Today News
پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے
کراچی میں گیس، بجلی و پانی سے متاثرہ خواتین نے ایک منفرد اور پرامن احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے دور میں تو ہم آ گئے ہیں کہ آج ہمیں شدید مہنگی گیس و بجلی بھی میسر نہیں اور قدرت کے فراہم کردہ پینے کے پانی سے بھی ہم محروم ہیں۔
خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیا اور بہت چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جو چپ چاپ دھوپ میں کھڑی رہیں اور میڈیا والوں نے جب ان سے معلومات کیں تو وہ پھٹ پڑیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور 2026 میں بھی ہمیں بنیادی سہولیات میسر نہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم آگے جانے کی بجائے اس دور میں آ گئے ہیں کہ جس کو ماضی میں پتھر کا زمانہ کہا جاتا تھا جس میں بجلی تھی نہ گیس، آنے جانے کے لیے پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں تو تھیں نہیں اور جانوروں کے ذریعے چلائی جانے والی لکڑی سے بنائی گئی گدھا گاڑی اور بیل گاڑیوں اور اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر سفر کیا جاتا تھا۔
گھروں میں روشنی کے لیے دیے، لالٹینیں اور موم بتیاں استعمال کی جاتی تھیں، ہوا کے لیے بجلی کے پنکھوں کا ہی تصور نہیں تھا لوگ اپنے گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں پر قدرتی ہوا میں سوتے تھے اور شدید گرمی میں جب ہوا بند ہوتی تھی لوگوں کا سونا دشوار ہوتا تھا تو وہ ہاتھ سے جھلنے والے یا بنائی گئی اشیا سے کھینچنے والے پنکھے استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے۔
ان دنوں کھانے محفوظ کرنے کے لیے فرجوں کا تصور ہی نہیں تھا نہ گیس ہوتی تھی نہ بجلی۔ لکڑی کے چولہوں، اپلوں سے دیہاتوں میں اور شہروں میں رات اور صبح کا ناشتہ اور کھانا گھریلو ضرورت کے مطابق کم مقدار میں اتنا ہی پکایا جاتا تھا جو وقت پر ہی استعمال ہو جاتا تھا۔ گھروں کے صحنوں میں کچھ چیزیں کے لیے چھینکے لٹکائی جاتی تھی، جن کو چھلنی یا جالی سے ڈھک کر لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ گرمی سے خراب نہ ہوں۔ پینے کے لیے کنوؤں سے پانی کھینچ کر مٹی کے گھڑوں میں رکھ لیا جاتا تھا جو رات کی معمولی ٹھنڈی میں ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ دودھ کو ابال کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔
رات کا کھانا مغرب سے پہلے اور صبح کا ناشتہ یا کھانا فجر کے بعد ہونے والی قدرتی روشنی میں کھا کر دیہاتوں کے لوگ کاموں کے لیے کھیتوں میں اور شہروں میں لوگ اپنے کاروبار اور دکانوں پر چلے جاتے تھے اور مغرب سے قبل دکانیں اور خرید و فروخت بند کرکے لوگ اپنے گھروں میں جاکر کھانے اور نماز عشا سے فارغ ہو کر جلد سو جاتے تھے اور فجر کے وقت اپنی نیند پوری کرکے سکون سے فریش اٹھتے تھے اور اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو کر پرسکون زندگی گزارتے تھے۔
قدرتی ماحول میں زندگی گزارنے سے بیماریاں برائے نام تھیں۔ چوری چکاری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے تھے جہاں سے ہوا بھی آتی تھی۔ خواتین مردوں سے بھی پہلے بیدار ہو کر گھریلو کاموں میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ راقم نے بچپن میں اپنے آبائی شہر شکارپور میں خود دیکھا کہ دودھ ،دہی کی دکانیں نماز فجر کے بعد کھل جاتیں اور دس بجے تک دودھ دہی ختم کرکے دکانیں بند کر دی جاتی تھیں۔ دوپہر بارہ بجے تک گوشت و مچھلی مارکیٹ بند اور عصر تک سبزیوں اور پھلوں کی دکانیں، پتھارے اور ریڑھیوں پر خریداری جاری رہتی اور لوگ جلد فارغ ہو کر گھروں میں چلے جاتے تھے۔
ہندوؤں کی کہاوت مشہور ہے کہ صبح دن نکلتے ہی کاروبار شروع کرو اور عصر کے بعد دن کی روشنی میں ختم کر لو۔ بجلی گیس کا تصور نہ تھا لوگ ضرورت کا پانی مختلف ذرائع سے حاصل کر لیتے تھے۔ دیہاتوں میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اپنے بڑے بچوں کو ساتھ لے جا کر دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کر لیا کرتی تھیں۔ پھر بجلی آئی، پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں میسر آئیں، گیس ملنے لگی تو ضروریات بدل گئیں۔ سائیکلوں کی جگہ موٹرگاڑیوں نے سفر آسان کیا اور ضروریات تبدیل ہوتی گئیں۔
موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی بہتات ہوئی۔ بجلی و گیس میسر آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ صبح کا کھانا دوپہر کو، دوپہر کا کھانا رات گئے۔ دیر سے سونا اور اٹھنا معمول بنا لیا گیا۔ گوشت، مچھلی، پھلوں، سبزیوں، دودھ کی دکانیں دن بھر کی بجائے رات گئے تک کھلتی ہیں۔ مارکیٹیں دن گیارہ بجے کے بعد کھلنے کے بعد رات دیر تک کھل کر بجلی استعمال کرتی ہیں۔ سڑکوں پر رات کو دن کا منظر ٹریفک کا اژدھام عام ہے۔
بجلی نہ ہو تو پٹرول و گیس کے سلنڈر، جنریٹر کام آتے ہیں۔ پینے کے پانی کی کمی جگہ جگہ بورنگ کرا کر حاصل کردہ پانی میں کچھ ادویات ملا کر اس پانی کو صحت افزا قرار دے کر منہ مانگے کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے جسے دودھ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا اور ہر مضر صحت اشیا عام فروخت ہو کر بیماریاں بڑھا رہی ہیں۔ بجلی، گیس و پانی نہ ملنے کی شاکی خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت کے انتہائی گراں نرخوں پر بھی بجلی میسر ہے نہ گیس، سرکاری واٹر لائنوں میں پانی نہیں، نجی واٹر ٹینکر منہ مانگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں، گیس کمپنیاں اپنے اعلان کردہ شیڈول پر بھی گھروں کو گیس فراہم نہیں کر رہیں جب دیکھو بجلی کی لوڈ شیڈنگ صرف پٹرول ہی سرکاری داموں میسر ہے۔ مہنگے پٹرول سے لوگ خود گاڑیاں ضرورت پر ہی استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین صبح بچوں کو بغیر ناشتے دیگر اشیا دے کر اسکول بھیجتی ہیں۔
گیس نہیں تو بجلی نہ ہونے سے ہیٹر ناکارہ پڑے ہیں۔ گھروں میں بہ مشکل سالن بن پاتا ہے تو باہر سے مہنگی اور مضر صحت آٹے کی روٹیاں خریدنا مجبوری بن چکی۔ وقت پر گھروں میں بجلی و گیس نہ ہونے سے مردوں کو کھانا نہ ملے تو سننا خواتین کو پڑتی ہیں کیونکہ ان کا بس خواتین پر ہی چلتا ہے حکومت کا تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس لیے خواتین کے لیے تو یہ دور پتھروں والا دور ہی بن کر رہ گیا ہے جب سہولتیں نہ ہونے پر بھی گزارا ہو جاتا تھا مگر اب مہنگی سہولیات کی موجودگی میں بھی گزارا ہے نا سکون، مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا جس کے پاس عوام کو دینے کے لیے صرف دعوے رہ گئے ہیں۔
Today News
’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘
شاید یہ ورلڈ کپ کے دنوں کی بات ہے ، کیمرہ پاکستانی ڈگ آئوٹ میں بیٹھے بابر اعظم کی جانب گیا جو مایوسی سے سر جھکائے بیٹھے تھے، ناقص فارم اس کی وجہ تھی، مجھے انھیں ایسے دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، میں نے اس پر ایک کالم بھی لکھنا شروع کیا جس کا عنوان تھا ’’بابر اعظم کا اداس چہرہ‘‘ البتہ پھر اسے مکمل کیے بغیر ڈلیٹ کر دیا،اس امید کے ساتھ کہ وہ جلد فارم میں واپس آئیں گے تو لکھوں گا کہ ’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘ ، شکر ہے یہ وقت چند ماہ بعد ہی آ گیا۔
جب کوئی کھلاڑی اچھا پرفارم نہ کر سکے اور میڈیا خامیوں پر بات کرے تو اس کے پرستار سمجھتے ہیں کہ صحافی اس کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہوتی، بابر کسی ایک شہر نہیں پورے ملک کے اسٹار ہیں، ان کا جب نام لیا جائے تو لاہور نہیں بلکہ پاکستان ساتھ لکھا ہوتا ہے۔
انھوں نے متواتر عمدہ کارکردگی سے اپنے لیے ایسا معیار سیٹ کر لیا کہ ففٹی کریں تو بھی لگتا ہے جیسے کچھ نہیں کیا، پھر ان سے فارم روٹھ گئی اور برسوں یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران بابر سے کئی غلطیاں بھی ہوئیں، سب سے بڑی غلطی ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری تھی، اس سے انھیں جلد فارم بحال کرنے کا موقع نہ ملا۔
جب انسان کچھ بن جائے تو پھر اس کی ایگو سینئرز کے ساتھ مشاورت سے بھی روکتی ہے کہ میں اتنا بڑا اسٹار مجھے کوئی کیا سکھائے گا، بابر نے بھی خامیاں دور کرنے کیلیے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں سے زیادہ رابطہ نہ کیا،اس کا نقصان ہوا، اب بھی ان کی فارم ڈومیسٹک لیگ (پی ایس ایل ) سے ہی واپس آئی ہے ناں، پشاور زلمی کی جانب سے وہ ماضی والے بابر ہی نظر آ رہے ہیں جو میدان میں اپنے کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے،وہ نہ صرف خود پرفارم کر رہے ہیں بلکہ دیگر کو بھی اچھی کارکردگی کی تحریک دلائی ہے۔
اسی لیے ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر آ گئی، بابر کے مداحوں کو برا تو لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، چھوٹی بائونڈریز، ڈیڈ پچز، کمزور بولنگ یہ عوامل کسی بھی بیٹر کو بریڈ مین بنا سکتے ہیں، البتہ بابر کی اپنی کلاس ہے، طویل عرصے بعد پاکستان کو اتنا اچھا کوئی کھلاڑی ملا، مسئلہ اعتماد کا بھی تھا جو اگر آپ میں نہ ہو تو سڑک بھی پار نہیں کر سکتے۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں بابر کی حالیہ ناکامیوں کا بڑا سبب خود اعتمادی کا فقدان بنا، البتہ اب لگتا ہے کہ یہ ایشو حل ہو جائے گا، البتہ انھیں بھی اب احتیاط سے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہیے، برے دور میں بابر کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جس گروپ کے ’’زیرسایہ‘‘ ہیں اس نے انھیں فائدے سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا، وہ لوگ ان کا نام استعمال کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
اب اس حوالے سے ان کو احتیاط برتنی چاہیے، ساتھ ’’کنگ‘‘ جیسے ٹائٹلز کو سر پر سوار نہ کریں، کوہلی سے موازنے جیسی باتیں بھی بھلا دیں، ایسا پرفارم کریں کہ بھارتی کرکٹرز کا موازنہ بابر کے ساتھ ہو، مشکل وقت میں وہی لوگ انھیں برا بھلا کہتے رہے جو کامیابی کے دنوں میں خوشامدیں کرتے تھے، خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں،سوشل میڈیا سے جتنا دور رہیں گے اتنا اچھا ہے، ابھی ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے، اگلے سال ون ڈے ورلڈکپ ہونا ہے، اس میں فتح کیلیے ہمیں اصل بابر اعظم درکار ہوگا۔
بھارت کیخلاف وہ عمدہ پرفارم نہیں کر پاتے اس جمود کا خاتمہ کریں، بڑی ٹیموں سے میچز میں پاکستان کو فتح دلائیں تب ہی مزا آئے گا، ابھی بابر نے پی ایس ایل میں چند اچھی اننگز ہی کھیلی ہیں کہ ان کے دوست نما دشمن سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے اور دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کا قومی کپتان بنوانے کی مہم شروع کر دی، درحقیقت کپتانی نے بھی بابر کو بڑا نقصان پہنچایا، قومی ٹیم میں ان کے گہرے دوست بھی پرائے ہو گئے، اپنی کارکردگی پر توجہ کم ہوئی تو فارم بھی متاثر ہونے لگی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کپتانی کے ساتھ ٹیم میں جگہ بھی گنوا بیٹھے، اب خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں، کپتانی کا بالکل نہ سوچیں، سلمان علی آغا کی فارم خراب ہے، ان کو قیادت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں، پھر نیا کپتان لانا پڑے گا۔
یہ سب باتیں بورڈ کے سوچنے کی ہیں، بابر کے ہاتھ میں بیٹ ہوتا ہے انھیں اس سے ہی پرفارم کرنا چاہیے، وہ کئی ریکارڈز توڑ سکتے ہیں، اگر پھر انھیں کپتانی، کنگ یا اس جیسی باتوں میں لگایا تو پھر شاید دوسرا موقع نہ ملے، ایک وقت تھا جب ہم یہی سوچتے تھے کہ نئی نسل کا کوئی کرکٹر ایسا نہیں جو دوسروں کو کرکٹ کی جانب راغب کر سکے، اشتہارات میں بھی سابق اسٹارز کو ہی لینا پڑتا تھا پھر ہمیں بابر اعظم ملے جنھوں نے بہت جلد اپنا نام بنا لیا، میدان میں آمد پر ’’بابر بابر‘‘ کے نعرے لگتے، پھر زوال آیا لیکن اب پھر عروج کا دور آتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، بابر کے سامنے چاہے حریف بولر جہانداد خان ہو یا ابرار وہ جسپریت بمرا کا سامنا کریں یا راشد خان کا ان کی کلاس وہی رہے گی، ساری دنیا اس بات کو جانتی ہے، جو مسائل تھے انھیں دور کرنے کا موقع مل گیا جس سے فائدہ بھی اٹھایا،اب ہمیں وہی بابر اعظم دیکھنا ہے جس کے کور ڈرائیو کی دنیا دیوانی ہے۔
اگر وہ170 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائیں گے تو کون بے وقوف انھیں باہر کرنے کا کہے گا،سب کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ پاور پلے کا بہترین استعمال کر کے اسکور بنائیں، ہاں اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئے پھر تنقید تو ہو گی، وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے، شاید بابر بھی یہ جان چکے، لگتا ہے پرانا بابر واپس آ چکا، آپ کا کیا خیال ہے؟
Source link
Today News
بھارت؛ آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکا، 16افراد ہلاک
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 16افراد ہلاک ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی،حکام نے تحقیقات شروع کردیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی بھارتی ریاست گجرات میں آتش بازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 18افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت گر گئی اور فیکٹری میں کام کرنے والے کئی ملازمین ملبے تلے دب گئے۔
فائر اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اب تک، جائے وقوع سے 8 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ اندر پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
Source link
Today News
ایک طرف مذاکرات دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کل سے پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، اگرچہ پاکستان کو اس عالمی ثالثی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے، لیکن ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے معروف شاعر سید سلمان گیلانی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا حکمرانوں کی نااہلی اور غلط حکمت عملی کے باعث ہماری سرحدیں اور کاروباری راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے چین جیسا قریبی دوست ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔
مولانا نے کہا مصنوعی نظام کو مسترد کر کے مجلسِ شوریٰ کے اسلامی نظام کی طرف آنا ہوگا، جے یو آئی ہی وہ واحد قوت ہے جو فارم 47 کے اس تاریک دور کو ختم کر کے ملک کو ایک شفاف نظام دے سکتی ہے۔
انھوں نے بھارت کو وارننگ دی کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں جے یو آئی کے کارکن پاک فوج کے شانہ بشانہ سب سے پہلے میدانِ جنگ میں ہوں گے، انہوں نے سید سلمان گیلانی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے درویش صفت لوگوں کے جانے سے ایک جہاں یتیم ہو جاتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا "جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی نظریاتی دفاعی لائن ہے"۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا سید سلمان گیلانی کی پوری زندگی ختمِ نبوت کے تحفظ سے عبارت ہے ، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا سلمان گیلانی کا کلام ہر جگہ گونجا ہے ، مولانا عبدالغفور حیدری نے انہیں ایک "درویش صفت باغی" قرار دیا جس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔آخر میں مرحوم کی مغفرت اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper