Connect with us

Today News

تذکرہ شاعر مشرق کا – ایکسپریس اردو

Published

on


قارئین! اس کالم میں ہم ذکر کریں گے شاعر مشرق حکیم الامت، مفکر پاکستان عظیم فلسفی سر علامہ محمد اقبال کا۔ان کے فکر و فلسفے و شاعری پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ان کی زیست پر اختصار کے ساتھ تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔ علامہ صاحب کی ولادت 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ شہر میں شیخ نور محمد کے گھر میں ہوئی، ان کی والدہ محترمہ امام بی بی نیک سیرت خاتون تھیں۔ علامہ صاحب کا خاندان تجارت پیشہ خاندان تھا، البتہ علامہ صاحب کی شخصیت اس کے برعکس تھی۔ علامہ صاحب نے میٹرک 1893 میں، ایف اے 1895، بی اے 1897 میں، ایم اے 1899 میں کیا۔ یہ تمام تعلیمی مراحل انھوں نے سیالکوٹ میں ہی طے کیے۔ البتہ اس کے بعد وہ لاہور تشریف لے آئے اور بطور پروفیسر فروغ تعلیم کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔ بعدازاں وہ حصول تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔

1908 میں علامہ صاحب نے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی، امام بی بی کے فرزند علامہ اقبال صاحب نے اولین شادی 1895 میں 18 برس کی عمر میں کی، دوسری شادی 33 برس کی عمر میں، 1910 میں کی۔ بیوی کا نام سردار بیگم تھا، تیسری شادی 37 برس میں، 1914 مختار بیگم سے کی۔ علامہ صاحب کے ایک بھائی تھے جن کا نام عطا محمد تھا۔ علامہ صاحب کے ایک بیٹے جاوید اقبال چیف جسٹس آف سپریم کورٹ بھی رہے ۔ علامہ کی اولین نظم کوہ ہمالیہ تھی جو انھوں نے قلم بند کی علامہ صاحب کی اولین کتاب بانگ درا تھی جوکہ بچوں کے لیے لکھی گئی۔ علامہ صاحب ابتدا میں ترقی پسند نظریات سے متاثر تھے۔ چنانچہ انھوں نے عظیم فلسفی کارل مارکس کے بارے میں کہا کہ :

وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب

نیست پیغمبر لیکن دربغل دار کتاب

البتہ جب عام محنت کشوں کے حالات دیکھتے تو افسردہ ہو جاتے اور یوں کلام کیا کہ:

تو قادر ہے عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات

دوسرے لفظوں میں کچھ اس طرح اپنے نظریات بیان کیے کہ:

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے دَر و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز و یقین سے

کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے میسر نہ ہو دہقاں کو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

البتہ بعدازاں علامہ صاحب تصوف و روحانیت کی جانب راغب ہو گئے تو مسلمانوں سے کچھ ان الفاظ میں مخاطب ہوئے کہ:

اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید

سب کچھ یاد ہے مگر خدا یاد نہیں

یا یہ کلام فرمایا کہ:

اپنے کردار پر ڈال کر پردہ

ہر شخص کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے

قیام پاکستان سے قبل کا واقعہ ہے کہ لاہور میں لوگوں نے ایک ہی شب میں مسجد قائم کر دی، گویا پورا شہر مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ اس موقع پر علامہ صاحب خاموش نہ رہے اور کہا کہ:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

البتہ وہ ناامید نہ تھے انھیں پورا یقین تھا کہ مسلمان سرخرو ہوں گے چنانچہ کہا:

نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ صاحب کو تمام تر امیدیں نوجوانوں سے تھیں لہٰذا نوجوانوں سے کلام کرتے ہوئے مخاطب ہوتے ہیں کہ۔

تُو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں

مزید کہا کہ

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

علامہ صاحب مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے زبردست حامی تھے، اپنی خواہش کا اظہار یوں کیا کرتے تھے کہ:

ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

وہ مسلمانوں کو خوددار دیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے کہا کہ:

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ ہے نئی صبح شام پیدا کر

علامہ صاحب آگے سے آگے بڑھنے کا سبق دیتے ہوئے کلام کرتے ہیں۔

 منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر

مل جائے تجھے دریا تو سمندر تلاش کر

علامہ اقبال برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار سے بے حد پریشان ہوتے، اسی لیے انھوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔علامہ صاحب کی زندگی کے آخری ایام جاوید منزل لاہور میں گزرے، البتہ 21 اپریل 1938 کو صبح پانچ بج کر چودہ منٹ پر ان کا زندگی سے ناتا ختم ہو گیا، گویا نماز فجر کے وقت انھوں نے 60 برس پانچ ماہ 12 یوم عمر پائی۔ وہ لاہور میں بادشاہی مسجد میں آسودہ خاک ہیں۔ 21 اپریل 2026 کو ان کی 88 ویں برسی ہے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو ایک اصلاحی جمہوری ملک بنائیں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جائزہ لے رہے ہیں، جنگ بندی مذاکرات پر اپنے فیصلے سے جلد آگاہ کریں گے؛ ایران

Published

on


ایران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لارووف سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کے غیر قانونی اقدامات اور متضاد بیانات سفارتکاری کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اس کے جلد ہی امریکا کے ساتھ مذاکرات پر کوئی فیصلہ کرے گا۔

روسی وزیر خارجہ نے بھی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کو خطے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں موجود ہے اور ہر ایک فریق کو اس کی پاسداری کرنی چاہیئے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی  جس میں جنگ بندی اور خطے کی صورتحال پر بات ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی کی ثالثی کوششوں کو سراہا، تاہم امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا۔

ادھر امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بدھ کی شام تک ختم ہو سکتی ہے اور کسی معاہدے کے بغیر اس میں توسیع کا امکان کم ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

غزہ بورڈ آف پیس کے رکن حماس کیساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کیلیے پُر امید

Published

on


بورڈ آف پیس” کے نمائندہ خصوصی نے غزہ کے حوالے سے عالمی سفارتی کوششوں میں پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس سے مذاکرات مشکل ضرور ہیں تاہم کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برسلز میں میڈیا سے گفتگو ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حماس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت ہوئی ہے، لیکن یہ عمل آسان نہیں۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جا سکتا ہے جو تمام فریقین خصوصاً غزہ کے عوام کے لیے قابلِ قبول ہو۔

ان کے بقول غزہ بحالی پر عملدرآمد کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس میں غزہ کا نیا انتظامی ڈھانچہ، اسرائیلی انخلا اور سیکیورٹی انتظامات شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ حماس کے ساتھ یہ مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس منصوبے کے تحت ہو رہے ہیں۔ جس کا مقصد غزہ میں جنگ کی تباہی کت بعد تعمیر نو کا آغاز ہے۔

اس منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کا انخلا اور حماس سمیت دیگر مسلح گروہوں کی غیر مسلحی بنیادی نکات ہیں تاہم یہی معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مذاکرات ناگزیر کیوں؟ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی نظر آرہی ہے۔ ایران کی جنگ کے بعد ان کے مقبولیت کے گراف میں کافی کمی ہوئی ہے۔

اسی لیے ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات ہار سکتی ہے۔ ان کے مخالفین نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے۔ ڈیموکریٹ نے جلدی مہم شروع کر دی ہے تاکہ ٹرمپ کے گرتے ہوئے گراف سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ نو کنگ مارچ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ ویسے بھی ڈیموکریٹ اب ریلیوں میں نظر آرہے ہیں۔ ریپبلکن پریشان ہیں۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ ٹرمپ ایران سے جنگ بند کرنا چاہتے ہیں۔ سیز فائر اور جنگ بندی ان کی سیاسی ضرورت ہے، وہ ایران سے بات چیت پر مجبور ہیں، وہ دباؤ میں ہیں، اسی لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ لیکن ٹرمپ کی ایک مشکل نہیں ہے۔ انھیں جنگ بند کرنی ہے لیکن انھیں امریکا میں یہ تاثر بھی دینا ہے کہ انھیں فتح حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے ایران کو شکست دی ہے۔

اس لیے وہ ایسے مذاکرات چاہتے ہیں جس میں ایران کو جتنی رعائتیں دی جا سکتی ہیں دے دی جائیں لیکن فتح کا تاثر باقی رہ جائے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ کو جو فتح میدان جنگ میں نہیں ملی ہے آپ مذاکرات سے لین دین کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہی اصل صورتحال ہے۔ اس کو سمجھ کر ہی مذاکرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکا میں مڈٹرم انتخابات قریب نہ ہوتے تو سیز فائر اور امن مذاکرات کی اتنی ضرورت نہ محسوس کی جاتی۔ نہ جے ڈی وینس آتے ، نہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جاتے۔ ٹرمپ کی ضرورت کا سب کو احساس ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھیں کہ ایسا امن معاہدہ جس میں ٹرمپ کی ہار کا تاثر جاتا ہو، اس کا ٹرمپ کو فائدہ نہیں۔ پھر تباہی زیادہ قابل قبول ہے، پھر لمبی جنگ زیادہ قبول ہے۔ پھر جنگ کے ساتھ انتخابات میں جانا زیادہ بہتر حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔ایسے مذاکرات جن میں ایران کی جیت کا تاثر بنتا ہو، جس سے امریکا کی ہار کا تاثر بنتا ہو ، وہ ٹرمپ کے لیے زیادہ زہر قاتل ہے۔

اس لیے ٹرمپ کی مشکلات عجیب ہیں۔ امن کی بھی ضرورت ہے، کچھ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایران کی شرائط ماننے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن صحیح فتح کا بگل چاہیے۔ ایسا کچھ چاہیے جس کو فتح کہا جا سکے۔ یہ آسان نہیں، یہ میڈیا کا دور ہے، بات نکل جاتی ہے۔ امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات نومبر میں ہیں لیکن انتخابی مہم شروع ہے۔ اسرائیل میں اکتوبر میں عام انتخابات ہیں۔ جیسے ایران کی جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کا اقتدار خطرہ میں ہے ایسے ہی اسرائیل میں نیتن یاہو بھی خطرہ میں ہیں۔ ان پر کرپشن کیسز ہیں، ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہے، وہاں بھی لوگ جنگوں سے تنگ ہیں۔ وہاں بھی ان کی اپوزیشن اقتدار میں آنے کے لیے بے تاب ہے۔

نیتن یاہو کی گیم بھی یہی تھی کہ ایران پر مکمل فتح ان کو انتخاب جیتنے میں مدد دے گی۔ وہ اسرائیل کے لوگوں کو بتائیں گے کہ میں نے ایران میں رجیم چینج کر دی، ایران کا خطرہ ختم کر دیا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ نیتن یاہو اس وقت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے، وہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اب سیز فائر امن معاہدہ نیتن یاہو کے لیے زہر قاتل ہے۔ لیکن ٹرمپ اپنے اقتدار کو دیکھیں یا نیتن یاہو کو دیکھیں ۔ وہ امریکی انتخابات کو دیکھیں یا نیتن یاہو کے مسائل دیکھیں۔ اسی لیے آپ دیکھیں ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان میں سیز فائر پر مجبور کیا گیا ہے۔

34سال بعد لبنان اسرائیل مذاکرات کروائے گئے ہیں۔ امن مذاکرات سے پہلے لبنان میں امن کی ایران کی شرط کو قبل کیا گیا کیونکہ امن ٹرمپ کی ضرورت ہے۔ انھیں 47سال بعد ایسا موقع مل رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر امریکا کے ساتھ بیٹھ کر کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایران کو مالی مفاد دیکھنا چاہیے انھیں اپنے اوپر سے پابندیاں اٹھانے پر توجہ رکھنی چاہیے۔ انھیں ٹرمپ کے بیانیہ پر توجہ نہیں رکھنی چاہیے۔ ٹرمپ کے ٹوئٹ ان کی سیاسی ضرورت ہیں۔ لیکن ابھی تک ایران کی توجہ ان ٹوئٹس کا جواب دینے پر ہے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہے، ایران کی موجودہ رجیم کی بھی سیاسی مجبوریاں ہیں۔ اتنی شہادتیں ہیں، اس کے بعد مالی مفاد پر صلح کیسے کر لی جائے۔ جنگ میں لوگ فاقے کاٹ لیتے ہیں، امن میں روٹی مانگتے ہیں۔ نوجوان نوکریاں مانگیں گے۔ اس لیے مالی فوائد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن نظریہ سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ 47سال سے امریکا اور اسرائیل سے جنگ کی تیاری کی گئی ہے۔ اب جنگ ہے تو جنگ لڑنی چاہیے، ساری تیاری اسی لیے تھی، ساری قربانیاں اسی لیے تھیں۔ اب جنگ سے فرار کیوں۔ یہ شہادتیں کس لیے تھیں، امن یا سیز فائر کے لیے تو نہیں تھیں۔ اس لیے امن چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ اور ایران دونوںمشکل میں ہیں۔

فتح دونوں کی ضرورت ہے، فتح دونوں کو نہیں مل سکی، دونوں ہارے بھی نہیں ہیں، میچ برابر ہو گیا ہے۔ جس کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں۔ اس لیے دونوں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں میچ برابر ہو گیا۔ یہ ٹرمپ کے لیے سیاسی موت ہے۔ یہ ایران کو پھر بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ لیکن وہاں قدامت پسند کہتے ہیں جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ برابر میچ قابل قبول نہیں۔ انھیں میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ امریکا کو ایران کے لیے فتح تلاش کرنی ہے اور ایران کو امریکا کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ تب ہی مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کی مشکل کا احساس کرنا ہوگا جو نہیں ہو رہا ۔ یہ اصل مشکل ہے۔ مذاکرات کار اپنی فتح کی تلاش میں ہیں۔ انھیں دوسرے کی فتح کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending