Connect with us

Today News

بائیں بازو کی بے حال قیادت اور کارکن…گل محمد منگی

Published

on



ایک دور تھا کہ ملک میں بائیں بازو کی صرف تین چار پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، مزدور کسان پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور لیبر پارٹی ہوا کرتی تھیں۔ تب بھی بائیں بازو کے کارکنوں کو حیرت ہوتی تھی اور وہ برملا اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ جب نظریہ ایک ہے تو پھر تین،چار لیفٹ کی جماعتوں کی کیوں کر ضرورت پیش آ رہی ہے؟ تب بھی لیفٹ کے لیڈر اپنے اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف تاویلیں پیش کرتے تھے جس طرح آج کر رہے ہیں۔

ان لیڈروں کی انا اور ضدپرستی نے آج لیفٹ کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے ان کی واپسی اور یکجا ہونے کی خواہش محض مذاق کے علاوہ کچھ نہیں۔ تمام لیڈر اپنی لیڈری پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا رعب، دبدبہ اور کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ان کو تو بس اس بات سے غرض ہے کہ جب اسٹیج پر آئیں تو ان کے لیے ’’زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگائے جائیں۔ میں نے بڑی محنت سے لیفٹ کی کچھ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں جو کہ اس وقت میدان عمل سے گو کہ کوسوں دور سہی مگر کبھی کبھار سوشل میڈیا، اخبارات اور ان کے کارکنوں کی زبانی ان کی سرگرمیاں سننے یا دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ان کے زیادہ بیان رسمی ہوتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل پر نہیں ہوتے ہیں۔ لیفٹ کی ایسی معروف اور غیرمعروف یا برائے نام پارٹیوں، گروہوں، تنظیموں اور ٹولیوں میں سے کچھ کے نام نامی یہ ہیں۔ جس میں کچھ قوم پرستانہ رجحان کی بھی حامل ہیں۔

 (1) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (انجینئر جمیل احمد ملک) (2) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (امداد قاضی) (3) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (مائوئسٹ) (4) انقلابی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (5) عوامی ورکرز پارٹی (بخشل تھلو) (6) ریڈ ورکرز فرنٹ (7) پاکستان انقلابی پارٹی (مشتاق چوہدری) (8) پاکستان انقلابی پارٹی (صابر علی حیدر) (9) پاکستان لیبر کونسل (10) پورھیت مزاحمت تحریک (11) مزدور کسان پارٹی (ڈاکٹر تیمور) (12) سوشلسٹ پارٹی (13) سوشلسٹ ریزسٹنٹ مومینٹ(14) عوامی تحریک (15) قومی عوامی تحریک (16) لیبر قومی موومنٹ (17) نیشنل پارٹی بلوچستان، ڈاکٹر مالک (18) پاکستان مزدور اتحاد (19) عوامی راج تحریک (20) انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈنسی (21) پاکستان سرائیکی پارٹی (22) قومی محاذ آزادی (23) حقوق خلق پارٹی (24) برابری پارٹی (25) عوامی نیشنل پارٹی (26) ورکرز سولیڈرٹی فیڈریشن (27) پاکستان مزدور محاذ (28) سوشلسٹ ستھ(29) سندھ یونائیٹڈ پارٹی (30) پختونخوا ملی عوامی پارٹی (31) ھلال پاکستان ترقی پسند فورم (32) عوامی حقوق (33) کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی (34) تحریک مظلومین پاکستان (35) انقلابی سوشلسٹ موومنٹ (36) پاکستان ایکوئلٹی پارٹی (37) وطن دوست انقلابی پارٹی (38) سندھ ساگر پارٹی (39) طبقاتی جدوجہد (40) نیشنل ڈیموکریٹک موومینٹ (41) نیشنل پارٹی، ڈاکٹر حئی گروپ (42) عوامی جمہوری پارٹی (43) جیئے سندھ محاذ (خالق جونیجو) (44) جیئے سندھ محاذ (آریسر) (45) سندھ ترقی پسند پارٹی (46) پاکستان سوشلسٹ فورم (47) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (48) تحریک مظلومین پاکستان (49) سماج بدلو تحریک (50) دادا امیر حیدر جدوجہد کمیٹی (51) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (52) سندھ نیشنل فرنٹ (53) کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (اسلم بنگلزئی) (54) مزدور کسان پارٹی (افضل خاموش) (55) بی این پی (عوامی) (56) بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) (57) یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی (58) پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) (59) عوامی جمہوری اتحاد پارٹی (سربراہ رانا مقصود، لاہور) (60) جمہوری اتحاد پارٹی (61) مزدور کسان پارٹی (بنگش گروپ) (62) ترقی پسند لکھاری محاذ (پنجاب) (63) پنجاب لوک امن (64) رکھ بچائو لوک لہر (65) طبقاتی کمیونسٹ پارٹی (66) غریب اتحاد انجمن شمسیہ (67) وارث شاہ وچار پرچار پرہیا(68) ادبی واشنا، مریدکے (69) پاکستان پیس فائونڈیشن پنجاب (70) عوامی اتحاد پارٹی (غفار رندھاوا) (71) جاگو پاکستان تحریک (قیوم نظامی) (72) عوامی ورکرز پارٹی (اختر حسین) (73) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور دیگر۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیفٹ کی اتنی ساری پارٹیاں بنانے کا آخر کوئی تو ذمے دار ہوگا؟ اس کے پیچھے کچھ تو مقاصد ہوں گے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے؟ میں نے جو تعداد اوپر بیان کی ہے، یہ ابھی میرے خیال میں ادھوری ہے۔ بہت ساری ایسی اور بھی لیفٹ کی پارٹیاں ہیں جو اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئی ہوں گی اور ان سے معذرت کرتا ہوں، اگر ان تمام کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک سو یا اس بھی تجاوز کر جائے گی۔

اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ’’بائیں بازو والے کم از کم فرقوں کے حوالے سے دوسروں کو مات دے چکے ہیں‘‘ بہرحال اصل معاملہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں جو کہ پسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق دلانے کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے ہاں اتنے سارے فرقے کس طرح پیدا ہوگئے؟ جب کہ بعض کے منشور تک ایک جیسے ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ مگر بہت ساری جماعتوں یا تنظیموں کا تو نظریہ بھی ایک ہی ہے! مگر اس کے باوجود ان کے اختلافات جو کہ فروعی یا مفادپرستانہ ہیں۔

ان کو بھی پیسہ بٹورنے کی لت لگ چکی ہے اور یہ بات کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی تھوڑی بہت یا زیادہ فنڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک ’’لیڈری‘‘کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور جو کوئی ان کی قیادت کو چیلنج کرتا ہے اسے باہر نکال کر دم لیتے ہیں۔ اب تو کچھ نے چین، ویتنام، نیپال اور کچھ اور ممالک میں اپنے کاروبار بھی سیٹ کرلیے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ سے حکومتوں کے اندر بھی پنجے گاڑ چکے ہیں۔ جس طرح بتایا جاتا ہے کہ جب شملہ معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو رہی تھی تو بائیں بازو کے ایک لیڈر نے ذوالفقار علی بھٹو کی مدد کی اور اندرا گاندھی کو منوالیا۔

یہ بات خود لیفٹ کے ایک سے زیادہ لیڈر فخریہ بیان کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس صلاحیت سے عاری ہیں کہ وہ سب کو کم از کم ایک میز پر ہی بٹھالیں۔ اس حوالے سے عابد منٹو نے ایک اچھی کوشش کی اور لیفٹ کے مختلف دھڑوں کو جوڑ کر ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ بنائی جو اب ’’دولخت‘‘ہوچکی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لیفٹ کا جو لیڈر کرسی پر بیٹھتا ہے اسے چپک ہی جاتا ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے باوجود جتنے بھی ممالک آزاد ہوئے وہاں پر بھی یہی حالت ہے۔ ان کو جمہوریت اور آمریت میں تفریق کرنا آتی ہی نہیں یا پھر اس صلاحیت سے محروم ہیں یا نظریاتی ممانعت ہے؟ کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا؟ 
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لاہور: سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان

Published

on



لاہور میں سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مہنگائی اور دکانداروں کی منافع خوری پر قابو نہ پایا جا سکا جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

 سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ پیاز کی سرکاری قیمت 50 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ 80 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر 75 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

دیگر سبزیوں میں آلو 20 روپے کے بجائے 35 روپے، بھنڈی 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ دیسی ٹینڈے 160 روپے کی بجائے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں دیسی لہسن 135 کے بجائے 200 روپے جبکہ چائنیز لہسن 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کیلا 215 روپے کے بجائے 350 سے 400 روپے، سیب کالا کولوں پہاڑی 215 کے بجائے 350 روپے جبکہ انگور ٹافی 380 کے بجائے 700 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ سفید انگور بھی 500 روپے سے زائد میں دستیاب ہیں۔

گوشت کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چھوٹے بکرے کا گوشت 1800 روپے کے بجائے 2700 سے 3000 روپے فی کلو، گائے کا گوشت 800 کے بجائے 1200 روپے جبکہ برائلر مرغی کا گوشت 540 کے بجائے 570 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

شہریوں محمد جاوید اور رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان تھے، اب گراں فروشی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گراں فروشی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں مقدمات کا اندراج اور جرمانے بھی شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز پر سیکیورٹی ٹیکس دینے والوں کو ترجیحاً پہلے گزرنے دیں گے؛ ایران

Published

on


آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک دن بعد ہی ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہ کرنے کے ردعمل میں دوبارہ بند کردی اور اب ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کے بقول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اب نئی شرائط کے تحت ترجیح دی جائے گی جس کے تحت سیکیورٹی اور سیفٹی اخراجات ادا کرنے والے جہازوں کو پہلے گزرنے کی اجازت ملے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو جہاز نئے پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور سیکیورٹی اخراجات (ٹیکس) ادا کریں گے انھیں ترجیح دی جائے گی اور جو ادائیگی نہیں کریں گے ان کے گزرنے کو مؤخر کر دیا جائے گا۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ آج سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام امریکا کے ناکہ بندی کو ختم نہ کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ردعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آج پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور سخت چیکنگ بھی کی جب کہ بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے گئے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ سے بند کردی گئی ہے۔

اسی دوران پاسداران انقلاب کی گشت پر مامور گن بوٹس کا آمنا سامنا کچھ ایسے جہازوں سے ہوا جنھوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ کم از کم 4 جہازوں کو ہوائی فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

ان میں سے دو تیل بردار جہازوں پر بھارتی پرچم لہرا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز پر روکنے پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات

Published

on



 نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کیساتھ جاری حساس مذاکرات میں اس کے تمام جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دے دی ہے، جب کہ امریکی صدر اب تک ایسی ٹھوس یقین دہانی کے خواہاں ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد روانگی سے قبل کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلاف اسی نکتے پر برقرار ہے کہ ایران کو کیسے روکا جائے کہ وہ نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ طویل مدت تک جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر جوہری افزودگی کی مستقل پابندی کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایران اپنی تمام جوہری سرگرمیاں 20 برس کے لیے روک دے تاکہ ایران کے لیے یہ موقف اختیار کرنا ممکن ہو جائے کہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقِ افزودگی سے ہمیشہ کے لیے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ذرائع کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر یہ تجویز سامنے رکھی ہے کہ بیس سال کے بجائے پانچ سال تک اپنی جوہری سرگرمی معطل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق تہران نے اسی نوعیت کی تجویز اس سے قبل فروری میں جنیوا میں ہونے والے ناکام مذاکرات میں بھی دی تھی اور انھی مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکرات میں کئی دیگر اہم امور بھی زیر بحث رہے کہ جن میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کی بحالی اور حماس و حزب اللہ جیسے گروہوں کی ایرانی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سب سے بڑا تنازع بدستور یہی ہے کہ ایران نہ تو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، نہ ہی اپنی وسیع ایٹمی تنصیبات ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرنے پر کسی بھی طور آمادہ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت اصل اختلاف جوہری پروگرام کے اصولی خاتمے پر نہیں بلکہ اس کی معطلی کی مدت پر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دونوں فریق آیندہ چند روز میں ایک اور بالمشافہ ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ مختلف بیانات میں ماضی میں اوباما دور کے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس معاہدے میں شامل بعض شقیں وقتی تھیں، جو بتدریج ختم ہو جاتیں اور جن کے مان لینے سے ایران کو مزید افزودگی کی اجازت مل جاتی اور 2030 تک بیشتر پابندیاں ختم ہو جاتیں، اگرچہ عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کے تحت ایران پر بم بنانے کی پابندی برقرار رہتی، لیکن ٹرمپ کے نزدیک یہ انتظام ناکافی تھا۔

امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ ایسے اقدامات سے بھری پڑی ہے جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو سست کرنا یا اس کی رفتار کم کرنا رہا ہے۔ کبھی یہ کام سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا، کبھی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے، اور کبھی سفارتی کوششوں سے۔ اس تمام دباؤ کے باوجود ایران کو ایٹم بم تک پہنچنے میں ان ممالک سے بھی زیادہ وقت لگا ہے جنھوں نے سنجیدگی سے جوہری ہتھیار حاصل کیے، جن میں شمالی کوریا، بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کی شام کہا کہ پاکستان میں ایران کیساتھ’’اچھی بات چیت‘‘ہوئی، تاہم اب فیصلہ تہران کو کرنا ہے۔ ان کے بقول ایران نے کچھ لچک ضرور دکھائی، مگر’’ابھی مطلوبہ حد تک پیش رفت نہیں کی۔‘‘ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم نے ایران کے سامنے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جاری بحری ناکہ بندی نے ایران پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے تہران کی معاہدے کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔

مذاکرات میں ایک اور اہم مسئلہ ایران کے پاس مبینہ طور پر موجود 970 پاؤنڈ ایسے یورینیم کی موجودگی ہے جو نیوکلئیر ہتھیار سازی بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ امریکی مطالبہ ہے کہ یہ مواد ایران سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ اسے کسی ممکنہ جوہری ہتھیار پروگرام میں استعمال نہ کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی زیر غور ہے کہ صدر ٹرمپ اصفہان میں زیر زمین محفوظ اس ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے زمینی کارروائی کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

جب کہ ایران نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم ملک کے اندر ہی رہے گا، البتہ وہ اسے اتنا کم افزودہ کرنے پر تیار ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار سازی کے قابل نہ رہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ قدم اگرچہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے وقت میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران بعد میں اسی مواد کو دوبارہ افزودہ کر کے موجودہ سطح یعنی تقریباً 60 فیصد تک لا سکتا ہے، جب کہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار سطح 90 فیصد سمجھی جاتی ہے۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایک اور اہم پہلو ایران کے منجمد مالی وسائل کی بحالی کا بھی ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ مغربی ممالک اس کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے فنڈز بحال کریں، جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے اور ٹرمپ کے پہلے دور کی پابندیوں کے باعث قطر کے بینکوں میں منجمد پڑے ہیں۔صدر ٹرمپ برسوں سے یہ الزام دہراتے رہے ہیں کہ سابق امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایران کو’’جہازوں سے بھری ہوئی‘‘نقد رقم فراہم کی تھی۔

ان کا اشارہ ان 1.4 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی کی طرف تھا جو طویل عرصے سے منجمد تھے، جب کہ اس کیساتھ تقریباً 300 ملین ڈالر سود بھی شامل تھا۔سفارتی مبصرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے، تاہم موجودہ پیش رفت سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان مکمل تعطل کے بجائے محدود مگر قابل ذکر سفارتی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
 



Source link

Continue Reading

Trending