Connect with us

Today News

پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے

Published

on


کراچی میں گیس، بجلی و پانی سے متاثرہ خواتین نے ایک منفرد اور پرامن احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے ہیں کہ آج ہمیں شدید مہنگی گیس و بجلی بھی میسر نہیں اور قدرت کے فراہم کردہ پینے کے پانی سے بھی ہم محروم ہیں۔

خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیا اور بہت چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جو چپ چاپ دھوپ میں کھڑی رہیں اور میڈیا والوں نے جب ان سے معلومات کیں تو وہ پھٹ پڑیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور 2026 میں بھی ہمیں بنیادی سہولیات میسر نہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم آگے جانے کی بجائے اس دور میں آ گئے ہیں کہ جس کو ماضی میں پتھر کا زمانہ کہا جاتا تھا جس میں بجلی تھی نہ گیس، آنے جانے کے لیے پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں تو تھیں نہیں اور جانوروں کے ذریعے چلائی جانے والی لکڑی سے بنائی گئی گدھا گاڑی اور بیل گاڑیوں اور اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا تھا۔

 گھروں میں روشنی کے لیے دیے، لالٹینیں اور موم بتیاں استعمال کی جاتی تھیں، ہوا کے لیے بجلی کے پنکھوں کا ہی تصور نہیں تھا لوگ اپنے گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں پر قدرتی ہوا میں سوتے تھے اور شدید گرمی میں جب ہوا بند ہوتی تھی لوگوں کا سونا دشوار ہوتا تھا تو وہ ہاتھ سے جھلنے والے یا بنائی گئی اشیا سے کھینچنے والے پنکھے استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے۔

ان دنوں کھانے محفوظ کرنے کے لیے فرجوں کا تصور ہی نہیں تھا نہ گیس ہوتی تھی نہ بجلی۔ لکڑی کے چولہوں، اپلوں سے دیہاتوں میں اور شہروں میں رات اور صبح کا ناشتہ اور کھانا گھریلو ضرورت کے مطابق کم مقدار میں اتنا ہی پکایا جاتا تھا جو وقت پر ہی استعمال ہو جاتا تھا۔ گھروں کے صحنوں میں کچھ چیزیں کے لیے چھینکے لٹکائی جاتی تھی، جن کو چھلنی یا جالی سے ڈھک کر لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ گرمی سے خراب نہ ہوں۔ پینے کے لیے کنوؤں سے پانی کھینچ کر مٹی کے گھڑوں میں رکھ لیا جاتا تھا جو رات کی معمولی ٹھنڈی میں ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ دودھ کو ابال کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔

رات کا کھانا مغرب سے پہلے اور صبح کا ناشتہ یا کھانا فجر کے بعد ہونے والی قدرتی روشنی میں کھا کر دیہاتوں کے لوگ کاموں کے لیے کھیتوں میں اور شہروں میں لوگ اپنے کاروبار اور دکانوں پر چلے جاتے تھے اور مغرب سے قبل دکانیں اور خرید و فروخت بند کرکے لوگ اپنے گھروں میں جاکر کھانے اور نماز عشا سے فارغ ہو کر جلد سو جاتے تھے اور فجر کے وقت اپنی نیند پوری کرکے سکون سے فریش اٹھتے تھے اور اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو کر پرسکون زندگی گزارتے تھے۔

قدرتی ماحول میں زندگی گزارنے سے بیماریاں برائے نام تھیں۔ چوری چکاری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے تھے جہاں سے ہوا بھی آتی تھی۔ خواتین مردوں سے بھی پہلے بیدار ہو کر گھریلو کاموں میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ راقم نے بچپن میں اپنے آبائی شہر شکارپور میں خود دیکھا کہ دودھ ،دہی کی دکانیں نماز فجر کے بعد کھل جاتیں اور دس بجے تک دودھ دہی ختم کرکے دکانیں بند کر دی جاتی تھیں۔ دوپہر بارہ بجے تک گوشت و مچھلی مارکیٹ بند اور عصر تک سبزیوں اور پھلوں کی دکانیں، پتھارے اور ریڑھیوں پر خریداری جاری رہتی اور لوگ جلد فارغ ہو کر گھروں میں چلے جاتے تھے۔

ہندوؤں کی کہاوت مشہور ہے کہ صبح دن نکلتے ہی کاروبار شروع کرو اور عصر کے بعد دن کی روشنی میں ختم کر لو۔ بجلی گیس کا تصور نہ تھا لوگ ضرورت کا پانی مختلف ذرائع سے حاصل کر لیتے تھے۔ دیہاتوں میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اپنے بڑے بچوں کو ساتھ لے جا کر دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کر لیا کرتی تھیں۔ پھر بجلی آئی، پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں میسر آئیں، گیس ملنے لگی تو ضروریات بدل گئیں۔ سائیکلوں کی جگہ موٹرگاڑیوں نے سفر آسان کیا اور ضروریات تبدیل ہوتی گئیں۔

موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی بہتات ہوئی۔ بجلی و گیس میسر آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ صبح کا کھانا دوپہر کو، دوپہر کا کھانا رات گئے۔ دیر سے سونا اور اٹھنا معمول بنا لیا گیا۔ گوشت، مچھلی، پھلوں، سبزیوں، دودھ کی دکانیں دن بھر کی بجائے رات گئے تک کھلتی ہیں۔ مارکیٹیں دن گیارہ بجے کے بعد کھلنے کے بعد رات دیر تک کھل کر بجلی استعمال کرتی ہیں۔ سڑکوں پر رات کو دن کا منظر ٹریفک کا اژدھام عام ہے۔

بجلی نہ ہو تو پٹرول و گیس کے سلنڈر، جنریٹر کام آتے ہیں۔ پینے کے پانی کی کمی جگہ جگہ بورنگ کرا کر حاصل کردہ پانی میں کچھ ادویات ملا کر اس پانی کو صحت افزا قرار دے کر منہ مانگے کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے جسے دودھ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا اور ہر مضر صحت اشیا عام فروخت ہو کر بیماریاں بڑھا رہی ہیں۔ بجلی، گیس و پانی نہ ملنے کی شاکی خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت کے انتہائی گراں نرخوں پر بھی بجلی میسر ہے نہ گیس، سرکاری واٹر لائنوں میں پانی نہیں، نجی واٹر ٹینکر منہ مانگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں، گیس کمپنیاں اپنے اعلان کردہ شیڈول پر بھی گھروں کو گیس فراہم نہیں کر رہیں جب دیکھو بجلی کی لوڈ شیڈنگ صرف پٹرول ہی سرکاری داموں میسر ہے۔ مہنگے پٹرول سے لوگ خود گاڑیاں ضرورت پر ہی استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین صبح بچوں کو بغیر ناشتے دیگر اشیا دے کر اسکول بھیجتی ہیں۔

گیس نہیں تو بجلی نہ ہونے سے ہیٹر ناکارہ پڑے ہیں۔ گھروں میں بہ مشکل سالن بن پاتا ہے تو باہر سے مہنگی اور مضر صحت آٹے کی روٹیاں خریدنا مجبوری بن چکی۔ وقت پر گھروں میں بجلی و گیس نہ ہونے سے مردوں کو کھانا نہ ملے تو سننا خواتین کو پڑتی ہیں کیونکہ ان کا بس خواتین پر ہی چلتا ہے حکومت کا تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس لیے خواتین کے لیے تو یہ دور پتھروں والا دور ہی بن کر رہ گیا ہے جب سہولتیں نہ ہونے پر بھی گزارا ہو جاتا تھا مگر اب مہنگی سہولیات کی موجودگی میں بھی گزارا ہے نا سکون، مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا جس کے پاس عوام کو دینے کے لیے صرف دعوے رہ گئے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ہرمز بحران، مذاکرات ہی واحد راستہ

Published

on


مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جب کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، ہمارے پاس اچھی خبر ہے، کل تک سرپرائز ہو سکتا ہے،ایک ذہین شخص وائٹ ہاوس آئے گا، انھوں نے دھمکی دی کہ بدھ تک معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی ختم کردی جائے گی۔ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ فریم ورک معاہدے تک امریکا کے ساتھ مزید براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔

امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کے خلاف ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جب کہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جب کہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف دو ، دن باقی رہ گئے۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی لغزش بھی وسیع پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جنگ بندی کے دن گنے جا رہے ہیں، بیانات کی شدت بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کے اعصاب کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے میں سفارت کاری کی ہر کوشش، ہر رابطہ اور ہر مصالحتی قدم غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

اس پیچیدہ اور خطرناک منظرنامے میں پاکستان کا کردار ایک سنجیدہ، متوازن اور ذمے دار ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو زندہ رکھا بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ باور کرایا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط بداعتمادی، جغرافیائی سیاست اور مفادات کے ٹکراؤ کا عکاس ہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں اطراف سے سخت بیانات نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ایران کا یہ مؤقف کہ جب تک اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان اور دباؤ کو مسترد کرنے کی پالیسی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان حالات میں جنگ بندی کا خاتمہ محض ایک سفارتی ناکامی نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک ایسے تصادم کا آغاز ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کو محض ایک علاقائی معاملہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی، یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ ہے، جس کے ذریعے دنیا کی معیشت کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ اس کی بندش نے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی پیدا کی بلکہ عالمی تجارت کے دھارے کو بھی متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک کے جہازوں کو واپس لوٹنے کی ہدایات، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹیں اور عسکری موجودگی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

اس پس منظر میں ایران کی جانب سے مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھولنے کی پیشکش ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر یہ اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک اعتماد کی فضا بحال نہ ہو۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خود امریکا کے اندر سے بھی اس جنگی ماحول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سابق امریکی قیادت کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ نہ صرف خطے بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی غیر مقبول اور غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا بیانیہ کمزور ہو رہا ہے جب کہ سفارت کاری کی ضرورت مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر قائم ہیںاور یہی ہٹ دھرمی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کی سفارتی کوششیں امید کی ایک کرن کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت حکمت، بردباری اور سنجیدگی کے ساتھ اس نازک معاملے میں کردار ادا کیا ہے۔ تہران میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں، مسلسل رابطے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نہ صرف خطے کے امن میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایسے حساس اور پیچیدہ تنازعے میں دونوں فریق پاکستان کی ثالثی پر آمادہ ہوئے۔پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو محض وقتی پیش رفت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کو جنگ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالنا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں قیادت سے ملاقاتوں میں جس انداز سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے تسلسل پر زور دیا گیا، وہ ایک ذمے دار عسکری قیادت کی عکاسی کرتا ہے جو صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی امن کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں سفارتی محاذ پر جو سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک متوازن اور فعال رخ کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہے۔ ایران فریم ورک معاہدے کے بغیر براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، جب کہ امریکا زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں دکھائی دیتا۔ ایران کی قیادت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔ دوسری طرف امریکا یہ مؤقف رکھتا ہے کہ خطے میں اپنی سیکیورٹی اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس تضاد نے مذاکرات کو ایک مشکل امتحان بنا دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے اور وہ ہے خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست۔ ایران کا یہ دعویٰ کہ وہ جنگ میں برتری حاصل کر چکا ہے اور اسی پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، اس کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کسی کمزور فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط ریاست کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی نگرانی جاری رکھنے اور اس سے گزرنے والے جہازوں پر شرائط عائد کرنے پر مصر ہے۔ اس طرز عمل کو بعض حلقے دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں جب کہ ایران اسے اپنے دفاع کا حق سمجھتا ہے۔دوسری جانب امریکا کے اندر بھی پالیسی کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ بعض حلقے جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دے رہے ہیں اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

یہ داخلی دباؤ بھی مذاکرات کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام میں عوامی رائے کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امریکی عوام اس جنگ کے خلاف ہیں تو حکومت کے لیے طویل عرصے تک سخت مؤقف پر قائم رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ایسے پیچیدہ حالات میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک بااثر ملک بھی ہے جس کے ایران سمیت کئی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں، جو اسے ایک منفرد پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک مؤثر ثالث بناتا ہے جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی تجارت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا طویل المدتی طور پر اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے، جب کہ امریکا کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ دباؤ کی پالیسی ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتی۔ فریقین کو اپنی پوزیشن میں لچک دکھانی ہوگی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی ثالثی ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ خطے کے عوام، جو پہلے ہی عدم استحکام، مہنگائی اور غیر یقینی کا شکار ہیں، کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہر بم، ہر میزائل اور ہر عسکری کارروائی دراصل انسانی المیوں کو جنم دیتی ہے، جن کا ازالہ دہائیوں تک ممکن نہیں ہوتا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، اور نفرت کی نئی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قیادتیں اپنی ذمے داری کا احساس کریں اور ایسے فیصلے کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے امن کی ضمانت بن سکیں۔اسلام آباد میں متوقع مذاکرات اس تناظر میں امید کی ایک اہم کرن ہیں۔ یہ نہ صرف ایک جغرافیائی مقام ہے بلکہ ایک علامت بھی بن چکا ہے کہ دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل مکالمے کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین اگر ایک بڑے تنازعے کے حل کا ذریعہ بنتی ہے تو یہ نہ صرف اس ملک بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت مثال ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

شادی کی تقریب سے چند لمحے قبل دلہن پر بھابھی نے سیاہ پینٹ پھینک دیا

Published

on



برطانیہ میں ایک دلہن کی شادی اس وقت خوفناک واقعے کا شکار ہو گئی جب اس کی بھابھی نے تقریب سے چند لمحے قبل اس پر سیاہ پینٹ پھینک دیا۔

امریکی  نشریاتی  ادارے فوکس نیوز کے مطابق یہ واقعہ ایک طویل خاندانی تنازع کے نتیجے میں پیش آیا۔ 35 سالہ جیما مونک اپنے بچپن کے ساتھی سے شادی کے لیے بے حد پرجوش تھیں۔

سفید لباس میں ملبوس، وہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے خوشی خوشی شادی ہال کی جانب بڑھ رہی تھیں کہ اچانک کسی نے ان کا نام پکارا۔ وہ رکیں اور اگلے ہی لمحے سیاہ پینٹ ان کے چہرے اور لباس پر بہہ رہا تھا۔

یہ حملہ کسی اجنبی نے نہیں بلکہ جیما مونک کی اپنی بھابھی نے کیا جس کے ساتھ خاندانی تنازع کافی عرصے سے جاری تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘

Published

on



شاید یہ ورلڈ کپ کے دنوں کی بات ہے ، کیمرہ پاکستانی ڈگ آئوٹ میں بیٹھے بابر اعظم کی جانب گیا جو مایوسی سے سر جھکائے بیٹھے تھے، ناقص فارم اس کی وجہ تھی، مجھے انھیں ایسے دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، میں نے اس پر ایک کالم بھی لکھنا شروع کیا جس کا عنوان تھا ’’بابر اعظم کا اداس چہرہ‘‘ البتہ پھر اسے مکمل کیے بغیر ڈلیٹ کر دیا،اس امید کے ساتھ کہ وہ جلد فارم میں واپس آئیں گے تو لکھوں گا کہ ’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘ ، شکر ہے یہ وقت چند ماہ بعد ہی آ گیا۔

 جب کوئی کھلاڑی اچھا پرفارم نہ کر سکے اور میڈیا خامیوں پر بات کرے تو اس کے پرستار سمجھتے ہیں کہ صحافی اس کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہوتی، بابر کسی ایک شہر نہیں پورے ملک کے اسٹار ہیں، ان کا جب نام لیا جائے تو لاہور نہیں بلکہ پاکستان ساتھ لکھا ہوتا ہے۔

 انھوں نے متواتر عمدہ کارکردگی سے اپنے لیے ایسا معیار سیٹ کر لیا کہ ففٹی کریں تو بھی لگتا ہے جیسے کچھ نہیں کیا، پھر ان سے فارم روٹھ گئی اور برسوں یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران بابر سے کئی غلطیاں بھی ہوئیں، سب سے بڑی غلطی ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری تھی، اس سے انھیں جلد فارم بحال کرنے کا موقع  نہ ملا۔

جب انسان کچھ بن جائے تو پھر اس کی ایگو سینئرز کے ساتھ مشاورت سے  بھی روکتی ہے کہ میں اتنا بڑا اسٹار مجھے کوئی کیا سکھائے گا، بابر نے بھی خامیاں دور کرنے کیلیے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں سے زیادہ رابطہ نہ کیا،اس کا نقصان ہوا، اب بھی ان کی فارم ڈومیسٹک لیگ (پی ایس ایل ) سے ہی واپس آئی ہے ناں، پشاور زلمی کی جانب سے وہ ماضی والے بابر ہی نظر آ رہے ہیں جو میدان میں اپنے کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے،وہ نہ صرف خود پرفارم کر رہے ہیں بلکہ دیگر کو بھی اچھی کارکردگی کی تحریک دلائی ہے۔

 اسی لیے ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر آ گئی، بابر کے مداحوں کو برا تو لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، چھوٹی بائونڈریز، ڈیڈ پچز، کمزور بولنگ یہ عوامل کسی بھی بیٹر کو بریڈ مین بنا سکتے ہیں، البتہ بابر کی اپنی کلاس ہے، طویل عرصے بعد پاکستان کو اتنا اچھا کوئی کھلاڑی ملا، مسئلہ اعتماد کا بھی تھا جو اگر آپ میں نہ ہو تو سڑک بھی پار نہیں کر سکتے۔

 انٹرنیشنل کرکٹ میں بابر کی حالیہ ناکامیوں کا بڑا سبب خود اعتمادی کا فقدان بنا، البتہ اب لگتا ہے کہ یہ ایشو حل ہو جائے گا، البتہ انھیں بھی اب احتیاط سے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہیے، برے دور میں بابر کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جس گروپ کے ’’زیرسایہ‘‘ ہیں اس نے انھیں فائدے سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا، وہ لوگ ان کا نام استعمال کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

اب اس حوالے سے ان کو احتیاط برتنی چاہیے، ساتھ ’’کنگ‘‘ جیسے ٹائٹلز کو سر پر سوار نہ کریں، کوہلی سے موازنے جیسی باتیں بھی بھلا دیں، ایسا پرفارم کریں کہ بھارتی کرکٹرز کا موازنہ بابر کے ساتھ ہو، مشکل وقت میں وہی لوگ انھیں برا بھلا کہتے رہے جو کامیابی کے دنوں میں خوشامدیں کرتے تھے، خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں،سوشل میڈیا سے جتنا دور رہیں گے اتنا اچھا ہے، ابھی ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے، اگلے سال ون ڈے ورلڈکپ ہونا ہے، اس میں فتح کیلیے ہمیں اصل بابر اعظم درکار ہوگا۔

 بھارت کیخلاف وہ عمدہ پرفارم نہیں کر پاتے اس جمود کا خاتمہ کریں، بڑی ٹیموں سے میچز میں پاکستان کو فتح دلائیں تب ہی مزا آئے گا، ابھی بابر نے پی ایس ایل میں چند اچھی اننگز ہی کھیلی ہیں کہ ان کے دوست نما دشمن سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے اور دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کا قومی کپتان بنوانے کی مہم شروع کر دی، درحقیقت کپتانی نے بھی بابر کو بڑا نقصان پہنچایا، قومی ٹیم میں ان کے گہرے دوست بھی پرائے ہو گئے، اپنی کارکردگی پر توجہ کم ہوئی تو فارم بھی متاثر ہونے لگی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کپتانی کے ساتھ ٹیم میں جگہ بھی گنوا بیٹھے، اب خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں، کپتانی کا بالکل نہ سوچیں، سلمان علی آغا کی فارم خراب ہے، ان کو قیادت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں، پھر نیا کپتان لانا پڑے گا۔

 یہ سب باتیں بورڈ کے سوچنے کی ہیں، بابر کے ہاتھ میں بیٹ ہوتا ہے انھیں اس سے ہی پرفارم کرنا چاہیے، وہ کئی ریکارڈز توڑ سکتے ہیں، اگر پھر انھیں کپتانی، کنگ یا اس جیسی باتوں میں لگایا تو پھر شاید دوسرا موقع نہ ملے، ایک وقت تھا جب ہم یہی سوچتے تھے کہ نئی نسل کا کوئی کرکٹر ایسا نہیں جو دوسروں کو کرکٹ کی جانب راغب کر سکے، اشتہارات میں بھی سابق اسٹارز کو ہی لینا پڑتا تھا پھر ہمیں بابر اعظم ملے جنھوں نے بہت جلد اپنا نام بنا لیا، میدان میں آمد پر ’’بابر بابر‘‘ کے نعرے لگتے، پھر زوال آیا لیکن اب پھر عروج کا دور آتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، بابر کے سامنے چاہے حریف بولر جہانداد خان ہو یا ابرار وہ جسپریت بمرا کا سامنا کریں یا راشد خان کا ان کی کلاس وہی رہے گی، ساری دنیا اس بات کو جانتی ہے، جو مسائل تھے انھیں دور کرنے کا موقع مل گیا جس سے فائدہ بھی اٹھایا،اب ہمیں وہی بابر اعظم دیکھنا ہے جس کے کور ڈرائیو کی دنیا دیوانی ہے۔

 اگر وہ170 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائیں گے تو کون بے وقوف انھیں باہر کرنے کا کہے گا،سب کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ پاور پلے کا بہترین استعمال کر کے اسکور بنائیں، ہاں اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئے پھر تنقید تو ہو گی، وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے، شاید بابر بھی یہ جان چکے، لگتا ہے پرانا بابر واپس آ چکا، آپ کا کیا خیال ہے؟



Source link

Continue Reading

Trending