Today News
اسلام آباد ڈائیلاگ کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز، معاہدے کی امید برقرار، امریکی عہدیدار
چند روز قبل ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے تھے، لیکن ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ پس پردہ دونوں فریقین کے درمیان سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور دونوں فریق معاہدے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق عہدیدار کا یہ بیان غیر معمولی ہے کیونکہ موجودہ منظرنامے میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بیٹھک کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے دونوں ممالک کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامند کیا اور بطور ثالثی اسلام آباد میں امریکا اور ایران کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات میں امریکی وفود کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے علاوہ نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔
جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام مذاکراتی وفد کا حصہ تھے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ مذاکراتی بیٹھک پاکستانی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی جو طویل 24 گھنٹے جاری رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ فریقین کے درمیان کئی ادوار پر مشتمل سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جسے پوری دنیا میں قدر کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی اور امریکی وفود نے پاکستان کی جنگ بندی کی کوششوں اور امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
Today News
آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے، صوبائی وزیر کھیل
صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکرنے کہا ہے آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے ۔
صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکر نے وزیر اعلیٰ پنجاب میراتھن ریس کے حوالے سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ لوگ صبح سے یہاں پہنچ چکے ہیں، پنجابیوں کو صبح سویرے اٹھانا مشکل ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے سب لاہوریوں کو اٹھا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا وثزن تھا کی نوجوانوں کو کھیلوں میں زیادہ حصہ لینا ہو گا اور وہ پورا ہو رہا ہے اور ہمارا گول ہے کہ اگلے نومبر تک ہم ایک لاکھ لوگوں کی رجسٹریشن کریں اور ان کو اکٹھا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب بڑے انعامات آج ملے گے انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ ریس میں شامل ہونگا ، پوزیشن تو نہیں لے سکتا لیکن ریس میں حصہ لینے کے لیے پرجوش ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جیسی دبئی میں میراتھن ہوتی ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اس کا مقابلہ کروں، ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے شہریوں نے حصہ لیا۔
Source link
Today News
کپتان محمد رضوان نے مسلسل 7 میچز میں راولپنڈیز کی ناکامی کی اصل وجہ بتا دی
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے مسلسل سات میچز میں ناکامی اور ٹیم کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی۔
لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی، جس کا اثر براہ راست ٹیم کے نتائج پر پڑا۔
انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میری طرف سے کوئی کمی رہی ہوگی، اسی لیے ایسا نتیجہ سامنے آیا۔ میں نوجوان کھلاڑی کے ساتھ اوپن کر رہا تھا، پوزیشن کے حوالے سے میری اپنی خواہش ضرور ہو تی ہے لیکن ٹیم کا فیصلہ ہمیشہ متفقہ ہوتا ہے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم مسلسل ہار رہی ہو تو مثبت پہلو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم کچھ چیزیں حوصلہ افزا بھی رہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ٹیم کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔
راولپنڈیز کے کپتان نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کو صرف نتائج سے نہیں جانچنا چاہیے، بطور کپتان آپ صرف کوشش کر سکتے ہیں لیکن اگر غلطیاں ہو جائیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
محمد رضوان نے اپنی ذاتی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میری پرفارمنس نہ ہو تو پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہمت ہار جاؤں۔ کرکٹ میرے لیے جنون ہے، مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا، میں محنت کرکے واپس آؤں گا۔
رضوان نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ہے، انہوں نے کہاکہ میں مانتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے، اب میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور یہ راولپنڈیز کی مسلسل ساتویں شکست ہے، ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
Today News
دنیا کا متوقع جغرافیہ
دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔
پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔
قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔
آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔
پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔
ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔
مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔
بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔
برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔
نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔
اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔
ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper