Today News
امریکا میں جنگی تیاری تیز، کار ساز کمپنیاں اب ہتھیار بنائیں گی
امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔
اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کورونا وبا کے دوران بھی جنرل موٹرز اور فورڈ نے طبی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں وینٹی لیٹرز تیار کیے تھے، جو ہنگامی صورتحال میں صنعتی شعبے کے کردار کی ایک بڑی مثال ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔
Today News
پاکستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز کر دیا گیا۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی گرین پاکستان منصوبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
سی ای او ییلو گرین فارم غلام مصطفی خاندان سمیت پاکستان منتقل ہو کر جدید زراعت کے فروغ میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔
غلام مصطفیٰ کے مطابق انہوں نے طویل المدتی زرعی منصوبے کو منفرد اور پائیدار موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع ذاتی زمین میں بھی کم ہی دستیاب ہوتے ہیں۔
مقامی کسان محمد عبداللہ لیاقت نے کہا کہ جی پی آئی کے تحت 17 ہزار ایکڑ رقبہ حاصل کر کے زراعت کو وسعت دی گئی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔ جی پی آئی نے جدید زراعت متعارف کروائی اور ایگری مالز کے قیام کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔
کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق جی پی آئی کا یہ منصوبہ بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈریپ ایریگیشن، پیوٹ اور اسپرنکلر سسٹمز کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت جدید زرعی مشینری اور طریقوں کو فروغ دے کر روایتی کاشتکاروں کو جدید زراعت کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو زرعی خود کفالت،پائیدار ترقی اور تحفظِ خوراک کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
Source link
Today News
خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی، بھارت کی خودمختاری پر سوال
خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے باعث بھارت کی خودمختاری پر سوال اُٹھ رہے ہیں۔
بین الاقوامی جریدہ ایشیا ٹائمز کے مطابق ایران کے معاملے پر بھارت کی غیر واضح خارجہ پالیسی سخت تنقید کی زد میں ہے۔
پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت کی سفارت کاری بالکل خاموش رہی۔
مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محض تیل اور سپلائی کے نظام کی بات کی۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی مداخلت کے بجائے رابطے اور یقین دہانی تک محدود رہا۔
چین اور پاکستان کی قریبی شراکت داری نے خطے میں بھارت کی نام نہاد اہمیت کو شدید دھچکا پہنچایا۔ پاکستان سے بہترین تعلقات کے بعد امریکا کیلئے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
Today News
امریکا ایران سے نہ جیت سکا تو چین سے کیسے لڑے گا؟ بیلاروسی صدر کا بڑا بیان
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسی بڑی طاقت سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ چین جیسے مضبوط ملک کا سامنا بھی نہیں کر پائے گا۔
بیلاروسی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے اصل مفادات تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور وہ ان وسائل کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔
اپنے خلاف عائد ’آمر‘ ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو کیوبا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت موجود ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لوکاشینکو کا یہ بیان عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امریکا، چین اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper