Connect with us

Today News

امریکا، وزیر خزانہ کی امریکی تجارتی نمائندے سے اہم ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری میں فروغ پر اتفاق

Published

on



واشنگٹن:

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں جاری ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خزانہ نے اس موقع پر پاکستان میں کاروبار دوست ماحول کے قیام، سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات میں بہتری اور مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا تاکہ پائیدار اقتصادی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔

بات چیت میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے، برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں آسانی اور تجارتی روابط کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

دونوں فریقین نے جاری تجارتی مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا اور باہمی اقتصادی تعاون میں بہتری کے رجحان کو سراہا۔

ملاقات میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی مفاد پر مبنی نتائج اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کے لیے تعاون کو مزید وسعت دیتے رہیں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کی بڑی وارننگ، جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی

Published

on


ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں۔

بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا میں جنگی تیاری تیز، کار ساز کمپنیاں اب ہتھیار بنائیں گی

Published

on


امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کورونا وبا کے دوران بھی جنرل موٹرز اور فورڈ نے طبی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں وینٹی لیٹرز تیار کیے تھے، جو ہنگامی صورتحال میں صنعتی شعبے کے کردار کی ایک بڑی مثال ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا نے دباؤ بڑھانے کیلئے ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کا فیصلہ کرلیا، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ 

Published

on


امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو رعایتیں دے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تمام تجارتی جہاز ایران کی جانب سے طے کیے گئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے، جبکہ غیر ملکی جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔

ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دراصل ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات ختم نہیں کرتا، اس وقت تک یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending