Today News
جڑانوالہ میں گھریلو تنازع پر میاں بیوی نے زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا
جڑانوالہ کے تھانہ بلوچنی کی حدود 69 رب میں میاں بیوی کی جانب سے مبینہ خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابرار نامی شخص کو اپنی اہلیہ سونیا بی بی کے کردار پر شک تھا، جبکہ خاتون کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے اظہر نامی نوجوان کے ساتھ مبینہ تعلقات تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسی معاملے پر میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر زہریلی گولیاں نگل لیں، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور دونوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا جبکہ متوفی جوڑے کے چار کمسن بچے بھی ہیں۔
پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
Today News
صلاحیتوں کے حامل حکمران – ایکسپریس اردو
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا ملک پاکستان دنیا کے معاملات سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان نے حال ہی میں جو کردار ادا کیا ہے ہم برسوں اس کے متقاضی تھے ہماری جدوجہد رنگ لے آئی، ہم پاکستان کو اسی مقام پر دیکھنا چاہتے تھے۔
مولانا نے مزید کہا کہ یہ حکومت دھاندلی سے لی گئی ہے ایسی حکومت کو میں مانتا ہوں نہ ہی اس کی پیروی کروں گا جس طرح جعلی نوٹ نہیں چلتا اسی طرح جعلی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔سب کو معلوم ہے کہ ملک میں جعلی نوٹ بھی چل رہے ہیں اور دو سال سے یہ حکومت بھی جسے جعلی قرار دیا جا رہا ہے، اسی حکومت نے دنیا میں پاکستان کو یہ مقام دلایا ہے جس مقام کی آرزو کی جا رہی تھی اور مولانا پاکستان کی صلاحیت کے معترف بھی ہوگئے ہیں مگر اس حکومت کو نہیں مان رہے جو دو سال سے ملک چلا رہی ہے اور موجودہ حکمران ہی پاکستان کو اس مقام پر لے آئے ہیں کہ جن کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی اسی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے جن کی کوشش سے پاکستان اس قابل ہوا کہ اس نے اسلام آباد بلا کر امریکا و ایران کو آمنے سامنے بٹھا کر ثالثی کا کردار ادا کیا جسے مولانا سمیت دنیا سراہ رہی ہے۔
ملک دشمنوں بھارت، اسرائیل و دیگر کے علاوہ جہاں پاکستان کی تعریفیں ہو رہی ہیں وہاں پاکستان کے موجودہ حکمرانوں جنھیں اب بھی جعلی قرار دیا جا رہا ہے، کے اقدامات اور صلاحیتوں کو بھی نہ صرف سراہا گیا بلکہ بیرون ملک سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس بہترین کارکردگی پر پاکستان کو اس مقام تک لانے والے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جائے جن کی صلاحیتوں کا اعتراف امریکی صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت باربار کر چکی ہے۔
پاکستان کی صلاحیت کو تسلیم تو کیا جا رہا ہے، مگر پی ٹی آئی کے نااندیش بعض مرکزی رہنماؤں کو اس سلسلے میں پاکستان کی تعریف تو کیا نام لینے کی بھی توفیق نہیں ہوئی تھی مگر عالمی سطح پر مقبولیت ملنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت بعض محب وطن رہنماؤں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور انھوں نے بھی پاکستان کو سراہا مگر پاکستانی حکمرانوں کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا، نہ ان کی کاوشوں کو سراہا۔دنیا بھر میں امریکا و ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ان دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے رضامند کرنے اور دونوں ملکوں کو جن میں ایک جارح اور دوسرا مظلوم مانا گیا ،ایک میز پر لا بٹھانے کا سہرا پاکستانی حکمرانوں کے سر ہے کہ جنھوں نے اپنی دن و رات کی محنت سے پاکستان کو یہ مقام دلایا کہ جس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے۔
اسی سلسلے میں محمود خان اچکزئی نے بھی قومی اسمبلی میں جو بیان دیا وہ قابل ستائش کہلایا مگر چند ایک نے قومی اسمبلی میں جو خطاب کیا اس کی صرف مذمت ہی کی جا سکتی ہے۔ جے یو آئی، پی ٹی آئی اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں دونوں اپوزیشن لیڈروں میں صرف محمود خان اچکزئی نے حق بات کی اور حکومت کو اپنی حمایت کا بھی یقین دلایا مگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ حکمرانوں کے کسی اچھے اقدام کو ہی سراہ لیتے جب کہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دشمن بھی درست بات کرے تو اس کی حمایت ہونی چاہیے جیسے کہ بھارت میں ہوا۔ جہاں پاکستان کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کی سفارتی کاوشوں کی تعریف اور اپنی حکومت پر تنقید کی گئی مگر پاکستانی اپوزیشن اپنی سیاسی مخالفت میں یہ بھی نہ کرسکی۔
یہ سو فی صد درست ہے کہ ملک ہوتا ہے تو اسے چلانے والے حکمران بھی ہوتے ہیں جو جمہوری ہوں یا غیر جمہوری۔ امریکا کے صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو دنیا منتخب حکمران مانتی ہے جنھوں نے اپنے ممالک کو دنیا میں جارح کے طور پر بدنام کرایا جن کی دنیا میں مذمت بھی ہو رہی ہے جن کے خلاف دونوں ممالک میں احتجاج بھی ہو رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے حکمرانوں کے فیصلے درست نہیں جب کہ پاکستانی حکمرانوں نے درست فیصلے کیے جن کی حمایت اور تعریف اندرون ملک اور عالمی سطح پر ہوئی مگر محض سیاسی مخالفت اور اقتدار سے محرومی کے شکار ملکی سیاستدانوں میں اتنی اخلاقی جرأت بھی نہیں کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کو یہ کریڈٹ دیتے کہ جن کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان کو اہمیت ملی اور پاکستان پر دنیا کی نظریں مرکوز رہیں اور دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں پاکستان کا ذکر نہ ہوا ہو۔دنیا بھر میں ملک مختلف وجوہات کے باعث ہی وجود میں آئے جنھیں وہاں کے حکمران چلا رہے ہیں کیونکہ ملک خود نہیں چلتے بلکہ چلانے والے چلاتے ہیں جو حکمران کہلاتے ہیں اور ملک کی اچھائی و برائی کے ذمے دار وہاں کے حکمران ہوتے ہیں مگر نام ملک کا متاثر ہوتا ہے اور حکمرانوں کی دور اندیشی، اچھی حکمرانی، درست فیصلے اور باصلاحیت قیادت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور پاکستانی حکمرانوں نے اس کا ثبوت دے دیا ہے جن کی صلاحیتوں نے پاکستان کو یہ عالمی مقام دلایا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے اعتراف کیا تھا کہ امریکی صدر انھیں فون کرتے ہیں نہ بھارتی وزیر اعظم ان کی کال سنتا ہے جو ان کی مکمل نااہلی کا واضح ثبوت ہے جب کہ آج تمام بڑے اور اہم ممالک پاکستانی حکمرانوں کو فون کر رہے ہیں، یہ پاکستانی حکمرانوں کی صلاحیتوں کے باعث ممکن ہوا اور ان کے اقدامات کو دنیا میں پذیرائی اور پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت و شہرت حاصل ہوئی ہے۔
Today News
مدینہ منورہ میں باران رحمت، مسجد نبویؐ اور گنبدِ خضریٰ کے دلکش مناظر نے روح کو معطر کر دیا
سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے فضا خوشگوار ہو گئی اور ملحقہ علاقوں میں بھی بادل خوب جم کر برسے۔
بارانِ رحمت کے دوران مسجد نبوی میں بھی بارش نے سماں باندھ دیا جبکہ گنبد خضریٰ پر برسنے والی بارش کے روح پرور مناظر نے زائرین کے دل موہ لیے۔
زائرین کی بڑی تعداد نے اس بابرکت موقع پر بارش میں بھیگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں مانگیں اور اس نعمت پر شکر ادا کیا۔
بارش کے باعث مسجد نبویؐ کے صحن میں ایک روحانی کیفیت طاری رہی جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو منور کر دیا۔
یہ خوبصورت مناظر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جہاں لوگ اسے بارانِ رحمت قرار دیتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔
Today News
توانائی بحران کا حل۔۔۔۔ شمسی توانائی
پاکستان کو درپیش حالیہ توانائی بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا حد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت شمسی توانائی (Solar)، ہوا (Wind Energy) اور ہائیڈرو پاور جیسے سستے اور مقامی ذرائع کو ترجیح دے رہی ہے۔
پاکستان میں توانائی کا بحران کسی اچانک آنے والے طوفان کی طرح نہیں ہے بلکہ آہستہ آہستہ پھیلنے والی دیمک ہے جو معیشت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، کارخانے بند ہوئے چلے جا رہے ہیں، مزدور بے روزگار ہوتے چلے جا رہے ہیں اور گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو ایک ایسا انمول، لامحدود خزانہ دیا ہے وہ سورج ہے جوکہ بلامعاوضہ اپنے خزانے لٹائے چلا جا رہا ہے لیکن ہم نے اسے نظرانداز کر رکھا ہے، لیکن اب آہستہ آہستہ حالات بدل رہے ہیں، گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز اگ رہے ہیں۔
لوگ اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، اب ’’اپنی چھت اپنی روشنی‘‘ کا ایک نیا محاورہ سر پر ہی نہیں بول رہا بلکہ یہاں بھی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ چھت پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ آج کی دنیا میں جنگ تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ 4 برسوں میں ملک میں شمسی توانائی کا حصہ 5 فی صد سے بڑھ کر 25 فی صد سے زائد ہو چکا ہے جو بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے گھریلو سطح پر سولر سسٹمز کے فروغ اور صنعتی شعبے میں متبادل توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے سولر انرجی اب ترجیح یا انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ مجبوری بن چکا ہے کہ وہ سولر ٹیکنالوجی کو اپنائے۔
اگر تیل پر ہی انحصار برقرار رکھا گیا تو اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً ایک تہائی حصہ پٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے جو بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر سب سے بڑا دباؤ ہے۔حکومت نے اس بحران سے نکلنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دینے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
اس سلسلے میں گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر پینلز کی تنصیب کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے ذریعے صارفین کو اضافی بجلی بیچنے کی سہولت اور سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کے منصوبے، سندھ کے ساحلی علاقوں خصوصاً گھارو، کیٹی بندر کوریڈور میں ونڈ پاور کے منصوبے، بڑے ڈیمز اور چھوٹے ہائیڈرو منصوبے پر توجہ ہے۔ اس سلسلے میں حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے ٹیکس میں رعایت اور دیگر مراعات زیر غور ہیں، لیکن اب بھی کئی رکاوٹوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران محض بجلی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کی کمزوری اور ترجیحات کی شکست کا آئینہ ہے۔
دنیا کے کئی ملکوں نے تیل کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے سورج، ہوا اور پانی کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے۔ پاکستان میں کئی عشرے قبل سے ہی ایسے محسنوں نے ان دنوں کا ادراک کر لیا تھا جب وہ چین سے سولر ٹیکنالوجی لے کر آئے اور قوم کو سورج سے نظریں ملانے کا ہنر سکھانے لگے کیونکہ آج دنیا مان گئی ہے کہ جو قومیں سورج سے نظریں ملاتی ہیں تو تیل کی زنجیریں خودبخود ٹوٹ جاتی ہیں۔
یہ 1969 کی ایک رات تھی جب Apollo II Moon Landing کے ذریعے Neil Armstrong نے چاند کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ وہ چھلانگ صرف چاند تک نہیں بلکہ خوابوں، ہمت، سائنس کی فتح کا اعلان تھا۔ اپالو صرف ایک خلائی مشن نہیں تھا بلکہ ایک سوچ تھی، ناممکن کو ممکن بنانے کی۔ آج وہ لمحہ آ چکا ہے جب ’’اپالو‘‘ کا استعارہ دوبارہ زندہ ہو چکا ہے۔
آج ضرورت ہے ایک نئے ’’اپالو‘‘ کی۔ ’’اپالو سولر‘‘ کی۔ یہ اپالو چاند پر نہیں اترے گا بلکہ چاند جیسے گھر کے آنگن کی چھت پر اترے گا۔ ہر چھت ایک ’’لانچ پیڈ‘‘ ہوگی۔ ہر اپالو سوپر اسٹیشن، کیونکہ قدرت نے پاکستان کو سال میں 300 سے بھی زائد دھوپ والے دن دیے ہیں۔ یہ وہ خزانہ ہے جو نہ ختم نہ پرانا ہوتا ہے۔ نہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی مہنگا ہوتا ہے۔ سب کچھ فری ہی فری ہے۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی سورج کی روشنی کو اپنی معیشت کی بنیاد بنا رہے ہیں اور انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ روشنی خریدی نہیں جاتی حاصل کی جاتی ہے۔
اگر حکومت اور سولر پینلز کے پرانے تجربہ کار مخلص تاجر مل کر کام کریں تو ہر گھر پر سولر پینلز کو نصب کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کی قیمت آدھی سے بھی کم ہو کر رہ جائے گی اور معیشت کو ایک نئی زندگی مل سکتی ہے جیسے ’’اپالو‘‘ نے انسان کو چاند تک پہنچایا ویسے ہی وقت آ گیا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لیا جائے بلکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب اپالو سولر انقلاب کے ذریعے سورج کی روشنی کو چھت پر اتارنے کا وقت آ چکا ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s Asian Cup qualifying campaign ends with defeat – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
اہم کھلاڑی معاہدے سے محروم
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف کی ایک اور شرط، شوگر سیکٹر کو بھی ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
-
Sports2 weeks ago
Italy’s football chief resigns after World Cup disaster – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Sports2 weeks ago
‘The World Cup curse’: Italy sheds tears after missing out again – Sport