باطنی وخارجی حالات کی روداد دل نشیں انداز میں بیان کرتی ہے۔ نظم ’’موبائل فون‘‘ آج جو گھر گھر کے حالات ہیں اس کی منظر کشی اس طرح کی ہے کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی گھر کے مکیں اپنے اپنے موبائل میں گم ہو کر دور بہت دور ہو جاتے ہیں۔
نظم ’’گلاب‘‘ نے بھی ایک مرثیہ کی صورت اختیار کر لی ہے، اس جیسی بے شمار نظمیں قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں اور وہ شاعر کے دکھوں کو محسوس کرکے اداس ہو جاتا ہے اور یہی ایک کامیاب تخلیق کار کا کمال ہے۔ مبارکاں!
Source link
Today News
پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا؛ سکندر رضا
سکندر رضا نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت اچھا فیصلہ ہے، اس سے پلیئرز پول بڑھے گا۔
’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 8 ٹیموں کے آنے سے بھی نئے اسٹارز تلاش کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، راتوں رات کچھ نہیں ہو گا، لیگ آج اس مقام پر ہے تو اس میں پانچوں ابتدائی اونرز کا اہم کردار ہے،وہ آغاز میں آئے اور 10 سال برقرار بھی رہے، انہی کی وجہ سے پہلے ملتان سلطانز اور اب حیدرآباد کنگزمین و راولپنڈیز کا اضافہ ہوا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر آف دی فیلڈ معاملات سے آپ کا کھیل متاثر ہو رہا ہے تو میدان میں جانا ہی نہیں چاہیے، اگر میچ میں حصہ لے رہے ہیں تو باہر کی باتیں بھول جائیں، ہم چند میچز خراب کھیلنے کی وجہ سے ہارے، سینئر بیٹرز پرفارم نہیں کر پائے ، ان میں میرا بھی بڑا کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے وکٹ پر زیادہ وقت گزارنا چاہیے تھا، بولرز نے بہتر کھیل پیش کیا ہے، میں کراچی میں شاید پچ کو نہیں سمجھ سکا، میں نے سبق سیکھا ہے اب اگلے میچز میں بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کروں گا۔
سکندر رضا نے کہا کہ نہ صرف لاہور قلندرز بلکہ دیگر ٹیموں کے پاکستانی پلیئرز بھی ساتھ اچھا وقت گذارتے ہیں، نئے پلیئرز بھی بہت عزت کرتے ہیں، ایسا ماحول بنتا ہے جس میں ہم بھول جاتے ہیں کہ میں باہر سے آیا ہوں ،اسامہ میر بھی گزشتہ دنوں کہہ رہا تھا کہ ہمارے غیرملکی کرکٹرز نہیں آئے، صرف دو ہی آئے ہیں۔
Source link
Today News
بائیں بازو کی بے حال قیادت اور کارکن…گل محمد منگی
ایک دور تھا کہ ملک میں بائیں بازو کی صرف تین چار پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، مزدور کسان پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور لیبر پارٹی ہوا کرتی تھیں۔ تب بھی بائیں بازو کے کارکنوں کو حیرت ہوتی تھی اور وہ برملا اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جب نظریہ ایک ہے تو پھر تین،چار لیفٹ کی جماعتوں کی کیوں کر ضرورت پیش آ رہی ہے؟ تب بھی لیفٹ کے لیڈر اپنے اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف تاویلیں پیش کرتے تھے جس طرح آج کر رہے ہیں۔
ان لیڈروں کی انا اور ضدپرستی نے آج لیفٹ کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے ان کی واپسی اور یکجا ہونے کی خواہش محض مذاق کے علاوہ کچھ نہیں۔ تمام لیڈر اپنی لیڈری پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا رعب، دبدبہ اور کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ان کو تو بس اس بات سے غرض ہے کہ جب اسٹیج پر آئیں تو ان کے لیے ’’زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگائے جائیں۔ میں نے بڑی محنت سے لیفٹ کی کچھ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں جو کہ اس وقت میدان عمل سے گو کہ کوسوں دور سہی مگر کبھی کبھار سوشل میڈیا، اخبارات اور ان کے کارکنوں کی زبانی ان کی سرگرمیاں سننے یا دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ان کے زیادہ بیان رسمی ہوتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر نہیں ہوتے ہیں۔ لیفٹ کی ایسی معروف اور غیرمعروف یا برائے نام پارٹیوں، گروہوں، تنظیموں اور ٹولیوں میں سے کچھ کے نام نامی یہ ہیں۔ جس میں کچھ قوم پرستانہ رجحان کی بھی حامل ہیں۔
(1) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (انجینئر جمیل احمد ملک) (2) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (امداد قاضی) (3) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (مائوئسٹ) (4) انقلابی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (5) عوامی ورکرز پارٹی (بخشل تھلو) (6) ریڈ ورکرز فرنٹ (7) پاکستان انقلابی پارٹی (مشتاق چوہدری) (8) پاکستان انقلابی پارٹی (صابر علی حیدر) (9) پاکستان لیبر کونسل (10) پورھیت مزاحمت تحریک (11) مزدور کسان پارٹی (ڈاکٹر تیمور) (12) سوشلسٹ پارٹی (13) سوشلسٹ ریزسٹنٹ مومینٹ(14) عوامی تحریک (15) قومی عوامی تحریک (16) لیبر قومی موومنٹ (17) نیشنل پارٹی بلوچستان، ڈاکٹر مالک (18) پاکستان مزدور اتحاد (19) عوامی راج تحریک (20) انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈنسی (21) پاکستان سرائیکی پارٹی (22) قومی محاذ آزادی (23) حقوق خلق پارٹی (24) برابری پارٹی (25) عوامی نیشنل پارٹی (26) ورکرز سولیڈرٹی فیڈریشن (27) پاکستان مزدور محاذ (28) سوشلسٹ ستھ(29) سندھ یونائیٹڈ پارٹی (30) پختونخوا ملی عوامی پارٹی (31) ھلال پاکستان ترقی پسند فورم (32) عوامی حقوق (33) کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی (34) تحریک مظلومین پاکستان (35) انقلابی سوشلسٹ موومنٹ (36) پاکستان ایکوئلٹی پارٹی (37) وطن دوست انقلابی پارٹی (38) سندھ ساگر پارٹی (39) طبقاتی جدوجہد (40) نیشنل ڈیموکریٹک موومینٹ (41) نیشنل پارٹی، ڈاکٹر حئی گروپ (42) عوامی جمہوری پارٹی (43) جیئے سندھ محاذ (خالق جونیجو) (44) جیئے سندھ محاذ (آریسر) (45) سندھ ترقی پسند پارٹی (46) پاکستان سوشلسٹ فورم (47) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (48) تحریک مظلومین پاکستان (49) سماج بدلو تحریک (50) دادا امیر حیدر جدوجہد کمیٹی (51) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (52) سندھ نیشنل فرنٹ (53) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (اسلم بنگلزئی) (54) مزدور کسان پارٹی (افضل خاموش) (55) بی این پی (عوامی) (56) بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) (57) یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی (58) پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) (59) عوامی جمہوری اتحاد پارٹی (سربراہ رانا مقصود، لاہور) (60) جمہوری اتحاد پارٹی (61) مزدور کسان پارٹی (بنگش گروپ) (62) ترقی پسند لکھاری محاذ (پنجاب) (63) پنجاب لوک امن (64) رکھ بچائو لوک لہر (65) طبقاتی کمیونسٹ پارٹی (66) غریب اتحاد انجمن شمسیہ (67) وارث شاہ وچار پرچار پرہیا(68) ادبی واشنا، مریدکے (69) پاکستان پیس فائونڈیشن پنجاب (70) عوامی اتحاد پارٹی (غفار رندھاوا) (71) جاگو پاکستان تحریک (قیوم نظامی) (72) عوامی ورکرز پارٹی (اختر حسین) (73) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور دیگر۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیفٹ کی اتنی ساری پارٹیاں بنانے کا آخر کوئی تو ذمے دار ہوگا؟ اس کے پیچھے کچھ تو مقاصد ہوں گے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے؟ میں نے جو تعداد اوپر بیان کی ہے، یہ ابھی میرے خیال میں ادھوری ہے۔ بہت ساری ایسی اور بھی لیفٹ کی پارٹیاں ہیں جو اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئی ہوں گی اور ان سے معذرت کرتا ہوں، اگر ان تمام کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک سو یا اس بھی تجاوز کر جائے گی۔
اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ’’بائیں بازو والے کم از کم فرقوں کے حوالے سے دوسروں کو مات دے چکے ہیں‘‘ بہرحال اصل معاملہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں جو کہ پسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق دلانے کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے ہاں اتنے سارے فرقے کس طرح پیدا ہوگئے؟ جب کہ بعض کے منشور تک ایک جیسے ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ مگر بہت ساری جماعتوں یا تنظیموں کا تو نظریہ بھی ایک ہی ہے! مگر اس کے باوجود ان کے اختلافات جو کہ فروعی یا مفادپرستانہ ہیں۔
ان کو بھی پیسہ بٹورنے کی لت لگ چکی ہے اور یہ بات کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی تھوڑی بہت یا زیادہ فنڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک ’’لیڈری‘‘کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور جو کوئی ان کی قیادت کو چیلنج کرتا ہے اسے باہر نکال کر دم لیتے ہیں۔ اب تو کچھ نے چین، ویتنام، نیپال اور کچھ اور ممالک میں اپنے کاروبار بھی سیٹ کرلیے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ سے حکومتوں کے اندر بھی پنجے گاڑ چکے ہیں۔ جس طرح بتایا جاتا ہے کہ جب شملہ معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو رہی تھی تو بائیں بازو کے ایک لیڈر نے ذوالفقار علی بھٹو کی مدد کی اور اندرا گاندھی کو منوالیا۔
یہ بات خود لیفٹ کے ایک سے زیادہ لیڈر فخریہ بیان کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس صلاحیت سے عاری ہیں کہ وہ سب کو کم از کم ایک میز پر ہی بٹھالیں۔ اس حوالے سے عابد منٹو نے ایک اچھی کوشش کی اور لیفٹ کے مختلف دھڑوں کو جوڑ کر ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ بنائی جو اب ’’دولخت‘‘ہوچکی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لیفٹ کا جو لیڈر کرسی پر بیٹھتا ہے اسے چپک ہی جاتا ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے باوجود جتنے بھی ممالک آزاد ہوئے وہاں پر بھی یہی حالت ہے۔ ان کو جمہوریت اور آمریت میں تفریق کرنا آتی ہی نہیں یا پھر اس صلاحیت سے محروم ہیں یا نظریاتی ممانعت ہے؟ کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا؟
Source link
Today News
مصلحت کے بازار میں …فاطمہ پیرزادہ
کہا جاتا ہے کہ 12 سے 25 سال تک کی عمر محض خواب دیکھنے کی نہیں، بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سب سے خوبصورت دہلیز ہوتی ہے۔ یہ وہ عہدِ شباب ہے جہاں انسان کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک اور حوصلوں میں شاہین جیسی اڑان ہونی چاہیے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ یہی وہ سنہرا دور ہے جب ہم اپنی سوچ کے افق پر نئے رنگ بکھیریں اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود اپنے قلم سے لکھیں۔آج میں زندگی کی اسی خوبصورت دہلیز پر کھڑی، خود سے اور اس بے حس نظام سے ایک معصومانہ مگر تلخ سوال کرتی ہوں کہ میں اپنے خوابوں کو آخر کس رنگ سے سجاؤں؟ کیا ان خوابوں کو وہ ’’عدل‘‘ مل پائے گا جس کے بغیر ہر حقیقت محض ایک سراب ہے۔
میں اپنے خوابوں کا نشان کہاں ڈھونڈوں؟ ان بوسیدہ دیواروں پر جہاں عدل کی شمع مدہم پڑ چکی ہے، یا اس ریاست کے افق پر جہاں سچ کی صدا بلند کرنے پر مصلحتوں کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ خواب ہی حقیقت کا روپ دھارتے ہیں، مگر یہاں تو تلخ حقیقتوں کے ہاتھوں خوابوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب وجود سے روح نکل جائے تو وہ محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے جسے مٹی کے سپرد کر دینا ہی قدرت کا آخری قرینہ ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ان ایوانوں سے انصاف کی روح رخصت ہو رہی ہو، تو ان بلند و بالا عمارتوں کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی، پھر ان اونچے عہدوں اور کرسیوں کا ٹھکانہ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔
ان سنگِ مرمر کے ایوانوں کی چمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب وہاں سچائی کا خون ارزاں ہو جائے، کیونکہ مٹی اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتی ہے، مگر مصلحت پسندوں کو تاریخ کے فراموش کردہ ابواب میں دھکیل دیتی،کیونکہ مٹی کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخ کبھی کسی کا قرض نہیں رکھتی۔ میرا قلم ابھی اس مٹی کے نوحے ہی رقم کر رہا تھا کہ سماعتوں میں ایک ایسا شور گونجنے لگا ہے جس نے عالمی ضمیر پر تنی مصلحتوں کی ردائے سیمیں تار تار کر دی ہے۔
میرا ضمیر اب قلم کو مصلحت کی پناہ گاہوں میں رکنے نہیں دیتا، بلکہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں ان جغرافیائی سرحدوں کی قید سے نکل کر ان ایوانوں کا رخ کروں، جہاں عدل کے قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں اور انصاف کے علم بھی بلند کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت کی مقتل گاہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔ یہ کیسا عالمی تضاد ہے کہ ایک طرف تو حقوقِ انسانی کے معتبر چارٹر تالیف کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف معصوموں کی سسکیوں پر’’ مصلحت وقت‘‘ کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ جہاں ضمیر کی پکار کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، وہاں انصاف محض ایک بے جان استعارہ رہ جاتا ہے، جس کی روح ظلم کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ میں ان بلند و بالا منصبوں سے پوچھتی ہوں کہ جب انسانیت کی قبا تار تار ہو رہی ہو، تو تمہارے یہ ’’من کے تمغے‘‘اور ’’وقار کے دعوے‘‘ کس المیے کی نقاب پوشی کر رہے ہیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ انسانیت کی قیمت ان مصنوعی تمغوں کی چمک سے ہرگز طے نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ جب تاریخ اپنا حساب مانگے گی، تو یہ چمکتے ہوئے اعزازات ان دامنوں پر لگے لہو کے گہرے دھبوں کو کبھی نہیں چھپا پائیں گے۔میں ان عالمی منصفوں کے سامنے ان کا اپنا ہی منشور رکھتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ فلسطین کے وہ معصوم بچے تمہاری ’’انسانی برابری‘‘ کی کسی بھی تعریف سے خارج نہیں کیے جا سکتے؛ ان کا خاک میں اٹا ہوا بچپن تمہارے ان سنہرے الفاظ کی افادیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ خاموش فریاد ہے جسے تمہارے تمام تر عالمی منشور بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کی وادیوں سے اٹھنے والی سسکیاں اتنی نحیف نہیں ہیں کہ تمہارے عدل کے ترازو میں سما نہ سکیں، بلکہ تمہارا نظام ہی ان کی آواز کی بازگشت سننے سے قاصر ہے۔
جب تمہارا قانون ہر فرد کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تو دنیا بھر میں بہتا ہوا بے گناہوں کا لہو دراصل تمہارے اس عالمی تحفظ کا تمسخر اڑا رہا ہے۔ میرا یہ اضطراب کسی بغاوت کا اعلان نہیں، بلکہ اس ’’انصاف‘‘ کی پکار ہے جس کا وعدہ تم نے خود انسانیت سے کیا تھا۔ میں اس عدل کی متلاشی ہوں جس کی فراہمی ہر ریاست کا فرض ہے، مگر افسوس! اگر یہ سنہرے اصول صرف طاقتور کی مصلحتوں کے اسیر ہیں، تو ایک عام انسان ان ضابطوں میں اپنا عکس کہاں تلاش کرے؟ یاد رکھیے! جو عدل سرحدوں اور رنگوں کی تمیز کرنے لگے، وہ ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ تشنہ ہی رہتا ہے۔اگر آج تمہارے ایوانوں کی خاموشی نہیں ٹوٹتی، تو تاریخ تمہیں ’’منصف‘‘ نہیں بلکہ ’’سہولت کار‘‘ لکھے گی۔
اور آنیوالے کل میں جب انسانیت ان تہذیبی کھنڈرات سے اپنا گم گشتہ وجود تلاش کرے گی، تو تمہارے پاس کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ میں آج تمہارے ضمیر کی دہلیز پر یہ سوال چھوڑتی ہوں، کیا انصاف صرف طاقتور کا ہتھیار ہے، یا حق اور سچ والوں کی آخری پناہ گاہ بھی؟ یاد رکھیے! اگر آج ہم نے اپنا یہ جمود نہیں توڑا، تو سمجھ لیجیے ہم سب نے انصاف کیساتھ ساتھ انسانیت اور اپنے وجود کے زوال پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔
میرے شعور نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو محسوس کیا، ان تمام حقائق اور اس تڑپ کو ایک مختصر آرٹیکل کی ’’تنگ دامنی‘‘ میں قید کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے اپنا قلم اس مٹی کے قرض اور ضمیر کی پکار کے سپرد کر دیا ہے اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔میں نے اپنا فرض ادا کرنے کی شروعات کر دی ہے، اب انتظار ہے ان منصفوں اور تاریخ دانوں کا جن کے قلم میں سچائی کی تپش سہنے کی جرات باقی ہے۔’’ نو ائے خاکِ وفائے سَرِ مقتل کی صورت میں حق کا یہ چہرہ اب وقت کی امانت ہے، جو بہت جلد اپنی تمام تر داستان کیساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport