Connect with us

Today News

نا امیدی کے اندھیرے میں امید کی کرنیں

Published

on


مذاکرات کا دوسرا دور یقینی ہے۔ امکانی طور پر یہ دور تاریخ ساز ہو گا کیوں کہ اس میں جنگ بندی کا معاہدہ متوقع ہے۔ایران امریکا معاہدے میں رکاوٹ کیا ہے؟ کیا یہ معاہدہ واقعی ایٹمی پروگرام پر رکا ہوا ہے اور اس میں ایٹمی پروگرام پر پانچ برس اور دس برس کی پابندی کا اختلاف ہے؟ خبر تو یہی ہے لیکن اس سطح سفارتی سرگرمی کو جس کا تعلق امن عالم سے ہو، سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی خبروں پر انحصار عام طور پر نہیں کیا جاتا۔ ان خبروں سے آگے بڑھ کر ان سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے جو پس پردہ یا ان ریکارڈ جاری رہتی ہیں۔

ایک رائے تو یہ تھی کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھا دیا، اس کی ذمے داری ختم ہوئی لیکن مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کی کوششیں جاری رہیں۔ وزیر اعظم سعودی عرب سے ہوتے ہوئے قطر گئے اور اس کے بعد ترکیہ میں جہاں وہ چار برادر ملک ایک بار پھر مل بیٹھے یعنی پاکستان، ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر۔ جنگ بندی کے بعد یہ ملک سکون کا سانس لے چکے تھے ، اب انھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر آنے والے دنوں، ان کے چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کی تجاویز پر غور کیا یعنی اس دفاعی اتحاد کے امکانات کا جائزہ لیا جنھیں صحافتی دنیا میں مسلم نیٹو کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم جس وقت عرب دنیا کے طوفانی دورے کے بعد ترکیہ میں مستقبل کی صورت گری میں مصروف تھے، فیلڈ مارشل جنگ زدہ تہران میں تھے اور ایرانی بھائیوں کے ساتھ مستقل امن کی تدابیر پر غور کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کا مطلب کیا ہے؟

معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ دو فریق میز پر بیٹھ گئے اور جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ بندی کے ساتھ بہت کچھ اور بھی وابستہ ہے، اس سب کے حقیقت بنے بغیر مستقل جنگ بندی محض ایک خواب ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام بڑی رکاوٹ نہیں۔ اصل رکاوٹ کچھ اور ہے۔ اس رکاوٹ کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور امریکا سے بھی۔ ان چیزوں میں حزب اللہ اور حوثیوں جیسی وہ پراکسیز بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے ایران سے عرب دوستوں کو بھی تحفظات ہیں اور امریکا کو تو ہیں ہی۔

بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ حزب اللہ اور حوثی ایران کی ریڈ لائن ہیں جن پر سمجھوتہ ممکن نہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان پر سمجھوتہ ممکن نہیں تو پھر مستقل جنگ بندی بھی غیر یقینی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بیک وقت متحرک ہیں۔ پاکستان کی سول ملٹری قیادت کے ایک وقت میں متحرک ہونے کی ایک وجہ یہ ہے لیکن ان دوروں سے متصل قبل ایک واقعہ اور بھی ہوا ہے۔ پاکستانی فضائیہ سعودی عرب پہنچ گئی ہے جس نے مشرق وسطی میں طاقت کا ایک نیا توازن قائم کر دیا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستان کا عسکری وجود ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت ہے جس کا تعلق مشرق وسطی میں استحکام سے غیر معمولی ہے۔ یہاں پاکستان کی عسکری موجودگی سعودی عرب کے دفاع کو ہی مضبوط نہیں بنا رہی، کچھ اور بھی یقینی بنا رہی ہے۔حزب اللہ وغیرہ سے سعودی عرب کو تحفظات ہیں جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کا ہدف صرف اسرائیل ہے۔ یہ مؤقف وزن رکھتا ہے لیکن مشرق وسطی میں نان اسٹیٹ ایکٹرز عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہیں۔ مستقل جنگ بندی کے راستے میںایک بڑی رکاوٹ یہ ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی نے یہ رکاوٹ عملًا دور کر دی ہے لیکن اتنا کافی نہیں۔ اس کے لیے سیاسی سطح پر مکمل اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے حالیہ غیر ملکی دوروں کا تعلق اسی چیز سے ہے۔ گویا مشرق وسطی میں بھی نان اسٹیٹ ایکٹرز کا دور تمام ہونے کو ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اسٹریٹجک پیش رفت اور بھی ہونے والی ہے۔

اس کا تعلق قطر کی تجویز سے ہے۔ قطر نے تجویز پیش کی تھی کہ مشرق وسطی میں استحکام کے لیے پاکستان اور ترکیہ کو شامل کر کے ایک دفاعی اتحاد تشکیل دیا جائے۔ مستقل جنگ بندی اس اتحاد کی تمہید بن رہی ہے۔ اس دفاعی اتحاد میں سعودی عرب، دیگر عرب ممالک اور امکانی طور پر ایران بھی شامل ہو گا جس کی قیادت فطری طور پر پاکستان کرے گا۔ گویا پاکستان صرف تاریخ ساز جنگ بندی کو ہی یقینی نہیں بنا رہا ہے بلکہ ایشیا کی سپر پاور کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے بلکہ بہت حد تک بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ ایران امریکا معاہدہ بس چند قدم ہی دور دکھائی دیتا ہے لیکن اس اہم تاریخی واقعے کے ساتھ اب بھی بہت سا اگر مگر جڑا ہوا ہے جس سے خدشات جنم لیتے ہیں۔فیلڈ مارشل ایران گئے جہاں ان کی ایرانی قیادت سے غیر معمولی ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی۔ بحری راستہ کھل گیا۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی لیکن امریکی محاصرہ جاری رہا۔ محاصرہ صرف جاری نہیں رہا بلکہ ایران کو ماضی قریب کی طرح دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا اس راستے سے کہ ایران کے تجارتی جہاز نہیں گزر سکتے۔ تیل بردار جہاز تو بالکل بھی نہیں۔ امید افزا ماحول میں یہ بات نا امیدی کی تھی۔ صرف نا امیدی کی نہیں تھی بلکہ برا شگون تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند کر دی۔مستقل امن کی راہ میں امریکی رویہ بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کر کے پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیں۔ اس خرابے میں امید کا ایک پہلو اور تھا۔

لبنان میں جنگ بندی بھی ہو گئی لیکن نیتن یاہو کی نیت اب بھی اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکا ایران مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہوتا ہے تو کیا لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا، امریکا اور اسرائیلی کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک اور برا شگون ہے مستقل امن کی راہ میں تیسری رکاوٹ ہے۔

 اس کے باوجود دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطی واقعی بدل رہا ہے لیکن مکمل تبدیلی کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن بھری اطلاع یہ ہے کہ مایوس بھری ان خبروں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان پس پردہ مکالمہ جاری ہے۔ یہ امید کی سب سے بڑی کرن ہے جو یقین دلاتی ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہو گا اور امن کا معاہدہ بھی، ان شاء اللہ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بھارت؛ آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکا،  16افراد ہلاک

Published

on



بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آتشبازی کی فیکٹری میں دھماکے سے  16افراد ہلاک ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی،حکام نے تحقیقات شروع کردیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی بھارتی ریاست گجرات میں آتش بازی کی فیکٹری میں دھماکے سے 18افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔

 رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت گر گئی اور فیکٹری میں کام کرنے والے کئی ملازمین ملبے تلے دب گئے۔

فائر اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے  تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اب تک، جائے وقوع سے 8 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ اندر پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایک طرف مذاکرات دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، مولانا فضل الرحمٰن

Published

on



سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کل سے پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، اگرچہ پاکستان کو اس عالمی ثالثی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے، لیکن ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔

 مولانا فضل الرحمٰن نے معروف شاعر سید سلمان گیلانی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا حکمرانوں کی نااہلی اور غلط حکمت عملی کے باعث ہماری سرحدیں اور کاروباری راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے چین جیسا قریبی دوست ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔

 مولانا نے کہا مصنوعی نظام کو مسترد کر کے مجلسِ شوریٰ کے اسلامی نظام کی طرف آنا ہوگا، جے یو آئی ہی وہ واحد قوت ہے جو فارم 47 کے اس تاریک دور کو ختم کر کے ملک کو ایک شفاف نظام دے سکتی ہے۔

 انھوں نے بھارت کو وارننگ دی کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں جے یو آئی کے کارکن پاک فوج کے شانہ بشانہ سب سے پہلے میدانِ جنگ میں ہوں گے، انہوں نے سید سلمان گیلانی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے درویش صفت لوگوں کے جانے سے ایک جہاں یتیم ہو جاتا ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا "جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی نظریاتی دفاعی لائن ہے"۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا سید سلمان گیلانی کی پوری زندگی ختمِ نبوت کے تحفظ سے عبارت ہے ، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا سلمان گیلانی کا کلام ہر جگہ گونجا ہے ، مولانا عبدالغفور حیدری نے انہیں ایک "درویش صفت باغی" قرار دیا جس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔آخر میں مرحوم کی مغفرت اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔



Source link

Continue Reading

Today News

بلوچستان: پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید

Published

on



خضدار پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہیڈ کانسٹیبل اور صوبے کی پہلی خاتون کانسٹیبل شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او اور ایک اہلکار زخمی ہوگئے۔

 پولیس کے مطابق گزشتہ روز سولر پلیٹوں کی چوری کے حوالے سے پولیس نے علاقے باجوئی میں چھاپہ مارا تو وہاں موجود دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل ملک ناز بی بی اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ موقع پر شہید ہوگئے ، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم اور کانسٹیبل نجیب الرحمن زخمی ہوئے ، مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔

ادھر دشت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے دہشت گردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید جبکہ سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر سمیت چھ جوان شدید زخمی ہو گئے۔

دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کئے جس میں ہیڈ کانسٹیبل ایس پی سریاب کا ریڈر رحمت اللہ موقع پر ہی شہید جبکہ سی ٹی ڈی کا سب انسپکٹر جاوید گل، کانسٹیبل نیاز احمد ،سریاب پولیس کا اے ایس آئی وقار احمد ، ہیڈ کانسٹیبل نور اللہ، کانسٹیبل عبدالعلیم اور کانسٹیبل تاج محمد شدید زخمی ہو ہوئے۔



Source link

Continue Reading

Trending