Today News
آبنائے ہرمز ہرحال میں کھلی رہنی چاہیے، چینی صدر کی سعودی ولی عہد سے ٹیلی فون پر گفتگو
چین کے صدر شی جنپنگ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صدر شی جنپنگ نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔
چینی صدر شی جنپنگ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں بھی ہے۔ جس سے دنیا کی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی سمیت تمام عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جس سے کشیدگی میں کمی کا امکان ہے۔
چینی صدر شی جنپنگ نے کہا کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
Today News
آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج پر مزید 11 نئی شرائط عائد
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت مزید 11 نئی شرائط شامل کردی گئی ہیں، جس کے بعد گزشتہ دو برس میں مجموعی شرائط کی تعداد بڑھ کر 75 ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ قومی اسمبلی سے اسی پروگرام کے اہداف کے مطابق منظور کروایا جائے گا۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ بجٹ کی منظوری آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت دی جا رہی ہے،حکومت نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں مالیاتی خسارے کوکم رکھاجائے گا اور زیادہ معاشی ترقی کا ہدف مقرر نہیں کیاجائے گا۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پاکستان کو 2027 تک اسپیشل اکنامک زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونزسے متعلق قوانین میں ترمیم کرنا ہوگی،جس کے ذریعے موجودہ ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرکے لاگت کی بنیاد پرمراعات دی جائیں گی، تمام مراعات 2035 تک مکمل طور پر ختم کرنے کاہدف مقررکیاگیا ۔
مزید برآں، حکومت ایکسپورٹ پروسیسنگ زونزکومقامی مارکیٹ میں مصنوعات فروخت کرنے سے روک دے گی، تاکہ ٹیکس چوری کو روکاجاسکے،توانائی کے شعبے میں بھی نئی شرائط کے تحت بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدگی سے اضافہ کیاجائیگا،جبکہ سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ لازمی ہوگی۔
کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلیے حکومت جون 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کرے گی،جبکہ فیڈرل بورڈآف ریونیوکاآڈٹ نظام مزید مؤثر اور مرکزی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسی طرح پبلک پروکیورمنٹ کے قوانین میں ترمیم کر کے سرکاری اداروں کو بغیر مقابلے کے ٹھیکے دینے کی سہولت ختم کی جائے گی،عوام پر مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلیے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم کو 14,500 روپے سے بڑھاکر 19,500 روپے کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کااطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف اب تک اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 3 ارب ڈالرفراہم کر چکاہے، اگلی قسط ایک ارب ڈالر مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔
Today News
سبز پرچم، پاسپورٹ اور عوام
سبز ہلالی پرچم اور پاکستانی سبز پاسپورٹ یہ دونوں پاکستان میں اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ ایٹمی میدان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کارناموں نے پوری اسلامی دنیا میں پاکستان سبز پرچم کو امر کردیا جب کہ کھیلوں کے میدان میں جب بھی پاکستان نے ہاکی اور کرکٹ وغیرہ میں اپنا لوہا منوایا تو دنیا بھر میں پاکستانیوں نے سبز ہلالی پرچم بڑے فخر سے بلند کیا۔
1982 میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے بھارت کو اس کی سرزمین پر ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں ایک کے مقابلے میں تین گول سے تاریخی شکست دے کر پاکستانی پرچم بھارتی فضاؤں میں سربلند کیا۔ شارجہ کرکٹ کپ میں میانداد نے آخری گیند پر چھکا لگا کر بھارت کو شکست دی تو شارجہ سے لے کر دنیا بھر میں ہر جگہ پاکستانی شائقین نے سبز ہلالی پرچم لہرائے۔ اسی طرح اسکواش میں جہانگیر خان کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے۔
لیکن سبز پاکستانی پاسپورٹ اس معاملے میں ہمیشہ بدقسمت رہا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی دوران سفر بھی اپنا سبز پاسپورٹ مجبوری میں ہی دکھاتے تھے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ کو دیکھ کر کوئی اچھا رسپانس نہیں ملتا تھا ،جس کی وجہ بھی ہم سب کو معلوم ہے اور ہم نے اس پر مرحوم عمر شریف کے لطیفے بھی سن رکھے ہیں لیکن اب کے برس کچھ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی پر چم ہی نہیں لوگ پاکستانی پاسپورٹ بھی جیب سے نکال کر لہرا رہے ہیں اور فخر سے دکھا رہے ہیں کہ دیکھو، ہم پاکستانی ہیں یہ ہمارا پاسپورٹ ہے۔ سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ اور اس کا جواب سب ہی جانتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر وہ کام کر دکھایا ہے جو اس وقت دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کر سکا۔
خارجی سطح پہ پاکستان کا یہ کارنامہ دنیا نے دیکھا اور تسلیم بھی کیا اور تعریف بھی کی۔ پہلے امریکی صدر ٹرمپ صرف یہ بتاتے تھے کہ پاکستان نے بھارت کے کتنے طیارے گرائے اور یہ کہ انھوں نے ہی پاک بھارت جنگ رکوائی، مگر اب وہ خود اپنی جنگ بند کر وانے پر اور ثالثی کے کردار پر پاکستان کا شکریہ بار بار کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار پر اب کوئی دو رائے نہیں ہیں کیونکہ پاکستان نے صرف ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا اور اپنے جنگی طیاروں کی حفاظت میں ’’ پک اینڈ ڈراپ‘‘ کی سہولت بھی دی۔
ماضی میں ایک طویل عرصہ گزرا ہے کہ جب ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ فوج سب سے زیادہ بجٹ استعمال کرتی ہے، اس کا بجٹ کم ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ جس فوج پر یہ تنقید کی جاتی تھی اس نے وقت پڑنے پر ثابت کر دیا کہ فوج وہ ادارہ ہے جس پر جو کچھ خرچ کیا گیا اس نے اس خرچ سے بڑھ کر پاکستان کو دیا۔آج جو پاکستان کو عزت ملی ہے شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی ایسی عزت نہیں ملی۔
بہت سے لوگ جن میں بڑے نام بھی شامل ہیں پاکستان کی یہ کارکردگی سراہ رہے ہیں اور تعریف بھی کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کب صحیح ہوگی؟اس بات کو اگر یوں کہیں تو کیسا ہوگا کہ جن کا شعبہ دفاع تھا انھوں نے تو اپنا لوہا منوا لیا لیکن جن کا شعبہ سیاست تھا وہ کب اپنی کارکردگی کا لوہا منوائیں گے؟ بات یہ ہے کہ سیاست دانوں نے بھی خارجہ پالیسی میں اپنا لوہا منوا لیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ صرف شہبازشریف یا اسحاق ڈار ہی نہیں اس سے قبل بلاول بھٹو بھی بطور وزیر خارجہ ایک بہترین پرفارمنس دے چکے ہیں۔
بات سمجھنے کی صرف اتنی سی ہے کہ جب حکمران (یعنی سیاسی لوگ) اور فوج نے مل کر کوشش کی تو پاکستانی پاسپورٹ کو بھی دنیا بھر میں عزت مل گئی، اب رہا مسئلہ معیشت کا یا اندرونی مسائل کا تو اس پر بھی یہ دونوں قوتیں مل کے پاکستان کو معاشی لحاظ سے بھی دنیا میں قابل دید قوت بنا سکتی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بیرون ملک بعض پاکستانیوں کے کردار سے بھی دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ۔ سعودی عرب میں تو بھیک مانگنے والوں کی باقاعدہ ایک مافیا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اب جب کہ سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت و توقیر بڑھی ہے تو بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ آیندہ اپنے کردار سے اپنے سبز پاسپورٹ کا بھرم رکھیں، نیز حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ مالی امداد کے لیے اب مزید کسی ملک کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط تر بنائیں۔
راقم نے کافی عرصے پہلے بھی اپنے کالم میں خصوصی طور پر اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے کہ جس میں فوج اور حکمرانوں کی نمائندگی ہو اور اس پلیٹ فارم سے ہی تمام ترقیاتی منصوبے (وفاق کی سطح پر) پیش کیے جائیں اور معیشت کے حوالے سے ٹھوس پالیسی بنائی جائے جو کم از کم پنج سالہ ہو تاکہ کوئی بھی حکومت آئے یا جائے معاشی پالیسیاں اور ترقیاتی منصوبے اپنے ٹریک سے نہ ہٹیں۔
اس طرح سے تمام منصوبے اپنے وقت پر مکمل بھی ہوں گے ان کے اخراجات بھی نہیں بڑھیں گے اور کرپشن بھی کم ہوگی نیز معاشی پالیسی بھی اپنے نتائج اچھے دے گی، کیونکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ہمارا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت گرا دی جاتی ہے یا اس کی مدت ختم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے دور کے تمام منصوبے اور پالیسیاں بھی ختم کر دی جاتی ہیں۔ ہرآنے والا اپنی نئی پالیسی اور نیا نظریہ اس ملک پر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے ملک کی معیشت کا خاص طور پر بیڑا غرق ہو جاتا ہے، کوئی نیا پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے کوئی پرانے پاکستان میں آنے کی بات کرتا ہے، یوں اس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اب قابل غور بات صرف اتنی سی ہے کہ جب خارجی محاذ پر ہماری دونوں قوتیں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئیں تو دنیا میں پاکستان کا نام ایسا روشن ہوا کہ لوگ سپر پاور کو بھول گئے، اگر یہی قوتیں ملک کے اندرونی مسائل اور معیشت کے لیے مل کے کھڑی ہو جائیں تو کیا معاشی لحاظ سے پاکستان کا نام روشن نہ ہوگا؟ کیا عوام کو اپنے مسائل سے نجات نہیں ملے گی۔
راقم کے خیال میں پاکستان کی موجودہ کامیابی اور عزت کا سبق یہی ہے کہ آپ کو مزید کامیابی اور عزت چاہیے تو پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ایسے ہی مل کے کھڑے ہوں کسی کی حکومت آئے یا کسی کی حکومت جائے لیکن پالیسی ایک ہی رہے، تمام منصوبے اپنے وقت پر ختم ہوں اور عوام کے مسائل حل ہوں۔
ایسا کرنا کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ ماضی قریب میں ہم اس کی ایک عملی شکل ’’کورونا وائرس‘‘ کے دور میں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت تمام اہم فیصلے فوج اور حکومت کے ایک مشترکہ پلٹ فارم سے ہی ہو رہے تھے حتیٰ کہ ’’ کورونا وائرس ‘‘ سے مرنے والے مریضوں کے اعدادو شمار بھی اس کے توسط سے بتائے جا رہے تھے۔ اس وقت ملک شدید بحران کا شکار تھا اور اس مشترکہ پلٹ فارم کا بنانا بھی وقت کا تقاضا تھا۔ آج پھر ملکی معشیت ایک بحران سے گزر رہی ہے اور عوام مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں، کراچی جیسا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، چنانچہ آج ایسی ہی کسی کوشش کی اندرون ملک بھی ضرورت ہے۔
Today News
آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے
ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی نگرانی پر مامور ساتویں بیڑے کا بنیادی کام چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور سب سے گنجان آبنائے ملاکا پر نظر رکھنا ہے۔
دنیا کی پانچ بڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں میں سے چار آبنائے ملاکا کے آس پاس قائم ہیں۔ سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ پورٹ سنگاپور عین آبنائے کے دہانے پر ہے۔اس پورٹ پر دو سو جہاز راں کمپنیوں کا سامان پہنچتا ہے اور پھر یہ سامان دنیا بھر میں چھ سو مختلف بندرگاہوں تک بھیجا جاتا ہے۔سنگاپور کے آمنے سامنے ملائشیا کی ٹرانس شپمنٹ پورٹ کلانگ واقع ہے۔ جنوبی کوریا کی بوسان ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور مصروف ترین عالمی بندرگاہ شنگھائی کی سانسوں کا دار و مدار بھی آبنائے ملاکا کی بلارکاوٹ ٹریفک پر ہے۔
یہ آبنائے بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے جوڑتی ہے۔نو سو کلومیٹر ( پانچ سو ساٹھ میل ) طویل یہ آبی گذرگاہ ملائشیا ، سنگاپور اور انڈونیشیا کی حدود چھوتی ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی ڈھائی سو کلومیٹر اور ایک جگہ محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر ہے۔کہیں اس کی گہرائی ساڑھے چھ سو فٹ تو کہیں ایک سو بیس فٹ ہے۔چنانچہ جہازوں کو وزن اور حجم کے حساب سے آبنائے کے ٹریکس سے پائلٹ کشتیوں کی رہنمائی میں گذارا جاتا ہے۔
اس راستے سے سالانہ پچانوے ہزار تک مال بردار جہاز اور آئل ٹینکر گذرتے ہیں۔سالانہ بیس فیصد عالمی گیس اور روزانہ دو کروڑ بتیس لاکھ بیرل تیل سمیت دنیا کی چالیس فیصد بحری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے۔چین ، ہانگ کانگ ، تائیوان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، فلپینز ، ویتنام ، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ اور بھارت سمیت کونسی ایسی ایشیائی اقتصادی طاقت ہے جو آبنائے ملاکا کے بغیر ایک ماہ بھی رہ سکے۔
مصروف ترین گذرگاہ ہونے کے سبب بحری قزاق بھی متحرک رہتے ہیں اور یہ روائیت بھی صدیوں پرانی ہے۔تاہم سن دو ہزار تا دو ہزار پانچ کے درمیان علاقائی ممالک نے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے قزاقی کے رجحان کا خاصی حد تک قلع قمع کر دیا ہے۔
آبنائے ملاکا کی تجارتی طاقت آس پاس کی سیاست و معیشت پر صدیوں سے اثرانداز ہے۔ ساتویں سے تیرہویں صدی تک یہاں جاوا ، سماٹرا اور ملائیشیا پر مشتمل بدھسٹ سری وجیا سلطنت کا ڈنکا بحتا رہا۔ اس سلطنت کا دارالخلافہ سماٹرا کا تاریخی شہر پالمبانگ تھا۔طویل ساحل کے ساتھ ساتھ عرب ، ایرانی اور چینی تاجروں کے لیے سرائیں قائم تھیں۔ سری وجیا راجاؤں کا آبنائے ملاکا پر مکمل کنٹرول تھا اور اس گذرگاہ کی ٹرانزٹ فیس ریاستی آمدنی کا بنیادی ستون تھی۔ تب ملاکا شہر جنوب مشرقی ایشیا کی مصروف ترین علاقائی بندرگاہ تھا (آج یہ شہر ریٹائرمنٹ کے دن کاٹ رہا ہے )۔
پھر جیسا کہ ہوتا ہے۔آپسی خانہ جنگی میں سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔یعنی ریاست آچے (سماٹرا ) اور ریاستِ جوہور ( ملیشیا )۔عرب تاجروں اور مبلغوں کی مسلسل آمد کے سبب مقامی بودھ اور ہندو آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی۔تاہم مقامی تجارت پر پرانے خاندانوں کا ہی کنٹرول برقرار رہا۔فرق بس اتنا پڑا کہ ان خاندانوں کا مذہب بدل گیا۔
سولہویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے پہلے افریقہ ، پھر ایشیا اور پھر مشرقِ بعید کا رخ کیا۔تاجر تو یہ بھی تھے مگر ان کے ہاتھ میں تلوار کے علاوہ توپ اور بارود کی اضافی تباہ کن طاقت تھی۔ پرتگیزیوں نے پہلے انڈیا دریافت کیا۔پھر یورپ اور انڈیا کے درمیان کی گذرگاہ خلیجِ فارس کے جزائر پر قلعہ بندیاں کیں۔ لنکا پر قبضے کے بعد ملاکا تک جا پہنچے۔ان کے پیچھے پیچھے برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی چل پڑے اور آپس میں مقبوضات کی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پرتگالیوں سے عدن اور خلیجِ فارس کے قلعے چھینے ۔فرانسییسوں نے انڈو چائنا (ویتنام ، لاؤس کمبوڈیا ) پر جھنڈا گاڑ لیا۔ولندیزیوں نے سولہ سو چالیس عیسوی میں آبنائے ملاکا کی ناکہ بندی کر کے آچے ریاست پر قبضہ کر لیا اور پرتگالیوں سے ملاکا کا تجارتی شہر بھی چھین لیا۔
سترہ سو چھیالیس میں انگریز سامراج بھی اس علاقے میں گھس آیا اور ملائشیا کے شمال مغربی ساحل پر بندرگاہ تعمیر کی جسے آج پینانگ کہا جاتا ہے اور یہاں چینی نژاد ملیشیائیوں کی اکثریت ہے۔
اٹھارہ سو چویس میں ولندیزیوں اور انگریزوں نے نوآبادیاتی بندر بانٹ پر سمجھوتہ کر لیا۔ اس کے تحت سماٹرا اور جاوا ( موجودہ انڈونیشیا ) پر ولندیزی اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔ برطانویوں کو ملائیشیا اور سنگاپور مل گیا۔اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنگاپور میں بندرگاہ اور فوجی چھاؤنی کی تعمیر شروع ہوئی اور اسے کراؤن کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔
سترہ اگست انیس سو پینتالیس کو انڈونیشیائی حریت پسندوں نے احمد سوئیکارنو کی قیادت میں آزادی کا اعلان کر کے لگ بھگ تین سو برس سے مسلط ولندیزیوں کو نکال باہر کیا جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر انڈونیشیا سے جاپانی قبضہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ آ دھمکے تھے۔
اکتیس اگست انیس سو ستاون کو ملیشیا نے برطانوی سامراج سے نجات پائی۔سنگاپور تب تک ملائشیا کا حصہ تھا۔مگر مقامی ملاکا اور چینی آبادی میں نسلی کشیدگی کے سبب سنگاپور کو علیحدہ ہونے کی اجازت مل گئی اور سات اگست انیس سو پینسٹھ کو سنگاپور ایک آزاد ریاست بن گیا۔وزیرِ اعظم لی کوان یو کی قیادت میں سنگاپور نے تیزرفتار ترقی کی۔آج وہ جنوب مشرقی ایشیا میں بحری تجارت ، بینکاری اور گورنننس کا اہم مرکز ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بحیرہ منجمد شمالی کی برف پگھل رہی ہے اور ایشیا اور یور پ کے مابین ایک نیا شمالی راستہ ( آرکٹک روٹ ) کھلنے سے یورپ اور مشرقی ایشیا کے مابین نہ صرف تجارتی فاصلے ہزاروں کلومیٹر کم ہو جائیں گے بلکہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ملاکا ، باب المندب اور نہر سویز کی بحرانی بے یقینی سے نجات بھی مل جائے گی۔
دو ہزار سولہ میں پہلی بار چین کی معروف شپنگ کمپنی کوسکو کے پانچ مال بردار جہازوں نے بحیرہ آرکٹک کے راستے بلجئیم ، جرمنی اور برطانیہ تک چینی سامان لے جانے کا کامیاب سفر کیا۔نئے تجارتی راستے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے چین نے روس اور شمالی کوریا سے متصل سرحدی علاقے ہونچون میں ایک نئے ’’ سنگاپور ‘‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہاں سے آرکٹک روٹ کے راستے چینی سامان بھیجا جائے گا۔
البتہ فی الحال اگلے کئی برس تک نہ سنگاپور کی تجارتی اہمیت کو خطرہ ہے اور نہ ہی آبنائے ملاکا بے وقعت ہونے والی ہے۔کل کی کل دیکھی جائے گی۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
ایران جنگ اور ملکی نقصان