Today News
آسٹریلوی آل راؤنڈر زخمی، بڑی ٹی 20 لیگ سے باہر
آسٹریلیوی آل راؤنڈر وِل سدرلینڈ کندھے پر انجری کے باعث ٹی 20 بلاسٹ سے باہر ہوگئے۔ انہیں ایونٹ میں یورکشائر کی نمائندگی کرنی تھی۔
وِل سدرلینڈ (جو ایک انتہائی قابلِ قدر آل راؤنڈر ہیں اور وکٹوریا اور میلبرن رینیگیڈز کی کپتانی کرتے ہیں) گزشتہ سال یارکشائر کے لیے تین کاؤنٹی چیمپئن شپ میچز اور 12 بلاسٹ گیمز کھیل چکے ہیں۔
ٹیم کے جنرل مینیجر گیون ہیملٹن کے مطابق وہ اسکواڈ کے ’بہت مقبول‘ رکن بن گئے تھے اور اس گرمیوں میں دو چیمپئن شپ میچز اور پورے بلاسٹ ٹورنامنٹ کے لیے واپس آنے والے تھے۔
تاہم، ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ وِل سدرلینڈ کو گزشتہ ماہ شیفلڈ شیلڈ فائنل کے بعد کندھے میں اسٹریس فریکچر کی تشخیص ہوئی ہے اور کلب نے پیر کے روز تصدیق کی کہ وہ اس سیزن میں ٹیم کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
کلب کے ترجمان نے کہا کہ یارکشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ول سدرلینڈ اس سال کے ویٹیلٹی بلاسٹ میں انجری کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ کسی متبادل کھلاڑی کے بارے میں معلومات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔ یارکشائر کی پوری ٹیم ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے۔
Source link
Today News
مذاکرات،عالمی امن کی جانب اہم قدم
واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی ختم ہونے میں ایک دن باقی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسٹیووٹکوف اور جیرڈکشنر اسلام آباد پہنچ جائیں گے، تہران نے ہماری ڈیل قبول نہ کی تو ہم ان کے ہر پاور پلانٹ اورپل کو تباہ کردیں گے ، دوسری جانب ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو امریکی فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دورمیں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
موجودہ عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر دشوار عمل ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جو وقتی طور پر جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے محدود کی گئی تھی، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر لمحہ صورتِ حال کے یکسر بدل جانے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔اسلام آباد کو اس تمام بحران میں ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لا کر نہ صرف کشیدگی میں کمی لائے بلکہ ایک پائیدار حل کی بنیاد بھی رکھ سکے۔ تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار یا کم از کم ہچکچاہٹ نے اس پورے عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ یہ انکار محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں حالیہ واقعات، بیانات اور اقدامات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے موزوں نہیں۔
ایران کا موقف بنیادی طور پر اعتماد کے بحران کے گرد گھومتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور اگر اس الزام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ معاملہ محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو باقی تمام کوششیں رسمی اور غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی اقدامات کو جارحانہ قرار دیا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں اور ان میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔
دوسری جانب امریکا کا رویہ بظاہر دہرا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اعلیٰ سطح وفد کی اسلام آباد آمد کی تیاری اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف سخت بیانات، دھمکیاں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی عام طور پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مذاکراتی فضا متاثر ہوتی ہے اور فریق مخالف کو یہ تاثر ملتا ہے کہ بات چیت دراصل ایک رسمی عمل ہے، اصل مقصد اپنی شرائط منوانا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ جوہری معاملہ خاص طور پر اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی میں ہونے والے معاہدے بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے، جس کی ایک بڑی وجہ باہمی بداعتمادی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو فریقین کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں گولیوں کا تبادلہ اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت شامل ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کس قدر حساس ہو چکی ہے، اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
چین کا ردعمل اس تمام تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ذمے دارانہ رویے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ چین کی دلچسپی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ اس کی توانائی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو چین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا، اگرچہ اس کردار کی نوعیت اور حدود کا تعین حالات کے مطابق ہوگا۔
خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی معاونت کے امکانات پر غور اور متبادل کرنسیوں کی بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع محض عسکری یا سفارتی نہیں بلکہ معاشی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی تجارت میں تبدیلیاں آتی ہیں یا ڈالر کے متبادل نظام متعارف کروائے جاتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔پاکستان کے لیے یہ تمام صورتحال ایک پیچیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک طرف وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داری ادا کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف اسے اپنے قومی مفادات، علاقائی تعلقات اور داخلی استحکام کا بھی خیال رکھنا ہے۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس کردار کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم ثالثی کا عمل ہمیشہ نازک ہوتا ہے، خاص طور پر جب فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں، مگر یہی خصوصیت اس کے لیے خطرات بھی پیدا کرتی ہے، اگر وہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں، جو اس کے سفارتی کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہایت احتیاط اور توازن کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکے گی یا نہیں؟ اگر یہ توسیع نہ ہو سکی تو پھر کشیدگی میں اضافہ یقینی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس صورت میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔سفارت کاری اس وقت واحد راستہ ہے جو اس بحران کو کسی حد تک قابو میں لا سکتا ہے، مگر سفارت کاری اسی وقت موثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سنجیدگی، لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی ہوں۔ یکطرفہ مطالبات اور دھمکیاں وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتیں۔
ایران کا یہ کہنا کہ وہ ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتا، دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔امریکا کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ اپنی عالمی قیادت کے دعوے کو کس حد تک عملی شکل دیتا ہے، اگر وہ واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مکمل انکار یا سخت موقف کسی حل کی جانب نہیں لے جاتا۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے کام لیں۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں، اگر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف یہ تنازع شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف موجودہ حالات کو نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کو بھی متعین کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔
Today News
کراچی میں مصروف شاہراہ پر رکشے سے اتار کر ڈاکٹر کو بیوی کے سامنے قتل کردیا گیا
شہر قائد کی مصروف ترین سڑک شاہراہ فیصل مہران ہوٹل کے قریب کار سوار ملزمان نے بیوی کے سامنے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شاہراہ فیصل مہران ہوٹل کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص جاں بحق ہوا، جس کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔
چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 37 سالہ سارنگ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ کار سوار ملزمان کی رکشے پر فائرنگ سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے۔
ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر نے بتایا کہ مقتول اپنی اہلیہ کے ہمراہ کینٹ اسٹیشن کی جانب سے رکشا میں سوار ہو کر جا رہا تھا کہ مہران ہوٹل کے قریب کار سوار ملزمان نے رکشا روک کر سارنگ کو اتار کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ سینے پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔
مقتول پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور اس کا آبائی تعلق بدین سے بتایا جا رہا ہے، مقتول پریس کلب کے قریب سیدکو سینٹر کا رہائشی تھا واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقتول کی اہلیہ کے رشتے دار جناح اسپتال پہنچ گئے جبکہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ زاتی رنجش کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔
اس حوالے سے پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرتے ہوئے مزید تحقیقات کر رہی ہے مقتول سارنگ گلستان جوہر میں قائم نجی اسپتال کے میڈیکل کالج میں بطور رجسٹرار اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔
دوسری جانب نیو کراچی کے علاقے سیکٹر الیون آئی سلیم سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کے لیے نارتھ ناظم آباد میں قائم نجی اسپتال لے جایا گیا۔
نیو کراچی تھانے کے قائم قام ایس ایچ او غلام عباس نے بتایا کہ مضروب کی شناخت 42 سالہ فرزند کے نام سے کی گئی جسے دائیں جانب سامنے سے کندھے کے قریب گولی لگی تھی جو کہ گاڑی میں سوار بتایا جاتا ہے جبکہ پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا خول ، سکہ اور ایک ٹوٹا ہوا میگزین ملا ہے۔
انھوں ںے بتایا کہ مضروب کی نیو کراچی صنعتی ایریا میں گارمنٹس فیکٹری ہے ، واقعے کی اطلاع ملنے پر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن (نکاٹی) کے عہدیدار اور تاجر و صنعتکار بھی نجی اسپتال پہنچ گئے اور واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے تاجر پر فائرنگ کا واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ بتایا اور حکومت فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
Source link
Today News
اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات جمعرات کو امریکا میں ہوں گے
امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ یہ بات چیت سفرا کی سطح پر ہوگی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 14 اپریل سے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل میں “مثبت پیش رفت” ہوئی ہے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں امریکا ان براہِ راست مذاکرات کو سہولت فراہم کرتا رہے گا۔
یاد رہے کہ حزب اللہ کے باعث اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنوبی لبنان میں شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں اور چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی اس لڑائی کے بعد فی الحال 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 1993 کے بعد پہلی بار باضابطہ سفارتی مذاکرات ہوئے تھے جنہیں امریکی صدر نے ایک تاریخی موقع قرار دیا تھا۔
امریکا اور اسرائیل متعدد بار لبنان کی حکومت سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
ایران جنگ اور ملکی نقصان