Today News
مصلحت کے بازار میں …فاطمہ پیرزادہ
کہا جاتا ہے کہ 12 سے 25 سال تک کی عمر محض خواب دیکھنے کی نہیں، بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سب سے خوبصورت دہلیز ہوتی ہے۔ یہ وہ عہدِ شباب ہے جہاں انسان کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک اور حوصلوں میں شاہین جیسی اڑان ہونی چاہیے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ یہی وہ سنہرا دور ہے جب ہم اپنی سوچ کے افق پر نئے رنگ بکھیریں اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود اپنے قلم سے لکھیں۔آج میں زندگی کی اسی خوبصورت دہلیز پر کھڑی، خود سے اور اس بے حس نظام سے ایک معصومانہ مگر تلخ سوال کرتی ہوں کہ میں اپنے خوابوں کو آخر کس رنگ سے سجاؤں؟ کیا ان خوابوں کو وہ ’’عدل‘‘ مل پائے گا جس کے بغیر ہر حقیقت محض ایک سراب ہے۔
میں اپنے خوابوں کا نشان کہاں ڈھونڈوں؟ ان بوسیدہ دیواروں پر جہاں عدل کی شمع مدہم پڑ چکی ہے، یا اس ریاست کے افق پر جہاں سچ کی صدا بلند کرنے پر مصلحتوں کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ خواب ہی حقیقت کا روپ دھارتے ہیں، مگر یہاں تو تلخ حقیقتوں کے ہاتھوں خوابوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب وجود سے روح نکل جائے تو وہ محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے جسے مٹی کے سپرد کر دینا ہی قدرت کا آخری قرینہ ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ان ایوانوں سے انصاف کی روح رخصت ہو رہی ہو، تو ان بلند و بالا عمارتوں کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی، پھر ان اونچے عہدوں اور کرسیوں کا ٹھکانہ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔
ان سنگِ مرمر کے ایوانوں کی چمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب وہاں سچائی کا خون ارزاں ہو جائے، کیونکہ مٹی اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتی ہے، مگر مصلحت پسندوں کو تاریخ کے فراموش کردہ ابواب میں دھکیل دیتی،کیونکہ مٹی کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخ کبھی کسی کا قرض نہیں رکھتی۔ میرا قلم ابھی اس مٹی کے نوحے ہی رقم کر رہا تھا کہ سماعتوں میں ایک ایسا شور گونجنے لگا ہے جس نے عالمی ضمیر پر تنی مصلحتوں کی ردائے سیمیں تار تار کر دی ہے۔
میرا ضمیر اب قلم کو مصلحت کی پناہ گاہوں میں رکنے نہیں دیتا، بلکہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں ان جغرافیائی سرحدوں کی قید سے نکل کر ان ایوانوں کا رخ کروں، جہاں عدل کے قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں اور انصاف کے علم بھی بلند کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت کی مقتل گاہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔ یہ کیسا عالمی تضاد ہے کہ ایک طرف تو حقوقِ انسانی کے معتبر چارٹر تالیف کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف معصوموں کی سسکیوں پر’’ مصلحت وقت‘‘ کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں؟ جہاں ضمیر کی پکار کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، وہاں انصاف محض ایک بے جان استعارہ رہ جاتا ہے، جس کی روح ظلم کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ میں ان بلند و بالا منصبوں سے پوچھتی ہوں کہ جب انسانیت کی قبا تار تار ہو رہی ہو، تو تمہارے یہ ’’من کے تمغے‘‘اور ’’وقار کے دعوے‘‘ کس المیے کی نقاب پوشی کر رہے ہیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ انسانیت کی قیمت ان مصنوعی تمغوں کی چمک سے ہرگز طے نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ جب تاریخ اپنا حساب مانگے گی، تو یہ چمکتے ہوئے اعزازات ان دامنوں پر لگے لہو کے گہرے دھبوں کو کبھی نہیں چھپا پائیں گے۔میں ان عالمی منصفوں کے سامنے ان کا اپنا ہی منشور رکھتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ فلسطین کے وہ معصوم بچے تمہاری ’’انسانی برابری‘‘ کی کسی بھی تعریف سے خارج نہیں کیے جا سکتے؛ ان کا خاک میں اٹا ہوا بچپن تمہارے ان سنہرے الفاظ کی افادیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ خاموش فریاد ہے جسے تمہارے تمام تر عالمی منشور بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کی وادیوں سے اٹھنے والی سسکیاں اتنی نحیف نہیں ہیں کہ تمہارے عدل کے ترازو میں سما نہ سکیں، بلکہ تمہارا نظام ہی ان کی آواز کی بازگشت سننے سے قاصر ہے۔
جب تمہارا قانون ہر فرد کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تو دنیا بھر میں بہتا ہوا بے گناہوں کا لہو دراصل تمہارے اس عالمی تحفظ کا تمسخر اڑا رہا ہے۔ میرا یہ اضطراب کسی بغاوت کا اعلان نہیں، بلکہ اس ’’انصاف‘‘ کی پکار ہے جس کا وعدہ تم نے خود انسانیت سے کیا تھا۔ میں اس عدل کی متلاشی ہوں جس کی فراہمی ہر ریاست کا فرض ہے، مگر افسوس! اگر یہ سنہرے اصول صرف طاقتور کی مصلحتوں کے اسیر ہیں، تو ایک عام انسان ان ضابطوں میں اپنا عکس کہاں تلاش کرے؟ یاد رکھیے! جو عدل سرحدوں اور رنگوں کی تمیز کرنے لگے، وہ ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ تشنہ ہی رہتا ہے۔اگر آج تمہارے ایوانوں کی خاموشی نہیں ٹوٹتی، تو تاریخ تمہیں ’’منصف‘‘ نہیں بلکہ ’’سہولت کار‘‘ لکھے گی۔
اور آنیوالے کل میں جب انسانیت ان تہذیبی کھنڈرات سے اپنا گم گشتہ وجود تلاش کرے گی، تو تمہارے پاس کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ میں آج تمہارے ضمیر کی دہلیز پر یہ سوال چھوڑتی ہوں، کیا انصاف صرف طاقتور کا ہتھیار ہے، یا حق اور سچ والوں کی آخری پناہ گاہ بھی؟ یاد رکھیے! اگر آج ہم نے اپنا یہ جمود نہیں توڑا، تو سمجھ لیجیے ہم سب نے انصاف کیساتھ ساتھ انسانیت اور اپنے وجود کے زوال پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔
میرے شعور نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو محسوس کیا، ان تمام حقائق اور اس تڑپ کو ایک مختصر آرٹیکل کی ’’تنگ دامنی‘‘ میں قید کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے اپنا قلم اس مٹی کے قرض اور ضمیر کی پکار کے سپرد کر دیا ہے اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔میں نے اپنا فرض ادا کرنے کی شروعات کر دی ہے، اب انتظار ہے ان منصفوں اور تاریخ دانوں کا جن کے قلم میں سچائی کی تپش سہنے کی جرات باقی ہے۔’’ نو ائے خاکِ وفائے سَرِ مقتل کی صورت میں حق کا یہ چہرہ اب وقت کی امانت ہے، جو بہت جلد اپنی تمام تر داستان کیساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔
Source link
Today News
آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے، صوبائی وزیر کھیل
صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکرنے کہا ہے آج پاکستان کی سب سے بڑی میراتھن ہونے جا رہی ہے ۔
صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکر نے وزیر اعلیٰ پنجاب میراتھن ریس کے حوالے سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ لوگ صبح سے یہاں پہنچ چکے ہیں، پنجابیوں کو صبح سویرے اٹھانا مشکل ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے سب لاہوریوں کو اٹھا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا وثزن تھا کی نوجوانوں کو کھیلوں میں زیادہ حصہ لینا ہو گا اور وہ پورا ہو رہا ہے اور ہمارا گول ہے کہ اگلے نومبر تک ہم ایک لاکھ لوگوں کی رجسٹریشن کریں اور ان کو اکٹھا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب بڑے انعامات آج ملے گے انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ ریس میں شامل ہونگا ، پوزیشن تو نہیں لے سکتا لیکن ریس میں حصہ لینے کے لیے پرجوش ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جیسی دبئی میں میراتھن ہوتی ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اس کا مقابلہ کروں، ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے شہریوں نے حصہ لیا۔
Source link
Today News
کپتان محمد رضوان نے مسلسل 7 میچز میں راولپنڈیز کی ناکامی کی اصل وجہ بتا دی
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے مسلسل سات میچز میں ناکامی اور ٹیم کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی۔
لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی، جس کا اثر براہ راست ٹیم کے نتائج پر پڑا۔
انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میری طرف سے کوئی کمی رہی ہوگی، اسی لیے ایسا نتیجہ سامنے آیا۔ میں نوجوان کھلاڑی کے ساتھ اوپن کر رہا تھا، پوزیشن کے حوالے سے میری اپنی خواہش ضرور ہو تی ہے لیکن ٹیم کا فیصلہ ہمیشہ متفقہ ہوتا ہے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم مسلسل ہار رہی ہو تو مثبت پہلو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم کچھ چیزیں حوصلہ افزا بھی رہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ٹیم کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔
راولپنڈیز کے کپتان نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کو صرف نتائج سے نہیں جانچنا چاہیے، بطور کپتان آپ صرف کوشش کر سکتے ہیں لیکن اگر غلطیاں ہو جائیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
محمد رضوان نے اپنی ذاتی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میری پرفارمنس نہ ہو تو پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہمت ہار جاؤں۔ کرکٹ میرے لیے جنون ہے، مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا، میں محنت کرکے واپس آؤں گا۔
رضوان نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل مرحلہ ہے، انہوں نے کہاکہ میں مانتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے، اب میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور یہ راولپنڈیز کی مسلسل ساتویں شکست ہے، ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
Today News
دنیا کا متوقع جغرافیہ
دنیا بھر کے جوتش 2026کو تبدیلی (آپ یہاں تباہی بھی پڑھ سکتے ہیں) کا سال ضرور قرار دے رہے تھے لیکن کسی کے خواب و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تبدیلی یا تباہی اتنی سرعت اور تیز رفتاری سے رونما ہوں گی۔ دنیا کو یہ بھی نظر آرہا تھا کہ امریکا کا بحیثیت سپر پاور وقت ختم ہوا چاہتا ہے لیکن پھر بھی کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ امریکا کی عسکری قوت اور وہ بھی ایران کے مقابلے میں (ساتھ میں چین، روس اور شمالی کوریا آپ خود شامل کر لیجیے گا) یوں منہ کے بل آگرے گی۔
پاکستان کو تو ہر وقت ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ دنیا میں ہر دور میں سب پرانی بات New World Order ہی رہی ہے اور جو یہ بات کرتا ہے وہ ہی نیا عالمی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آج ایک دفعہ پھر نئی عالمی درجہ بندی کی بات ہورہی ہے اور ہم اس کالم میں آپ کو آگے کی متوقع درجہ بندی کے بارے میں کچھ بتانے کی سعی کریں گے۔ آگے یہ ہوگا کہ دنیا قوت کے تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔ تینوں مراکز یا خطوں کے کیا خدوخال ہوں گے؟ یہی اس کالم کا مرکزی خیال ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں ایک نئی صف بندی ہونے جارہی ہے اور اس صف بندی کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس صف بندی کا سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ پر پڑے گا کہ جہاں بہت سے ممالک کی جغرافیائی ہئیت برقرار نہیں رہے گی اور ان کی بقا اسی میں ہوگی کہ وہ دوسرے ملک میں ضم ہوجائے۔ اسرائیل کو بھی اگر برقرار رہنا ہے تو اسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھوڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کو قبول کرنا ہوگا ،ورنہ دنیا میں جو کچھ ان کے ساتھ ماضی میں ہوا تھا وہ شاید پھر سے شروع ہوجائے۔ ان کی ریاست پر تحفظات کے اظہار کا آغاز ہوگیا ہے۔
قرآن نے تو قیامت تک ان کے ساتھ کیا ہوگا ،وہ بیان کردیا ہے۔ تیل کی دولت تو جب تک تیل ہے مشرق وسطیٰ سے آتی رہے گی لیکن اس دفعہ تیل کی آمدنی کی سرمایہ کاری ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسی میں بھی ہوں گی تاکہ اس نئی درجہ بندی والی دنیا میں سب کو حصہ دیا جاسکے۔ دولت کے حوالے سے تو بات ہوگئی لیکن دولت مند ہوسکتا ہے کیا بلکہ یقیناً اب مشرق وسطیٰ میں اس طرح سے رہائش اور سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور وہ اپنے لیے ایک نئی جنت کی تلاش شروع کردیں گے۔
آپ سمجھ لیجیے کہ ایشیا ایک اکائی کی صورت میں اور قوت کے ساتھ اپنا بھرپور اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوگا اور اس کی قیادت چین کررہا ہوگا، اس کے نائبین میں پاکستان بھی شامل ہوگا، اگر آپ زیادہ حیرت کا اظہار نہ کریں تو یقین کیجیے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی اپنے اس نئے کردار کے لیے تیار ہیں بلکہ شاید آمادگی کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والا وقت بہت اہم اور کلیدی ہے۔
پاکستان دنیا کی درجہ بندی میں ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ہماری اشرافیہ کو ٹینکروں میں پانی کی سپلائی، بجلی کے مہنگے منصوبے اور سڑکوں کی تعمیر میں رشوت کو چھوڑنا ہوگا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کے لیے اپنے عوام کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہے اور ماضی میں برطانیہ نے اور حال میں امریکا نے بھی یہی کیا تھا۔ اتنے لکھے کو بہت جان لیجیے۔ ہندوستان کا کیا حتمی کردار ہوگا؟ یہ کہنا ذرا قبل از وقت ہوگا۔
ہندوستان کی بہتری تو اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیا کی صف میں شامل ہوجائے لیکن مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت ہندوستان کی قیادت حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں ان کے غلط فیصلے کرنے کا احتمال زیادہ ہے، اگر ہندوستان کی قیادت چین کی سربراہی والی کڑوی گولی نگلنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ان کا انجام بھی سویت یونین والا ہوگا جو شاید ہندوستان کے لیے تو اچھا نہ ہوں لیکن خطے کے امن کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ چین نے جتنی سرمایہ کاری اپنے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں کی ہے تو افریقہ کو چین کی قیادت قبول کرنے میں کوئی تامل یا پس و پیش نہیں ہوگا۔
مغرب نے ہمیشہ افریقہ کو صرف غلاموں کی منڈی کے طور پر دیکھا ہے لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ افریقہ اپنے معدنی ذخائر کی بدولت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا اور چین کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ جب کوئی بھی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا تو چین نے سرمایہ کاری کی تھی، لہٰذا جب پھل کھانے کا وقت آئے گا تو چین کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔اب ہم یورپ کی طرف آتے ہیں۔
بدقسمتی سے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ دور میں دوبارہ شکست ہوئی ہے لیکن اس دفعہ محاذ سفارتی تھا۔ امریکا نے اپنے گماشتوں کے ذریعے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد یورپی یونین کو کمزور کرنا تھا لیکن اس کا الٹ ہوا یعنی یورپی یونین مضبوط ہوئی اور برطانیہ کی معیشت کمزور ہوگئی۔ برطانیہ کو احساس ہوگیا ہے کہ اس سے غلطی کرائی گئی ہے۔
برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اپنے ملک کی پہلے والی حیثیت بحال کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اس وقت یورپ کے اہم ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی ہیں اور یہ نہ صرف یورپ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہنگری میں حزب اختلاف کی فتح کو نوشتہ دیوار سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آنے والے دنوں یورپ متحد ہوکر متحدہ یورپ کی صورت میں نمودار ہوگا۔
نیٹو طاق نسیاں ہوجائے گا کہ جس کی جانب صدر ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو دراصل پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس سے مقابلے کے لیے تھا اور روس یوکرین جنگ اسی لیے شروع کروائی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کر کے نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچایا جاسکے لیکن اب ایسا نظر آرہا ہے کہ روس متحدہ یورپ کا ایک کلیدی کردار ہوگا جو اس کے صبر اور حوصلے کا اعتراف اور نئی عالمی درجہ بندی میں اس کا انعام بھی ہوگا۔
اب آخر میں رہ گیا ’’بڈھا شیر‘‘ چین اور روس کی کوشش ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کردیا جائے وہ بالآخر اس میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں امریکا اپنے ہی گھر میں قریب قریب نظر بند کردیا جائے گا۔ ہرچند کے کینیڈا نے بھی اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہت نظر ثانی کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکا اس کا پڑوسی ہے اور زخم کھایا ہوا پڑوسی بھرے ہوئے پیٹ والے پڑوسی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
امریکا جتنا جلدی ان نئے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ جیسے پاکستان نے بنگلہ دیش کے قیام کو تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کے قیام میں ہندوستان کے کردار کو وہ کبھی بھولا نہیں ہے، اسی طرح امریکا پر سویت یونین توڑنے کا قرض ابھی باقی ہے اور اگر مستقبل میں کبھی یہ قرض ادا بھی ہوا تو وہ امریکا کی اپنی غلطی سے ہی ہوگا۔ یہ مستقبل کی دنیا کا ایک عمومی جائزہ ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہی قبل از وقت اور کچھ کو دیوانے کا خواب بھی لگ سکتا ہے۔
ہم دونوں صورتوں میں آپ کی آراء کا احترام کرتے ہیں، لکھ اس لیے دیا کہ کل ہم نہ ہوں تو تحریر ضرور باقی رہے گی کیونکہ جو لوگ اس قسم کی تحاریر لکھتے ہیں وہ اس بات کے لیے بھی تیار رہتے ہیں کہ ’’کل ہوں نہ ہوں۔‘‘
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper