Today News
میری بزدلی میری محافظ – ایکسپریس اردو
ڈر کے بارے میں تو ہم بتاچکے ہیں کہ کتنے کام کی بلکہ کثیر الفوائد اورکثیر المقاصد بلکہ کثیر الجہت چیز ہے کہ جس نے ’’ڈر’’ کو پالیا، اس نے سب کچھ پالیا۔گبرسنگھ تو پاگل تھا، احمق تھا، دیوانہ تھا ، جنگلی تھا ، شہرکا باسی ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ ڈر کتنا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے تو وہ مرگیا لیکن جوڈرگیا ،وہ بچ گیا اورقبر کے بجائے سیدھا اپنے گھر گیا، وہ بھی خیروعافیت کے ساتھ۔
لیکن آج ہم ڈر کی جڑواں بہن بزدلی کے بارے میں بتاناچاہتے ہیں کہ اگر وہ ہمیشہ ہمارے شامل حال نہ رہتی تو ہم آج وہاں ہوتے جہا ںسے ہمیں خود بھی اپنی خبر نہ آتی۔ ویسے تو اپنی اس بزدلی کے ہم پر بہت سارے احسانات ہیں کہ اس نے ہمیں کہاں کہاں ،کیسے کیسے ،بڑی بڑی مصیبتوں سے بچایا ہے لیکن آج صرف ایک واقعہ آپ کو سناتے ہیں ۔
امرتسر میں صوفی کانفرنس تھی، چودہ ممالک کے وفود آئے ہوئے تھے ، ہم پاکستانی وفد کے شرکاء میں تین خواتین اورتین مرد شامل تھے ،ان خواتین میں دو تو بڈھیاں تھیں لیکن ایک نوجوان حسین مہ جبین اوربڑی دل نشین تھی، جو ہم سے بے انتہا ’’متاثر‘‘ تھی ۔دراصل ہم جہاںبھی جاتے ہیں، وہاں اپنا ایک ’’الگ زاویہ‘‘ یا ’’نکتہ‘‘ بنا دیتے ہیں، پاسبان عقل کو کہیں دور باندھ دیتے ہیں اور دل کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں اور نہایت ہی بے معنی اور بیتکی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ آفیشل ٹورز، تقریروں اورمقالوں کے بیچ بیچ میں ہم اپنا یہ ’’خصوصی سیشن‘‘ جمادیتے ۔
یہاں بھی حسب معمول ہمارا زاویہ چل نکلا جو ہم نے سنجیدگان، رنجیدگان کے جم غفیر سے خاصی دورایک درخت کے نیچے جمایا تھا چونکہ وہاں سے قہقہے اٹھتے تھے، اس لیے نوجوان کھچ کھچ کرچلے آتے تھے جن میں زیادہ ترلڑکیاں ہوتی تھیں، خوبصورت بھی، قبولصورت بھی ، اکثریت طالبات کی ہوتی ۔ان ہی میںہماری وہ ماہ جبیں بھی تھی، فرضی نام ہے اوریہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ کس شہر کی تھی، ہمیںصرف اس سے دلچسپی تھی کہ حسین بھی بلاکی تھی ، صاحبہ ذوق بھی تھی اورسب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری فین ہوگئی تھی۔
کبھی کبھی تو مجھے غلط فہمی کا شکار بھی بنا دیتی تھی ، پورے سیشن میں ہماری اتنی جان پہچان ہوگئی کہ ڈھونڈتی پھرتی تھی ، ہال میں بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور ہم جس شہر ، علاقے اور سماجی ماحول کے باسی ہیں، ہمارے لیے تو یہ انہونا بلکہ سلونا منظر ہے لہذا وہ ماہ جبیں تو ازراہ مروت اور تقاضہ مہمانداری ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھ جاتی تھی لیکن ہمارے دل میں لڈو پھوٹتے رہتے تھے ۔ امرتسر میں ہمارے قیام کی آخری رات تھی، ہمارے دو ساتھی تو الگ کمرے میں تھے، ہمیں اکیلے پوراکمرہ ملا تھا ، بغل والے کمرے میں وہ تینوں خواتین تھیں ۔رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے، ہم لحاف میں نیم ایستادہ ایک کتاب پڑھ رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلاتھا۔ اس نے کہا آجاؤ، خیال تھاکہ ہوٹل کاکوئی ملازم ہوگا یا میزبانوں میں سے کوئی ہوگا یا ہمارے مرد ساتھیوں میں سے بھی کوئی ہوسکتا تھا لیکن دیکھا تو ذہن میں طاہرہ سید کی مترنم آواز گونجی ۔
کس شبابت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا
اپنے دمکتے چہرے کو کھلی زلفوں کے سائے میں لیے ’’وہی‘‘ تھی ، شب خوابی کے لباس میں اور قیامت ڈھارہی تھی اورہم ہواؤں میں اڑنے لگے ، وہ آئی اس نے دیکھا اورفتح کرلیا ، والی کیفیت تھی۔
بقول پروین شاکر
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
اپنی مترنم اورشہد آگین آواز میں خوش آمدید کے بعد وہ سیدھی آئی اورہماری پائنتی بیٹھ گئی ، ہم اپنے لحاف میں نیم ایستادہ ہوگئے ۔ پیر دبادوں آپ کے ، نہ صرف کہا بلکہ اپنا مرمریں ہاتھ ہمارے پیروں پر رکھ کر دبایا بھی جو لحاف کے نیچے تھے ۔ پھر بولی چائے یاکافی بنالوں آپ کے لیے ۔ ظاہرہے کہ ایسی پیش کش کاانکار کوئی احمق ہی کرسکتا ہے ، وہ چائے بنانے کے لیے کمرے کے سائیڈ میں گئی، جہاں چائے یاکافی کے سارے انتظامات موجود تھے اوربجلی کی کیتلی بھی ۔ وہ چائے بنارہی تھی اورہم اس کی تاکمر زلفوں میں لٹکے ہوئے تھے ، آثار و قرائن سب کچھ بتارہے تھے کہ ہم پر لٹو ہوچکی ہے، ورنہ اتنی رات گئے اور وہ بھی اکیلی… شاید اپنی ساتھیوں کو سلانے کے بعد۔۔گویا مکمل سپردگی کے ساتھ ۔۔ ٹھیک ہے! وہ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی سے بھی کم عمر کی تھی، لیکن ہمیں ایسی کئی فلمیں اورڈرامے یاد تھے جن میں نوخیزونوجواں لڑکیاں عمررسیدہ بوڑھوں پر مرمٹی تھیں۔
سارے حالات بتارہے تھے کہ لڑکی خود کو ہمارے سپرد کرنے آئی ہے ،اس سے جو ہوسکتا تھا، وہ اس نے کیا، آدھی رات کو تن تنہا ہمارے کمر ے میں اورکس لیے آئی۔ اب میری پیش قدمی کی باری تھی، چائے پی چکے تو ہم نے حکمت عملی کاسوچا ، ایک سیدھا طریقہ تو یہ تھا کہ ہم جھپٹ کر اسے آغوش میں لے لیتے لیکن یہ کچھ زیادہ لگا، دوسرا یہ کہ ہم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ، یہ بھی ذرا زیادہ لگا ، اپنا ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ لیتے، فاصلہ ایک فٹ سے بھی کم تھا، اس لیے ہاتھ اٹھاناچاہا لیکن وہ ہل کر نہیں دے رہا تھا، دیکھا تو بزدلی ہاتھ سے چمٹی ہوئی تھی ، جھٹکنے کی کوشش کی، ہاتھ منزل مقصود پرپہنچاناچاہتے لیکن بزدلی ہاتھ سے پوری طرح چپک گئی تھی ، آخر زورسے جھٹک کر بزدلی کو دورپھینکا اورہاتھ کو ہدف کی طرف بڑھایا لیکن ہاتھ ابھی ہوا ہی میں تھا کہ وہ بول پڑی، ’’اچھا باباجی! آپ کابہت بہت شکریہ۔‘‘ ابھی ہم بابا اورشکریہ کے الفاظ پر غورکررہے تھے کہ اس نے کہا،’’ دراصل جب میں گھر پر ہوتی ہوں تو اس وقت دوکپ چائے بنا کر اپنے باباجان کے کمرے میں چلی جاتی ہوں، پھر ہم باپ بیٹی چائے کی چسکیاں لے کر گپ شپ کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن ایک ہفتے سے میں اپنے بابا جان کو مس کررہی تھی ،آج سوچا وہ بابا نہ سہی یہ بابا سہی کیونکہ آپ بھی تو میرے بابا جیسے ہی ہیں، شکریہ ‘‘۔۔۔وہ چلی گئی تو ہم نے اپنی ناراض اورروتی ہوئی بزدلی کو اٹھایا، اسے گلے لگایا، خوب چوما اورپھر اپنے ساتھ لٹا کر لحاف کھینچ لیا ، آج اگر وہ نہ ہوتی تو میں رسوائے عالم ہوجاتا ۔ اب سمجھ میں آیا کہ یہ جو ہراسگی، ہراسانی کی حماقت کرتے ہیں، ان کے پاس بزدلی کی نعمت نہیں ہوتی۔ دلیری تو دشمن ہوتی ہے۔
Today News
آشا بھوسلے – ایکسپریس اردو
آشا بھوسلے برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب تھیں جسے جتنا پڑھا جائے اتنا ہی دلکش محسوس ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سی لچک، شوخی اور جذباتی گہرائی تھی جو ہر دور کے سامعین کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک عہد تھیں، ایک ایسا عہد جس نے فلمی موسیقی کو کئی رنگ دیے، کئی نئے رجحانات متعارف کروائے اور گائیکی کے دائرے کو وسعت دی۔ان کا چلے جانا نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں بھی ہندی اور اردو گانے سنے جاتے ہیں وہاں لوگوں کو غمگین کر گیا۔
آشا بھوسلے کا سفر آسان نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں موسیقی سانسوں میں بسی ہوئی تھی، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انھیں سخت مقابلے اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں انھیں زیادہ تر ثانوی نوعیت کے گانے ملتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ یہی ثابت قدمی بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ ان کی آواز میں وہ خاص بات تھی جو کسی بھی عام دھن کو یادگار بنا سکتی تھی۔
اگر ہم ان کے گانوں کی بات کریں تو ان کی ہمہ جہتی حیران کن ہے۔ رومانوی گیت ہوں کلاسیکل انداز کے نغمے قوالی پاپ یا آئٹم سانگ ہر صنف میں انھوں نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا مشہور گانا پیا تو اب تو آجا آج بھی سننے والوں کو سر دھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس گانے میں جو ادائیں جو اداکاری آواز کے ذریعے پیش کی گئی وہ بہت کم گلوکاروں کے حصے میں آتی ہے،اسی طرح دم مارو دم ایک ایسا گانا ہے جس نے نوجوان نسل میں ایک نئی لہر پیدا کی۔ یہ صرف ایک گانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی اظہار تھا جس نے اس دور کے مزاج کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ اس گانے میں آشا کی آواز کی بے فکری اور روانی سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔رومانوی گیتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ چرا لیا ہے تم نے جو دل کو ایک ایسا نغمہ ہے جو محبت کے جذبات کو نہایت نرم اور دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں ان کی آواز کی مٹھاس اور نزاکت سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے، یہی وہ خاصیت ہے جس نے انھیں دہائیوں تک مقبول رکھا۔
آشا بھوسلے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے وقت کے ساتھ خود کو بدلا۔ جہاں بہت سے فنکار ایک خاص انداز میں محدود ہو جاتے ہیں ،وہاں آشا نے ہر نئے رجحان کو اپنایا۔ 70 کی دہائی کا کیبری اسٹائل ہو یا 90 کی دہائی کا پاپ انھوں نے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ میرا دل جیسا گانا ان کی جرات مندی اور جدیدیت کی بہترین مثال ہے۔
کلاسیکل موسیقی میں بھی ان کی مہارت کم نہیں تھی، اگرچہ انھیں زیادہ تر ہلکے پھلکے یا فلمی گانوں کے لیے جانا جاتا ہے لیکن جب بھی انھوں نے کلاسیکل گیت گائے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی آواز میں سُر کی پختگی اور تال کی سمجھ واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
ان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے مختلف موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے انداز کو ان کے مطابق ڈھالا لیکن اپنی پہچان کبھی کھونے نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گانے سن کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آواز آشا بھوسلے کی ہے۔ ان کا انداز منفرد ہے چاہے وہ شوخ ہو سنجیدہ ہو یا درد بھرا۔
ذاتی زندگی میں بھی انھیں کئی نشیب و فراز دیکھنے پڑے ان کو اس وقت گہرے صدمے کا سامنہ ہوا جب ان کی بیٹی ورشا بھوسلے نے خودکشی کرلی تھی ،وہ وقت ان کے لیے بہت کٹھن تھا۔ ان کے گانوں میں جو جذباتی گہرائی محسوس ہوتی تھی وہ شاید انھی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جب وہ درد بھرا گیت گاتی تھیں تو لگتا تھا جیسے وہ خود اس کیفیت سے گزر رہی ہوں۔آشا بھوسلے کی لمبی عمر اور طویل کیریئر بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
کئی دہائیوں تک مسلسل کامیاب رہنا آسان نہیں ہوتا ،خاص طور پر ایک ایسے میدان میں جہاں مقابلہ بہت سخت ہو۔ ان کو تو گھر ہی میں اپنی بہن لتا منگیشکر اور اوشا منگیشکر کے ساتھ اپنی جگہ بنانی تھی۔ انھوں نے ہر دور میں خود کو ثابت کیا اور نئی نسل کے گلوکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی۔آج بھی ان کے گانے نہ صرف پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک لازوال کشش ہے ،جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موسیقی کی دنیا میں ایک لیجنڈ کا درجہ رکھتی ہیں۔
اگر ان کے چند مزید یادگار گانوں کا ذکر کیا جائے تو ان آنکھوں کی مستی کے، رات باقی بات باقی اور آؤ حضور تم کو بھی ان کے فن کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ ہر گانا ایک الگ کہانی سناتا ہے اور ہر کہانی میں آشا جی کی آواز ایک نئی جان ڈال دیتی تھی۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے فن سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ موسیقی کو ایک نئی سمت بھی دی۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے ایک خزانہ ہے ایک ایسا خزانہ جو کبھی پرانا نہیں ہوگا۔
آشا بھوسلے کی گائیکی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فن میں اصل طاقت تنوع محنت اور خود پر یقین میں ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنھوں نے انھیں ایک عام گلوکارہ سے ایک عہد ساز شخصیت بنا دیا۔
وہ بارہ اپریل 2026 کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔ برصغیر ایک بہت بڑی گائیکہ سے محروم ہوگیا۔ پاکستان میں بھی ان کی گائیکی کے چاہنے والے بیحد افسردہ ہوئے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
Today News
حکمران اور ظلم – ایکسپریس اردو
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے۔ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جنگ کے علم بردار دکھاوا کرتے ہیں انھیں معلوم نہیں کہ تباہی میں صرف ایک لمحہ لگتا ہے، تعمیر نو میں پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ پوپ لیو کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے ۔
ہمارے ہاں تو ماضی کے ایسے فاتحین جھنوں نے خون کی ندیاں بہائیں، انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ کہ ایسا پوری دنیا میں ہے۔ جو جتنا ظالم حکمران ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا ہیرو سمجھا جاتا ہے، آج بھی یہی کھیل کھیلا جارہاہے ۔ امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کی جنگی پالیسیوں کے خلاف خود ان کے عوام کو سڑکوں پر احتجاج اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنا پڑا۔ دونوں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے مگر دونوں اپنی جنگی پالیسی سے باز نہیں آئے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی صدر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے دس جنگیں رکوائی ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ امریکی صدر نے خود امریکا اور اسرائیل سے ایران پر حملے کرائے اور مزید تباہی کی دھمکیاں ابھی جاری ہیں۔
دنیا میں امریکا واحد سپر پاور ہے جس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر نے جنگوںکا نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ انھوں نے رات کی تاریکی میں امریکی کمانڈوز وینزویلا بھیج کر وہاں کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرایا اور کئی ماہ سے امریکا میں قید کر رکھا ہے اور اب کیوبا کو دھمکایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد حکمران ہیں جو خود کو رحم دل بھی کہتے ہیں اور جنگ تھوپ کر خود ہی جنگ بندی بھی کر لیتے ہیں مگر اسرائیل میں صرف بربریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کے مظالم رکنے میں نہیں آ رہے جس نے لاکھوں فلسطینی شہید کیے جن میں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہیں اور اب لبنان اس کی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنی جدید ٹیکنالوجی سے ایران کے سپریم لیڈر و دیگر اہم رہنماؤں کو شہید کیا ہے۔
امریکا کے حکمرانوں نے جھوٹے الزامات لگا کر پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے لیبیا اور عراق پر حملے کرکے وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جب کہ اس سے قبل ویت نام میں شکست کھائی تھی اور اب ایران سے جنگ میں امریکی صدر اپنی فتح پر شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ امریکی حکمران ایک طرف مذاکرات کرنے پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرکے اپنی ساکھ برباد کر چکے ہیں وہ صبح کچھ رات کو کچھ اعلان کرکے ناقابل اعتماد بھی ہو چکے ہیں۔ یوں تو دنیا میں بے شمار حکمران آئے اور چلے گئے لیکن جو خود تو مر گئے مگر تباہی و بربادی کی مثالیں چھوڑ گئے۔ امریکی صدر و اسرائیلی وزیر اعظم کی کابینہ تو مجبور ہے مگر دونوں ملکوں کی منتخب پارلیمنٹ کی اکثریت بھی خاموش ہے جس کا تازہ ثبوت امریکی سینیٹ کا اکثریتی فیصلہ ہے جس نے اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہونے دی۔
روحانی پیشواپوپ لیو نے درست کہا ہے کہ تباہی و بربادی لمحوں میں پھیلا دی جاتی ہے مگر جنگوں میں ہونے والی تباہیاں سالوں میں بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں جب کہ دوبارہ تعمیر کے لیے بہت زیادہمالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا و اسرائیل نے اربوں ڈالروں کے ہتھیاروں سے ایران میں تباہی پھیلائی اور اس رقم سے زیادہ رقم اب ایران کو تعمیر و ترقی اور تباہی کی بحالی کے لیے درکار ہے۔
اپنی ذاتی انا کی تسکین اور من مانی کے لیے امریکا و اسرائیل کے حکمرانوں نے ایران پر جنگ مسلط کرکے جو بھاری رقم خرچ کی، وہ رقم وہ اپنے عوام کی خوشحالی و ترقی اور دنیا میں پھیلی بے انتہا غربت کے خاتمے پر خرچ کرتے تو لبنان، فلسطین اور ایران کا ناقابل تلافی جانی اور بہت بڑا مالی نقصان ہوتا نہ دنیا میں ان حکمرانوں کے خلاف بڑے احتجاج نہ ہوتے نہ انھیں ظالم گردانا جاتا۔
Today News
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد نہیں جائیں گے، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے کسی واضح جواب نہ ملنے پر نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ دورہ منسوخی کے بجائے عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ شیڈول کیا جا سکتا ہے۔
معاملے سے باخبر امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مناسب پیش رفت کی صورت میں دورے کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسی صورت میں مذاکرات میں شرکت کرے گا جب اسے یقین ہو کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر ایسے اقدامات وقت کا ضیاع ہوں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم دونوں جانب سے غیر یقینی بیانات کے بعد اس عمل میں تاخیر کا امکان بڑھ گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper
-
Sports4 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport