Today News
ایران امریکا امن معاہدہ اور بھارت کا منفی کردار!
یہ کہنا کہ اسلام آباد میں منعقدہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے تھے، سراسر غلط ہے۔ دونوں جانب کے مذاکرات کاروں نے خود کہا تھا کہ انھوں نے اپنے اپنے نکات ایک دوسرے کو بتا دیئے ہیں اور دونوں نے ہی کہا تھا کہ وہ ان نکات سے اپنی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کریں گے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے جو ہدایات دیں گے، اس پر عمل کیا جائے گا مگر اس کے بعد ہر طرف یہ شور برپا ہو گیا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔
عالمی تذکرہ کاروں نے بھی کہا تھا کہ یہ دراصل ایک وقفہ ہے، دونوں وفود نے دراصل ان مذاکرات کو حتمی شکل دینے سے قبل اپنے ممالک کی اعلیٰ قیادت کی رضامندی لینے کا فیصلہ کیا تھا جو یقینی طور پر ایک دانش مندانہ فیصلہ تھا کیونکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر گزشتہ 47 سالوں سے کشیدگی جاری تھی، وہ کبھی نہ تو براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہوئے تھے اور پھر ایک میز پر بیٹھ کر اسے سلجھانے کی بات تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھی مگر اسلام آباد میں یہ ممکن ہو گیا تھا۔
اب اگر اسے پاکستان کی ثالثی کا کرشمہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ دونوں ممالک کی رقابت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھی جب کہ اسرائیل اور بھارت اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
اسرائیل تو چاہتا ہی نہیں تھا کہ امریکا ایران جنگ کبھی ختم ہو کیونکہ اس جنگ کا محرک وہی تھا اور اس جنگ سے اسے یہ فائدہ ہو رہا تھا کہ وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے ناجائز منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے لبنان پر اسی وقت تابڑتوڑ حملے کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا تھا اور صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کر رہا تھا، مزید آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ادھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا ایران سے جنگ شروع ہونے سے دو روز قبل اسرائیل کا دورہ ایک پراسرار دورہ تھا جب کہ اس غیرمتوقع دورے کی خود بھارت میں سخت تنقید کی جا رہی تھی مگر مودی کا مقصد نیتن یاہو کی ہمت افزائی کرنا تھا کیونکہ اس کا گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے ملتا جلتا اکھنڈ بھارت کا منصوبہ ہے۔
امریکا اور اسرائیل مل کر بھی ایران کو شکست نہیں دے سکے، تو جب ایران کا معرکہ سر نہیں ہو سکا تو پاکستان کو شکست دینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے نہ ہونے کی جتنی خوشی بھارت اور اسرائیل کو ہوئی ہے، اتنا ہی دکھ دنیا کے تمام ممالک کو ہوا ہے کیونکہ گیس اور تیل کی کمیابی کے مسئلے نے پوری دنیا متاثر ہے اور اسی مسئلے نے مہنگائی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے مگر افسوس کہ پاکستان دشمنی میں بھارت اور اسرائیل کے لیے تیل کی بندش اور مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو بس یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کا کچھ بھی ہو، پاکستان کو تباہ وبرباد کر دیا جائے تو ان کے دلوں کو دائمی سکون میسر آ جائے گا۔
اب اس خبر کو ان دونوں ممالک نے کس طور پر لیا ہوگا کہ ایران اور امریکا مذاکرات پھر اسلام آباد میں ہی ہو رہے ہیں اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اب مذاکرات کامیاب بھی ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ بھی طے پا جائے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہا جانا کہ یہ مذاکرات کسی دوسرے ملک میں کیسے منعقد کیے جا سکتے ہیں جب اس کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے تو اس سے پتا لگتا ہے کہ مودی نے ٹرمپ کو جو کال کی ہے وہ یقینا انھیں پاکستان سے بدظن کرنے کے لیے کی گئی ہوگی اور ان مذاکرات کو پاکستان کے بجائے کسی اور ملک میں بلکہ لگتا ہے۔
ٹرمپ سے درخواست کی گئی ہوگی کہ دہلی میں یہ مذاکرات کر لیے جائیں مگر ٹرمپ اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ مودی کی چال کو نہ سمجھ سکیں۔ دراصل اس وقت بھارتی عوام مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر سخت برہم ہیں چنانچہ مودی کی یہ خواہش ہے کہ کاش مذاکرات اب پاکستان کے بجائے بھارت میں شروع ہو جائیں اور چونکہ اب مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں اور ایران و امریکا کے درمیان امن معاہدہ ہونے والا ہے تو اس معاہدے کی کامیابی کا سہرا مودی کے سر بندھ جائے گا اور وہ فخر سے کہہ سکے گا کہ اس کی کوشش اور محنت سے مذاکرات ہوئے ہیں اور اس طرح اس نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا ہے مگر خوش قسمتی سے ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو اسلام آباد میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس مقام پر مذاکرات کرنے کے لیے ایران بھی راضی ہے۔
ایرانی دراصل پاکستان میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتے ہیں جب کہ وہ مودی کو اسرائیل کا پٹھو اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے سے قبل مودی کا اسرائیل جانا اور وہاں نیتن یاہو سے گھل مل جانا اور پھر بھارت میں مشترکہ دوستانہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لیے گئے ایرانی جنگی جہاز کو بھارت کی ہی حدود میں تباہ کیے جانے کو ایران نہیں بھولا ہے، وہ مہمان جہاز بھارت کی سہولت کاری اور مرضی کے بغیر ہرگز تباہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
پھر جب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت ہوئی تو بھارت نے تعزیت تک نہیں کی۔ دنیا بھر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی تنقید کی گئی مگر بھارتی حکومت خاموش رہی۔ یہ سب مودی نے اس لیے کیا کہ کہیں اسرائیل اس سے ناراض نہ ہو جائے۔ اب مودی کی دوغلی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اب وہ عرب ممالک جو پہلے بھارت کے مرید بنے ہوئے تھے، وہ بھی بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں البتہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اب بھی مودی کا دم بھر رہی ہے۔ پاکستان سے اپنا قرض فوراً واپس مانگنا بھی بھارت کو خوش کرنے کی حکمت عملی ہے مگر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مودی کٹر ہندوتوا لیڈر ہے، وہ کبھی مسلمانوں سے وفا نہیں کر سکتا کیونکہ آر ایس ایس کا آئین یہی کہتا ہے۔
بہرحال اب چاہے اسرائیل اور بھارت کتنے ہی روڑے اٹکائیں، ایران امریکا امن مذاکرات اسلام آباد میں ہی منعقد ہوں گے اور کامیاب رہیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین امن معاہدہ بھی ہوگا جس کا کریڈٹ پاکستان کو ہی جائے گا۔
Source link
Today News
شعری مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘
جی ہاں ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ اس کتاب کے تخلیق کار انور ظہیر رہبر ہیں وہ اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثرنگار بھی ہیں۔ ان کے افسانے اور کالم پابندی سے اخبارات و جرائد میں شائع ہوکر قارئین و ناقدین سے داد وصول کرتے ہیں گزشتہ ہفتے انور ظہیر رہبر کا ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’انسانی اعضا کی تبدیلی اور مصنوعی نعم البدل‘‘ دوسرے کالموں کی طرح مذکورہ کالم بھی بے حد معلوماتی تھا ،ان کی تحریروں کے قاری کو تشنگی ذرہ برابر نہیں ہوتی ہے اس کی خاص وجہ اپنے موضوع سے پورا انصاف کرتے ہیں اور بھرپور معلومات فراہم کرنے میں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، یوں لگتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔
سفرنامہ نگاری میں بھی آپ کو مہارت حاصل ہے ’’سفر وسیلہ ظفر‘‘ والی بات تو ہے نہیں، بس اپنے شوق اور معلومات حاصل کرنے، دنیا کے نوادرات دیکھنے کا شوق ملکوں ملکوں کے سفر کے لیے آمادہ کرتا ہے اور پھر اس کی روداد کو تحریر کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور یہ تحریریں اور تصاویر پرنٹ میڈیا اور فیس بک کی زینت بن جاتی ہیں۔ اخبارات و فیس بک کے دوست احباب استفادہ کرتے ہیں، تحریر سے لطف اٹھاتے اور حیرت انگیز عجائبات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے وہ بھی جادو کی نگری میں شامل ہو گئے ہوں۔
ایسی ایسی عمارتیں، تاریخی مقامات اور خوب صورت مناظر پل بھر میں سامنے آجاتے ہیں جیسے کسی نے طلسماتی چھڑی گھما دی ہو۔ یہ مبالغہ آرائی ہرگز نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے سفرناموں کے پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ انھوں نے تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ ناول لکھنا ابھی باقی ہے وہ بھی بہت جلد لکھ لیں گے باصلاحیت اور باکمال قلم کار ہیں مسلسل لکھ رہے ہیں اور بہت خوب لکھ رہے ہیں۔ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت 2000 میں ہوئی، عنوان تھا ’’تجھے دیکھتا رہوں‘‘، ’’عکس آواز‘‘ یہ افسانوں کا مجموعہ ہے سن اشاعت 2018۔ ان کی دو اہم کتابیں جوکہ نثرنگاری پر مشتمل ہیں دونوں کتابیں 2023 میں اشاعت کے مرحلے سے گزریں۔ ایک کالموں کا مجموعہ بعنوان ’’پردیسی کے قلم سے‘‘ ان کی زنبیل میں شامل ہے۔
’’رنگ ِ برگ‘‘ اس کتاب میں جرمنی کے افسانہ نگاروں کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی ہیں، افسانہ اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں سجا دی ہے۔ انور ظہیر رہبر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’’سپنوں کے ساحل پر‘‘ حیدرآباد، بھارت کے ادبی افق پر جلوہ گر ہوا۔ دہلی بھارت سے ’’جھرمٹ‘‘ کے نام سے افسانہ نگاروں کے افسانوی مجموعے کا اشاریہ 2025 میں اور نظموں کا مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ تازہ کتاب ہے یہ دونوں کتابیں ایک ہی سال میں شائع ہوئیں جو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور مزید یہ کہ مجھے اس پر لکھنے میں کچھ تاخیر ہوئی۔
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
شعری مجموعے کے خالق اپنے مضمون پیش لفظ میں نظمیہ شاعری کو اظہار کا سب سے خوبصورت ذریعہ کہتے ہیں۔ انھوں نے بہت سلیس انداز میں نظم کی تعریف و تشریح کی ہے۔ جو قارئین شاعری اور اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں صرف پڑھنے کی حد تک محظوظ ہوتے ہیں تو ان کی معلومات میں یہ تحریر اضافے کا باعث ہوگی۔ماں جیسے رشتے کو اولاد کبھی نہیں بھول سکتی ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ یہ رشتہ بڑا انمول اور محبت کی چاشنی سے آراستہ اور گھلا ملا ہے۔
قربانی و ایثار کا نام ’’ماں‘‘ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے گزار دیتی ہے اپنی ہر خوشی دان کر دیتی ہے کہ اولاد اس کا دل و جگر ہے۔ شاعر نے اپنی ماں کی جدائی میں ایک خوبصورت نظم ’’ماں‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی ہے۔ فہرست کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، رشتوں میں بھی ماں کا ہی پہلا نمبر ہے۔
میری پیاری امی!
بظاہر آپ ہماری زندگی سے دور چلی گئیں مگر ہمارے دلوں سے آپ کو کوئی دور نہیں کر سکتا، کبھی بھی نہیں۔ آپ وہاں نہیں ہیں جہاں آپ رہتی تھیں، لیکن آپ ہر اس جگہ ہیں جہاں ہم ہیں۔ انور ظہیر رہبر ہیں تو پاکستانی ہی لیکن عرصہ دراز سے اپنی فیملی کے ساتھ برلن، جرمنی میں مقیم ہیں۔ کتاب میں 106 نظمیں شاعر کے جذبات و احساسات کی عکاس ہیں جو دیکھا محسوس کیا وہی شاعری کا حصہ بنا، وہ انھوں نے من و عن بیان کر دیا ہے اسی وجہ سے ہر شعر دل پر اثر کرتا ہے۔ انور ظہیر رہبر کی شاعری محض لفاظی نہیں بلکہ انھوں نے زمانے کے دکھوں، مسائل اور تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ خوبصورت اور بامعنی نظمیں تخلیق کی ہیں۔
ان کی شاعری میں جہاں موسم بہار کے رنگ مہکتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں زندگی کی بے ثباتی، آس و نراس کی کہانیاں بھی سانس لیتی ہیں اور سچے جذبے لفظوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شاعر کے کلام میں پوری اور بھرپور زندگی اپنی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ پیر پسار کر بیٹھی نظر آتی ہے کبھی ماتم کرتی، اپنی ناکام تمناؤں کا نوحہ سناتی ہے۔ ان کی ایک نظم ’’لوٹ آؤ‘‘ اگر ہم اس نظم کا مطالعہ کریں تو خوف کی دبیز چادر نے تخلیق کار کے جسم و جاں اور دل ناتواں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ’’لوٹ آؤ‘‘ مایوسی کا استعارہ ہے، امید کے ٹوٹتے ہوئے تارے شاعر کو ناکامی اور اداسی کی اتھاہ وادیوں میں دھکیل رہے ہیں اس نظم سے چند اشعار۔
لوٹ آؤ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔۔۔۔ وقت کی کالی گھٹائیں
ان راستوں کو۔۔۔۔۔ جن پر ہم اکثر ملا کرتے تھے
اندھیروں میں گم کر دیں۔۔۔۔۔ دنیا تو ظالم ہے لوگو۔۔۔۔ درد
کے اس موسم میں۔۔۔۔ جگنو کی مدھم روشنی بھی۔۔۔۔۔
ہمیں ایک دوسرے سے چھین لے جائیں گے
اور ہم اجنبی ہو جائیں گے لوٹ آؤ
اسی قبیل کی ایک اور نظم ’’چوکھٹ‘‘ اس نظم میں بھی بے اعتباری اور ناکامی کی مرجھائی ہوئی کلیاں اپنی بے ثباتی کا نوحہ بیان کر رہی ہیں۔ شاعر نے ٹوٹے دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار بے حد اچھوتے انداز میں کیا ہے۔
نظم ’’فاصلے‘‘ میں شاعر نے اپنی روٹھی ہوئی محبت کو منانے کے لیے الفاظ کے پیچ و خم سے محبت کا پیغام اس طرح دیا ہے۔
سنو اے جاناں! دل کی محبت میں فاصلے زیادہ ہیں
پاس اتنے رہ کر بھی دور بہت رہتی ہو
قربتوں کے معنی کو بھول بھول جاتی ہو
اتنا کیوں ستاتی ہو، مجھ کو کیوں رلاتی ہو
سنو اے جاناں!192 صفحات پر بکھری ہوئی شاعری مختلف موضوعات اور حقائق کی روشنی سے مزین ہے۔ انور ظہیر رہبر کی تخلیق کردہ ہر نظم باطنی وخارجی حالات کی روداد دل نشیں انداز میں بیان کرتی ہے۔ نظم ’’موبائل فون‘‘ آج جو گھر گھر کے حالات ہیں اس کی منظر کشی اس طرح کی ہے کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی گھر کے مکیں اپنے اپنے موبائل میں گم ہو کر دور بہت دور ہو جاتے ہیں۔
نظم ’’گلاب‘‘ نے بھی ایک مرثیہ کی صورت اختیار کر لی ہے، اس جیسی بے شمار نظمیں قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں اور وہ شاعر کے دکھوں کو محسوس کرکے اداس ہو جاتا ہے اور یہی ایک کامیاب تخلیق کار کا کمال ہے۔ مبارکاں!
Source link
Today News
کراچی کا نوحہ
وطن عزیز پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا، لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن مستحکم نہ ہوسکا،جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ اس کو اولین قیادت جیسی بے لوث ایماندار قیادت آج تک نصیب نہ ہوسکی ۔
خدا کی حکمت کہ ان عظیم الشان اکابرین کو بے مروت موت نے زیادہ مہلت نہ دی اور پھرلوٹ کھسوٹ کرنیوالے ٹولے، اس پر قابض ہوتے رہے اور یوں بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے یہ بتدریج تنزلی کی شاہراہ پر رواں دواں ہے۔قدرت نے اس سے انگنت وسائل سے مالامال کیا ہے پر وہ سارے وسائل قبل اس کے عوام الناس کی فلاح کے لیے استعمال ہوں ،وہ اس سے اپنی ہوس کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے رہے اور کر رہے ہیںجب کہ عوام ان کی تنخواہوں و دیگر مراعات کے لیے چندہ جمع کرکے خصوصا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں تاکہ ان کی نہ ختم ہونے والی ضروریات زندگی کو پورا کیا جاسکے۔
وطن عزیز کے دیگر شہروں کی ترقی خوبصورتی دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے، وہاں روشنیوں کے شہرکراچی کی تباہی وبربادی، لاچاری محتاجی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بدنصیب شہر کراچی وہ ’’مظلوم ماں‘‘ ہے جو دیگر تمام شہروں ودیہاتوں سے آنیوالے افراد کو نہ صرف گلے لگاتی ہے بلکہ وہ جب تلاش معاش کے لیے یہاں آتے ہیں تو ایک ماں کی بے لوث مامتا ان کے لیے امڈ امڈ کر آرہی ہوتی ہے اور وہ انھیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔
یہ دیگر تمام شہروں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے آمدنی پیدا کرتی جس سے ملکی نظام کی چکی چلتی ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کے حقوق کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ دور حاضر میں کراچی انگنت مسائل سے دوچار ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس کی بیشتر سڑکیں تباہ کردی گئیں، ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کر کے جس سے عوام کا بھلا تو دور برا ہی برا ہوتا چلا جا رہا ہے، منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں بدل گیا ہے اور اب بھی اس نہ ختم ہونے والے منصوبوں کے اختتام کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ رہتی دنیا میں ہی مکمل ہونگے یا قیامت کے صور کے ساتھ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
پانی ،بجلی،گیس کا شدید بحران اوپر سے ستم یہ کہ بل عدم دستیابی کے باوجود اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوش رباء اضافے کیساتھ عوام کے منہ پر دے مارے جاتے ہیں۔سڑکوںکی مرمت کے دوران پانی کی لائنوں پر ضرب لگنے سے کئی کئی دن تک پانی کا رسائو سڑکوں پر اور گھروں میں عدم دستیابی۔گیس کی بندش وہ بھی اس عظیم ملک میں جہاں گیس دستیاب ہوئی ۔حیرت انگیز بات نہیں، عوام قیمت سے گیس اونچے اونچے نرخ پر خریدتے ہیں اور بل بھی ادا کرتے ہیں یہ کیسا انصاف ہے؟ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام الناس نے مہنگے مہنگے سولر پینل لگوالیے ہیںاپنی سہولت کے پیش نظر۔
اگر برسراقتدار حکومت عوام کو وہ بنیادی سہولتیں مہیا نہ کرسکے جس کی وہ ذمے دار ہے تو کیا وہ اقتدار میں رہنے کی اہل ہے؟لیکن اس بات کا احساس ان اشرافیہ کو کہاںہوسکتا ہے ان کی فکر میں تو یہ بات ہی نہیں کہ ایک دن اس فانی زندگی نے ختم ہوجانا ہے۔ عوام بے حس ہوچکے ، بلکہ مردہ ہوچکے ہیں، ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرکے اس جبر کی چکی میں پس پس کر کہ اب وہ اپنے حق کی آواز اٹھانا تک بھول گئے توکیا رب نہیں دیکھ رہا، فرشتے نامہ اعمال لکھ نہیں رہے، سب کچھ ہورہا ہے جیسا اللہ رب العزت کی منشاء ہے صرف رسی دراز چھوڑی ہوئی ہے جس دن اس سے وہ تنگ کرے گا سب کو سب کی گئی حق تلفیاں یاد آجائیں گی۔
آئے دن نت نئے ٹیکسز ان پرلاگو کیے جاتے ہیں جب کہ آمدنی چار آنے اور خرچہ روپیہ والا حساب ہے۔یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی انسانی پہنچ سے بہت دور ہوگئی ہیں۔دور حاضر میںدی جانیوالی تعلیم و تربیت تو بہت دورکی بات اس لائق نہیں کہ گزرے معاشرے جیسے اسلاف تیار ہوسکیںجس میں والدین اور اساتذہ برابر کے قصور وار ہیںچونکہ دونوں ہی نے اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ نبھانا چھوڑ دیا جو کہ ماضی کے بے لوث والدین اور اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں،ہر کوئی نفسا نفسی کی دوڑمیں لگا ہوا ہے جس کے زیر اثر وہ اپنی عطا پر خوش نہیں بلکہ دوسرے کی عطا پر شاکی نظر آتا ہے اور یوں وہ اپنی خوشیاں بیچ کر اپنے لیے دکھ درد جمع کررہا ہے ۔
عوام بے حسی کی مورت بن گئے ہیں تو اللہ ماشاء اللہ ان پر حکمران بھی ویسے ہی مسلط کردیے گئے ہیں جو اتنے احساس سے عاری ہیں کہ گزر گاہوں کی ایک ساتھ بندش کردیتے ہیں جو کہ کسی ناگہانی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور یوں یہ کراچی شہر کی ’’گڈ گورننس‘‘کی بھرپور عکاسی کرتی جا بجا نظر آتی ہیں جب کہ ان ترقیاتی کاموں کی نسبت مہنگائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک سفید پوش بھی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نہ کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے یا خودکشی کر کے اس جہاں فانی سے کوچ کر جائے، پر ان باتوں پر نظرتو صرف وہ حکمران پالیسی ساز ڈال سکتے ہیں جنھیں خوف خدا ہو اور وہ عوامی مشکلات تکلیفوںکو آسانی میں بدلنے کا جذبہ رکھتے ہوں،اپنی عاقبت کے لیے پر افسوس صد افسوس موجودہ حالات کو دیکھ کریہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ ان کو وطن عزیز کے شہریوں سے ان کے دکھ درد مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔
حالیہ پیڑولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ جس کا اثر صرف ذرائع آمدورفت کی سہولتوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔شہر کراچی کی کئی معروف شاہراہیںٹریفک جام کا ایسا کرب ناک منظرنامہ پیش کرتی نظر آتی ہیں جب کہ انڈر پاس ،بائی پاس و دیگر جدیدیت کے نام پر نت نئے ڈیزائین سڑکوں پر بنائے گئے جن کی قلعی بارش کے چند قطروں سے کھل جاتی ہے پھر دوبارہ ان کی مرمت کے نام پر لاکھوں کروڑوں کی خرد برد کر کے اپنی خندق بھرے جاتے ہیں پھر بھی لالچ اور ہوس کی نہ ختم ہونے والی بھوک مٹتی ہی نہیں چونکہ حرام ان کے منہ کوجو لگ گیا ہے اور اس ٹریفک جام میں پھنسے مظلوم عوام کا وقت تکان اور سب سے بڑھ کر اس ایندھن کا کیا جس کی قیمت مڈل کلاس کو اپنی جیب سے دینی پڑتی ہے۔
ظاہر ہے والدین بڑی مشکلات اٹھا کر اپنی اولادکو پروان چڑھاتے ہیں، وہ کہاں اس بات کو تصور میں لاسکتے ہیں کہ ہم اپنے آرام اور خوشی کے لیے اپنے بچوں کے خوبصورت مستقبل میں رکاوٹ بنیںاوروہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر انھیںاپنے سے دور کردیتے ہیں۔ سعادت مند اولاد بھی چکی کے دوپاٹوں میں پس کر نہ یہاں کے ہو پاتے ہیں نہ وہاں کے۔ لیکن مشرقی ممالک خصوصا پاکستان میں رہنے والے والدین کی اکثریت آخری عمر میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت و عقیدت کے باعث اس کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یوں محبت کرنے والی اولاد اور والدین مختلف نفسیاتی دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔
Source link
Today News
ایران امریکا مذاکرات میں پیشرف ہوئی ہے لیکن کئی اہم نکات پر اختلافات ہیں، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔
ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی