Today News
آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے
ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی نگرانی پر مامور ساتویں بیڑے کا بنیادی کام چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور سب سے گنجان آبنائے ملاکا پر نظر رکھنا ہے۔
دنیا کی پانچ بڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں میں سے چار آبنائے ملاکا کے آس پاس قائم ہیں۔ سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ پورٹ سنگاپور عین آبنائے کے دہانے پر ہے۔اس پورٹ پر دو سو جہاز راں کمپنیوں کا سامان پہنچتا ہے اور پھر یہ سامان دنیا بھر میں چھ سو مختلف بندرگاہوں تک بھیجا جاتا ہے۔سنگاپور کے آمنے سامنے ملائشیا کی ٹرانس شپمنٹ پورٹ کلانگ واقع ہے۔ جنوبی کوریا کی بوسان ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور مصروف ترین عالمی بندرگاہ شنگھائی کی سانسوں کا دار و مدار بھی آبنائے ملاکا کی بلارکاوٹ ٹریفک پر ہے۔
یہ آبنائے بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے جوڑتی ہے۔نو سو کلومیٹر ( پانچ سو ساٹھ میل ) طویل یہ آبی گذرگاہ ملائشیا ، سنگاپور اور انڈونیشیا کی حدود چھوتی ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی ڈھائی سو کلومیٹر اور ایک جگہ محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر ہے۔کہیں اس کی گہرائی ساڑھے چھ سو فٹ تو کہیں ایک سو بیس فٹ ہے۔چنانچہ جہازوں کو وزن اور حجم کے حساب سے آبنائے کے ٹریکس سے پائلٹ کشتیوں کی رہنمائی میں گذارا جاتا ہے۔
اس راستے سے سالانہ پچانوے ہزار تک مال بردار جہاز اور آئل ٹینکر گذرتے ہیں۔سالانہ بیس فیصد عالمی گیس اور روزانہ دو کروڑ بتیس لاکھ بیرل تیل سمیت دنیا کی چالیس فیصد بحری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے۔چین ، ہانگ کانگ ، تائیوان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، فلپینز ، ویتنام ، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ اور بھارت سمیت کونسی ایسی ایشیائی اقتصادی طاقت ہے جو آبنائے ملاکا کے بغیر ایک ماہ بھی رہ سکے۔
مصروف ترین گذرگاہ ہونے کے سبب بحری قزاق بھی متحرک رہتے ہیں اور یہ روائیت بھی صدیوں پرانی ہے۔تاہم سن دو ہزار تا دو ہزار پانچ کے درمیان علاقائی ممالک نے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے قزاقی کے رجحان کا خاصی حد تک قلع قمع کر دیا ہے۔
آبنائے ملاکا کی تجارتی طاقت آس پاس کی سیاست و معیشت پر صدیوں سے اثرانداز ہے۔ ساتویں سے تیرہویں صدی تک یہاں جاوا ، سماٹرا اور ملائیشیا پر مشتمل بدھسٹ سری وجیا سلطنت کا ڈنکا بحتا رہا۔ اس سلطنت کا دارالخلافہ سماٹرا کا تاریخی شہر پالمبانگ تھا۔طویل ساحل کے ساتھ ساتھ عرب ، ایرانی اور چینی تاجروں کے لیے سرائیں قائم تھیں۔ سری وجیا راجاؤں کا آبنائے ملاکا پر مکمل کنٹرول تھا اور اس گذرگاہ کی ٹرانزٹ فیس ریاستی آمدنی کا بنیادی ستون تھی۔ تب ملاکا شہر جنوب مشرقی ایشیا کی مصروف ترین علاقائی بندرگاہ تھا (آج یہ شہر ریٹائرمنٹ کے دن کاٹ رہا ہے )۔
پھر جیسا کہ ہوتا ہے۔آپسی خانہ جنگی میں سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔یعنی ریاست آچے (سماٹرا ) اور ریاستِ جوہور ( ملیشیا )۔عرب تاجروں اور مبلغوں کی مسلسل آمد کے سبب مقامی بودھ اور ہندو آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی۔تاہم مقامی تجارت پر پرانے خاندانوں کا ہی کنٹرول برقرار رہا۔فرق بس اتنا پڑا کہ ان خاندانوں کا مذہب بدل گیا۔
سولہویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے پہلے افریقہ ، پھر ایشیا اور پھر مشرقِ بعید کا رخ کیا۔تاجر تو یہ بھی تھے مگر ان کے ہاتھ میں تلوار کے علاوہ توپ اور بارود کی اضافی تباہ کن طاقت تھی۔ پرتگیزیوں نے پہلے انڈیا دریافت کیا۔پھر یورپ اور انڈیا کے درمیان کی گذرگاہ خلیجِ فارس کے جزائر پر قلعہ بندیاں کیں۔ لنکا پر قبضے کے بعد ملاکا تک جا پہنچے۔ان کے پیچھے پیچھے برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی چل پڑے اور آپس میں مقبوضات کی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پرتگالیوں سے عدن اور خلیجِ فارس کے قلعے چھینے ۔فرانسییسوں نے انڈو چائنا (ویتنام ، لاؤس کمبوڈیا ) پر جھنڈا گاڑ لیا۔ولندیزیوں نے سولہ سو چالیس عیسوی میں آبنائے ملاکا کی ناکہ بندی کر کے آچے ریاست پر قبضہ کر لیا اور پرتگالیوں سے ملاکا کا تجارتی شہر بھی چھین لیا۔
سترہ سو چھیالیس میں انگریز سامراج بھی اس علاقے میں گھس آیا اور ملائشیا کے شمال مغربی ساحل پر بندرگاہ تعمیر کی جسے آج پینانگ کہا جاتا ہے اور یہاں چینی نژاد ملیشیائیوں کی اکثریت ہے۔
اٹھارہ سو چویس میں ولندیزیوں اور انگریزوں نے نوآبادیاتی بندر بانٹ پر سمجھوتہ کر لیا۔ اس کے تحت سماٹرا اور جاوا ( موجودہ انڈونیشیا ) پر ولندیزی اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔ برطانویوں کو ملائیشیا اور سنگاپور مل گیا۔اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنگاپور میں بندرگاہ اور فوجی چھاؤنی کی تعمیر شروع ہوئی اور اسے کراؤن کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔
سترہ اگست انیس سو پینتالیس کو انڈونیشیائی حریت پسندوں نے احمد سوئیکارنو کی قیادت میں آزادی کا اعلان کر کے لگ بھگ تین سو برس سے مسلط ولندیزیوں کو نکال باہر کیا جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر انڈونیشیا سے جاپانی قبضہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ آ دھمکے تھے۔
اکتیس اگست انیس سو ستاون کو ملیشیا نے برطانوی سامراج سے نجات پائی۔سنگاپور تب تک ملائشیا کا حصہ تھا۔مگر مقامی ملاکا اور چینی آبادی میں نسلی کشیدگی کے سبب سنگاپور کو علیحدہ ہونے کی اجازت مل گئی اور سات اگست انیس سو پینسٹھ کو سنگاپور ایک آزاد ریاست بن گیا۔وزیرِ اعظم لی کوان یو کی قیادت میں سنگاپور نے تیزرفتار ترقی کی۔آج وہ جنوب مشرقی ایشیا میں بحری تجارت ، بینکاری اور گورنننس کا اہم مرکز ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بحیرہ منجمد شمالی کی برف پگھل رہی ہے اور ایشیا اور یور پ کے مابین ایک نیا شمالی راستہ ( آرکٹک روٹ ) کھلنے سے یورپ اور مشرقی ایشیا کے مابین نہ صرف تجارتی فاصلے ہزاروں کلومیٹر کم ہو جائیں گے بلکہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ملاکا ، باب المندب اور نہر سویز کی بحرانی بے یقینی سے نجات بھی مل جائے گی۔
دو ہزار سولہ میں پہلی بار چین کی معروف شپنگ کمپنی کوسکو کے پانچ مال بردار جہازوں نے بحیرہ آرکٹک کے راستے بلجئیم ، جرمنی اور برطانیہ تک چینی سامان لے جانے کا کامیاب سفر کیا۔نئے تجارتی راستے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے چین نے روس اور شمالی کوریا سے متصل سرحدی علاقے ہونچون میں ایک نئے ’’ سنگاپور ‘‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہاں سے آرکٹک روٹ کے راستے چینی سامان بھیجا جائے گا۔
البتہ فی الحال اگلے کئی برس تک نہ سنگاپور کی تجارتی اہمیت کو خطرہ ہے اور نہ ہی آبنائے ملاکا بے وقعت ہونے والی ہے۔کل کی کل دیکھی جائے گی۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
رواں سال ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا سال ہے، میئر کراچی کا جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا اعلان
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ رواں سال ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا سال ہے اور شہر کے تمام ٹاؤنز میں نمایاں ترقیاتی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی اس سال 68 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی اور 15 جون تک جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کراچی میں جاری کاموں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے۔
میئر کراچی نے اولڈ سٹی میں میسم لی اسٹریٹ کی بحالی کے کام کا معائنہ کیا، اس موقع پر صحافیوں کے وفد اور بلدیہ عظمیٰ کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ساتھ لانے کا مقصد ترقیاتی کاموں اور ان کی شفافیت کو عوام کے سامنے رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ سڑک ٹاؤن کی حدود میں آتی ہے، تاہم عوامی سہولت کے پیش نظر بلدیہ عظمیٰ اس پر کام کروا رہی ہے۔
بعد ازاں میئر کراچی نے ضلع سینٹرل میں جاری میگا ترقیاتی اسکیموں کا بھی جائزہ لیا اور ایس ایم توفیق روڈ پر بحالی کے کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈی جی ٹیکنیکل سروسز طارق مغل نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ میئر کے مطابق یہ سڑک ضلع سینٹرل کی مصروف ترین شاہراہوں میں شامل ہے اور سوا ایک کلومیٹر طویل ٹریک پر کام تیزی سے جاری ہے، جسے جلد مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے صدر ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں دن رات کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہبا اختر روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی بحالی سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
میئر کراچی نے بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات پر شہر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہر کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور ماضی کی طرح اپنے وعدے پورے کرے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شاہراہ بھٹو پر تیزی سے کام جاری ہے اور قیوم آباد سے کاٹھور تک اہم منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے، جبکہ ایک اور منصوبہ بندرگاہ کو شاہراہ بھٹو سے جوڑنے کے لیے شروع کیا جا چکا ہے۔ عظیم پورہ فلائی اوور کی تعمیر بھی سو دن کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ واٹر بورڈ نے حب ڈیم سے پانی کا کوٹہ بڑھانے کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی ہے، جبکہ حب ڈیم کی نئی کینال مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ شہر کی خدمت کرنے والے مسلسل کام میں مصروف ہیں اور کراچی کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے گا۔
Today News
وادیِ ایلا سے آبنائے ہرمز تک
وادیِ ایلا کی وہ قدیم بازگشت آج مشرقِ وسطی کے تپتے ہوئے نقشوں پر ایک ایسے نئے پیراہن میں نمودار ہوئی ہے جہاں جالوت کی زرہ بکتر اب ڈالر کی چمک، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ میں بدل چکی ہے، مگر داؤد کی غلیل اب بھی اسی سادہ مگر مہلک بے نیازی سے لیس ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں بڑے بڑے برج الٹائے ہیں۔ ’’میلکم گلیڈویل‘‘ نے اپنی کتاب ’’ڈیوڈ اینڈ گولیتھ‘‘ میں جس ’’غیر روایتی برتری‘‘ کا ذکر کیا تھا، وہ آج کے عالمی تناظر میں محض ایک فلسفہ نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ ریاضیاتی حقیقت بن کر ابھری ہے جس نے طاقت کے مروجہ ترازو توڑ دیے ہیں۔ جب ہم اس تکون یعنی امریکا، اسرائیل اور ایران کے جنگی اخراجات کا تقابل کرتے ہیں تو ’’گلیڈویل‘‘کا وہ نکتہ خون کے چھینٹوں کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ بسا اوقات حجم ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت امریکا، جس کا سالانہ دفاعی بجٹ نو سو ارب ڈالر کی ناقابلِ تصور حدوں کو چھو رہا ہے، آج ایک ایسے جالوت کی مانند ہے جو اپنے ہی بوجھ تلے ہانپ رہا ہے۔ اس کے مدمقابل اسرائیل ہے، جس کی جنگی مشینری کا پہیہ روزانہ کی بنیاد پر اربوں شیکل (کچھ تخمینوں کے مطابق تقریباً 250 ملین ڈالر روزانہ) ہڑپ کر رہا ہے اور حالیہ تنازعات کے نتیجے میں جس کا مجموعی جنگی تخمینہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن اس مادی ہیبت کے سامنے ایران ہے، جس کا کل عسکری بجٹ شاید دس سے پندرہ ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے، مگر اس نے ’’خسارے کی اس جنگ‘‘ میں جالوت کو وہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک پتھر کی قیمت ہیرے سے زیادہ پڑ رہی ہے۔
’’گلیڈویل‘‘ کے مطابق داؤد کی جیت کا راز یہ تھا کہ اس نے جالوت سے اس کے میدان میں لڑنے سے انکار کر دیا تھا، اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی اسٹرٹیجک گہرائی نے امریکا اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو ’’اکانومیز آف اسکیل‘‘ کے بحران میں ڈال دیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی وہ ریاضی ہے جو جدید عسکری تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے۔
ایران کا ایک ’’شاہد ڈرون‘‘ جس کی تیاری پر محض بیس ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جب اسرائیل کی فضاؤں کی طرف بڑھتا ہے تو اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک ’’ایرو‘‘ یا ’’پیٹریاٹ‘‘ میزائل تیس سے پینتیس لاکھ ڈالر کا ہوتا ہے۔ یہ وہ تفاوت ہے جو بڑی طاقتوں کو معاشی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ایک رات کے ایرانی حملے کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا بارود فضا میں جھونکنا پڑا، جب کہ حملہ کرنے والے آلات کی کل مالیت اس کے دسویں حصے کے برابر بھی نہ تھی۔ یہ طاقت کا وہ زوال ہے جہاں آپ دشمن کو مارنے کے لیے جتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں، آپ اپنی ہی معیشت کے ماتھے پر شکست کا گھاؤ لگاتے جاتے ہیں۔
گلیڈویل کے اسی مقدمے کو اگر عسکری پیراہن میں دیکھا جائے کہ ہم طاقت کو ہمیشہ اس کے ظاہری جاہ و جلال، مادی وسائل اور حجم سے ناپتے ہیں، حالاں کہ یہی حجم بسا اوقات انسان یا ریاست کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ایران نے ایک روایتی ایئر فورس بنانے کے بجائے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی پر توجہ دی، اس نے سمندروں میں بڑے بیڑے اتارنے کے بجائے چھوٹی، تیز رفتار کشتیوں اور پراکسی وارفیئر کا ایسا جال بنا دیا جسے امریکا جیسا ہاتھی اپنی بھاری بھرکم سونڈ سے پکڑنے میں ناکام ہے۔ایران کی ’’غلیل‘‘ اس کا وہ علاقائی اثر و رسوخ ہے جو لبنان سے یمن تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ براہِ راست سامنے آئے بغیر جالوت کو تھکا رہا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں میزائل کی قیمت لاکھوں ڈالر ہے لیکن اسے گرانے والے ڈرون کی قیمت چند سو ڈالر، اور یہ ہی وہ عدم توازن ہے جو بڑے بڑے دفاعی بجٹ رکھنے والی ریاستوں کو دیوالیہ کر دیتا ہے۔
اس آگ کی تپش صرف محاذ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے دبئی اور متحدہ عرب امارات جیسے معاشی نخلستانوں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خونِ تجارت کو بھی منجمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ دبئی، جو اپنی شناخت ایک عالمی تجارتی مرکز اور ’’سیف ہیون‘‘ کے طور پر رکھتا ہے، اس جغرافیائی مناشقت کی براہِ راست زد میں ہے۔ خلیجِ فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی اثر و رسوخ کے نتیجے میں بحری جہازوں کی انشورنس پریمیم میں بعض رپورٹس کے مطابق دو سو سے تین سو فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے جبل علی جیسے دنیا کے مصروف ترین پورٹ کے لاجسٹک اخراجات کو پندرہ سے بیس فیصد تک بڑھا دیا ہے۔
یو اے ای کی معیشت، جو سیاحت اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر کھڑی ہے، اس عدم استحکام کی وجہ سے سالانہ اربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان کے سائے میں ہے۔ ریٹنگ ایجنسیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار میں وہ نمو نہیں رہی، جو پچھلی دہائی کا خاصہ تھی۔ یہ وہ معاشی نقصان ہے جو بغیر گولی چلے سہنا پڑ رہا ہے۔ دبئی کے مالز اور ہوائی اڈوں کی رونقیں جب سیاسی تناؤ کے بادلوں تلے آتی ہیں، تو اس کا حساب صرف ڈالروں میں نہیں بلکہ اس اعتماد کے خاتمے کی صورت میں ہوتا ہے جسے بحال ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔
’’گلیڈویل‘‘ لکھتا ہے کہ جالوت کا قد جتنا لمبا ہوتا ہے، اس کے گرنے کی آواز اتنی ہی ہولناک ہوتی ہے۔ آج امریکا اور اسرائیل کا دفاعی اتحاد جس تکنیکی برتری پر نازاں ہے، وہ ہی ان کی معاشی زنجیر بنتی جا رہی ہے۔ وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جہاں دشمن کو ایک بار گرانے کی قیمت خود ان کے اپنے پاؤں کاٹنے کے برابر ہے۔ دوسری طرف ایران نے اپنی محرومی کو ایک ایسی ’’غیر روایتی فرادت‘‘ میں بدل لیا ہے جہاں اسے جیتنے کے لیے صرف ’’باقی رہنا‘‘ ہے، جب کہ جالوت کو اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ہر بار اربوں ڈالر کی قربانی دینی ہے۔
بین السطور میں یہ واضح ہے کہ آنے والا دور مادی وسائل کی کثرت کا نہیں بلکہ اس ’’اسٹرٹیجک صبر‘‘ کا ہے جو داؤد کی غلیل میں چھپا ہوا تھا۔ جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو پھر ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ بصیرت کام آتی ہے جو یہ جانتی ہو کہ کب ایک معمولی کنکر سے پہاڑ جیسے دشمن کو زمین بوس کرنا ہے۔
تاریخ کے اس کلاسک موڑ پر، اعداد و شمار کی یہ گواہی بتا رہی ہے کہ وادیِ ایلا کا وہ چرواہا آج بھی مسکرا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جسامت کبھی بھی شجاعت اور حکمت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ جالوت اپنی ہی ڈھال کے بوجھ سے تھک رہا ہے۔ وادیِ ایلا کی دھول آبنائے ہرمز کے پانیوں پر تیر رہی ہے اور دنیا ایک بار پھر اس حقیقت کی گواہ بن رہی ہے کہ غلیل کا ایک چھوٹا سا پتھر ایٹمی آبدوزوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔جان لیجیے جب آپ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ ہو، تو آپ کے اندر کا خوف ختم ہو کر بے خوفی کا وہ ہتھیاربن جاتا ہے جس کا توڑ کسی پینٹاگون کے پاس نہیں ہے۔
Today News
ایران دھمکیوں کیساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے ساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا جبکہ ایران نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں نئی عسکری صلاحیتوں کی تیاری کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایران پر دباؤ بڑھا کر مذاکراتی عمل کو اپنی خواہش کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی میزمیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگی کارروائیوں کا جواز پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے میدان جنگ میں ئنے کارڈز سامنے لانے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔
ادھر ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد ایران نے مذاکرات امریکا کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کردیے جبکہ ایران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
ایران جنگ اور ملکی نقصان