Connect with us

Today News

ایک حیرت انگیز داستانِ حیات

Published

on


چند ماہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظر سے گذری، کسی صاحب نے ملائشیا کے عظیم راہنما ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کیا تھا، رائٹر کا نام اجنبی تھا مگر تحریر بہت دلچسپ تھی، تحریر کے نیچے میں نے کمنٹس میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تو محرّر (تھانے والا نہیں، تحریر لکھنے والے رائٹر) نے بڑی مسرّت کا اظہار کیا، اور بتایا کہ وہ ماشاء اللہ سی ایس ایس کے امتحان کے ذریعے سول سروس میں داخل ہوئے اور انکم ٹیکس سروس میں کمشنر کے عہدے تک پہنچے اور اب کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں۔ یہ میرا ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ کے مصنف محترم محمد بوٹا انجم صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ وہ آج کل ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقیم ہیں، کچھ ہفتے قبل وہ اسلام آباد آئے تو میں نے انھیں کھانے پر مدعو کیا اور وہیں ہم نے ایک دوسرے کو اپنی کتابوں کے تحفے دیے۔

ان کی سوانح حیات ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی داستان کہ زمانے کی گردش نے جسے ان گنت مسائل اور مصائب سے دوچار کردیا، اس کے سامنے رکاوٹوں کے ہمالیہ کھڑے ہوگئے مگر اس نے مایوس اور ناامید ہونے سے انکار کردیا، اس نے دو چیزوں کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ امید اور حوصلہ۔ اس نے ایک ہاتھ میں امید کا چراغ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ میں حوصلے کا تیشہ لے کر رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹنا شروع کردیے۔ ایک پہاڑ کٹتا تو آگ کا دریا سامنے آجاتا۔ وہ عبور ہوتا تو بقول منیر نیازی

؎ اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

جب ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اسی لیے میں نے اپنی خودنوشت ’جہدِ مسلسل‘ انھیں بھیجتے وقت اس پر لکھا تھا ’’محمد بوٹا انجم صاحب کے لیے جو خود جہدِ مسلسل کی مجسّم تصویر ہیں۔‘‘

ان کے والد صاحب تین بھائی تھے جن کی دس ایکٹر زمین تھی، ظاہر ہے کہ اس سے پورے کنبے کا گزارہ مشکل تھا اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے سوا تین ایکڑ کے مالک والد کی خواہش تھی کہ بیٹا صرف آٹھویں جماعت تک پڑھے اور اس کے بعد وہ کاشتکاری میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ مگر قدرت نے اپنا فیصلہ بیٹے کے حق میں لکھ رکھا تھا۔ بچپن سے ہی مصنّف کوتعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے جیسے بچوں کو ٹیوشن پڑھانی پڑی اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے بڑی مشکل سے والد صاحب کو منانا پڑا۔ پھران پر ایک ایسا وقت آیا کہ اپنوں نے نظریں پھیر لیں، اور زخم پر زخم لگاتے رہے، پھر کچھ دردِ دل رکھنے والے کام بھی آئے۔ یہ ساری داستان ایک دلچسپ ناول کی طرح ہے جو قاری ایک دو نشستوں میں ہی پڑھ ڈالتا ہے۔

مصنف جب میاں چنوں کے انٹر کالج میں داخل ہوئے توانھیں اخراجات پورے کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی پارٹ ٹائم نوکری کرنی پڑی، جس کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’مجھے میونسپل کمیٹی میاں چنوں کی جانب سے دس روپے ماہانہ اعزازیہ ملتا تھا جو اُس وقت پارٹ ٹائم جاب کرنے والے ایک طالبعلم کے لیے بڑے معقول پیسے تھے۔ علاوہ ازیں اُن دنوں میں ایک جگہ مزدوری بھی کرتا تھا۔ ہر روز فجر کی اذان کے ساتھ جاگ کر اپنے بزرگوں کے ساتھ کھیتوں میں جاتا جہاں سبزیاں چُنوانے میں اُن کا ہا تھ بٹانے کے ساتھ ساتھ ٹوکریوں کی صورت میں سبزیاں سر پر اُٹھا کر منڈی تک بھی پہنچانی ہوتی تھیں اور مجھے یہ مُشقّت اُٹھا کر اسکول کالج جانے سے پہلے واپس گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ تب پورا دن محنت و مُشقّت میں گزرتا تھا۔‘‘

پھر ان کا سفینۂ حیات ان کے بقول ٹائی ٹینک کی طرح ایک ان دیکھے آئس برگ سے ٹکراگیا۔ ان کے والد صاحب حیدرآباد گئے ہوئے تھے جہاں وہ دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے جس کی اطلاع انھیں وہاں کے ایس ایچ او نے دی۔ اس موقع پر انھیں زندگی کی ناقابلِ یقین تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حیدرآباد سے میّت لانے کے لیے والد کے سگے بھائیوں اور بہنوں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ سگی پھوپھیوں نے سو سو روپیہ دیا جو انھوں نے بھائی کی تدفین کے فوراً بعد بھتیجے سے واپس لے لیا۔ اس وقت مصنف کو مجبوراً کالج کی تعلیم چھوڑنا پڑی کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ والدہ کی کفالت تھی۔ انیس سال کے نوجوان نے ہمّت نہیں ہاری، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے اور وہ روزگار کی تلاش میں ان دیکھی منزلوں کی جانب نکل پڑے۔

وہ صرف دو سو روپے ماہوار (جو اس کی والدہ کی کفالت کے کافی تھے) کی نوکری یا مزدوری کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا رہا، تلاشِ روزگار کے دوران وہ لاہور پہنچا، لوگوں کے سرونٹ کواٹروں میں سوتا رہا، کئی ہفتے صرف بھُنے ہوئے چنے کھاکر اور کارپوریشن کے نلکے سے پانی پی کر گذارا کرتا رہا ۔ مصنف کے بقول ’’اس دوران میں نے ایک روز کھانے پینے کے معاملے میں عیاشی بھی کی کہ چنے یا بھُٹے کھانے کی بجائے چھ آنے کی سبزی اور چار آنے کی دو روٹیاں لے کر کھائیں تو سورۂ رحمن کے ان الفاظ پر یقین محکم ہوگیا کہ ’’تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘ اسی تگ ودو میں مصنف اداکار محمد علی کے بنگلے پر بھی جاپہنچا اور ان سے بھی ملازمت کی درخواست کی۔ اس جدوجہد میں وہ لاہور سے واپسی کے کرائے یعنی صرف پانچ روپے کے لیے اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ یہ داستانِ عزیمت کم وسیلہ نوجوانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیّت رکھتی ہے اور اس کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی کتاب کے مصنف محمد بوٹا انجم صاحب نے ہمت اور حوصلے کا پرچم بلند رکھا۔

اعلیٰ تعلیم کا حصول مصنّف کا خواب تھا،اس کے لیے انھیں بے تحاشا پاپڑ بیلنا پڑے۔ انھوں نے مختلف جگہوں پر دن کو سخت قسم کی جسمانی مشقت اور مزدوری کی اور رات کو پڑھائی کرکے تعلیم کے زینے طے کرتے رہے، اس دوران انھوں نے سیلز مینی بھی کی اور بس کنڈکٹری بھی کی۔ ان کا خواب تھا انگریزی زبان وادب میں ایم اے کرنا۔ انھیں داخلہ ملتا رہا مگر تعلیم کے اخراجات نہ ہونے کے باعث ان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ مگر انھوں نے مالی تنگدستی کو راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیا اور جدوجہد جاری رکھی، ایک وقت میں وہ غلط سوسائٹی کے باعث گمراہ ہوتے ہوتے بچے اور بالآخر ایک پرائیویٹ کالج میں ایم اے انگلش کی کلاسز میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے علاقے کا ایک نوجوان ملک بشیر احمد سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوا تو اس کی کامیابی ان کے لیے مہمیز ثابت ہوئی کہ ملک بشیر کامیاب ہوسکتا ہے تو میں کیوں نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ مصنف نے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری شروع کردی۔ اس کے لیے ان کے بقول ’’تیاری کا یہ عالم تھا کہ میں اگر رات کے وقت لاہور سے میاں چنوں جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے بس میں سوار ہوتا تو اس میں ایسی نشست کا انتخاب کرتا جہاں پر روشنی کا انتظام ہوتا اور میں پانچ گھنٹے کے اس سفر میں بھی مطالعہ میں محو رہتا، اور گھر میں یہ حالت تھی کہ اپنے روم میٹ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے رات کو اپنی چارپائی گلی کے اس حصّے میں ڈال لیتا جہاں پر بجلی کے ایک کھمبے پر لگے بلب کی روشنی میں پڑہائی کرتا۔‘‘

بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور وہ تحریری امتحان میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے مگر انٹرویو میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن نے انھیں ’’کمزور فیمیلی بیک گراؤنڈ‘‘ ہونے کے سبب (یعنی آپ چونکہ کسی امیر گھرانے کے فرد نہیں ہیں) انٹرویو میں بہت کم نمبر دیے، مگر ان کی اس ناانصافی کے باوجود محمد بوٹا صاحب نے پورے ملک میں اٹھارویں پوزیشن حاصل کی۔ اس پر انھیں ڈی ایم جی یا پولیس سروس الاٹ ہونی چاہیے تھی مگر وہ پھر ناانصافی کا شکار ہوئے اور انھیں انکم ٹیکس سروس الاٹ کی گئی۔ وہاں وہ ترقی کرتے کرتے کمشنر کے عہدے پر پہنچے مگر وہاں بھی ناانصافی کا شکار ہوئے تو انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور نئے کیرئیر کا آغاز اسی جوش وجذبے کے ساتھ کردیا جس سے انھوں نے سب سے پہلے اپنی سروس کا آغاز کیا تھا۔

افسر بن کر بھی وہ ایم بی انجم نہیں بنے اور محمد بوٹا ہی رہے۔ ان کا اندازِ تحریر بے حد دلچسپ اور دلنشین ہے۔ ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ میں ان کی سروس کے بڑے دلچسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی غیر معمولی استقامت اور حوصلہ مندی قابلِ تحسین ہے، اللہ نے انھیں امید اور حوصلے کے ساتھ ساتھ بے پناہ انرجی دی ہے۔ جس کی بناء پر انھوں نے ملائشیا میں پوری جواں ہمتی کے ساتھ اپنا بزنس شروع کیا اور آج وہ وہاں کے ایک کامیاب اور معروف بزنس مین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اس ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں اور اس بے مثال محنت ، حوصلے ، جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کرنے پر وہ ملک کے بڑے سول ایوارڈ کے مستحق بھی ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جنگ بندی توسیع : عالمی استحکام کی کلید

Published

on


امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ مذاکرات کامیاب ہوئے تو میں بھی ایرانی قیادت سے ملوں گا ‘‘ دوسری جانب امریکی وفد کے پاکستان روانگی کی تصدیق کے فوری بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، ا یران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔

دوسری جانب چین کے صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی گفتگو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ماہرین ِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر مزید دباؤ پڑے گا۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں مہنگائی جلد کم نہیں ہوگی، جنگ کے اثرات اگر کل جنگ ختم بھی ہو جائے تو راتوں رات ختم نہیں ہوں گے۔

 اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کو محض ایک سفارتی سرگرمی قرار دینا دراصل اس گہرے اور کثیرالجہتی بحران کی نوعیت کو کم کر کے دیکھنے کے مترادف ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاسی و معاشی نظام کو ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب عسکری تناؤ، باہمی عدم اعتماد اور متضاد بیانات نے سفارتکاری کی گنجائش کو محدود کر دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ ممکنہ مذاکرات ایک نازک مگر فیصلہ کن موقع کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اس موقع کو اگر دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کے ساتھ استعمال نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ نظریاتی، تزویراتی اور جغرافیائی مفادات کے تصادم کی ایک طویل داستان ہے۔ اس تاریخ میں کشیدگی کے ادوار بھی آئے اور مذاکرات کے مرحلے بھی، لیکن باہمی بداعتمادی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ حالیہ بحران نے اس بداعتمادی کو ایک نئی شدت دی ہے، جہاں ہر اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہر بیان کے پیچھے ایک پوشیدہ مفاد تلاش کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس پیش رفت کو نتیجہ خیز بنانا ایک کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔

 جنگ بندی کی اہمیت اس تمام صورتحال میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ میدان جنگ میں خاموشی ہو اور فریقین کو یہ یقین ہو کہ بات چیت کے دوران ان کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جنگ بندی نہ صرف نازک ہے بلکہ اس کی خلاف ورزی کے الزامات نے اسے مزید کمزور بنا دیا ہے۔ بحری تنازعات، جہازوں کی روک تھام اور عسکری نقل و حرکت نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ فریقین مکمل طور پر مذاکراتی راستے پر آمادہ نہیں، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اسلام آباد میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کا کردار یہاں ایک اہم موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔

ایک ایسے ملک کے طور پر جو ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی سفارتی صلاحیتوں کو ایک بار پھر منوانے کا ہے۔ اسلام آباد کی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد نہ صرف فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے بلکہ انھیں اس عمل کو جاری رکھنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ کردار تسلیم کیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب عملی پیش رفت درکار ہوگی۔

 آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس بحران کے مرکز میں ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے گزرنے والے تیل کی مقدار دنیا کی معیشت کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ راستہ کس قدر حساس ہے اور کس طرح ایک محدود بحری تنازع بھی عالمی سطح پر قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور زرعی شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جو عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مہنگائی کا دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔امریکا کی اپنی معیشت بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہی۔ مہنگائی میں اضافے کے خدشات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی لاگت میں بڑھوتری نے معاشی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی حساس ہے، کیونکہ معاشی مشکلات کا براہ راست اثر عوامی رائے پر پڑتا ہے۔ اسی طرح یورپ اور ایشیا کی معیشتیں بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مالیاتی منڈیاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔

 چین، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کی جانب سے امن کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ بحران ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دینا دراصل عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے ایک اہم مطالبہ ہے، جب کہ سعودی عرب جیسے ممالک بھی اس کشیدگی کے براہ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اب دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر عالمی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔سفارتکاری اس تمام صورتحال میں واحد قابل عمل راستہ نظر آتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کریں۔ یکطرفہ اقدامات، سخت بیانات اور عسکری سرگرمیاں اس عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، جن میں جنگ بندی کی پاسداری، اشتعال انگیزی سے گریز اور مثبت بیانیے کو فروغ دینا شامل ہے۔

 پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ نہ صرف ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرے بلکہ ایک ذمے دار عالمی ریاست کے طور پر بھی اپنی ساکھ کو مضبوط کرے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھے اور کسی بھی ممکنہ دباؤ کے باوجود غیر جانبداری اور توازن کو برقرار رکھے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک نئی جنگ نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک نئے بحران میں دھکیل دے گی۔ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام ایک ایسا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں جسے روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت مثال قائم کرے گا کہ پیچیدہ تنازعات بھی سفارتکاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ امن کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ایک معاہدہ اس کی شروعات ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی اعتماد سازی، نگرانی اور عمل درآمد کے مراحل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات گہرے اور پیچیدہ ہیں، جنھیں حل کرنے کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوگی۔ تاہم موجودہ موقع ایک ایسا دروازہ کھول سکتا ہے جو مستقبل میں بہتر تعلقات کی بنیاد رکھ سکے۔

اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک امید کی کرن ہیں، لیکن یہ امید اسی صورت میں حقیقت میں بدل سکتی ہے جب تمام فریقین اس موقع کی نزاکت کو سمجھیں اور اسے ضایع نہ ہونے دیں۔ پاکستان کی کوششیں اس سمت میں ایک مثبت قدم ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار فریقین کی سنجیدگی اور عالمی برادری کی حمایت پر ہے، اگر اس موقع کو درست طریقے سے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک بڑے تنازع کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اعلیٰ تعلیم… چیلنجزاور ممکنہ حل

Published

on


پاکستان میں اعلی تعلیم سے جڑے معاملات، مسائل یا مشکلات کو دیکھیں تو اس میں ہمیں ایک بڑا تضاد تعلیمی پالیسیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اول پالیسیوں میں جدیدیت کی بنیاد پر تبدیلیوں کے عمل کا نہ ہونا،دوئم مالی وسائل کی کمی یا بجٹ کو کم مختص کرنا،سوئم تعلیم ،تحقیق اور تعلیمی معیارات کی کمی ، چہارم سیاسی مداخلت ،پنجم تعلیمی معاملات پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا بیوروکریسی کا کنٹرول،ششم سماجی علوم کو اپنی ترجیحات میں نظرانداز کرنا،ہفتم جامعات کی سطح پر گورننس کے نظام کے مسائل،ہشتم جامعات کی داخلی سطح پر خود مختاری کو چیلنج کرنا،نہم جامعات کو آزادانہ بنیادوں پر فیصلوں کا اختیار نہ دینا،نگرانی ،شفافیت اور جوابدہی کا نظام کا غیر موثر ہونا،دہم وائس چانسلرز کی تقرری میں سیاسی مداخلت یا سرچ کمیٹیوں میں تعلیم کے ماہرین کے مقابلے میں بیوروکریسی کے کنٹرول کی موجودگی جیسے مسائل میں اعلی تعلیم میں بہت کچھ کرنے کی خواہش یا توقعات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔

 وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن،وفاقی اور صوبائی وزراتوں کا ہونا، بیوروکریسی جیسے ادارے موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اعلیم تعلیم سے جڑے مسائل کم نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جہاں بڑھ رہے ہیں وہیں ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اعلی تعلیم کی ترجیحات میں کمزوری کے کئی پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اعلی تعلیم سے جڑے ماہرین اور اعلی دماغ نہیں ہیں یا ان میں کام کرنے کا تجربہ اور صلاحیت کی کمی ہے یا ان کو عالمی سطح میں اعلی تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان اعلی تعلیمی ماہرین اور اعلی دماغوں کی ریاست اور حکومت کے نظام میں رسائی اور قبولیت کی ہے۔کیونکہ ہم مجموعی طور پرپاکستان میں اعلی تعلیم کے تناظرمیں ایک ایسا سازگار ماحول قائم نہیں کرسکے جہاں لوگ آزادانہ بنیادوں پر یا کسی ڈر اور خوف کے اعلی تعلیم کے بارے میں کوئی بڑے فیصلے کرسکیں یا کوئی متبادل سوچ،فکر اور نظام کو سامنے لایا جاسکے یا اس کی قبولیت کو تسلیم کیا جاسکے۔سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ جب اعلی تعلیم کے بڑے بڑے ماہرین اور اعلی دماغ کو ہم ملکی سطح پر بیوروکریسی کے سامنے بے بس دیکھتے ہیں تو اس سے انداز ہوجاتا ہے کہ اعلی تعلیم آزادانہ بنیادوں پر کہاں کھڑی ہے۔

پچھلے دنوں ’’لاہور فورم فار گورننس‘‘ جس کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین ہیں، ان کی سربراہی میں ایک علمی اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس نشست کے مہمان خاص پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے تفصیلی گفتگو اور سوال جواب کی نشست تھی۔ اس کا مقصد اعلی تعلیم سے جڑے معاملات پر ان کا موقف سننا اور مستقبل کے امکانات کودیکھنا تھا۔ ہمارے ہاں اعلی تعلیم کے معاملات میں آج کل کئی فکری مغالطے بھی موجود ہیں۔ان کے بقول آج سب ہی جامعات کی سطح پر سوشل سائنسز کے مقابلے میں کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت سے جڑی تعلیم کی بات کررہا ہے اور ہم پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ سوشل سائنسز کی تعلیم کو بند کریا جائے ۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بقول جامعات کا حقیقی حسن ہی سماجی علوم ، ادب،آرٹ،کلچر،شاعری، ادب ، فلسفہ،تاریخ،ڈرامہ ہوتا ہے۔

ان کا سوال یہ تھا کہ کیا دنیا کی اعلی بڑی جامعات میں ان موضوعات پر تعلیم بند ہے تو ایسا ممکن نہیں۔اصولی طور پر جامعات کا کردار نئی نسل میں مکالمہ، سیاسی، سماجی،علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی ان میں صلاحیت پیدا کرنا،تجزیہ اور جائزہ کی صلاحیت پیدا کرنا،تحقیق کی مختلف صلاحیتوں کو مضبوط بنانا،آزادانہ بحث و مباحثہ کا طلبہ و طالبات میں ماحول پیدا کرنا،ایک دوسرے میں رواداری اور اہم اہنگی کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس لیے یہ جو تصور دیا جارہا ہے کہ ہمیں کسی بھی سطح پر سماجی علوم کی ضرورت نہیں غلط ہے بلکہ اس سوچ اور فکر میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔انھوں نے چین کی مثال دی او رکہا کہ اس برس چین سے 25کے قریب طالب علموں نے ڈاکٹر محبوب حسین کے شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جو ظاہر کرتا ہے کے چین کی اپنی ترقی میں بھی سماجی علوم کی اہمیت ہے۔سماجی علوم کی ترقی اور تعلیم کو نظر انداز کرکے ہم سماج کو ایک مہذہب اور اعلی روایات پر مبنی سماج کی شکل نہیں دے سکیں گے۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ آج کل شدت سے یہ کہا جارہا ہے کہ جامعات بے روزگار پیدا کرنے کے ادارے بن گئے ہیںیا ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ان کے بقول روزگار کے مواقع پیدا کرنا ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہوتا ہے ۔ جب تک ملک کے نظام کو موثر اور شفاف نہیں بنایا جاتا، نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ جامعات کو صلاحیت پر مبنی نوجوان پیدا کرنے ہیں۔ اس میں ہم سے کوتاہی ہوسکتی ہے مگر سارا بوجھ جامعات پر نہیں ڈالا جاسکتا۔کیونکہ یہ ہی نوجوان جب پاکستان سے اعلی تعلیم حاصل کرکے باہر کے ممالک میں روزگار کے لیے جاتے ہیں تو ان کو اچھا روزگار بھی ملتا ہے اور وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بہتر کارکردگی بھی دکھاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کا کام نئی نسل کے معاشی معاملات کے حل میں جہاں چھوٹی اور بڑی صنعتوںکا فروغ ہوتا ہے وہیں ایسے معاشی حالات بھی پیدا کرنے ہوتے ہیں جو لوگوں کو معاشی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر سکے۔اسی طرح ان کے بقول آج کل مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر سب کچھ اسی کے تناظر میں بات ہورہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ایک ڈیجیٹل ٹول ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اور ہم دیکھیں گے جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھے گا نئی نسل اسے سیکھ لیں گے۔اس پر بہت زیادہ توجہ یا علیحدہ سے ڈگریاں بنانے کی بجائے ہمیں اس علم کو مجموعی علم کے ساتھ جوڑ کر ہی آگے بڑھانا ہوگا۔ہمیں اپنی توجہ علمی ،فکری،نفسیاتی انٹیلی جنس پر دینی چاہیے تاکہ ہم ان سے بہت کچھ عملی طور پر سیکھ کر اپنے لیے نئے امکانات اور نئی دنیا پیدا کرسکیں۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ یہاں موجود ماہرین ہماری اعلی تعلیم کا مقابلہ باہر کی اعلی تعلیم اور معیارات سے کرنا چاہتے ہیں اور کیا بھی جانا چاہیے۔لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے اور اعلی تعلیم سے جڑے اداروں اور ممالک کا اعلی تعلیم کا بجٹ کیا ہے اور وہ کیا سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ہم کتنی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ان کے بقول ہم تو تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کا شکار ہیں ۔

ایسے میں جامعات اور بالخصوص پبلک سیکٹر جامعات کا چلنا ایک معجزہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نجی یونیورسٹیوں سے کیا جاتا ہے لیکن جو فیس ہم طلبہ سے لے رہے ہیں اور جو نجی یونیورسٹی لے رہی ہیں اس میں بہت بڑا فرق ہے ۔اس لیے جب اعلی تعلیم کا تجزیہ کریں تو ان حقایق کو بھی سامنے رکھ کر گفتگو کو آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم عملا مستقبل کی طرف بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔ہمیں اعلی تعلیم کے معاملات میں جو غیر معمولی حالات ہیں اس میں غیر معمولی سطح کے اقدامات کی بنیادپر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران نے جنگ بندی میں توسیع کو فوجی کارروائی کیلیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا

Published

on



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مہدی محمدی کا کہنا تھا کہ جنگ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا اور محاصرے کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں، جس کا جواب فوجی انداز میں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے اور اپنی حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending