Connect with us

Today News

ایران-امریکا مذاکرات کا دوسرا دور متوقع، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ اڈے بند

Published

on



اسلام آباد:

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کی تیاریوں کے پیش نظر سیکیورٹی کو انتہائی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں تمام ٹرانسپورٹ اڈے دس روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو 26 اپریل تک نافذ العمل رہے گا۔

اس دوران دیگر اضلاع سے جڑواں شہروں میں داخل ہونے والی ٹریفک بھی معطل رہے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹورازم سروسز اور رینٹ اے کار سروسز کو بھی عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی خدشات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ اہم تنصیبات، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ اہم سفارتی سرگرمیوں کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مذاکرات کا اگلا دور جلد ممکن ہے

Published

on


ایران ماضی کی ایک بڑی سپر پاور اور امریکا حالیہ غالب قوت ہے۔ماضی کی سپر پاور ایران کی ریاستی زندگی کو اتنا لمبا عرصہ ہو گیا ہے کہ ایرانی معاشرت کئی ابتدائی مراحل سے گزر کر ایرانی تہذیب میں ڈھل گئی ہے۔جب کسی کلچر کو ایک لمبے عرصے کے لیے امن، سکون،پھلنا پھولنا اور ٹھہراؤ نصیب ہو جائے تو معاشرتی ثقافت ( کلچر) معاشرتی تہذیب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

ایران مسلمانوں کے ہاتھوں میں آیا تو ایرانی معاشرت دھیرے دھیرے ایک اسلامی معاشرت کا منظر پیش کرنے لگی۔جب صفوی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مسلکی بنیادوں پر استوار کیا تو ماضی کی یہ غالب قوت اولادِ رسول کی قربانیوں سے سبق لے کر مزاحمت کا استعارہ بننے لگی۔یوں مزاحمتی شعور نے تہذیبی شعور کو مہمیز کیا۔ہزاروں سال پر محیط ایرانی تہذیب نے جہاں ایرانیوں میں تفاخر کا جذبہ پیدا کیا وہیں اولادِ رسول کی قربانیوں سے نمو پانے والے معاشرے نے قربانی دینے کو اعلیٰ ترین انجام قرار دیا۔یہی سبب ہے کہ ایرانیوں میں ایک Decencyایک رکھ رکھاؤ کے ساتھ مرمٹنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔

اس کے برخلاف چند سو سالہ تاریخ رکھنے والی امریکی معاشرت مار دھاڑ ،لوٹ مار اور دوسروں کے حقوق چھیننے پر پروان چڑھی ہے۔امریکا بنیادی طور پر جبراً بنائے گئے غلاموں کے آقاؤں کا ملک ہے جس نے غلاموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، امریکا کے اصلی باشندوں سے زبردستی زمینیں چھینیں اور آس پاس کی ریاستوں پر غیر قانونی قبضہ کر کے امریکا میں شامل کیا۔پوری امریکی تاریخ میں کوئی ایسی اچھی مثال نہیں ملتی جسے نیکی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے طور پر پیش کیا جا سکے۔امریکی معاشرہ ابھی شائستگی اور تہذیبی رکھ رکھاؤ سے دور ہے۔جناب ٹرمپ کی زبان اسی کی چغلی کھاتی ہے۔

28فروری 2026کو نتن یاہو کے ایماء پر امریکا نے اسرائیل کی مدعیت میں ایران پر بالکل ناجائز حملہ کر دیا۔اس حملے کی امریکی ایوانِ نمائندگان یا اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ایسے میں یہ حملہ صرف ایک فرد یعنی امریکی صدر کا ذاتی فعل کہا جا سکتا ہے۔ماضی میں کسی امریکی صدر نے اتنی دیدہ دلیری سے ایوانِ نمائندگان اور اقوامِ متحدہ کو بے وقعت نہیں کیا۔امریکا دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر ایک سپر پاور کے طور پر اور برطانوی سلطنت کے جانشین کے طور پر سامنے آیا۔ایران پر حملہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے سامنے کوئی واضح اہداف نہیں تھے اور یہ کنفیوژن اس لیے تھی کیونکہ امریکا صرف نتن یاہو کی خواہش پر جنگ میں کود پڑا تھا۔

نتن یاہو نے امریکی صدر کو یہ سبز باغ دکھایا تھا کہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو ٹھکانے لگاتے ہی موجودہ ایرانی حکومت گر جائے گی۔ایران امریکا کے پاؤں پڑ جائے گا اور صدر ٹرمپ کی واہ واہ ہو جائے گی۔ادھر اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ جنگ کے پہلے دس دنوں میں ہی یہ صاف نظر آنے لگا کہ امریکی و اسرائیلی منصوبہ فیل ہو چکا ہے اور جنگ ان کی مرضی کے مطابق نہیں جا رہی۔امریکا نے ایران کو دو دن کی جنگ بندی کی تجویز دی جس کو ایران نے منظور نہ کیا۔کئی اور تجاویزبشمول جی سی سی ممالک کی تجویز بھی آئی۔ایران نے اکثر تجاویز کو مسترد کر دیا لیکن جی سی سی ممالک کی تجویز کو درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا۔ پاکستان نے اس صورتحال میں دونوں فریقین سے رابطہ استوار رکھا۔انقرہ،قاہرہ اور ریاض کی input لی۔

اس کے فوراً بعد عوامی جمہوریہ چین سے مشاورت کی۔ پاکستان کی دن رات محنت رنگ لائی اور فریقین 15روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔امریکا جنگ بندی کے لیے بے تاب تھا۔طے پایا کہ امریکا اور ایران، اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچا،جب کہ جناب باقر قالیباف اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کی قیادت میں ایرانی وفد ہریالی میں لپٹے پاکستانی دار الخلافہ آیا۔دونوں وفود کے درمیان 21گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔1979میں ایرانی انقلاب اور امریکیHostages crises کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ تھا۔ پاکستان نے اپنی محنت، ساکھ اور کوششوں سے انہونی کو ہونی کر دکھایا۔مذاکرات میں دونوں جانب سے خاصی پیش رفت ہوئی لیکن چند معاملات حل طلب رہے اور اس وجہ سے دنیا کو بڑی خوش خبری نہ مل سکی۔

مذاکرات اسلام آباد اکارڈ پر تو منتج نہ ہو سکے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔ بقول صدر ٹرمپ جنگ بندی برقرار ہے۔ بے نتیجہ رہنے والے مذاکرات کے فوراً بعد مایوسی کی جو فضا چھا رہی تھی اس میں اب خاصی کمی واقع ہو چکی ہے کیونکہ امریکا اور ایران دونوں اطراف سے یہ عندیہ ملا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے پہلے اپنی مختصر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اپنی بات ایران کو کھول کر بتا دی ہے۔اب یہ ایران کی صوابدید پر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ایران نے ہماری شرائط پر راضی ہونا قبول نہیں کیا۔ جے ڈی وینس کے واپس واشنگٹن پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے بھی کچھ ایسی گفتگو کی جس سے بظاہر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ان میں ایک وقفہ آیا ہے اور یہ کسی لمحے بھی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔چونکہ جنگ بندی ختم ہونے کی تاریخ 22اپریل ہے اس لیے یا تو جنگ بندی میں توسیع ہوگی یا یہ مذاکرات 22اپریل سے پہلے منعقد ہوں گے۔دراصل امریکیوں کو مذاکرات کرنے کی عادت نہیں۔وہ اپنی Brute forceکی وجہ سے ہر مذاکراتی ٹیبل پر من مانی کرتے رہے ہیں۔

امریکی و اسرائیلی حملے سے صرف چند دن پہلے ایرانی وزیرِخارجہ نے جی سی سی ممالک کا دورہ کرکے وہاں کے حکمرانوں کو خبردار کر دیا تھاکہ اگر امریکا و اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران مجبور ہو گا کہ خلیج میں قائم امریکی اڈوں و رہائش گاہوں کو نشانہ بنائے۔ جی سی سی ممالک کی درخواستوں اور امریکا کو دی گئی بے تحاشہ دولت کے باوجود صدر ٹرمپ نے ان کی ایک نہیں سنی اور حملہ کر دیا۔حملے کے ابتدائی چند دنوں کے بعد امریکی افواج کی اعلیٰ ترین قیادت نے جرات کر کے صدر ٹرمپ پر جیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کر دیا۔ہر کوئی توقع رکھتا تھا کہ ایران مزاحمت کرے گا لیکن ایران نے جو کمال کر دکھایا وہ حیران کن اور لاجواب ہے۔

گیارہ اپریل کے مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ مل گئی تھی لیکن صدر ٹرمپ نتن یاہو کے دباؤ کے آگے پھر ڈھیر ہو گئے۔ صدر ٹرمپ نے بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں بندشیں لگا کر ایران کو جھکانے کی کوشش کی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ ایرانی بندر گاہوں کو خطرہ ہوا تو خلیج کی کوئی بندرگاہ بھی فنکشنل نہیں رہے گی۔ ایران حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو مشکل بنا سکتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو دنیا تیل ،گیس اور کھاد کے بہت بڑے بحران سے دوچار ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ کے بلاکیڈ کو کہیں سے بھی مدد ملتی نظر نہیں آرہی۔ نیٹو، چین، برطانیہ،آسٹریلیا سب اس بلاکیڈ سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے پوری دنیا بشمول امریکا کو مہنگائی کے طوفان میں جھونک کر امریکی ری پبلکن پارٹی کو غیر مقبول بنا دیا ہے۔ مشہور جریدے دی اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اب ایران پر حملہ نہیں کرے گا،جنگ ختم ہو گئی ہے۔ امن معاہدے کی تکمیل کے لیے بدھ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک وفد لے کر تہران پہنچے جہاں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ خدا کرے کہ امریکی قیادت نتن یاہو کی خواہشات کے اسیر ہونے کے بجائے اپنے ہوشمند افراد کی سن کر ایسے حکیمانہ فیصلے کرے جس سے انسانیت کا بھلاہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

نجی ڈیولپرز کو خصوصی اقتصادی زونز کیلیے سرکاری زمین دی جائیگی

Published

on



اسلام آباد:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جمعرات کو ایک اہم بل منظور کر لیا، جس کے تحت نجی ڈیولپرز کو خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے قیام کے لیے سرکاری اراضی مفت لیز پر دی جائے گی، جبکہ ان زونز سے متعلق تجارتی قانونی تنازعات میں عدالتوں کے اختیار کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی ایکٹ 2026 کو عجلت میں شق وار بحث کے بغیر منظور کیا۔ یہ بل 8 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور تیزی سے منظوری کے مراحل طے کیے گئے۔

اجلاس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کی۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر شیخ نے بتایا کہ حکومت کراچی میں 6 ہزار ایکڑ زمین خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے لیے ڈیولپرز کو بغیر کسی معاوضے کے لیز پر دے گی۔انھوں نے کہا کہ ہر ڈیولپر کو ایک ہزار ایکڑ تک زمین دی جا سکے گی، تاہم لیز کی شرائط ابھی طے نہیں ہوئیں۔

قانون کے مطابق اگر ایک سے زائد ڈیولپرز کا انتخاب کیا جائے تو زون کا رقبہ کم از کم ایک ہزار ایکڑ ہونا چاہیے اور ہر ڈیولپر کو کم از کم 500 ایکڑ زمین الاٹ کی جائے گی۔

پاکستان نے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کو دی جانے والی مراعات اور ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے ان زونز کے قیام کا بنیادی مقصد متاثر ہوا ہے۔

اجلاس میں ایس آئی ایف سی کے جوائنٹ سیکریٹری منصوبہ جات عتیق الرحمٰن نے بتایا کہ 2035 تک ٹیکس مراعات ختم کرنے کی شرط خصوصی اقتصادی زونز، خصوصی ٹیکنالوجی زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے ان اداروں کو بھی منظوری دی کہ جو آئندہ دس برسوں میں یا 30 جون 2035 تک، جو بھی پہلے ہو، تجارتی پیداوار شروع کریں گے، انھیں آمدنی پر تمام ٹیکسوں سے استثنا حاصل ہوگا۔

قیصر شیخ نے کہا کہ 2035 تک مراعات ختم کرنے کے وعدے کا یہ مطلب نہیں کہ اس مدت تک نئی مراعات نہیں دی جا سکتیں۔سرمایہ کاروں کی عدالتی تاخیر سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے قائمہ کمیٹی نے خصوصی اقتصادی اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام کی منظوری بھی دی، جبکہ عدالتوں کو ان معاملات میں مداخلت سے روک دیا گیا۔

یہ ٹریبونل خصوصی اقتصادی زونز سے متعلق تمام معاملات پر خصوصی اختیار رکھے گا اور ہر مقدمہ تین ماہ کے اندر نمٹانا لازم ہوگا۔

بل کے مطابق ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف صرف سپریم کورٹ پاکستان میں 60 دن کے اندر اپیل کی جا سکے گی، ہائی کورٹ سے رجوع کا اختیار نہیں ہوگا، جس سے مقدمات کے فوری فیصلے ممکن بنائے جائیں گے۔

نئے قانون کے تحت بورڈ آف انویسٹمنٹ سے زون درخواستوں کی منظوری کا اختیار واپس لے کر وفاقی خصوصی اقتصادی زون اتھارٹی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

زونز کی تعمیر و ترقی نجی ڈیولپرز کی ذمے داری ہوگی، تاہم سڑکیں، بجلی، گیس، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر سہولیات وفاقی و صوبائی حکومتیں فراہم کریں گی۔

پاکستان آئی ایم ایف سے ٹیکس مراعات ختم کرنے کے وعدے میں نرمی لینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم حکومت اس امر سے بھی آگاہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کو ناراض نہ کیا جائے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جمعرات کو جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا تعاون انتہائی اہم ہے۔

پاکستان کے لیے تقریباً 7.2 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کا مقصد معاشی استحکام، بیرونی ذخائر کی بحالی، مالیاتی نظم و نسق، توانائی قیمتوں اور گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

راولپنڈی میں پسند کی شادی کا خونی انجام، دلہا، دلہن اور والدہ قتل

Published

on



راولپنڈی:

راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلا میں پسند کی شادی ایک اندوہناک سانحے میں بدل گئی، جہاں لڑکے، اس کی اہلیہ اور والدہ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ شہلا بی بی کے بیٹے محمد عامر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہلا بی بی نے عزیز اللہ سے دوسری شادی کی تھی جبکہ ان کے بیٹے دانش اکرم نے عزیز اللہ کی بیٹی سے پسند کی شادی کی۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس شادی پر لڑکی کے بھائیوں نذیر، نجیب اور عزیز اللہ کو شدید رنج و غصہ تھا۔

ملزمان نے دانش اکرم کو دعوت کے بہانے گھر بلایا جبکہ اس کی اہلیہ سیما گل پہلے ہی وہاں موجود تھی۔

مدعی کے مطابق جب دانش اکرم رات بھر واپس نہ آیا تو اہل خانہ عزیز اللہ کے گھر پہنچے جہاں عقبی دروازے سے نجیب اور نذیر کو ہاتھوں میں چھریاں لیے فرار ہوتے دیکھا گیا۔ انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو ملزمان نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

گھر کے اندر داخل ہونے پر دانش اکرم، اس کی والدہ شہلا بی بی اور اہلیہ سیما گل کی لاشیں پڑی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق تینوں کو تیز دھار آلے سے گلے کاٹ کر قتل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ قتل پسند کی شادی کے تنازع پر کیا گیا جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending