Today News
ایک حیرت انگیز داستانِ حیات
چند ماہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظر سے گذری، کسی صاحب نے ملائشیا کے عظیم راہنما ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کیا تھا، رائٹر کا نام اجنبی تھا مگر تحریر بہت دلچسپ تھی، تحریر کے نیچے میں نے کمنٹس میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تو محرّر (تھانے والا نہیں، تحریر لکھنے والے رائٹر) نے بڑی مسرّت کا اظہار کیا، اور بتایا کہ وہ ماشاء اللہ سی ایس ایس کے امتحان کے ذریعے سول سروس میں داخل ہوئے اور انکم ٹیکس سروس میں کمشنر کے عہدے تک پہنچے اور اب کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں۔ یہ میرا ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ کے مصنف محترم محمد بوٹا انجم صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ وہ آج کل ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقیم ہیں، کچھ ہفتے قبل وہ اسلام آباد آئے تو میں نے انھیں کھانے پر مدعو کیا اور وہیں ہم نے ایک دوسرے کو اپنی کتابوں کے تحفے دیے۔
ان کی سوانح حیات ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی داستان کہ زمانے کی گردش نے جسے ان گنت مسائل اور مصائب سے دوچار کردیا، اس کے سامنے رکاوٹوں کے ہمالیہ کھڑے ہوگئے مگر اس نے مایوس اور ناامید ہونے سے انکار کردیا، اس نے دو چیزوں کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ امید اور حوصلہ۔ اس نے ایک ہاتھ میں امید کا چراغ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ میں حوصلے کا تیشہ لے کر رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹنا شروع کردیے۔ ایک پہاڑ کٹتا تو آگ کا دریا سامنے آجاتا۔ وہ عبور ہوتا تو بقول منیر نیازی
؎ اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
جب ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اسی لیے میں نے اپنی خودنوشت ’جہدِ مسلسل‘ انھیں بھیجتے وقت اس پر لکھا تھا ’’محمد بوٹا انجم صاحب کے لیے جو خود جہدِ مسلسل کی مجسّم تصویر ہیں۔‘‘
ان کے والد صاحب تین بھائی تھے جن کی دس ایکٹر زمین تھی، ظاہر ہے کہ اس سے پورے کنبے کا گزارہ مشکل تھا اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے سوا تین ایکڑ کے مالک والد کی خواہش تھی کہ بیٹا صرف آٹھویں جماعت تک پڑھے اور اس کے بعد وہ کاشتکاری میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ مگر قدرت نے اپنا فیصلہ بیٹے کے حق میں لکھ رکھا تھا۔ بچپن سے ہی مصنّف کوتعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے جیسے بچوں کو ٹیوشن پڑھانی پڑی اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے بڑی مشکل سے والد صاحب کو منانا پڑا۔ پھران پر ایک ایسا وقت آیا کہ اپنوں نے نظریں پھیر لیں، اور زخم پر زخم لگاتے رہے، پھر کچھ دردِ دل رکھنے والے کام بھی آئے۔ یہ ساری داستان ایک دلچسپ ناول کی طرح ہے جو قاری ایک دو نشستوں میں ہی پڑھ ڈالتا ہے۔
مصنف جب میاں چنوں کے انٹر کالج میں داخل ہوئے توانھیں اخراجات پورے کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی پارٹ ٹائم نوکری کرنی پڑی، جس کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’مجھے میونسپل کمیٹی میاں چنوں کی جانب سے دس روپے ماہانہ اعزازیہ ملتا تھا جو اُس وقت پارٹ ٹائم جاب کرنے والے ایک طالبعلم کے لیے بڑے معقول پیسے تھے۔ علاوہ ازیں اُن دنوں میں ایک جگہ مزدوری بھی کرتا تھا۔ ہر روز فجر کی اذان کے ساتھ جاگ کر اپنے بزرگوں کے ساتھ کھیتوں میں جاتا جہاں سبزیاں چُنوانے میں اُن کا ہا تھ بٹانے کے ساتھ ساتھ ٹوکریوں کی صورت میں سبزیاں سر پر اُٹھا کر منڈی تک بھی پہنچانی ہوتی تھیں اور مجھے یہ مُشقّت اُٹھا کر اسکول کالج جانے سے پہلے واپس گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ تب پورا دن محنت و مُشقّت میں گزرتا تھا۔‘‘
پھر ان کا سفینۂ حیات ان کے بقول ٹائی ٹینک کی طرح ایک ان دیکھے آئس برگ سے ٹکراگیا۔ ان کے والد صاحب حیدرآباد گئے ہوئے تھے جہاں وہ دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے جس کی اطلاع انھیں وہاں کے ایس ایچ او نے دی۔ اس موقع پر انھیں زندگی کی ناقابلِ یقین تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حیدرآباد سے میّت لانے کے لیے والد کے سگے بھائیوں اور بہنوں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ سگی پھوپھیوں نے سو سو روپیہ دیا جو انھوں نے بھائی کی تدفین کے فوراً بعد بھتیجے سے واپس لے لیا۔ اس وقت مصنف کو مجبوراً کالج کی تعلیم چھوڑنا پڑی کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ والدہ کی کفالت تھی۔ انیس سال کے نوجوان نے ہمّت نہیں ہاری، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے اور وہ روزگار کی تلاش میں ان دیکھی منزلوں کی جانب نکل پڑے۔
وہ صرف دو سو روپے ماہوار (جو اس کی والدہ کی کفالت کے کافی تھے) کی نوکری یا مزدوری کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا رہا، تلاشِ روزگار کے دوران وہ لاہور پہنچا، لوگوں کے سرونٹ کواٹروں میں سوتا رہا، کئی ہفتے صرف بھُنے ہوئے چنے کھاکر اور کارپوریشن کے نلکے سے پانی پی کر گذارا کرتا رہا ۔ مصنف کے بقول ’’اس دوران میں نے ایک روز کھانے پینے کے معاملے میں عیاشی بھی کی کہ چنے یا بھُٹے کھانے کی بجائے چھ آنے کی سبزی اور چار آنے کی دو روٹیاں لے کر کھائیں تو سورۂ رحمن کے ان الفاظ پر یقین محکم ہوگیا کہ ’’تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘ اسی تگ ودو میں مصنف اداکار محمد علی کے بنگلے پر بھی جاپہنچا اور ان سے بھی ملازمت کی درخواست کی۔ اس جدوجہد میں وہ لاہور سے واپسی کے کرائے یعنی صرف پانچ روپے کے لیے اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ یہ داستانِ عزیمت کم وسیلہ نوجوانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیّت رکھتی ہے اور اس کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی کتاب کے مصنف محمد بوٹا انجم صاحب نے ہمت اور حوصلے کا پرچم بلند رکھا۔
اعلیٰ تعلیم کا حصول مصنّف کا خواب تھا،اس کے لیے انھیں بے تحاشا پاپڑ بیلنا پڑے۔ انھوں نے مختلف جگہوں پر دن کو سخت قسم کی جسمانی مشقت اور مزدوری کی اور رات کو پڑھائی کرکے تعلیم کے زینے طے کرتے رہے، اس دوران انھوں نے سیلز مینی بھی کی اور بس کنڈکٹری بھی کی۔ ان کا خواب تھا انگریزی زبان وادب میں ایم اے کرنا۔ انھیں داخلہ ملتا رہا مگر تعلیم کے اخراجات نہ ہونے کے باعث ان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ مگر انھوں نے مالی تنگدستی کو راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیا اور جدوجہد جاری رکھی، ایک وقت میں وہ غلط سوسائٹی کے باعث گمراہ ہوتے ہوتے بچے اور بالآخر ایک پرائیویٹ کالج میں ایم اے انگلش کی کلاسز میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے علاقے کا ایک نوجوان ملک بشیر احمد سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوا تو اس کی کامیابی ان کے لیے مہمیز ثابت ہوئی کہ ملک بشیر کامیاب ہوسکتا ہے تو میں کیوں نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ مصنف نے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری شروع کردی۔ اس کے لیے ان کے بقول ’’تیاری کا یہ عالم تھا کہ میں اگر رات کے وقت لاہور سے میاں چنوں جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے بس میں سوار ہوتا تو اس میں ایسی نشست کا انتخاب کرتا جہاں پر روشنی کا انتظام ہوتا اور میں پانچ گھنٹے کے اس سفر میں بھی مطالعہ میں محو رہتا، اور گھر میں یہ حالت تھی کہ اپنے روم میٹ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے رات کو اپنی چارپائی گلی کے اس حصّے میں ڈال لیتا جہاں پر بجلی کے ایک کھمبے پر لگے بلب کی روشنی میں پڑہائی کرتا۔‘‘
بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور وہ تحریری امتحان میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے مگر انٹرویو میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن نے انھیں ’’کمزور فیمیلی بیک گراؤنڈ‘‘ ہونے کے سبب (یعنی آپ چونکہ کسی امیر گھرانے کے فرد نہیں ہیں) انٹرویو میں بہت کم نمبر دیے، مگر ان کی اس ناانصافی کے باوجود محمد بوٹا صاحب نے پورے ملک میں اٹھارویں پوزیشن حاصل کی۔ اس پر انھیں ڈی ایم جی یا پولیس سروس الاٹ ہونی چاہیے تھی مگر وہ پھر ناانصافی کا شکار ہوئے اور انھیں انکم ٹیکس سروس الاٹ کی گئی۔ وہاں وہ ترقی کرتے کرتے کمشنر کے عہدے پر پہنچے مگر وہاں بھی ناانصافی کا شکار ہوئے تو انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور نئے کیرئیر کا آغاز اسی جوش وجذبے کے ساتھ کردیا جس سے انھوں نے سب سے پہلے اپنی سروس کا آغاز کیا تھا۔
افسر بن کر بھی وہ ایم بی انجم نہیں بنے اور محمد بوٹا ہی رہے۔ ان کا اندازِ تحریر بے حد دلچسپ اور دلنشین ہے۔ ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ میں ان کی سروس کے بڑے دلچسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی غیر معمولی استقامت اور حوصلہ مندی قابلِ تحسین ہے، اللہ نے انھیں امید اور حوصلے کے ساتھ ساتھ بے پناہ انرجی دی ہے۔ جس کی بناء پر انھوں نے ملائشیا میں پوری جواں ہمتی کے ساتھ اپنا بزنس شروع کیا اور آج وہ وہاں کے ایک کامیاب اور معروف بزنس مین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اس ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں اور اس بے مثال محنت ، حوصلے ، جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کرنے پر وہ ملک کے بڑے سول ایوارڈ کے مستحق بھی ہیں۔
Today News
آشا بھوسلے – ایکسپریس اردو
آشا بھوسلے برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب تھیں جسے جتنا پڑھا جائے اتنا ہی دلکش محسوس ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سی لچک، شوخی اور جذباتی گہرائی تھی جو ہر دور کے سامعین کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک عہد تھیں، ایک ایسا عہد جس نے فلمی موسیقی کو کئی رنگ دیے، کئی نئے رجحانات متعارف کروائے اور گائیکی کے دائرے کو وسعت دی۔ان کا چلے جانا نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں بھی ہندی اور اردو گانے سنے جاتے ہیں وہاں لوگوں کو غمگین کر گیا۔
آشا بھوسلے کا سفر آسان نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں موسیقی سانسوں میں بسی ہوئی تھی، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انھیں سخت مقابلے اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں انھیں زیادہ تر ثانوی نوعیت کے گانے ملتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ یہی ثابت قدمی بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ ان کی آواز میں وہ خاص بات تھی جو کسی بھی عام دھن کو یادگار بنا سکتی تھی۔
اگر ہم ان کے گانوں کی بات کریں تو ان کی ہمہ جہتی حیران کن ہے۔ رومانوی گیت ہوں کلاسیکل انداز کے نغمے قوالی پاپ یا آئٹم سانگ ہر صنف میں انھوں نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا مشہور گانا پیا تو اب تو آجا آج بھی سننے والوں کو سر دھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس گانے میں جو ادائیں جو اداکاری آواز کے ذریعے پیش کی گئی وہ بہت کم گلوکاروں کے حصے میں آتی ہے،اسی طرح دم مارو دم ایک ایسا گانا ہے جس نے نوجوان نسل میں ایک نئی لہر پیدا کی۔ یہ صرف ایک گانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی اظہار تھا جس نے اس دور کے مزاج کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ اس گانے میں آشا کی آواز کی بے فکری اور روانی سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔رومانوی گیتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ چرا لیا ہے تم نے جو دل کو ایک ایسا نغمہ ہے جو محبت کے جذبات کو نہایت نرم اور دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں ان کی آواز کی مٹھاس اور نزاکت سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے، یہی وہ خاصیت ہے جس نے انھیں دہائیوں تک مقبول رکھا۔
آشا بھوسلے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے وقت کے ساتھ خود کو بدلا۔ جہاں بہت سے فنکار ایک خاص انداز میں محدود ہو جاتے ہیں ،وہاں آشا نے ہر نئے رجحان کو اپنایا۔ 70 کی دہائی کا کیبری اسٹائل ہو یا 90 کی دہائی کا پاپ انھوں نے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ میرا دل جیسا گانا ان کی جرات مندی اور جدیدیت کی بہترین مثال ہے۔
کلاسیکل موسیقی میں بھی ان کی مہارت کم نہیں تھی، اگرچہ انھیں زیادہ تر ہلکے پھلکے یا فلمی گانوں کے لیے جانا جاتا ہے لیکن جب بھی انھوں نے کلاسیکل گیت گائے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی آواز میں سُر کی پختگی اور تال کی سمجھ واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
ان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے مختلف موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے انداز کو ان کے مطابق ڈھالا لیکن اپنی پہچان کبھی کھونے نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گانے سن کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آواز آشا بھوسلے کی ہے۔ ان کا انداز منفرد ہے چاہے وہ شوخ ہو سنجیدہ ہو یا درد بھرا۔
ذاتی زندگی میں بھی انھیں کئی نشیب و فراز دیکھنے پڑے ان کو اس وقت گہرے صدمے کا سامنہ ہوا جب ان کی بیٹی ورشا بھوسلے نے خودکشی کرلی تھی ،وہ وقت ان کے لیے بہت کٹھن تھا۔ ان کے گانوں میں جو جذباتی گہرائی محسوس ہوتی تھی وہ شاید انھی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جب وہ درد بھرا گیت گاتی تھیں تو لگتا تھا جیسے وہ خود اس کیفیت سے گزر رہی ہوں۔آشا بھوسلے کی لمبی عمر اور طویل کیریئر بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
کئی دہائیوں تک مسلسل کامیاب رہنا آسان نہیں ہوتا ،خاص طور پر ایک ایسے میدان میں جہاں مقابلہ بہت سخت ہو۔ ان کو تو گھر ہی میں اپنی بہن لتا منگیشکر اور اوشا منگیشکر کے ساتھ اپنی جگہ بنانی تھی۔ انھوں نے ہر دور میں خود کو ثابت کیا اور نئی نسل کے گلوکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی۔آج بھی ان کے گانے نہ صرف پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک لازوال کشش ہے ،جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موسیقی کی دنیا میں ایک لیجنڈ کا درجہ رکھتی ہیں۔
اگر ان کے چند مزید یادگار گانوں کا ذکر کیا جائے تو ان آنکھوں کی مستی کے، رات باقی بات باقی اور آؤ حضور تم کو بھی ان کے فن کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ ہر گانا ایک الگ کہانی سناتا ہے اور ہر کہانی میں آشا جی کی آواز ایک نئی جان ڈال دیتی تھی۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے فن سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ موسیقی کو ایک نئی سمت بھی دی۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے ایک خزانہ ہے ایک ایسا خزانہ جو کبھی پرانا نہیں ہوگا۔
آشا بھوسلے کی گائیکی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فن میں اصل طاقت تنوع محنت اور خود پر یقین میں ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنھوں نے انھیں ایک عام گلوکارہ سے ایک عہد ساز شخصیت بنا دیا۔
وہ بارہ اپریل 2026 کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔ برصغیر ایک بہت بڑی گائیکہ سے محروم ہوگیا۔ پاکستان میں بھی ان کی گائیکی کے چاہنے والے بیحد افسردہ ہوئے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
Today News
حکمران اور ظلم – ایکسپریس اردو
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے۔ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جنگ کے علم بردار دکھاوا کرتے ہیں انھیں معلوم نہیں کہ تباہی میں صرف ایک لمحہ لگتا ہے، تعمیر نو میں پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ پوپ لیو کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے ۔
ہمارے ہاں تو ماضی کے ایسے فاتحین جھنوں نے خون کی ندیاں بہائیں، انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ کہ ایسا پوری دنیا میں ہے۔ جو جتنا ظالم حکمران ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا ہیرو سمجھا جاتا ہے، آج بھی یہی کھیل کھیلا جارہاہے ۔ امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کی جنگی پالیسیوں کے خلاف خود ان کے عوام کو سڑکوں پر احتجاج اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنا پڑا۔ دونوں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے مگر دونوں اپنی جنگی پالیسی سے باز نہیں آئے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی صدر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے دس جنگیں رکوائی ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ امریکی صدر نے خود امریکا اور اسرائیل سے ایران پر حملے کرائے اور مزید تباہی کی دھمکیاں ابھی جاری ہیں۔
دنیا میں امریکا واحد سپر پاور ہے جس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر نے جنگوںکا نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ انھوں نے رات کی تاریکی میں امریکی کمانڈوز وینزویلا بھیج کر وہاں کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرایا اور کئی ماہ سے امریکا میں قید کر رکھا ہے اور اب کیوبا کو دھمکایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد حکمران ہیں جو خود کو رحم دل بھی کہتے ہیں اور جنگ تھوپ کر خود ہی جنگ بندی بھی کر لیتے ہیں مگر اسرائیل میں صرف بربریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کے مظالم رکنے میں نہیں آ رہے جس نے لاکھوں فلسطینی شہید کیے جن میں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہیں اور اب لبنان اس کی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنی جدید ٹیکنالوجی سے ایران کے سپریم لیڈر و دیگر اہم رہنماؤں کو شہید کیا ہے۔
امریکا کے حکمرانوں نے جھوٹے الزامات لگا کر پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے لیبیا اور عراق پر حملے کرکے وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جب کہ اس سے قبل ویت نام میں شکست کھائی تھی اور اب ایران سے جنگ میں امریکی صدر اپنی فتح پر شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ امریکی حکمران ایک طرف مذاکرات کرنے پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرکے اپنی ساکھ برباد کر چکے ہیں وہ صبح کچھ رات کو کچھ اعلان کرکے ناقابل اعتماد بھی ہو چکے ہیں۔ یوں تو دنیا میں بے شمار حکمران آئے اور چلے گئے لیکن جو خود تو مر گئے مگر تباہی و بربادی کی مثالیں چھوڑ گئے۔ امریکی صدر و اسرائیلی وزیر اعظم کی کابینہ تو مجبور ہے مگر دونوں ملکوں کی منتخب پارلیمنٹ کی اکثریت بھی خاموش ہے جس کا تازہ ثبوت امریکی سینیٹ کا اکثریتی فیصلہ ہے جس نے اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہونے دی۔
روحانی پیشواپوپ لیو نے درست کہا ہے کہ تباہی و بربادی لمحوں میں پھیلا دی جاتی ہے مگر جنگوں میں ہونے والی تباہیاں سالوں میں بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں جب کہ دوبارہ تعمیر کے لیے بہت زیادہمالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا و اسرائیل نے اربوں ڈالروں کے ہتھیاروں سے ایران میں تباہی پھیلائی اور اس رقم سے زیادہ رقم اب ایران کو تعمیر و ترقی اور تباہی کی بحالی کے لیے درکار ہے۔
اپنی ذاتی انا کی تسکین اور من مانی کے لیے امریکا و اسرائیل کے حکمرانوں نے ایران پر جنگ مسلط کرکے جو بھاری رقم خرچ کی، وہ رقم وہ اپنے عوام کی خوشحالی و ترقی اور دنیا میں پھیلی بے انتہا غربت کے خاتمے پر خرچ کرتے تو لبنان، فلسطین اور ایران کا ناقابل تلافی جانی اور بہت بڑا مالی نقصان ہوتا نہ دنیا میں ان حکمرانوں کے خلاف بڑے احتجاج نہ ہوتے نہ انھیں ظالم گردانا جاتا۔
Today News
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد نہیں جائیں گے، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے کسی واضح جواب نہ ملنے پر نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ دورہ منسوخی کے بجائے عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ شیڈول کیا جا سکتا ہے۔
معاملے سے باخبر امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مناسب پیش رفت کی صورت میں دورے کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسی صورت میں مذاکرات میں شرکت کرے گا جب اسے یقین ہو کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر ایسے اقدامات وقت کا ضیاع ہوں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم دونوں جانب سے غیر یقینی بیانات کے بعد اس عمل میں تاخیر کا امکان بڑھ گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper
-
Sports4 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport