Connect with us

Today News

پیٹ میں جلن، بھوک کی کمی؟ السر کی خاموش علامات سے ہوشیار رہیں

Published

on



معدے کا السر ایک ایسا مرض ہے جو بظاہر عام تکلیف محسوس ہوتا ہے، مگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

اس بیماری میں معدے یا چھوٹی آنت کی اندرونی جھلی پر زخم بن جاتا ہے، جسے طبی زبان میں پیپٹک یا گیسٹرک السر کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ اکثر ایک مخصوص بیکٹیریا ہیلیکوبیکٹر پائلوری یا درد کش ادویات کے مسلسل استعمال کے باعث پیدا ہوتا ہے، جو معدے کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر دیتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری روزمرہ عادات بھی اس بیماری کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ زیادہ مرچ مصالحے والی غذا، فاسٹ فوڈ، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال معدے میں تیزابیت بڑھا کر السر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ 

اسی طرح اسپرین یا آئبوپروفین جیسی ادویات کا طویل استعمال بھی معدے کی دیوار کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے زخم بننے لگتے ہیں۔

السر کی علامات ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہیں، اسی لیے اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پیٹ میں جلن یا درد، خاص طور پر خالی پیٹ یا کھانے کے فوراً بعد، تیزابیت، بار بار ڈکاریں، متلی اور بھوک میں کمی اس کی عام نشانیاں ہیں۔ بعض افراد میں وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، جو ایک خطرناک اشارہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پاخانہ سیاہ یا خون آلود ہوجائے یا خون کی الٹی آئے تو یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہوسکتی ہے اور فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین صحت اس مرض سے بچاؤ کےلیے سادہ مگر مؤثر احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ متوازن اور کم مصالحے والی غذا، ذہنی دباؤ میں کمی، تمباکو اور الکحل سے پرہیز، اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات کے استعمال سے گریز معدے کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر علامات مسلسل برقرار رہیں تو خود علاج کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ بروقت تشخیص ہی اس بیماری سے بچاؤ کا بہترین راستہ ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پی سی بی کے سابق عہدیدار آئی سی سی کی بڑی پوسٹ سے مستعفی

Published

on



سابق سی ای او پاکستان کرکٹ بورڈ ورسیم خان نے آئی سی سی جنرل منیجر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اس عہدے پر تقریباً چار برس تک ذمہ داریاں نبھائیں۔

کرک انفو کے مطابق وسیم خان نے مئی 2022 میں جیف الرڈیس کی جگہ (جن کو سی ای او کے عہدے پر فائز کر دیا گیا تھا) عہدہ سنبھالا تھا۔ اس سے قبل وہ پی سی بی میں بطور سی ای او فرائض انجام دے رہے تھے۔

برطانیہ میں پیدا ہونے والے وسیم خان نے ڈومیسٹک کرکٹ میں 58 فرسٹ کلاس اور 30 لِسٹ اے میچز کھیلے۔

وہ 1995 مین واروک شائر کی ٹائٹل وننگ ٹیم کا حصہ بھی تھے۔ اس سیزن میں ان کا اوسط 50 کے قریب تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں 3 روز قبل گھر کے قریب سے لاپتہ ہونے والے ڈھائی سالہ بچے کی نالے سے لاش برآمد

Published

on



کیماڑی سے 3 روز قبل لاپتہ ہونے والے کمسن مغوی بچے کی لاش ڈاکس کے قریب نالے سے برآمد ہوئی ہے، جیکسن پولیس نے بچے کے اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا ، بچے کے والد نے بیٹے کی لاش ملنے کے واقعے کو قتل قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کیماڑی ڈاکس کالونی گلی نمبر 7 فاروق اعظم مسجد کے قریب نالے سے کمسن بچے کی لاش ملی جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی کے رضا کار اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

جیکسن پولیس نے کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کرلیا جس نے شواہد حاصل کرنے کے بعد بچے کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دی۔

ایس ایچ او جیکسن عنایت اللہ مروت نے بتایا کہ بچے کی شناخت ڈھائی سالہ صلاح الدین ولد عثمان کے نام سے کی گئی جو کہ 19 اپریل کو گھر کے باہر سے لاپتہ ہوگیا تھا جس کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم بچے کی لاش مل گئی۔

ابتدائی تحقیقات میں واقعہ قتل کا معلوم ہوتا ہے جسے نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعد مبینہ طور پر مذکورہ مقام پر نالے میں پھینک دیا تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد بچے کی وجہ موت کا تعین ہو سکے گا اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

لاپتہ ہونے والے بچے کے والد عثمان نے بتایا کہ میری بھتیجی بیٹے کو بسکٹ دلانے کے لیے لیکر گئی تھی اور اسے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھا کر سڑک عبور کر کے پرچون کی دکان گئی اور جب واپس پلٹی تو میرا چھوٹا بیٹا غائب تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ڈاکس کالونی گلی نمبر ایک میں رہتے ہیں اور بچے کی لاش گلی نمبر 7 کے قریب نالے سے ملی جو کہ اس مقام سے ڈیڑھ سے 2 کلو میٹر دور ہے جہاں بچے کو بھتیجی بیٹھا کر بسکٹ خریدنے گئی تھی۔

 انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ واقعہ اغوا کے بعد قتل کا ہے اور اس حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ میری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے پتہ نہیں میرے لخت جگر کو کس نے اور کیوں مجھ سے چھین لیا۔

متاثرہ والد نے مزید بتایا کہ صلاح الدین ان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا، پولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کا فوری طور پر سراغ لگایا جائے۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی نائب صدر کا دورۂ پاکستان مؤخر، مذاکرات کیلیے ایران رضامند نہیں

Published

on


امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہونے والا دورۂ پاکستان مؤخر کردیا گیا۔

نیویارک پوسٹ نے اپنےذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان جانے سے روک دیا کیوں کہ ایران نے تاحال مذاکرات نہ کرنے کا اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔

نیویارک پوسٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات کے لیے ہامی بھرلی اور اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تو امریکی وفد بھی اسلام آباد جائے گا۔

ادھر نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت وائٹ ہاؤس میں اہم پالیسی اجلاسوں میں مصروف ہیں۔ جس کے بارے میں میڈیا کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو کچھ نئی تجاویز پیش کی تھیں لیکن ایران نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد دورۂ پاکستان عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قبل ازیں ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور وعدے کے باوجود ناکہ بندی ختم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

علاوہ ازیں صدر ٹرمپ آج بھی پُراعتماد تھے کہ ایرانی رہنما جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی وفد سے ملیں گے اور اس کا اختتام ایک عظیم ڈیل پر ہوگا۔

ادھر پاکستان میں بھی جنگ بندی مذاکرات کی مکمل تیاری کرلی گئی تھیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم مںصب سے گفتگو میں مذاکرات میں شرکت پر زور دیا تھا۔

تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے بالخصوص جب اس نے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیا اور ناکہ بندی ختم نہیں کی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی دھمکیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور وہ مذاکرات کے لیے مثبت اور سنجیدہ نہیں ہیں۔

 

یاد رہے کہ 20 روز قبل پاکستان کی ثالثی میں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending