Connect with us

Today News

نوجوانوں کے درد کا مداوا

Published

on


کراچی کے ساڑھے تین لاکھ میٹرک کے طلبہ کا مستقبل مخدوش ہوگیا۔ کراچی میٹرک بورڈ کی بدانتظامی کی بناء پر امتحانات وقت پر شروع نہ ہوسکے۔

بورڈ کے حکام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کو ایڈمٹ کارڈ دینے کی حکمت عملی اختیار کی مگر بورڈ کے عملے کی نااہلی کی بناء پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پورا سسٹم بیٹھ گیا۔ اسکولوں کی انتظامیہ کے افسران، طلبہ اور والدین بورڈ آفس کے دھکے کھاتے رہے۔ جس اسکول نے بورڈ کے افسران سے پہلے سے معاملات طے کرلیے تھے انھیں ایڈمٹ کارڈ مل گئے جب کہ دیگر طلبہ اور ان کے والدین رلتے رہے۔ جب امتحانات شروع ہوئے تو کچھ طلبہ کو آخری وقت میں امتحانی مراکز کی اطلاع ملی۔ کچھ طلبہ خاصی دیر تک اپنا امتحانی مرکز تلاش کرتے رہے اور کچھ امتحانی مراکز ایسے تھے جہاں پنکھے بھی نہیں تھے اور پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی۔ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں اس طرح کی صورتحال معمول کی بات ہے۔ گزشتہ دنوں میرپور خاص کے ایک افسر کو کئی برسوں تک امتحانی نتائج میں ردوبدل کرنے اور سفارش سے بعض نااہل طلبہ کو اعلیٰ گریڈ عطاء کرنے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ میرپور خاص کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس بورڈ میں ایک بااثر مافیا سرگرم ہے۔ حالات قابو سے باہر ہوگئے تو مداخلت شروع ہوئی اور ایک افسر پکڑا گیا۔

اخبارات میں شائع ہونے والے مواد کے تجزیے سے بظاہر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مجاز اتھارٹی کراچی بورڈ نے ایک ایسے موقع پر کنٹرولر امتحانات کو ان کے عہدے سے ہٹاکر کسی دوسرے بورڈ کے ایک جونیئر افسر کو اس عہدے پر تعینات کیا، یوں امتحانات کی تاریخ قریب آنے تک معاملات قابو میں نہ آئے، امتحانات کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کیا گیا۔ طلبہ اور ان کے والدین کس اذیت سے گزرے یہ بات اہم نہیں ہے۔

کراچی کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے بورڈ میں گزشتہ 18 برس سے بدعنوانیاں عام سے بات بن کر رہ گئی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے طالب علموں کی یہ شکایات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہی ہیں کہ طالب علم نے تمام پرچے دیئے مگر کئی پرچوں میں انھیں غیر حاضر قرار دیا گیا۔ یہ ذہین طالب علموں کو کچھ پرچوں میں فیل ظاہر کیا گیا یا انتہائی کم نمبر مارک شیٹ میں ظاہر کیے گئے۔ چند سال قبل سائنس کے طلبہ کی اکثریت نے امتحانی نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ یہ معاملہ سندھ اسمبلی تک پہنچا اور پھر یہ معاملہ سیاسی اور لسانی تضادات میں تبدیل ہوگیا تھا، حکومت کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا پڑا۔ متاثرہ طلبہ کی کاپیاں دوبارہ چیک ہوئیں اور اکثر طلبہ کے خدشات کی اس بناء پر تصدیق ہوگئی تھی کہ امتحانی کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ میں ا ن کے نمبر بڑھ گئے تھے، مگر حکومت کی جانب سے اس بے قاعدگی یا شعوری غلطی یا انسانی غلطی Human Error کے ذمے دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں ہے۔

امتحانات میں بدعنوانیوں کا معاملہ صرف بورڈ کے دفاتر تک محدود نہیں ہے بلکہ پیپر کے وقت سے پہلے آؤٹ ہونے، اسکولوں اور کالجوں میں امتحانی سینٹر بنانے اور امتحانی سینٹروں میں نقل کے مسائل بھی خاص گھمبیر ہیں۔ یہ بات عام ہے کہ کراچی کے دونوں بورڈز میں مختلف مافیاز متحرک رہی ہیں۔ کراچی میٹرک بورڈ پر ایک لسانی تنظیم اور انٹرمیڈیٹ بورڈ پر دیگر دوسری لسانی تنظیم کے طلبہ تنظیموں کے سائے خاصے گہرے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے متعلق طلبہ تنظیم والے بھی اپنا حصہ لینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق ہر مضمون کے امتحانی پرچے تین کے قریب سبجیکٹ اسپیشلسٹ سے پہلے تیار کرواکر رکھ لیے جاتے ہیں۔

اسکولوں اور کالجوں کے بعض سینئر اساتذہ کے مشہور کوچنگ سینٹر ہیں اور بہت سے اساتذہ کوچنگ سینٹروں میں کام کرتے ہیں، یوں مخصوص کوچنگ سینٹروں میں طلبہ کو ان امتحانی پرچوں کا ورد کرایا جاتا ہے۔ سینئر اساتذہ کو امتحان کے دن سے ایک دن قبل رات کو بورڈ آفس بلایا جاتا ہے اور وہ رات کو امتحانی سوالات کو حتمی شکل دیتے ہیں، صبح پرچہ متعلقہ سینٹروں کو بھجوا دیا جاتا ہے، یوں کسی بھی مرحلے پر پرچہ مافیا کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ جو اہلکار اپنے مرکز کے کنٹرول روم سے کلاس روم تک پرچہ تقسیم کرنے کے لیے لے جاتے ہیں وہ بھی راستے میں پرچہ کی تصویر واٹس ایپ یا دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعہ افشا کرسکتے ہیں۔

اب پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی بناء پر یہ بات آسان ہوگئی ہے کہ تعلیمی اداروں کے مالکان مختلف ناموں سے اسکول قائم کرتے ہیںاور اپنے ایک اسکول کے طلبہ کا امتحانی مرکز اپنے دوسرے اسکول میں بنوالیتے ہیں، یوں اپنے طالب علموں کو ٹینشن فری (Tension Free) ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک اسکول کے مالک جو دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعت کے رہنما بھی ہیں بتاتے ہیں کہ انھیں بورڈ کے عملے کی جانب سے یہ پیشکش کی جاتی رہتی ہے کہ ان کے اسکول میں معزز طلبہ کا سینٹر بنایا جائے گا اور اس ’’خدمت‘‘ کے عوض انھیں معقول رقم فراہم کی جائے گی۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے نوجوان اپنے ہمدردوں کے لیے امتحانات کے وقت خصوصی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ امتحانی مراکز میں نگرانی کرنے والے ایک نوجوان انویجی لیٹر نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی مرکز میں صبح انتہائی سختی کی جاتی ہے اور بورڈ کی ٹیمیں امتحانی مرکز کا دورہ کرکے چلی جاتی ہیں تو بعض کلاس رومز میں حالات انتہائی ’’سازگار‘‘ ہوجاتے ہیں۔ عمومی طور پر خصوصی امتحانی مراکز کے کئی کلاس رومز پہلے ہی نیلام ہوجاتے ہیں۔ پریشر گروپ اپنے اپنے علاقوں میں امتحانی مراکز میں منظم انداز میں طلبہ کو نقل کروانے کا ’’فریضہ ‘‘سرانجام دیتے ہیں۔ اب تو نقل کروانے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال ہوتا ہے۔ عموماً متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر امتحانی مراکز کے گرد دفعہ 144 نافذ کرتے ہیں مگر ان مراکز کے عملے کے تحفظ کے لیے پولیس فورس دستیاب نہیں ہوتی۔ ڈپٹی کمشنر کے حکم سے امتحانی مراکز کے نزدیک فوٹو اسٹیٹ کی دکانیں بند کردی جاتی ہیں مگر نقل مافیا کے کارندے اس کا کوئی حل تلاش کرلیتے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں ڈپٹی کمشنر کو نقل کی روک تھام کے لیے ہر امتحانی سینٹر کے دورہ کے احکامات جاری ہوئے تھے مگر ڈپٹی کمشنر خود امتحانی مراکز جانے کے بجائے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو یہ فریضہ سونپ دیتے ہیں۔ جب میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے نقل مافیا کے خاتمے میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔ اعلیٰ حکام کی نگرانی کی بناء پر پولیس افسروں نے نقل مافیا کے خلاف بھرپور آپریشن کیا تھا جس سے پنجاب میں نقل کے رجحان میں بہت حد تک کمی آئی تھی۔ میاں شہباز شریف خود بھی امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کرتے تھے مگر سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ نے کبھی اس موضوع پر اتنی دلچسپی نہیں لی۔ صرف فرق یہ پڑا کہ تعلیم کے وزراء اپنے افسروں کے ساتھ کسی امتحانی مرکز پر فوٹوسیشن ضرور کرا لیتے ہیں۔

 اب جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں نقل کا مکمل خاتمہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ حکومت اسمارٹ امتحانی مراکز قائم کرکے یہ مسئلہ حل کرسکتی ہے۔ ہر طالب علم جب امتحانی کلاس میں پہنچے تو اس کی نشست کے سامنے ایک لیپ ٹاپ موجود ہو اور ہر طالب علم کو دوسرے طالب علم سے مختلف امتحانی پرچہ ملے اور پھر امتحان ختم ہونے کے فوراً بعد نتائج کا اعلان ہوجائے تو نقل کا امکان ہی ختم ہوجائے گا۔ کراچی میں دو پرائیوٹ بورڈ موجود ہیں۔ بہت سے پرائیوٹ اسکولوں نے اپنے طلبہ کو میرٹ کے مطابق سند دلوانے کے لیے ان بورڈ سے الحاق کرلیا ہے مگر سرکاری اسکول سرکاری بورڈ سے ہی منسلک ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تعلیمی بورڈ میں ہونے والی بدعنوانیاں حکومت کے لیے اہمیت کی حامل اس لیے نہیں ہیں کہ وزراء اور اعلیٰ افسروں کے بچے کیمبرج سسٹم سے منسلک تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر کراچی کے مخصوص حالات میں امتحانی بورڈ کے مسلسل بحرانات سے لسانی تضاد گہرے ہورہے ہیں اور کراچی کے نوجوان مایوس ہورہے ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ طالع آزما قوتیں اٹھا رہی ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت کراچی کے نوجوانوں کے درد کا مداوا کرسکتی ہے؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں پولیس مقابلہ، ایک زخمی سمیت دو ڈاکو گرفتار

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے میں اقبال مارکیٹ پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد ایک زخمی سمیت دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ملزم محمد ارشد عرف کے ٹو کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ دوسرے گرفتار ملزم انس کو مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقدی اور ایک موٹرسائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

حکام کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان کے جرائم کا ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

صلاحیتوں کے حامل حکمران – ایکسپریس اردو

Published

on


جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا ملک پاکستان دنیا کے معاملات سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان نے حال ہی میں جو کردار ادا کیا ہے ہم برسوں اس کے متقاضی تھے ہماری جدوجہد رنگ لے آئی، ہم پاکستان کو اسی مقام پر دیکھنا چاہتے تھے۔

مولانا نے مزید کہا کہ یہ حکومت دھاندلی سے لی گئی ہے ایسی حکومت کو میں مانتا ہوں نہ ہی اس کی پیروی کروں گا جس طرح جعلی نوٹ نہیں چلتا اسی طرح جعلی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔سب کو معلوم ہے کہ ملک میں جعلی نوٹ بھی چل رہے ہیں اور دو سال سے یہ حکومت بھی جسے جعلی قرار دیا جا رہا ہے، اسی حکومت نے دنیا میں پاکستان کو یہ مقام دلایا ہے جس مقام کی آرزو کی جا رہی تھی اور مولانا پاکستان کی صلاحیت کے معترف بھی ہوگئے ہیں مگر اس حکومت کو نہیں مان رہے جو دو سال سے ملک چلا رہی ہے اور موجودہ حکمران ہی پاکستان کو اس مقام پر لے آئے ہیں کہ جن کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی اسی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے جن کی کوشش سے پاکستان اس قابل ہوا کہ اس نے اسلام آباد بلا کر امریکا و ایران کو آمنے سامنے بٹھا کر ثالثی کا کردار ادا کیا جسے مولانا سمیت دنیا سراہ رہی ہے۔

ملک دشمنوں بھارت، اسرائیل و دیگر کے علاوہ جہاں پاکستان کی تعریفیں ہو رہی ہیں وہاں پاکستان کے موجودہ حکمرانوں جنھیں اب بھی جعلی قرار دیا جا رہا ہے، کے اقدامات اور صلاحیتوں کو بھی نہ صرف سراہا گیا بلکہ بیرون ملک سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس بہترین کارکردگی پر پاکستان کو اس مقام تک لانے والے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جائے جن کی صلاحیتوں کا اعتراف امریکی صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت باربار کر چکی ہے۔

 پاکستان کی صلاحیت کو تسلیم تو کیا جا رہا ہے، مگر پی ٹی آئی کے نااندیش بعض مرکزی رہنماؤں کو اس سلسلے میں پاکستان کی تعریف تو کیا نام لینے کی بھی توفیق نہیں ہوئی تھی مگر عالمی سطح پر مقبولیت ملنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت بعض محب وطن رہنماؤں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور انھوں نے بھی پاکستان کو سراہا مگر پاکستانی حکمرانوں کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا، نہ ان کی کاوشوں کو سراہا۔دنیا بھر میں امریکا و ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ان دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے رضامند کرنے اور دونوں ملکوں کو جن میں ایک جارح اور دوسرا مظلوم مانا گیا ،ایک میز پر لا بٹھانے کا سہرا پاکستانی حکمرانوں کے سر ہے کہ جنھوں نے اپنی دن و رات کی محنت سے پاکستان کو یہ مقام دلایا کہ جس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے۔

اسی سلسلے میں محمود خان اچکزئی نے بھی قومی اسمبلی میں جو بیان دیا وہ قابل ستائش کہلایا مگر چند ایک نے قومی اسمبلی میں جو خطاب کیا اس کی صرف مذمت ہی کی جا سکتی ہے۔ جے یو آئی، پی ٹی آئی اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں دونوں اپوزیشن لیڈروں میں صرف محمود خان اچکزئی نے حق بات کی اور حکومت کو اپنی حمایت کا بھی یقین دلایا مگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ حکمرانوں کے کسی اچھے اقدام کو ہی سراہ لیتے جب کہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دشمن بھی درست بات کرے تو اس کی حمایت ہونی چاہیے جیسے کہ بھارت میں ہوا۔ جہاں پاکستان کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کی سفارتی کاوشوں کی تعریف اور اپنی حکومت پر تنقید کی گئی مگر پاکستانی اپوزیشن اپنی سیاسی مخالفت میں یہ بھی نہ کرسکی۔

یہ سو فی صد درست ہے کہ ملک ہوتا ہے تو اسے چلانے والے حکمران بھی ہوتے ہیں جو جمہوری ہوں یا غیر جمہوری۔ امریکا کے صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو دنیا منتخب حکمران مانتی ہے جنھوں نے اپنے ممالک کو دنیا میں جارح کے طور پر بدنام کرایا جن کی دنیا میں مذمت بھی ہو رہی ہے جن کے خلاف دونوں ممالک میں احتجاج بھی ہو رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے حکمرانوں کے فیصلے درست نہیں جب کہ پاکستانی حکمرانوں نے درست فیصلے کیے جن کی حمایت اور تعریف اندرون ملک اور عالمی سطح پر ہوئی مگر محض سیاسی مخالفت اور اقتدار سے محرومی کے شکار ملکی سیاستدانوں میں اتنی اخلاقی جرأت بھی نہیں کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کو یہ کریڈٹ دیتے کہ جن کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان کو اہمیت ملی اور پاکستان پر دنیا کی نظریں مرکوز رہیں اور دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں پاکستان کا ذکر نہ ہوا ہو۔دنیا بھر میں ملک مختلف وجوہات کے باعث ہی وجود میں آئے جنھیں وہاں کے حکمران چلا رہے ہیں کیونکہ ملک خود نہیں چلتے بلکہ چلانے والے چلاتے ہیں جو حکمران کہلاتے ہیں اور ملک کی اچھائی و برائی کے ذمے دار وہاں کے حکمران ہوتے ہیں مگر نام ملک کا متاثر ہوتا ہے اور حکمرانوں کی دور اندیشی، اچھی حکمرانی، درست فیصلے اور باصلاحیت قیادت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور پاکستانی حکمرانوں نے اس کا ثبوت دے دیا ہے جن کی صلاحیتوں نے پاکستان کو یہ عالمی مقام دلایا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے اعتراف کیا تھا کہ امریکی صدر انھیں فون کرتے ہیں نہ بھارتی وزیر اعظم ان کی کال سنتا ہے جو ان کی مکمل نااہلی کا واضح ثبوت ہے جب کہ آج تمام بڑے اور اہم ممالک پاکستانی حکمرانوں کو فون کر رہے ہیں، یہ پاکستانی حکمرانوں کی صلاحیتوں کے باعث ممکن ہوا اور ان کے اقدامات کو دنیا میں پذیرائی اور پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت و شہرت حاصل ہوئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مدینہ منورہ میں باران رحمت، مسجد نبویؐ اور گنبدِ خضریٰ کے دلکش مناظر نے روح کو معطر کر دیا

Published

on


سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے فضا خوشگوار ہو گئی اور ملحقہ علاقوں میں بھی بادل خوب جم کر برسے۔

بارانِ رحمت کے دوران مسجد نبوی میں بھی بارش نے سماں باندھ دیا جبکہ گنبد خضریٰ پر برسنے والی بارش کے روح پرور مناظر نے زائرین کے دل موہ لیے۔

زائرین کی بڑی تعداد نے اس بابرکت موقع پر بارش میں بھیگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں مانگیں اور اس نعمت پر شکر ادا کیا۔

بارش کے باعث مسجد نبویؐ کے صحن میں ایک روحانی کیفیت طاری رہی جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو منور کر دیا۔

یہ خوبصورت مناظر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جہاں لوگ اسے بارانِ رحمت قرار دیتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending