Connect with us

Today News

ایف زیڈ ای کو پاکستان کی فضائی دیکھ بھال کی کمپنی میں حصص کے حصول کی منظوری مل گئی

Published

on



کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میسرز انٹرنیشنل بزنس کمپنی (ایف زیڈ ای) کو پاکستان کی فضائی دیکھ بھال کی کمپنی میسرز ناردرن ٹیکنک (پرائیویٹ) لمیٹڈ میں حصص کے حصول کی منظوری دے دی ہے جس سے ملک کے ہوا بازی کے شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ناردرن ٹیکنک کمرشل ایئر لائنز کو فضائی جہازوں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتی ہے جبکہ اماراتی کمپنی بین الاقوامی تجارت اور مشاورتی خدمات کے شعبے میں سرگرم ہے، یہ لین دین ناردرن ٹیکنک میں نمایاں حصص کے حصول پر مشتمل ہے۔

کمیشن نے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت مرحلہ اول کے جائزے کے بعد قرار دیا کہ اس معاہدے سے مارکیٹ میں مسابقت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

سی سی پی نے متعلقہ مارکیٹ کو پاکستان میں فضائی جہازوں کی لائن مینٹیننس خدمات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ متعدد سروس فراہم کنندگان کی موجودگی کے باعث مسابقتی اور منتشر ہے۔

سی سی پی کے مطابق حاصل کنندہ اور ہدف کمپنی کی سرگرمیوں میں کوئی براہِ راست مماثلت نہیں، اس لیے اس معاہدے سے مارکیٹ کے ڈھانچے یا حصص میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

کمیشن نے مزید کہا کہ یہ لین دین نہ تو کسی کمپنی کو غالب حیثیت دے گا اور نہ ہی مسابقتی رکاوٹیں پیدا کرے گا چنانچہ کمیشن نے اس معاہدے کو کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت منظور کر لیا ہے جبکہ سی سی پی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شفاف اور مؤثر جائزہ عمل کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ منصفانہ مسابقت کو یقینی بنایا جاتا رہے گا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرخارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، مذاکرات پر تبادلہ خیال

Published

on



نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تمام زیر التوا مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے رابطے بڑھانے اور خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق جبکہ دوطرفہ رابطہ کاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی وفد ایران کیساتھ مذاکرات کیلیے روانہ؛ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے؛ ٹرمپ

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اب لگتا ہے کہ کوئی فریق کھیل نہیں کھیل رہا یعنی سب سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں جو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔ ؎

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا اور اگر ایسا ہو جائے تو ایران ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ایران ان شرائط کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکا کیا قدم اٹھائے گا لیکن نھوں اشارہ دیا کہ صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

دوسری ایران اعلان کرچکا ہے کہ ان کا وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں جا رہا کیوں صدر سنجیدہ نہیں اور دھمکیوں سے باز آرہے ہیں اور نہ جارحیت روکی ہے۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہمارے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا اس پر قبضے کی کوشش کی گئی اور تاحال ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ 

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے دوسرے دور کا آغاز ممکن ہے۔

مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

’گریٹر اسرائیل‘ منصوبہ کیا ہے؟

Published

on



ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف صیہونی طاقتیں ’گریٹر اسرائیل‘ کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ آخر یہ گریٹر اسرائیل ہے کیا؟

دنیا کی سیاست میں یہ محض کوئی جدید اصطلاح نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں پیوست ہیں۔ عبرانی زبان میں اسے ’ارضِ اسرائیل الکاملہ‘ یعنی ’اسرائیل کی مکمل سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ بائبل کے ان حوالوں پر مبنی ہے جن میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین کو ایک ’الٰہی وعدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں موجودہ فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان، شام کے بڑے حصے، عراق، سعودی عرب کا کچھ علاقہ اور مصر کا جزیرہ نما سینا بھی شامل ہو جاتا ہے۔

صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کے دور سے ہی اس نظریے میں دو واضح سوچیں موجود رہی ہیں۔ جہاں سیکولر صہیونی اسے ایک سیاسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے، وہیں مذہبی گروہ اسے ایک مقدس مشن کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی اپنی مستقل سرحدوں کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ انتہا پسندوں کے نزدیک اسرائیل کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ان کا ’مذہبی حق‘ ختم ہو۔

اس خواب کی تعبیر کے لیے 1967 کی ’چھ روزہ جنگ‘ ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی موجودگی اسی توسیعی نظریے کا تسلسل ہے۔

امریکی سیاست، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے اس سوچ کو عالمی قوانین کے برعکس اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کیا۔ موجودہ اسرائیلی قیادت، بالخصوص وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء، اکثر ایسے نقشے لہراتے نظر آتے ہیں جن میں فلسطین کا وجود ہی غائب ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اردن کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔

آج لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور جنوبی لبنان میں یہودی بستیوں کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندانہ نظریات اب اسرائیل کی ریاستی پالیسی بن چکے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا یہ جنون محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا بارود ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک سکتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending