Connect with us

Today News

سبز پرچم، پاسپورٹ اور عوام

Published

on


سبز ہلالی پرچم اور پاکستانی سبز پاسپورٹ یہ دونوں پاکستان میں اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ ایٹمی میدان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کارناموں نے پوری اسلامی دنیا میں پاکستان سبز پرچم کو امر کردیا جب کہ کھیلوں کے میدان میں جب بھی پاکستان نے ہاکی اور کرکٹ وغیرہ میں اپنا لوہا منوایا تو دنیا بھر میں پاکستانیوں نے سبز ہلالی پرچم بڑے فخر سے بلند کیا۔

1982 میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے بھارت کو اس کی سرزمین پر ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں ایک کے مقابلے میں تین گول سے تاریخی شکست دے کر پاکستانی پرچم بھارتی فضاؤں میں سربلند کیا۔ شارجہ کرکٹ کپ میں میانداد نے آخری گیند پر چھکا لگا کر بھارت کو شکست دی تو شارجہ سے لے کر دنیا بھر میں ہر جگہ پاکستانی شائقین نے سبز ہلالی پرچم لہرائے۔ اسی طرح اسکواش میں جہانگیر خان کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے۔

لیکن سبز پاکستانی پاسپورٹ اس معاملے میں ہمیشہ بدقسمت رہا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی دوران سفر بھی اپنا سبز پاسپورٹ مجبوری میں ہی دکھاتے تھے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ کو دیکھ کر کوئی اچھا رسپانس نہیں ملتا تھا ،جس کی وجہ بھی ہم سب کو معلوم ہے اور ہم نے اس پر مرحوم عمر شریف کے لطیفے بھی سن رکھے ہیں لیکن اب کے برس کچھ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی پر چم ہی نہیں لوگ پاکستانی پاسپورٹ بھی جیب سے نکال کر لہرا رہے ہیں اور فخر سے دکھا رہے ہیں کہ دیکھو، ہم پاکستانی ہیں یہ ہمارا پاسپورٹ ہے۔ سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ اور اس کا جواب سب ہی جانتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر وہ کام کر دکھایا ہے جو اس وقت دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کر سکا۔

 خارجی سطح پہ پاکستان کا یہ کارنامہ دنیا نے دیکھا اور تسلیم بھی کیا اور تعریف بھی کی۔ پہلے امریکی صدر ٹرمپ صرف یہ بتاتے تھے کہ پاکستان نے بھارت کے کتنے طیارے گرائے اور یہ کہ انھوں نے ہی پاک بھارت جنگ رکوائی، مگر اب وہ خود اپنی جنگ بند کر وانے پر اور ثالثی کے کردار پر پاکستان کا شکریہ بار بار کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار پر اب کوئی دو رائے نہیں ہیں کیونکہ پاکستان نے صرف ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا اور اپنے جنگی طیاروں کی حفاظت میں ’’ پک اینڈ ڈراپ‘‘ کی سہولت بھی دی۔

 ماضی میں ایک طویل عرصہ گزرا ہے کہ جب ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ فوج سب سے زیادہ بجٹ استعمال کرتی ہے، اس کا بجٹ کم ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ جس فوج پر یہ تنقید کی جاتی تھی اس نے وقت پڑنے پر ثابت کر دیا کہ فوج وہ ادارہ ہے جس پر جو کچھ خرچ کیا گیا اس نے اس خرچ سے بڑھ کر پاکستان کو دیا۔آج جو پاکستان کو عزت ملی ہے شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی ایسی عزت نہیں ملی۔

بہت سے لوگ جن میں بڑے نام بھی شامل ہیں پاکستان کی یہ کارکردگی سراہ رہے ہیں اور تعریف بھی کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کب صحیح ہوگی؟اس بات کو اگر یوں کہیں تو کیسا ہوگا کہ جن کا شعبہ دفاع تھا انھوں نے تو اپنا لوہا منوا لیا لیکن جن کا شعبہ سیاست تھا وہ کب اپنی کارکردگی کا لوہا منوائیں گے؟ بات یہ ہے کہ سیاست دانوں نے بھی خارجہ پالیسی میں اپنا لوہا منوا لیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ صرف شہبازشریف یا اسحاق ڈار ہی نہیں اس سے قبل بلاول بھٹو بھی بطور وزیر خارجہ ایک بہترین پرفارمنس دے چکے ہیں۔

بات سمجھنے کی صرف اتنی سی ہے کہ جب حکمران (یعنی سیاسی لوگ) اور فوج نے مل کر کوشش کی تو پاکستانی پاسپورٹ کو بھی دنیا بھر میں عزت مل گئی، اب رہا مسئلہ معیشت کا یا اندرونی مسائل کا تو اس پر بھی یہ دونوں قوتیں مل کے پاکستان کو معاشی لحاظ سے بھی دنیا میں قابل دید قوت بنا سکتی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بیرون ملک بعض پاکستانیوں کے کردار سے بھی دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ۔ سعودی عرب میں تو بھیک مانگنے والوں کی باقاعدہ ایک مافیا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اب جب کہ سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت و توقیر بڑھی ہے تو بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ آیندہ اپنے کردار سے اپنے سبز پاسپورٹ کا بھرم رکھیں، نیز حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ مالی امداد کے لیے اب مزید کسی ملک کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط تر بنائیں۔

راقم نے کافی عرصے پہلے بھی اپنے کالم میں خصوصی طور پر اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے کہ جس میں فوج اور حکمرانوں کی نمائندگی ہو اور اس پلیٹ فارم سے ہی تمام ترقیاتی منصوبے (وفاق کی سطح پر) پیش کیے جائیں اور معیشت کے حوالے سے ٹھوس پالیسی بنائی جائے جو کم از کم پنج سالہ ہو تاکہ کوئی بھی حکومت آئے یا جائے معاشی پالیسیاں اور ترقیاتی منصوبے اپنے ٹریک سے نہ ہٹیں۔

اس طرح سے تمام منصوبے اپنے وقت پر مکمل بھی ہوں گے ان کے اخراجات بھی نہیں بڑھیں گے اور کرپشن بھی کم ہوگی نیز معاشی پالیسی بھی اپنے نتائج اچھے دے گی، کیونکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ہمارا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت گرا دی جاتی ہے یا اس کی مدت ختم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے دور کے تمام منصوبے اور پالیسیاں بھی ختم کر دی جاتی ہیں۔ ہرآنے والا اپنی نئی پالیسی اور نیا نظریہ اس ملک پر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے ملک کی معیشت کا خاص طور پر بیڑا غرق ہو جاتا ہے، کوئی نیا پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے کوئی پرانے پاکستان میں آنے کی بات کرتا ہے، یوں اس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اب قابل غور بات صرف اتنی سی ہے کہ جب خارجی محاذ پر ہماری دونوں قوتیں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئیں تو دنیا میں پاکستان کا نام ایسا روشن ہوا کہ لوگ سپر پاور کو بھول گئے، اگر یہی قوتیں ملک کے اندرونی مسائل اور معیشت کے لیے مل کے کھڑی ہو جائیں تو کیا معاشی لحاظ سے پاکستان کا نام روشن نہ ہوگا؟ کیا عوام کو اپنے مسائل سے نجات نہیں ملے گی۔

 راقم کے خیال میں پاکستان کی موجودہ کامیابی اور عزت کا سبق یہی ہے کہ آپ کو مزید کامیابی اور عزت چاہیے تو پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ایسے ہی مل کے کھڑے ہوں کسی کی حکومت آئے یا کسی کی حکومت جائے لیکن پالیسی ایک ہی رہے، تمام منصوبے اپنے وقت پر ختم ہوں اور عوام کے مسائل حل ہوں۔

ایسا کرنا کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ ماضی قریب میں ہم اس کی ایک عملی شکل ’’کورونا وائرس‘‘ کے دور میں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت تمام اہم فیصلے فوج اور حکومت کے ایک مشترکہ پلٹ فارم سے ہی ہو رہے تھے حتیٰ کہ ’’ کورونا وائرس ‘‘ سے مرنے والے مریضوں کے اعدادو شمار بھی اس کے توسط سے بتائے جا رہے تھے۔ اس وقت ملک شدید بحران کا شکار تھا اور اس مشترکہ پلٹ فارم کا بنانا بھی وقت کا تقاضا تھا۔ آج پھر ملکی معشیت ایک بحران سے گزر رہی ہے اور عوام مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں، کراچی جیسا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، چنانچہ آج ایسی ہی کسی کوشش کی اندرون ملک بھی ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

رواں سال ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا سال ہے، میئر کراچی کا جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا اعلان

Published

on



میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ رواں سال ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا سال ہے اور شہر کے تمام ٹاؤنز میں نمایاں ترقیاتی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی اس سال 68 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی اور 15 جون تک جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کراچی میں جاری کاموں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے۔

میئر کراچی نے اولڈ سٹی میں میسم لی اسٹریٹ کی بحالی کے کام کا معائنہ کیا، اس موقع پر صحافیوں کے وفد اور بلدیہ عظمیٰ کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ساتھ لانے کا مقصد ترقیاتی کاموں اور ان کی شفافیت کو عوام کے سامنے رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ سڑک ٹاؤن کی حدود میں آتی ہے، تاہم عوامی سہولت کے پیش نظر بلدیہ عظمیٰ اس پر کام کروا رہی ہے۔

بعد ازاں میئر کراچی نے ضلع سینٹرل میں جاری میگا ترقیاتی اسکیموں کا بھی جائزہ لیا اور ایس ایم توفیق روڈ پر بحالی کے کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈی جی ٹیکنیکل سروسز طارق مغل نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ میئر کے مطابق یہ سڑک ضلع سینٹرل کی مصروف ترین شاہراہوں میں شامل ہے اور سوا ایک کلومیٹر طویل ٹریک پر کام تیزی سے جاری ہے، جسے جلد مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے صدر ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں دن رات کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہبا اختر روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی بحالی سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

میئر کراچی نے بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات پر شہر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہر کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور ماضی کی طرح اپنے وعدے پورے کرے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شاہراہ بھٹو پر تیزی سے کام جاری ہے اور قیوم آباد سے کاٹھور تک اہم منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے، جبکہ ایک اور منصوبہ بندرگاہ کو شاہراہ بھٹو سے جوڑنے کے لیے شروع کیا جا چکا ہے۔ عظیم پورہ فلائی اوور کی تعمیر بھی سو دن کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ واٹر بورڈ نے حب ڈیم سے پانی کا کوٹہ بڑھانے کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی ہے، جبکہ حب ڈیم کی نئی کینال مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ شہر کی خدمت کرنے والے مسلسل کام میں مصروف ہیں اور کراچی کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے گا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

وادیِ ایلا سے آبنائے ہرمز تک

Published

on


وادیِ ایلا کی وہ قدیم بازگشت آج مشرقِ وسطی کے تپتے ہوئے نقشوں پر ایک ایسے نئے پیراہن میں نمودار ہوئی ہے جہاں جالوت کی زرہ بکتر اب ڈالر کی چمک، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ میں بدل چکی ہے، مگر داؤد کی غلیل اب بھی اسی سادہ مگر مہلک بے نیازی سے لیس ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں بڑے بڑے برج الٹائے ہیں۔ ’’میلکم گلیڈویل‘‘ نے اپنی کتاب ’’ڈیوڈ اینڈ گولیتھ‘‘ میں جس ’’غیر روایتی برتری‘‘ کا ذکر کیا تھا، وہ آج کے عالمی تناظر میں محض ایک فلسفہ نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ ریاضیاتی حقیقت بن کر ابھری ہے جس نے طاقت کے مروجہ ترازو توڑ دیے ہیں۔ جب ہم اس تکون یعنی امریکا، اسرائیل اور ایران کے جنگی اخراجات کا تقابل کرتے ہیں تو ’’گلیڈویل‘‘کا وہ نکتہ خون کے چھینٹوں کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ بسا اوقات حجم ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت امریکا، جس کا سالانہ دفاعی بجٹ نو سو ارب ڈالر کی ناقابلِ تصور حدوں کو چھو رہا ہے، آج ایک ایسے جالوت کی مانند ہے جو اپنے ہی بوجھ تلے ہانپ رہا ہے۔ اس کے مدمقابل اسرائیل ہے، جس کی جنگی مشینری کا پہیہ روزانہ کی بنیاد پر اربوں شیکل (کچھ تخمینوں کے مطابق تقریباً 250 ملین ڈالر روزانہ) ہڑپ کر رہا ہے اور حالیہ تنازعات کے نتیجے میں جس کا مجموعی جنگی تخمینہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن اس مادی ہیبت کے سامنے ایران ہے، جس کا کل عسکری بجٹ شاید دس سے پندرہ ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے، مگر اس نے ’’خسارے کی اس جنگ‘‘ میں جالوت کو وہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک پتھر کی قیمت ہیرے سے زیادہ پڑ رہی ہے۔

’’گلیڈویل‘‘ کے مطابق داؤد کی جیت کا راز یہ تھا کہ اس نے جالوت سے اس کے میدان میں لڑنے سے انکار کر دیا تھا، اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی اسٹرٹیجک گہرائی نے امریکا اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو ’’اکانومیز آف اسکیل‘‘ کے بحران میں ڈال دیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی وہ ریاضی ہے جو جدید عسکری تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے۔

ایران کا ایک ’’شاہد ڈرون‘‘ جس کی تیاری پر محض بیس ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جب اسرائیل کی فضاؤں کی طرف بڑھتا ہے تو اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک ’’ایرو‘‘ یا ’’پیٹریاٹ‘‘ میزائل تیس سے پینتیس لاکھ ڈالر کا ہوتا ہے۔ یہ وہ تفاوت ہے جو بڑی طاقتوں کو معاشی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ایک رات کے ایرانی حملے کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا بارود فضا میں جھونکنا پڑا، جب کہ حملہ کرنے والے آلات کی کل مالیت اس کے دسویں حصے کے برابر بھی نہ تھی۔ یہ طاقت کا وہ زوال ہے جہاں آپ دشمن کو مارنے کے لیے جتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں، آپ اپنی ہی معیشت کے ماتھے پر شکست کا گھاؤ لگاتے جاتے ہیں۔

 گلیڈویل کے اسی مقدمے کو اگر عسکری پیراہن میں دیکھا جائے کہ ہم طاقت کو ہمیشہ اس کے ظاہری جاہ و جلال، مادی وسائل اور حجم سے ناپتے ہیں، حالاں کہ یہی حجم بسا اوقات انسان یا ریاست کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ایران نے ایک روایتی ایئر فورس بنانے کے بجائے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی پر توجہ دی، اس نے سمندروں میں بڑے بیڑے اتارنے کے بجائے چھوٹی، تیز رفتار کشتیوں اور پراکسی وارفیئر کا ایسا جال بنا دیا جسے امریکا جیسا ہاتھی اپنی بھاری بھرکم سونڈ سے پکڑنے میں ناکام ہے۔ایران کی ’’غلیل‘‘ اس کا وہ علاقائی اثر و رسوخ ہے جو لبنان سے یمن تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ براہِ راست سامنے آئے بغیر جالوت کو تھکا رہا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں میزائل کی قیمت لاکھوں ڈالر ہے لیکن اسے گرانے والے ڈرون کی قیمت چند سو ڈالر، اور یہ ہی وہ عدم توازن ہے جو بڑے بڑے دفاعی بجٹ رکھنے والی ریاستوں کو دیوالیہ کر دیتا ہے۔

اس آگ کی تپش صرف محاذ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے دبئی اور متحدہ عرب امارات جیسے معاشی نخلستانوں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خونِ تجارت کو بھی منجمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ دبئی، جو اپنی شناخت ایک عالمی تجارتی مرکز اور ’’سیف ہیون‘‘ کے طور پر رکھتا ہے، اس جغرافیائی مناشقت کی براہِ راست زد میں ہے۔ خلیجِ فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی اثر و رسوخ کے نتیجے میں بحری جہازوں کی انشورنس پریمیم میں بعض رپورٹس کے مطابق دو سو سے تین سو فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے جبل علی جیسے دنیا کے مصروف ترین پورٹ کے لاجسٹک اخراجات کو پندرہ سے بیس فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

یو اے ای کی معیشت، جو سیاحت اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر کھڑی ہے، اس عدم استحکام کی وجہ سے سالانہ اربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان کے سائے میں ہے۔ ریٹنگ ایجنسیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار میں وہ نمو نہیں رہی، جو پچھلی دہائی کا خاصہ تھی۔ یہ وہ معاشی نقصان ہے جو بغیر گولی چلے سہنا پڑ رہا ہے۔ دبئی کے مالز اور ہوائی اڈوں کی رونقیں جب سیاسی تناؤ کے بادلوں تلے آتی ہیں، تو اس کا حساب صرف ڈالروں میں نہیں بلکہ اس اعتماد کے خاتمے کی صورت میں ہوتا ہے جسے بحال ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔

 ’’گلیڈویل‘‘ لکھتا ہے کہ جالوت کا قد جتنا لمبا ہوتا ہے، اس کے گرنے کی آواز اتنی ہی ہولناک ہوتی ہے۔ آج امریکا اور اسرائیل کا دفاعی اتحاد جس تکنیکی برتری پر نازاں ہے، وہ ہی ان کی معاشی زنجیر بنتی جا رہی ہے۔ وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جہاں دشمن کو ایک بار گرانے کی قیمت خود ان کے اپنے پاؤں کاٹنے کے برابر ہے۔ دوسری طرف ایران نے اپنی محرومی کو ایک ایسی ’’غیر روایتی فرادت‘‘ میں بدل لیا ہے جہاں اسے جیتنے کے لیے صرف ’’باقی رہنا‘‘ ہے، جب کہ جالوت کو اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ہر بار اربوں ڈالر کی قربانی دینی ہے۔

بین السطور میں یہ واضح ہے کہ آنے والا دور مادی وسائل کی کثرت کا نہیں بلکہ اس ’’اسٹرٹیجک صبر‘‘ کا ہے جو داؤد کی غلیل میں چھپا ہوا تھا۔ جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو پھر ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ بصیرت کام آتی ہے جو یہ جانتی ہو کہ کب ایک معمولی کنکر سے پہاڑ جیسے دشمن کو زمین بوس کرنا ہے۔

تاریخ کے اس کلاسک موڑ پر، اعداد و شمار کی یہ گواہی بتا رہی ہے کہ وادیِ ایلا کا وہ چرواہا آج بھی مسکرا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جسامت کبھی بھی شجاعت اور حکمت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ جالوت اپنی ہی ڈھال کے بوجھ سے تھک رہا ہے۔ وادیِ ایلا کی دھول آبنائے ہرمز کے پانیوں پر تیر رہی ہے اور دنیا ایک بار پھر اس حقیقت کی گواہ بن رہی ہے کہ غلیل کا ایک چھوٹا سا پتھر ایٹمی آبدوزوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔جان لیجیے جب آپ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ ہو، تو آپ کے اندر کا خوف ختم ہو کر بے خوفی کا وہ ہتھیاربن جاتا ہے جس کا توڑ کسی پینٹاگون کے پاس نہیں ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران دھمکیوں کیساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف

Published

on



ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے ساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا جبکہ ایران نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں نئی عسکری صلاحیتوں کی تیاری کا عندیہ بھی دیا ہے۔

اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایران پر دباؤ بڑھا کر مذاکراتی عمل کو اپنی خواہش کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی میزمیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگی کارروائیوں کا جواز پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے میدان جنگ میں ئنے کارڈز سامنے لانے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔

ادھر ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد  ایران نے مذاکرات امریکا کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کردیے جبکہ ایران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending